ممبئی دھماکے: سترہ افراد ہلاک، تحقیقات شروع

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بھارت کے مرکزی وزیر داخلہ پی چدامبرم نے کہا ہے کہ ممبئی میں ہونے والے بم دھماکوں میں سترہ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ان دھماکوں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور وہ اس سلسلے میں کسی طرح کی قیاس آرائیوں میں نہیں پڑنا چاہتے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ممبئی پولیس ہر زاویے سے اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔
<link type="page"><caption> ممبئی حملے: غصہ اور تجسس ساتھ ساتھ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2011/07/110713_mumbai_anger_si.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ممبئی ہی بار بار نشانے پر کیوں؟</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2011/07/110713_mumbai_biswas_si.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ممبئی میں تین دھماکے: تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2011/07/110713_blast_mumbai_fz.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ممبئی بم حملوں کی مذمت</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2011/07/110713_mumbai_condemnation_si.shtml" platform="highweb"/></link>
بھارت کے کاروباری مرکز ممبئی میں بدھ کی شام کو تین یکے بعد دیگرے بم دھماکوں میں سترہ افراد ہلاک اور 131 زخمی ہوگئے ہیں۔
دھماکے جنوبی ممبئی کے زاویری بازار اور اوپرا ہاؤس اور وسطی ممبئی کے دادر علاقے میں ہوئے۔ یہ تینوں ہی شہر کے مصروف علاقوں میں رش کے اوقات میں ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دلی سے ہمارے نامہ نگار شکیل اختر نے بتایا کہ جب مسٹر چدامبرم سے پوچھا گیا کہ کیا ان دھماکوں کامقصد بھارت - پاک مذاکرات کے عمل میں رخنے ڈالنا ہو سکتا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ اس امکان کو خارج نہیں کیا جا سکتا۔
اس دوران ایلیٹ کمانڈو فورس این ایس جی کے ماہرین ممبئی میں ان بم دھماکوں کی نوعیت اور سراغ کے پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ممبئی پولیس کی خصوصی برانچ کے اہلکار شہر کے ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں ٹھہرنے والے افراد کی تفصیلات کی جانچ کر رہی ہے۔ سکیورٹی کے ماہرین دھماکے کے مقامات پر نصب سی سی ٹی وی فوٹیج کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں۔
دھماکے کے ایک روز بعد ممبئی میں زندگی معمول پر آتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔
اس سے قبل ممبئی سے ہمارے نامہ نگار زبیر احمد نے بتایا کہ بم دھماکوں کی سائنسی بنیادوں پر تفتیش کے لیے جدید سامان سے لیس نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی اور بلاسٹ انوسٹی گیشن ونگ کی ٹیمیں ان دھماکوں کی تحقیقات کے لیے دلی سے ممبئی پہنچ چکی ہیں۔
ریاستی وزیراعلیٰ اور دیگر حکام نے ان دھماکوں میں کسی خاص گروہ کے ملوث ہونے کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ اس بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر وزیراعلیٰ پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ دھماکوں میں ملوث افراد کی نشاندہی کرنا پولیس کا کام ہے، ان کا نہیں۔
دلی سے ہمارے نامہ نگاروں شکیل اختر اور سہیل حلیم نے بتایا کہ وزیر داخلہ پی چدامبرم نے بدھ کو کہا تھا کہ یہ دھماکے شام کو تقریباً پونے سات بجے یک بعد دیگرے ہوئے جس کی وجہ سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ یہ کارروائی مربوط انداز میں دہشت گردوں کی جانب سے کی گئی ہے۔
مقامی حکام کے مطابق ان دھماکوں میں ایک گاڑی اور ایک موٹر سائیکل استعمال کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
امریکہ کے صدر بارک اوباما نے ان دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے اور بھارت کی حکومت کو دہشت گردوں تک پہنچنے میں تعاون کی پیش کش کی۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ان دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سرکاری سطح پر جاری کیے گئے ایک بیان نے دونوں رہنماؤں نے بھارت کے عوام اور حکومت سے ان دھماکوں میں ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔
دھماکوں کے بعد ان علاقوں میں افراتفری کا عالم تھا اور پولیس نے جائے وقوعہ کی ناکہ بندی کردی۔
ٹی وی چینلوں پر عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ دھماکوں کے بعد لوگ ادھر ادھر بھاگنے لگے اور انہوں نے کئی لوگوں کی لاشیں دیکھیں۔ مہاراشٹر کے انسداد دہشت گردی سکواڈ کی ٹیموں کو جائے وقوعہ پر تفتیش کی ذمہ داری سونپ دی گئیں۔
واضح رہے کہ کسی تنظیم نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوان نے کہا کہ اوپرا ہاؤس کا دھماکہ کافی طاقتور تھا۔ لیکن باقی دو دھماکوں کو کم سے درمیانی شدت کا بتایا گیا ہے۔





















