الیکشن کمیشن اور سیاسی جماعتوں میں محاذ آرائی

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
بھارت کی پانچ ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیوں کے لیے انتخابی مہم میں تیزی آنے کے ساتھ ہی الیکشن کمیشن اور سیاسی جماعتوں کے درمیان محاذ آرائی کے دلچسپ واقعات بھی سامنے آرہے ہیں۔
گزشتہ چند دنوں میں الیکشن کمیشن نے کچھ ایسے احکامات جاری کیے ہیں جن سے سیاسی ماحول کافی گرم ہوگیا ہے۔
حزب اختلاف کی شکایت پر الیکشن کمیشن نے حکم دیا کہ اتر پردیش میں وزیر اعلی مایاوتی اور ان کی سیاسی جماعت بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے انتخابی نشان ہاتھی، کے تمام مجسموں کو ڈھک دیا جائے تاکہ ان کی پارٹی کو نامناسب فائدہ نہ پہنچے۔
لیکن بی ایس پی کا الزام ہے کہ الیکشن کمیشن نے غیر جانبداری سے کام نہیں لیا کیونکہ اس نے ریاست میں سماجوادی پارٹی کے انتخابی نشان سائیکل، بی جے پی کے کنول کے پھول اور لوک دل کے ہینڈ پمپ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔
جہاں تک ہاتھی کے نشان کا سوال ہے، تو پارٹی کا کہنا ہے کہ اس نے ریاست میں جگہ جگہ جو مجسمے نصب کروائے ہیں ان میں ہاتھی کی سونڈ استقبال میں اوپر اٹھی ہوئی ہے اور اس کے انتخابی نشان میں نیچے ہے۔ جواب میں کمیشن نے کہا کہ جب پارٹی ووٹ مانگتی ہے تو صرف ہاتھی کے نشان کا ذکر ہوتا ہے، یہ نہیں کہ اس نے سونڈ اوپر اٹھا رکھی ہے یا نہیں۔
بہرحال، بی ایس پی نے الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ پارلیمان کے ایوان زیریں یا لوک سبھا میں سپیکر کی کرسی کے اوپر بھی ہاتھی بنا ہوا ہے۔
یہ بحث ابھی شاید جاری رہے گی کیونکہ الیکشن کمیشن کے لیے ریاست سے کنول کا ہر پھول ہٹوانا، ہر سائیکل پر پردہ ڈلوانا یا ہینڈ پمپ اکھڑوانا ممکن نہیں ہوگا اور بہت سے مبصرین کا کہنا ہےکہ مایاوتی کے دیو قامت مجسمے ڈھکنے سے ان کی جماعت کو نقصان کم اور فائدہ زیادہ ہوگا کیونکہ انہیں اپنے ووٹروں سے پھر یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ دلتوں کے حوالے سے کچھ لوگوں کا رویہ ابھی بھی نہیں بدلا ہے۔
اسی طرح کی ایک خبر جمعہ کو انگریزي اخبار انڈین ایکسپریس میں شائع ہوئی۔ اتر پردیش میں بابری مسجد رام جنم بھومی تنازعہ کے لیے مشہور، اجودھیا سے سماجوادی پارٹی کے امیدوار تیج نارائن پانڈی کی انتخابی مہم کے دوران ہی شادی ہو رہی ہے لیکن وہ خوش کم اور پریشان زیادہ ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہیں خطرہ ہے کہ الیکشن کمیشن کہیں شادی پر ہونےوالے خرچ کو ان کے انتخابی اخراجات میں شامل نہ کردے۔
پانڈے صاحب کا کہنا ہے کہ پہلے ان کا ارادہ پچیس تیس ہزار مہمان بلانےکا تھا لیکن اس وقت تک انتخابات کا اعلان نہیں ہوا تھا۔ چوبیس دسمبر سے الیکشن کمیشن کا ضابطۂ اخلاق عمل میں آگیا ہے اور ایسی تمام تقریبات کی نگرانی کی جارہی ہے جس میں ووٹروں کو لالچ دینے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔
پانڈے صاحب کا کہنا ہے کہ اب وہ صرف سو مہمانوں کی موجودگی میں شادی کریں گے اور اس کے لیے انہوں نے ضلع مجسٹریٹ سے اجازت مانگی ہے جن کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ درخواست ریاست کے الیکشن کمیشن کو بھیج دی ہے اور جو بھی ہدایات ملیں گی، ان کے مطابق ہی وہ فیصلہ کریں گے۔
بھارت میں گزشتہ دو دہائیوں میں انتخابی اخراجات پر سخت پابندیاں لگائی گئی ہیں لیکن دولت کے بے پناہ استعمال کو روکنے کی کوشش میں جو اقدامات کیے گئے ہیں ان سے امیدواروں کے لیے غیر ضروری مشکلات بھی پیدا ہوئی ہیں کیونکہ بہت سے لوگ انہیں پریشان کرنے کے لیے بھی جھوٹی سچی شکایتیں کرتے رہتے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے ضابطۂ اخلاق میں امیدواروں کے لیے پورا بلو پرنٹ موجود ہے جیسے کے جھنڈے، بینر اور پوسٹر کہاں لگائے جاسکتے ہیں اور اس کا طریقۂ کار کیا ہوگا، لاؤڈ سپیکر کا استعمال کن حالات میں کیا جاسکتا ہے، کتنی گاڑیاں ہوں گی اور پارٹی آفس کہاں قائم ہوگا وغیرہ وغیرہ۔
لیکن اب الیکشن کمیشن اور وزیرقانون سلمان خورشید کے درمیان اس بات پر تنازعہ پیدا ہوگیا ہے کہ انہوں نے اقلیتوں کو نو فیصد ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا ہے۔
بہت سے لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر انتخابی تقریروں میں وعدوں کی اجازت بھی نہیں ہوگی تو سیاستدانوں کے پاس کہنے کے لیے بچےگا کیا؟





















