ممبئی دھماکے:’مذاکرات متاثر نہیں ہوں گے‘

پاکستانی وزیر خارجہ حسب پروگرام دلی آئیں گی: ایس ایم کرشنا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپاکستانی وزیر خارجہ حسب پروگرام دلی آئیں گی: ایس ایم کرشنا

بھارت کا کہنا ہے کہ ممبئی میں بم دھماکوں کا پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

تاہم حکومت کے محتاط بیانات کے برعکس حزب اختلاف بھارتیہ جنتا پارٹی نے ہمسایہ ملک سے بات چیت کی مخالفت کی ہے۔

پاکستان کی وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر کو جولائی کے آخری ہفتے میں دلی آنا ہے جہاں وہ بھارت کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کے ساتھ ملکر باہمی مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیں گی۔ اس ملاقات سے پہلے دونوں ممالک کے خارجہ سیکرٹری بھی بات چیت کریں گے۔

مسٹر کرشنا نے جمعرات کو کہا ہے کہ پاکستانی وزیر حسب پروگرام دلی آئیں گی۔

لیکن ممبئی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے کہا کہ پاکستان سے بات چیت اس وقت تک نہیں ہونی چاہیے جب تک وہ اپنی سرزمین پرموجود دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ نہیں کردیتا۔

مسٹر اڈوانی کا کہنا تھا کہ ممبئی میں ہونے والے بم دھماکے انٹیلی جنس کی نہیں (دہشت گردی کے خلاف) حکومت کی پالیسی کی ناکامی ہیں۔ بظاہر ان کا مقصد یہ تھا حکومت نے پاکستان کے ساتھ سختی سے کام نہیں لیا ہے۔

پاکستان سے مذاکرات کر کے ہندوستان اپنی کمزوری کی مثال پیش کرتا ہے: سخت گیر لابی
،تصویر کا کیپشنپاکستان سے مذاکرات کر کے ہندوستان اپنی کمزوری کی مثال پیش کرتا ہے: سخت گیر لابی

انہوں نے کہا کہ بھارت کو کوشش کرنی چاہیے کہ آئی ایس آئی کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے کیونکہ ’ہماری سرزمین پر آخری حملہ آئی ایس آئی نے ہی کرایا تھا۔‘

لیکن دھماکوں کے بعد سے حکومت کی جانب سے مسلسل کوشش کی جارہی ہے کہ کوئی ایسا پیغام نہ جائے جس سے بے وجہ تلخی پیدا ہو۔

ممبئی میں وزیر داخلہ پی چدمبرم نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ فی الحال ایسے کوئی شواہد نہیں ہیں جن کی بنیاد پر کسی بھی تنظیم کی طرف انگلی اٹھائی جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ دھماکوں کے ہر پہلو کی کھلے ذہن سے تفتیش کی جائے گی اور میڈیا کو بھی قیاس آرائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔

بھارت میں آج اخبارات نےدھماکوں کی تفتیش سے وابستہ ذرائع کے حوالےسے یہ خبریں شائع کی ہیں کہ حملوں میں مقامی شدت پسند تنظیم انڈین مجاہدین کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔

بھارت کا الزام ہے کہ انڈین مجاہدین کو لشکر طیبہ کی حمایت حاصل ہے جسے ممبئی پر دو ہزار آٹھ کے حملوں کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

پی چدمبرم کا اشارہ شاید اس جانب تھا کہ جب تک تفتیش میں کوئی بات سامنے نہیں آتی، انڈین مجاہدین یا کسی اور تنظیم کا نام نہیں لیا جانا چاہیے۔ اب کافی عرصے سے حکومت کی یہ پالیسی رہی ہے کہ دہشت گردی کی کسی بھی کارروائی کے بعد فوراً پاکستان کو مورد الزام نہ ٹھہرایا جائے کیونکہ اس سے دوبارہ الزام تراشی کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔

لیکن لال کرشن اڈوانی نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کے دھاکے کس نے کیے تھے، لیکن اگر یہ انڈین مجاہدین (جس کی جڑیں بھارت میں ہی ہیں) کا کام تھا تب بھی اسے پاکستان کی مدد حاصل رہتی ہے۔

ذرائع ابلاغ میں ماہرین کے درمیان بحث بھی کچھ انہیں خطوط پر ہے۔

سخت گیر لابی کا ہمیشہ کی طرح موقف ہے کہ پاکستان سے مذاکرات کر کے ہندوستان اپنی کمزوری کی مثال پیش کرتا ہے جبکہ اعتدال پسندوں کی دلیل ہے کہ بات چیت کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔

لیکن جیسا کہ اخبار ٹائمز آف انڈیا نے لکھا ہے’ اس نوعیت کی دہشت گردی کی کارروائیوں سے باہمی تعلقات میں مشکلات پیدا ہو ہی جاتی ہیں چاہے حالات کو نارمل رکھنے کی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کی جائے۔‘