منی پور: ووٹنگ کے دوران حملہ، سات ہلاک

،تصویر کا ذریعہreuters
بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹنگ کے دوران ایک پولنگ بوتھ پر مبینہ علیحدگی پسند شدت پسندوں کی جانب سے حملے میں سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سی آر پی ایف کا ایک جوان اورایک شدت پسند بھی شامل ہے۔
یہ واقعہ چانڈیل ضلع کے ایک پولنگ بوتھ پر پیش آیا ہے۔
انتخابی کمیشن کے اہلکاروں کے مطابق ریاست میں تقریباً ستر فی صد ووٹ ڈالے گئے ہیں۔
ریاست منی پور کی اسمبلی کی ساٹھ نشستوں کے لیے پولنگ سست رفتار سے شروع ہوئی تھی۔
سنیچرکو گیارہ بجے تک تقریباً پچیس فی صد ووٹ ہی ڈالے جاسکے۔
دارالحکومت امفال سے مقامی صحافی یمنام روپ چندر نے بی بی سی کو بتایا کہ سیناپتی ضلع کے دو پولنگ سٹیشنوں ٹاڈوبی اور مکھانکلین پر بھیڑ دیکھی گئی۔
ان کے مطابق وہاں موجود لوگوں کے درمیان جھگڑا ہوا ہے۔ پولیس کویہاں کشیدگی کا ڈر ہے اس لیے بڑی تعداد میں پولیس تعینات ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
يمنام روپ چندر نے بتایا ہے کہ ابھی حالات قابو میں ہے۔
چراچان پور ضلع میں بھی دو پولنگ بوتھ پر ہنگامہ ہوا ہے اور وہاں پولنگ روک دی گئی ہے۔
تپائی مکھ اور سائیٹومیں بعض افراد نے پولنگ سٹیشن پر ہنگامہ کرنے کی کوشش کی تھی۔
بیشتر پولنگ سٹیشن پر سست روی سے ووٹنگ کی ایک وجہ انتخابی کمیشن کے وہ احکامات بتائے جارہے ہیں جس کے تحت ووٹ ڈالنے سے پہلے انگلی پر سیاہی لگانے کے بعد سبھی ووٹروں کی تصاویر کھینچی جائیں گی۔ ان تمام تصویروں کو بعد میں ووٹنگ فہرست کے ساتھ ملایا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ لنگ اسٹیشنوں کے سامنے لمبی قطاریں ہیں۔
حالانکہ انتخابی اہلکاروں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تین بجےکے بعد بھی اگر پولنگ سٹیشنوں پر ووٹر موجود ہیں تو ان کو ووٹ ڈالنے دیا جائے گا۔
منی پور میں کل سترہ لاکھ چالیس ہزار رائے دہندگان ہیں جنہیں کانگریس ، راشٹروادی کانگریس پارٹی ، کمیونسٹ پارٹیاں اور ترنامول کانگریس کے درمیان اپنے اسمبلی رکن کو انتخاب کرنا ہے۔







