مایاوتی کے مجسموں کے لیے خصوصی فورس

مایاوتی
،تصویر کا کیپشنحزب اختلاف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ مایاوتی نے عوام کے ہزاروں کروڑ روپئے اپنے مجسموں کی تعمیر میں خرچ کیے ہیں۔

ریاست اترپردیش کی وزیر اعلی مایاوتی لکھنؤ اور دلی کے نواحی شہر نوئیڈا میں اپنے متنازعہ مجسموں اور یادگاروں کی حفاظت کے لیے ایک خصوصی فورس بنانے کے لیے جمعرات کو ریاستی اسمبلی میں ایک بل پیش کریں گی۔

بل کے مطابق ابتدا میں ان یادگاروں کی حفاظت کے لیے ایک بٹالین بنائی جائے گی اور اگر ضرورت پڑی تو بعد میں اس کو مزید بڑھایا جائے گا۔

فورس کی تشکیل کے لیے ابتداء میں ترپّن کروڑ روپے خرچ اور سالانہ چودہ کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔

یہ فورس جن دس یادگاروں کی حفاظت کی ذمہ دار ہوگی ان میں امبیڈکر ستھل، کانشی رام میموریل، رامابائی امبیڈکر میدان اور مایاوتی کا بنگہ 13 مال ایونیو شامل ہے۔

یہ سبھی یادگاریں اور مجسمے متنازعہ رہے ہيں اور مایاوتی پر تنقید ہوتی رہی ہے کہ ان مجسموں کو بنانے میں انہوں نے کئی ہزار کروڑ روپئے خرچ کیے ہیں۔

حزب اختلاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ سب ایک ایسے ملک میں سرکاری خزانے کا غلط استعمال ہے جہاں لاکھوں لوگ غربت میں زندگی بسر کرنے کے لیے مجبور ہیں۔

مایاوتی کی جانب سے تعمیر کیے جانے والے مختلف مجسموں اور یادگاروں کے خلاف مختلف عدالتوں میں مقدمے جاری ہیں۔

اس سے قبل سپریم کورٹ نے مایاوتی کو حکم دیا تھا کہ وہ سبھی تعمیراتی کام بند کر دیں لیکن اس حکم کے باوجود کئی مقامات پر مجسموں کی تعمیر کا کام جاری رہا تھا جس کے بعد سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کے چیف سیکرٹری کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔

اس سے قبل عدالت نے اترپردیش کی حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ ریاست میں جاری مختلف یادگاروں کی تعمیر کا کام بند کرے۔

عدالت نے یہ فیصلہ مفاد عامہ کی ان عرضداشتوں پر سنایا تھا جن میں کہا گیا تھا کہ مایاوتی سرکاری خزانہ اپنی پارٹی کے رہنماؤں کی یاد میں بہت سے ’میموریل‘ تعمیر کرنے پر خرچ کررہی ہیں جن میں پارٹی کے انتخابی نشان ہاتھی کو بھی نمایاں جگہ دی جا رہی ہے۔