کشمیر، مزید فورسز کی درخواست

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے وادی میں جاری تشدد کے سلسلے پر قابو پانے کے لیے وفاقی حکومت سے مزید حفاظتی دستوں کی درخواست کی ہے۔
دلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وادی میں جب تک تشدد کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا، کوئی نئی پہل نہیں کی جاسکتی۔
انہوں نے کہا کہ پر تشدد مظاہروں کے موجودہ ماحول میں سکیورٹی فورسز نے جتنا ممکن تھا اتنے ضبط اور تحمل سے کام لیا ہے۔ وادی کے بیشتر علاقوں میں کرفیو جاری ہے اور گزشتہ چار روز میں ہی پندرہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے بیشتر کی موت سکیوٹی فورسز کی فائرنگ میں ہوئی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ ’جب لوگ قانون ہاتھ میں لیتے ہیں تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے سنگین مضمرات ہوسکے ہیں۔۔۔ سکیورٹی فورسز نےضبط سے کام لیا ہے۔۔۔کرفیوں کا سختی سے نفاذ کیا جائے گا۔۔۔‘
کشمیر کی صورتحال پر بھارتی وزیر اعظم من موہن سگھ، وزیر خزانہ پرنب مکھرجی، وزیر دفاع اے کے اینٹونی اور وزیر داخلہ پی چدمبرم سے صلاح مشورے کے بعد انہوں نے کہا کہ کمشیر کا مسئلہ سیاسی ہے اور اسے کسی اقتصادی پیکج کےذریعہ نہیں، سیاسی پیکج سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہ بہت سی ایسی تجاویز پر عمل درآمد کیا جاسکتا ہے جو لمبےعرصے سے زیر غور ہیں لیکن پہلے تشدد کا دور ختم ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ نے ریپڈ ایکشن فورس بھیجنے کی درخواست پر غور کرنے کا وعدہ کیا ہے جسے پر تشدد مظاہرین کو کنٹرول کرنے کی مہارت حاصل ہوتی ہے۔
عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ کسی ایک شخص یا جماعت کو مظاہرین کی قیادت کے لیے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ ان کے مطابق نوجوانوں کے سڑکوں پر اترنے میں کسی کی رہنمائی شامل نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















