کشمیر: ڈیڑھ ہزار نوجوانوں کی گرفتار

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنکشمیر میں نوخیز لڑکوں کو گرفتار کرکے جیل بھیجھا جارہا ہے
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر

بھارت کے زیر انتظام وادی کشمیر میں جاری مظاہروں کو روکنے کے لیے مقامی پولیس نے وسیع پیمانہ پر نوجوانوں کی گرفتاریاں کی ہیں۔

انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ پچھلے ایک ماہ سے جاری اس آپریشن میں اب تک ڈیڑھ ہزار نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

سری نگر اور دوسرے قصبوں میں لوگوں کا الزام ہے کہ پولیس گرفتار کیےگئے نوجوانوں کے والدین سے ان کی رہائی کے عوض رقوم بھی وصول کرتے ہیں۔ لیکن پولیس نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

سری نگر کے حساس ترین علاقوں کے نگران پولیس افسر شوکت شاہ کہتے ہیں کہ ’ کوئی بے قصور پکڑا نہیں جاتا۔ ہم تصویروں اور ویڈیو ریکارڑنگ کا جائزہ لے کر ہی ان نوجوانوں کو پکڑتے ہیں جو پتھراؤ میں ملوث ہوں۔''

مسٹر شوکت رہائی کے عوض رقومات کے مطالبہ کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر یہ سچ ہے تو لوگوں کو باقاعدہ ثبوت لے کر پولیس حکام کے پاس آنا چاہیے۔

تاہم شمالی کشمیر میں لنگیٹ حلقے کے ممبر اسمبلی انجینئر رشید نے یہ اعلان کیا ہے کہ ان کے پاس اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ پولیس نے لڑکوں کوگرفتار کر کے روپے حاصل کرنے کا نیا دھندہ شروع کر رکھا ہے۔ انہوں نے ان گرفتاریوں کے خلاف شمالی قصبہ ہندوارہ پولیس سٹیشن کے باہر جمعرات کو دھرنا دیا جس میں سینکڑوں شہریوں نے شرکت کی۔

معروف وکیل شفقت احمد نے بتایا کہ پولیس نے وادی میں گرفتار کیےگئے نوجوانوں میں سے بیش تر نا بالغ لڑکوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل بھیج دیا ہے۔

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنبیشتر نوجوانوں پر پتھر بازی کا الزام ہے

مسٹر شفقت کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر میں بچوں کے لیے کوئی عدالتی نظام نہیں ہے لہٰذا دس سے پندرہ سال کے بچوں کو جیل میں جرائم پیشہ افراد اور خطرناک شدت پسندوں کی صحبت میں رکھا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’پولیس اب بچوں کو گرفتار کرتی ہے اور کاغذات میں ان کی عمر زیادہ دکھائی جاتی ہے‘۔

انہوں نے سرینگر کے شیخ اکرم نامی لڑکے کا حوالہ دیا جسے گرفتار کرکے پیبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل بھیج دیا گیا ہے۔ اکرم شہر کے جی پی مشن سکول میں آٹھویں جماعت کا طالب علم ہے لیکن پولیس نے اس کی عمر اُنیس سال ظاہر کی ہے۔

دریں اثنا اپنے ہی گھر میں نظر بند حریت رہنما میر واعظ عمرفاروق نے اپنے کارکنوں کو پولیس تھانوں کا دورہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ایک حریت کارکن نے بتایا کہ شہر میں پولیس تھانوں کے باہر مرد اور عورتوں کی بھیڑ جمع رہتی ہے اور وہ اپنے عزیزوں کی رہائی کے لیے بے چین رہتے ہیں۔

عمرعبداللہ کی قیادت والی مخلوط حکومت کے سینئر وزیر علی محمد ساگر اس حوالے سے کہتے ہیں کہ ’شرارت پسندوں کو گرفتار کرنا ہی پڑتا ہے۔ لیکن حکومت نے ایک کمیٹی بنائی ہے جو گرفتار کیےگئے لڑکوں پر لگے الزامات کی جائزہ لے کر ان کو رہا کرنے کی سفارش کرے گی۔ ہم نے تھانےداروں کو بھی اختیارات دیے ہیں کہ وہ ایسے لڑکوں کو رہا کردیں جن پر معمولی الزامات ہیں‘۔