اتر پردیش کی جگہ چار ریاستوں کی سفارش

،تصویر کا ذریعہPTI
بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کی حکومت نے ریاست کو توڑ کر چار چھوٹی ریاستیں تشکیل دینے کی سفارش کی ہے۔
لکھنؤ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی مایاوتی نے اعلان کیا کہ ریاستی کابینہ نے پوروانچل، اودھ پردیش، پشچم پردیش اور بندیل کھنڈ نام کی چار نئی ریاستوں کی تشکیل کی قرارداد کو منظوری دے دی ہے اور اب یہ قرار داد ریاستی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ چھوٹی ریاستوں کی تشکیل کا فیصلہ عوام کے مفاد کے پیش نطر کیا گیا ہے۔
محترمہ مایاوتی نے کہا کہ مرکز اور ریاست میں کانگریس، بی جے پی اور سماجوادی پارٹی کی غلط پالیسیوں کے سبب ریاست ترقی نہیں کر سکی اور دوسری ریاستوں سے بہت پیچھے رہ گئی۔
’اگرچہ ریاست نے ملک کو سب سے زیادہ وزیر اعظم ديے لیکن اس کے باوجود ریاست کی ترقی کے لیے کوئی بڑا قدم نہیں اٹھایا گیا اور اس کے ساتھ تفریق بڑھتی گئی۔‘
محترمہ مایاوتی نے کہا کہ کسی ریاست کا نام تبدیل کرنے، نئی ریاست تشکیل دینے اور نئی حد بندی کرنے کا اختیار صرف مرکز کو ہے۔ ریاستی اسمبلی میں اتر پردیش کو چار ریاستوں میں منقسم کرنے کی قرارداد منظور ہونے کے بعد اسے مرکزی حکومت کے پاس بھیجاجائے گا۔
2011 کی مردم شماری کے مطابق اترپریش کی آبادی انیس کروڑ سے زیادہ ہے۔ لوک سبھا یعنی ایوان زیریں کی 544 سیٹوں میں سے 80 سیٹیں اکیلے اتر پردیش کی ہیں۔
محترمہ مایاوتی نے ریاست کے چار ٹکڑے کرنے کا یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب ریاست میں 403 رکنی اسمبلی کے لیے انتخابی مہم شروع ہو چکی ہے۔ مایاوتی کی جماعت بی ایس پی کا کہنا ہے کہ وہ اصولی طور پر چھوٹی ریاستوں کے حق میں رہی ہے کیونکہ اس کا انتظام آسان ہوتا ہے اور ترقی کا فائدہ سبھی کو پہنچتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہمارے نامہ نگار شکیل اختر نے بتایا کہ بی جے پی نے اس سلسلے میں ابھی تک اپنا موقف ظاہر نہیں کیا ہے لیکن وہ بالآخر ریاست کی تقسیم کی حمایت کرے گی۔
کانگریس اگرچہ اتر پردیش کی تقسیم کے حق میں ہے لیکن وزیر اعلیٰ کےاعلان کو اس نے ایک سیاسی چال قرار دیا ہے۔ پارٹی کے ایک ترجمان نے کہا ’اب انتخابات قریب ہیں اور وزیر اعلیٰ مایاوتی اپنی حکومت کی بدانتظامیوں کو چھپانے کے لیے اس طرح کے حربے استعمال کر رہی ہیں۔‘
ریاست کی اصل اپوزیشن جماعت سماج وادی پارٹی ہی واحد جماعت ہے جو اتر پردیش کی تقسیم کی مخالفت کر رہی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ وسائل کی کمی کے سبب چھوٹی ریاستیں ترقی نہیں کر سکیں گی اور انہیں بین االاقوامی سرحدوں کے خطرات کا بھی سامنا کرنا ہو گا۔ اور ساتھ ہی وہ اپنی سیاسی اہمیت بھی کھو دیں گی ۔
لیکن سیاسی مبصرین اسے انتخابات سے قبل مایاوتی کا ایک زبردست سیاسی قدم قرار دے رہے ہیں۔





















