ٹو جی سپیکٹرم کیس، کنی موڑی کی پیشی

کنی موڑی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنکنی موڑی تمل ناڈو کے سرکردہ رہنما ایم کرونا ندھی کی بیٹی ہیں

موبائل فون سروسز کے لائسنس جاری کرنے میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات کے سلسلے میں تمل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کروناندھی کی بیٹی اور رکن پارلیمان کنی موڑی دلی کی ایک خصوصی عدالت میں پیش ہوئی ہیں جہاں ان کی گرفتاری بھی ممکن ہے۔

تمل ناڈو میں کانگریس کی اتحادی جماعت ڈی ایم کے برسراقتدار ہے اور وفاق کابینہ میں اس کے نمائندے اور سابق وزیر برائے ٹیلی مواصلات اے راجہ کو ٹو جی سپیکٹرم کیس میں پہلے ہی گرفتار کیا جاچکا ہے۔

کنی موڑی نے عدالت میں ضمانت کی درخواست پیش کی ہے جس پر آج ہی فیصلہ سنائے جانے کا امکان ہے۔

عدالت میں کنی موڑی کے وکیل اور سابق وزیر قانون رام جیٹھ ملانی نے ٹو جی سپیکٹرم کے اجرا میں ہونے والی تمام مبینہ بے ضابطگیوں کی ذمہ داری اے راجہ پر ڈالتے ہوئے کہا کہ اس معاملے سے ان کے موکل کا کوئی تعلق نہیں تھا۔

اس کیس میں تین سرکردہ ٹیلی کام کمپنیوں کے پانچ اعلیٰ اہلکاروں کو بھی پہلے ہی جیل بھیجا جاچکا ہے۔ اے راجہ پر الزام ہے کہ انہوں نے ٹو جی سپیکٹرم کے بیش قیمت لائسنسن کوڑیوں کے دام اپنی پسندیدہ کمپنیوں کو دیکر سرکاری خزانے کو پونے دو لاکھ کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا تھا۔

اس معاملے کی تفتیش سی بی آئی کر رہی ہے جس کا کہنا ہے کہ اس پورے گھپلے کی سازی اے راجہ اور کنی موڑی نے مل کر تیار کی تھی۔ کنی موڑی اپنا ایک ٹی چینل بھی چلاتی ہیں اور ان پر بنیادی الزام یہ ہے کہ اس چینل کے ذریعہ انہوں نے ٹی جی سکیم سے متعلق دو سو کروڑ روپے کی رشوت حاصل کی تھی۔

جمعہ کو عدالت میں اے راجہ، ٹیلی کام کے سابق سیکریٹری سدھارتھ بہوڑا، سوان ٹیلی کام کےمالک شاہد بالوا اور ٹیلی کام کمپنیوں کے پانچوں گرفتار شدہ اہلکار بھی موجود تھے۔

کنی موڑی کو اینفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بھی منی لانڈرنگ سے متعلق الزامات کےسلسلے میں پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا ہے۔