بھارتی وزیراعظم تنقید کی زد میں

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارت میں موبائل فون کے لائسنس جاری کرنے سے متعلق ٹو جی سپیکٹرم کیس دوبارہ سے شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور حزب اختلاف نے وزارت خزانہ کے ایک خفیہ نوٹ کےمنظر عام پر آنے کے بعد براہ راست وزیر اعظم کو نشانہ بنایا ہے۔
اس نوٹ سے وزیر خزانہ اور وزیر داخلہ کے درمیان شدید اختلافات کی خبریں بھی تیز ہوگئی ہیں۔
یہ نیا تنازعہ وزارت خزانہ کے ایک خفیہ نوٹ سے شروع ہوا ہے جو وزیر اعظم کے دفتر کو بھیجا گیا تھا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اس وقت کے وزیر خزانہ پی چدمبرم اگر خاطر خواہ کارروائی کرتے تو اس گھپلے کو روکا جا سکتا تھا۔
ٹو جی سپیکٹرم کیس میں بنیادی الزام یہ ہے کہ حکومت نے موبائل فون سروسز فراہم کرنے کے لیے بیش قیمت لائسنس کوڑیوں کے دام اپنی پسندیدہ کمپنیوں کو دیے تھے جس سے سرکاری خزانے کو تقریباً پونے دو لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔
اس سلسلے میں سابق وزیر مواصلات اے راجہ جیل میں ہیں۔ لیکن اس نوٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد خود حکومت کے اندر اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔
حزب اختلاف نے اس وقت کے وزیر خزانہ پی چدمبرم کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن وزیر اعظم من موہن سنگھ نے، جو یو ان کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے نیو یارک میں ہیں، کہا کہ پی چدمبرم کوان کا مکمل اعتماد حاصل ہے. 'مجھے نہیں معلوم کہ آپ کس نوٹ کی بات کررہے ہیں۔ یہ معاملہ عدالت میں ہے اس لیے میں اس پر تبصرہ نہیں کرسکتا لیکن مسٹر چدمبرم کو اس وقت بھی میرا مکمل اعتماد حاصل تھا جب وہ وزیر خزانہ تھ اور اب وزیر داخلہ کی حیثیت سے بھی ہے۔ حکومت کے اندر اختلافات کی خبریں غلط ہیں'
لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی نے اب خود وزیر اعظم پر بھی براہ راست حملہ شروع کیا ہے: ' مسٹر من موہن سنگھ، کیا اپنے ایک ساتھی میں آپکا اعتماد زیادہ اہم ہے یا ایک غیر جانبدار انکوائری۔ بڑی تعداد میں شواہد کے باوجود سی بی آئی مسٹر چدمبرم کے خلاف تفتیش سے کیوں انکار کر رہی ہے؟'
وفاقی وزیر قانون سلمان خورشید نے جواب میں کہا کہ وزیر اعظم جب ضرورت محسوس کریں گے، اپنی بات کہیں گے۔ کلپ حزب اختلاف اس انداز میں ان سے پوچھ گچھ نہیں کرسکتی۔ میڈیا کے سوالات کا جواب دینے کے لیے ہم موجود ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بہر مسٹر چدمبرم نے وزیر اعظم سے بات چیت کے بعد کہاہے کہ وہ ان کی واپسی سے پہلے کوئی بیان نہیں دیں گے۔ بتایاجاتا ہے کہ پرنب مکھرجی نے بھی ان سے ٹیلی فون پر بات کرکے وضاحت پیش کی ہے۔
لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے دو سب سے سینئر وزار کے اختلافات اس انداز میں سامنے آنے سے کانگریس کی قیادت والی حکومت کو بھاری سیاسی قیمت ادا کرنی پڑسکتی ہے۔



















