آدرش زمین گھپلہ میں مہاراشٹر کی سیاست

کارگل کی لڑائی میں مارے گئے جوانوں کی بیواؤں کے لیے مختص زمین پر بنی متنازعہ عمارت آدرش سوسائٹی نے کانگریس پارٹی اور مہاراشٹر کی سیاسی جڑوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ اشوک چوان جنہیں کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے وضاحت طلب کرنے کے لیے دہلی بلایا ہے انہوں نے اپنے اوپر الزامات کی صفائی دی ہے۔
انہوں نے لیکن سابق وزرائے اعلیٰ ولاس راؤ دیشمکھ، سشیل کمار شندے اور شیواجی راؤ نلنگیکر کے نام لیے جن کے رشتہ داروں کے نام سے فلیٹس الاٹ ہوئے ہیں۔
تاہم دیشمکھ نے اپنی صفائی دی اور کہا کہ اس عمارت میں ان کے کسی بھی رشتہ دار کے نام سے فلیٹس الاٹ نہیں ہوئے ہیں۔
مہاراشٹر کی سیاست میں عمل رکھنے والے ایک سینئر لیڈر کے مطابق چوان کے لیے پارٹی میں ہی موجود ان کے حریفوں نے پوری سازش کو بے نقاب کرنے کا کام کیا ہے۔ انہوں نے ایک ایسے وزیر کا نام لیا جن پر حال ہی میں مہاراشٹر کے دو علاقوں میں مبینہ طور پر زمین ہڑپنے کے الزامات عائد ہوئے ہیں۔
مہاراشٹر میں جاری اس سیاسی اتھل پتھل اور اس کے وزرائے اعلی پر لگے مبینہ بدعنوانی کے الزامات سے ملک کی سیاست پر کافی اثر ہورہا ہے۔
مہاراشٹر ملک کی سب سے امیر ریاست ہے اس لیے یہاں وزیراعلیٰ کا عہدہ بھی ملک کی سیاست کا ایک انتہائی اہم اور باوقار عہدہ مانا جاتا ہے۔
کوئی بھی سیاسی لیڈر اس معاملہ میں کھل کر بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سیاسی حلقوں کے باوثوق ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق چوان کو ان کے عہدے سے ہٹانا لازمی ہے لیکن ان کی جگہ کسی اور کو وزیراعلی نامزد کرنا بھی ٹیڑھی کھیر ہے۔
جو لیڈران اس عہدے کے لیے بہتر ہیں ان کے نام بھی آدرش سوسائٹی گھپلہ میں شامل ہیں۔
پرتھوی راج چوہان یا گروداس کامت کے نام لیےجا رہے ہیں جو اس وقت کسی طرح کے تنازعہ میں شامل نہیں ہیں لیکن ان کے ساتھ مراٹھا ہونے کا لیبل نہیں ہے اور مہاراشٹر کے اس اہم عہدے پر وہی لیڈر براجمان ہو سکتا ہے جو یا تو مراٹھا ہیں یا پھر انہیں ان کی حمایت حاصل ہے۔
مہاراشٹر کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سینئر صحافی انوراگ ترپاٹھی کا کہنا ہے کہ اتنے برسوں بعد جو سیاسی کرپشن سامنے آیا ہے اس نے مہاراشٹر ہی نہیں کانگریس پارٹی میں بھی ایک بحران کی شکل پیدا کر دی ہے۔
ترپاٹھی کے مطابق ابھی ایسے کئی اور گھپلے سامنے آئیں گے کیونکہ ممبئی میں اس وقت زمین کی قیمتیں نیویارک اور لندن سے زیادہ ہیں اور زمین مافیا یا انڈرورلڈ کے بجائے بڑے پیمانے پر کچھ لیڈران اور بیوروکریٹس ان بلڈر لابی کے ساتھ مل کر زمین ہتھیانے اور فائدہ اٹھانے میں لگے ہیں۔
نامور سماجی رضاکار انا ہزارے نے بھی لیڈران کے ساتھ ہی بیوروکریٹس کو بھی اس گھپلہ کا ذمہ دار قرار دیا جو اس طرح کے غیر قانونی کام کی فائلیں آسانی کے ساتھ’ کلیئر، کر دیتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق آدرش سوسائٹی معاملہ نے کانگریس کی نیند اڑا دی ہے کیونکہ بیٹھے بٹھائے حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کو ایک مدعہ مل گیا ہے۔ وہ پارلیمینٹ کے سیشن میں اس معاملہ کو پوری طرح کیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ دوسری جانب چوان کو برطرف کر کے کانگریس اپنی شبیہہ کو بہتر کرنے کی ناکام کوشش ضرور کرے گی لیکن اس کا کتنا اثر ہو گا یہ وقت ہی بتائے گا۔
ممبئی میں قلابہ علاقہ میں فوجی جوانوں کے لیے مختص زمین پر چھ منزلہ کے بجائے اکتیس منزلہ عمارت بنی ہے جس میں جوانوں یا کرگل میں شہید ہوئے جوانوں کی بیواؤں کو گھر دینے کے بجائے اس میں سیاسی لیڈران اور بیوروکریٹس نے اپنے قریبی رشتہ داروں کوفلیٹ الٹ کیے۔ اس عمارت میں فوج کے سابق سربراہان کو بھی فلیٹ الٹ کیے گئے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق فوجی جوانوں کے لیے مختص زمین پر عمارت میں عام شہریوں کو چالیس فیصد حصہ دینے کے لیے اس وقت کے وزیر محصولات اشوک راؤ چوان نے منظوری دی تھی۔
دستاویزات کے ہی مطابق دیشمکھ نے آدرش سوسائٹی کے پاس بامبے الیکٹرک سپلائی اینڈ ٹرانسپورٹ (بیسٹ) کی زمین کو پانچ اگست سن دو ہزار پانچ میں سوسائٹی کو دے دیا تھا تاکہ عمارت کی تعمیر میں اسے مزید اید ایس آئی مل سکے اور عمارت چھ منزلہ سے اکتیس مزنلہ بن گئی۔




















