یو پی: پہلے مرحلے کی انتخابی مہم آج ختم

،تصویر کا ذریعہAP
بھارت کی ریاست اتر پردیش میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے انتخابی مہم آج اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے۔
چار سو تین رکنی اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں پچپن انتخابی حلقوں میں لیے آٹھ فروری کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ یہ انتخابی حلقے یوپی کے دس اضلاع پر محیط ہیں۔
اگر یوپی میں برسرِ اقتدار بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ اور وزیر اعلی مایاوتی ووٹروں کو راغب کرنے کی آخری کوشش میں کوشی نگر اور گورکھپور کا دورہ کر رہی ہیں تو وہیں یوپی میں کانگریس کو از سر نو زندہ کرنے کے ارادے سے اترنے والے راہل گاندھی ہندو مذہبی حیثیت کے حامل اہم شہر وارانسی کا دورہ کر رہے ہیں۔
اسی طرح سماجوادی پارٹی کے نوجوان رہنما اور یوپی کے سابق وزیر اعلٰی ملائم سنگھ یادو کے بیٹے اکھلیش یادو اپنے والد کے ساتھ اعظم گڑھ اور سیتاپور کا دورہ کر رہے ہیں۔
اس چومکھی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) بھی ایک اہم دعویدار ہے۔ بی جے پی کے رہنما ایل کے اڈوانی اور بھارتی پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کی رہنما ششما سوراج بھی انتخابی مہم میں تمام تر جوش کے ساتھ شامل ہیں۔
بیس کروڑ کی آبادی والی یہ ریاست ملک کو چھ وزراء اعظم دے چکی ہے۔ سیاسی اعتبار سے یہ ریاست قومی سیاست میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
بھارت کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہو رہے ہیں۔ منی پور، پنجاب اور اترا کھنڈ ریاستوں میں پہلے ہی انتخابات ہو چکے ہیں۔ یوپی میں سات مرحلوں میں ووٹ ڈالے جائیں گےجس کی شروعات بدھ سے ہو رہی ہے۔ تمام ریاستوں کے ووٹوں کی گنتی چھ مارچ کو ہوگی۔



