یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
23 فروری کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سیکرٹ سروس کے مطابق ایک شخص کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا جب وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رہائش گاہ مار-اے-لاگو کے محفوظ حصے میں داخل ہوا۔ عوامی شیڈول کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ہفتے وائٹ ہاؤس میں قیام پذیر ہیں۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
23 فروری کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
عمان کے وزیرِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور جمعرات کو جنیوا میں ہوں گے۔
عمان، جو فریقین کے درمیان ثالثی کرتا رہا ہے کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ یہ مذاکرات ’ایک مثبت پیش رفت کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے اضافی کوشش کے طور پر طے پائے ہیں۔‘
واضح رہے کہ اس سے قبل 17 فروری کو جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی مذاکرات کی دوسری نشست کے بعد واشنگٹن اور تہران کی جانب سے تشویش کے اظہار کے ساتھ ساتھ چند حوصلہ افزا بیانات بھی سامنے آئے تھے۔
17 فروری کو مذاکراتی نشست کے بعد امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ ’امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی مذاکرات ’کچھ حوالوں سے‘ اچھے رہے ہیں اور فریقین نے آئندہ ایک اور اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ’بنیادی اصولوں پر مفاہمت‘ طے پا گئی ہے۔‘
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران اب بھی صدر ٹرمپ کی متعین کردہ ’کچھ ریڈ لائنز کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔‘
انھوں نے عندیہ دیا تھا کہ اس ضمن میں امریکہ سفارتی راستے پر ’سفر جاری رکھے گا‘ لیکن صدر ٹرمپ ہی یہ طے کریں گے کہ ’سفارتکاری کب ترک کرنی ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا تھا کہ واشنگٹن یہ امید نہیں رکھتا ’کہ معاملات اس حد تک پہنچیں گے، لیکن اگر ایسا ہوا تو فیصلہ صدر ٹرمپ کا ہو گا۔‘
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کے پہلے دور کے مقابلے میں دوسرے دور کو زیادہ مثبت قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ’دونوں فریق معاہدے کی ممکنہ دستاویز کے دو مسودے تیار کر کے اُن کا تبادلہ کریں گے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جلد ہی کسی معاہدے پر پہنچ جائیں گے لیکن ہم معاہدے تک پہنچنے کے راستے پر ضرور چل پڑے ہیں۔‘
انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اپنے ایک حالیہ بیان میں پاکستان کی جانب سے افغانستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائے جانے کے حوالے سے کہا ہے کہ ’انڈیا رمضان کے مقدس مہینے کے دوران افغان سرزمین پر پاکستان کے اُن فضائی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ پاکستان کی جانب سے اپنی اندرونی ناکامیوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی ایک اور کوشش ہے۔‘
انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’انڈیا افغانستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔‘
واضح رہے کہ سنیچر کی شب پاکستان کی وزاتِ اطلاعات کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ ’پاکستان نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک کارروائی کے دوران پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادی دولتِ اسلامیہ خراسان سے وابستہ شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘
جس کے بعد افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان فوج پر افغانستان کی سرحد کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ’ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔‘
ذبیح اللہ مجاہد کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’گذشتہ رات انھوں نے صوبہ ننگرہار اور پکتیکا میں ہمارے بے گناہ شہریوں پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے۔‘
افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارت دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے ننگرہار اور پکتیکا کے ’شہری علاقوں‘ میں پاکستان کی جانب سے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ’مناسب وقت‘ پر ان حملوں کا جواب دیا جائے گا۔
تاہم افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان نے ایکس پر جاری ایک بیان میں پاکستان کی جانب سے فضائی حملوں کو ’افغانستان کی قومی خودمختاری کی خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان اس عمل کو بین الاقوامی قوانین، اچھے ہمسائیگی کے اصولوں اور اسلامی اقدار کی صریح خلاف ورزی سمجھتا ہے۔
واضح رہے کہ طالبان حکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ننگرہار میں گھر پر حملے میں 11 بچوں سمیت 17 افراد مارے گئے۔
بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کو متعدد ذرائع نے یہ بات بتائی کہ مار-اے-لاگو میں گولی لگنے سے ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت 21 سالہ آسٹن ٹی مارٹن کے طور پر ہوئی ہے، جو کیمرون، نارتھ کیرولائنا کے رہائشی تھے۔
حکام کے مطابق جب وہ مار-اے-لاگو میں داخل ہوئے تو ان کے پاس ایک شاٹ گن اور گیس کین موجود تھا۔ وہ اس وقت اندر داخل ہوئے جب ایک مہمان باہر نکل رہا تھے۔
سی بی ایس کے مطابق مارٹن کے خاندان نے انھیں صرف ایک دن پہلے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی تھی۔
حکام یہ بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا انھوں نے نارتھ کیرولائنا سے فلوریڈا تک کے سفر کے دوران کہیں راستے میں یہ بندوق خریدی تھی۔
مار-اے-لاگو، جسے ’ونٹر وائٹ ہاؤس‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فلوریڈا میں واقع رہائش گاہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ وسیع و عریض ہسپانوی طرز کا محل 1985 میں 10 ملین ڈالر میں خریدا تھا، اور یہ ان کے خاندان کی سردیوں کی چھٹیوں کی جائے پناہ بن گیا۔
اپنی صدارت کے دوران ٹرمپ نے اس جگہ کو بارہا عالمی رہنماؤں، مشہور شخصیات اور کاروباری شخصیات کی میزبانی کے لیے استعمال کیا، جہاں شاندار تقریبات اور فنڈ ریزنگ پارٹیوں کا انعقاد کیا جاتا رہا۔
سنہ 1927 میں تعمیر ہونے والا مار-اے-لاگو ایک خصوصی پرائیویٹ ممبرز کلب بھی ہے، جہاں مہمانوں کو پوری رہائش گاہ تک رسائی حاصل ہوتی ہے، سوائے اس حصے کے جو ٹرمپ خاندان کے ذاتی استعمال کے لیے مخصوص ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے سیکرٹ سروس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے صدر ٹرمپ کی رہائش گاہ میں گھسنے والے مشتبہ شخص کو ’پھرتی سے اور فیصلہ کن انداز‘ میں قابو کیا۔ کیرولین لیویٹ نے اس شخص کو ’پاگل‘ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی قانون نافذ کرنے والے اہلکار دن رات کام کرتے ہیں تاکہ ملک اور تمام امریکی محفوظ رہیں۔
لیویٹ نے ایک پوسٹ میں مزید کہا کہ ’یہ شرمناک اور غیر ذمہ دارانہ ہے کہ ڈیموکریٹس نے اپنے محکمے کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
خیال رہے کہ سیکرٹ سروس محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کا حصہ ہے، جس کی فنڈنگ کا بڑا حصہ اس وقت جزوی حکومتی شٹ ڈاؤن کے باعث معطل ہے کیونکہ قانون ساز فنڈنگ بل پر اختلافات کا شکار ہیں۔
امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ انھوں نے ابھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کی ہے۔ ان کے مطابق صدر اور ان کا خاندان محفوظ ہیں، لیکن انھوں نے زور دے کر کہا ’انھیں بار بار حملوں کی کوششوں کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔‘
سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ صدر کے گرد سکیورٹی حصار پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے اور سیکرٹ سروس اب اس وقت سے کہیں بہتر ہے جب سنہ 2024 میں پنسلوانیا کے شہر بٹلر میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی تھی۔
انھوں نے اس واقعے کی وجہ سیاسی تشدد کو قرار دیا اور کہا کہ یہ سب بائیں بازو کی طرف سے پیدا ہونے والی فضا کا نتیجہ ہے۔ ان کے الفاظ میں ’یہ وجودی خطرہ، یہ زہر جو بائیں بازو سے پھیل رہا ہے، اب ختم ہونا چاہیے۔ انھوں نے اس تشدد کو معمول بنا دیا ہے۔‘
امریکی سیکرٹ سروس کا کہنا ہے کہ انھوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پام بیچ میں واقع مار اے لوگو رہائش گاہ میں داخل ہونے والے مسلح شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ سیکرٹ سروس کے مطابق مسلح شخص کی عمر 20 کے پیٹے میں ہے۔
خیال رہے اس وقت صدر ٹرمپ مار اے لوگو میں نہیں بلکہ وائٹ ہاؤس میں موجود ہیں۔ مقامی وقت کے مطابق ڈیڑھ بجے سیکرٹ سروس کے ایجنٹس اور پام بیچ کاؤنٹی کے شیرف ڈپارٹمنٹ کے ایک ڈپٹی کا سامنا ایک ایسے شخص سے ہوا جو مار اے لوگو کی محفوظ حدود میں داخل ہوا تھا۔
شیرف رِک بریڈشا نے صحافیوں کو بتایا کہ سیکورٹی اہلکاروں نے ایک سفید فام شخص کو پیٹرول کا کین اور شاٹ گن اٹھائے دیکھا۔
بریڈشا کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں نے اس شخص کو سامان زمین پر پھینکنے کو کہا، جس کے بعد اس نے کین زمین پر رکھ دیا اور گولی چلانی کے لیے بندوق اُٹھالی۔
شیرف کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت ’خطرے کو ختم کرنے کے لیے‘ ایجنٹس نے گولی چلائی۔ اس واقعے کے دوران سکیورٹی اہلکاروں نے باڈی کیمرے پہنے ہوئے تھے۔ اس واقعے کے وقت سیکرٹ سروس اور شیرف ڈپارٹمنٹ دونوں ایجنسیوں کے اہلکار موجود تھے۔
اس واقعے میں کوئی بھی سکیورٹی اہلکار زخمی نہیں ہوا ہے۔ تاہم سکیورٹی افسران نے اب تک مبینہ حملہ آور کی شناخت نہیں ظاہر کی ہے اور نہ یہ بتایا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کی رہائش گاہ میں کیسے داخل ہوا۔ ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کے اس واقعے کے دوران کتنی گولیاں چلیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ہفتے اپنی مار-اے-لاگو رہائش گاہ سے دور دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں مقیم ہیں۔ اس کے باوجود وہاں پیش آنے والی فائرنگ کا واقعہ حیران کن اور چونکا دینے والا ہے۔
میں خود کئی بار مار-اے-لاگو جا چکا ہوں، جن میں دو مرتبہ رواں سال دسمبر اور جنوری میں بھی شامل ہیں۔
اس جگہ پر سکیورٹی انتہائی سخت ہے۔ بیرونی حصے میں پام بیچ شیرف کے اہلکار تعینات ہوتے ہیں جبکہ اندرونی حصے کی نگرانی سیکرٹ سروس کرتی ہے۔ آنے والے افراد کی تلاشی لی جاتی ہے اور گاڑیوں و بیگوں کو کتوں اور میٹل ڈیٹیکٹرز کے ذریعے چیک کیا جاتا ہے۔
اگرچہ واقعے کی مزید تفصیلات سامنے آ رہی ہیں، لیکن سخت سکیورٹی ہی اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ حملہ آور کو رہائش گاہ کے اندر مزید آگے بڑھنے سے جلد روک دیا گیا۔
یہاں تک کہ جب ٹرمپ اور ان کی ذاتی سکیورٹی ٹیم موجود نہیں ہوتی، تب بھی سکیورٹی برقرار رہتی ہے۔ مار-اے-لاگو میں اکثر نمایاں ریپبلکن شخصیات اور دولت مند کاروباری رہنما آتے ہیں۔
اب بھی مشتبہ شخص اور اس کے ممکنہ محرکات کے بارے میں کئی سوالات جواب طلب ہیں۔
تاہم یہ واقعہ یقیناً امریکہ میں سیاسی تشدد کے خدشات کو بڑھا دے گا، جیسا کہ ٹرمپ پر دو قاتلانہ حملوں کی کوشش اور دائیں بازو کے سیاسی کارکن چارلی کرک پر فائرنگ کے واقعات سے ہوا تھا۔
سیکرٹ سروس کے مطابق ایک شخص کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا جب وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رہائش گاہ مار-اے-لاگو کے محفوظ حصے میں داخل ہوا۔
یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات 01:30 بجے پیش آیا۔
سیکرٹ سروس کا کہنا ہے کہ اس شخص کو شمالی گیٹ کے قریب دیکھا گیا۔ اس کے پاس بظاہر ایک شاٹ گن اور ایندھن کا کین موجود تھا۔
برڈشا نے بتایا کہ جب سکیورٹی اہلکار موقع پر پہنچے تو انھوں نے ایک سفید فام شخص کو پٹرول کا کین اور شاٹ گن اٹھائے ہوئے پایا۔
سکیورٹی نے اسے حکم دیا کہ دونوں چیزیں زمین پر پھینک دے۔ اس نے پٹرول کا کین تو چھوڑ دیا لیکن شاٹ گن کو فائرنگ کی پوزیشن میں اٹھا لیا۔ اس موقع پر اہلکاروں نے ’خطرے کو ختم کرنے‘ اسے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق امریکی سیکرٹ سروس کے ایجنٹس اور پام بیچ کاؤنٹی شیرف کے دفتر کے ایک نائب نے اُس شخص کا سامنا کیا جو بیس کی دہائی میں تھا۔ اس دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
اس شخص کی شناخت فی الحال ظاہر نہیں کی گئی ہے۔
سیکرٹ سروس کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت ان کے کسی بھی زیرِ حفاظت شخصیت موقع پر موجود نہیں تھیں۔
عوامی شیڈول کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ہفتے وائٹ ہاؤس میں قیام پذیر ہیں۔
امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ مذاکرات کرنے والے سٹیو وٹکوف نے امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حیران ہیں کہ امریکہ کے تمام تر دباؤ کے باوجود تہران نے ابھی تک واشنگٹن کے مطالبات کیوں نہیں مانے۔
وٹکوف نے کہا کہ ’میں ’مایوس‘ کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہتا کیونکہ امریکی صدر کے پاس بہت سے آپشنز ہیں، لیکن وہ یہ جاننے کے لیے متجسس ہیں کہ انھوں (ایران) نے ابھی تک ہمارے مطالبات کیوں نہیں مانے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ حیران ہیں کہ تمام تر دباؤ اور خطے میں ہماری بحری قوت کے حجم کے باوجود تہران نے ہمت کیوں نہیں ہاری اور آ کر صاف صاف یہ کیوں نہیں کہہ دیا کہ بس ہم اب جوہری ہتھیار نہیں چاہتے؟
سٹیو وٹکوف نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات شروع ہونے سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی صدر کے داماد اور سینیئر مشیر جیرڈ کشنر نے انھیں ’ہدایات‘ دی تھیں، جن میں سے ایک سرے سے ’افزودگی کو روکنے‘ کی ضرورت تھی اور دوسرا ’افزودہ مواد کو واپس کرنا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ایران سویلین جوہری پروگرام رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن اس نے یورینیئم کو شہری ضروریات سے کہیں زیادہ افزودہ کیا ہے، اور بم بنانے کے لیے درکار صنعتی سطح تک پہنچنے میں شاید ایک ہفتہ باقی ہے، اور یہ واقعی خطرناک ہے اور ہم اسے قبول نہیں کر سکتے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے امریکی صدر کی درخواست پر رضا پہلوی سے ملاقات کی۔ ان کے مطابق یہ ایک ’عوامی اور کھلا‘ معاملہ ہے، اور انھیں یقین ہے کہ رضا پہلوی ’اپنے ملک کے لیے ایک مضبوط انتخاب ہوں گے اور اپنے ملک کا خیال رکھیں گے۔‘
واضح رہے کہ امریکی خبر رساں ادارے ایکسویئس نے ایک سینیئر امریکی اہلکار کے حوالے سے کہا تھا کہ امریکی انتظامیہ اس تجویز پر غور کرنے کے لیے تیار ہے جو ایران کو ’علامتی افزودگی‘ کرنے کی اجازت دے گی بشرطیکہ وہ اپنے لیے جوہری ہتھیار بنانے کے لیے کوئی ممکنہ راستہ نہ چھوڑے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سنیچر کے روز کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنیوا میں گذشتہ سنیچر ہونے والی بات چیت کے دوران ایران نے یورینیئم کی افزودگی روکنے کی تجویز نہیں دی اور نہ ہی امریکہ نے صفر افزودگی کا مطالبہ کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی ’ایرانی امریکی مذاکرات سے متعلق تازہ ترین پیش رفت‘ کے بارے میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کی۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس گفتگو کے دوران فریقین نے ’مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے اور دیرپا مفاہمت حاصل کرنے کے لیے تعمیری بات چیت اور بات چیت کا راستہ استعمال کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔‘
رافیل گروسی نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنیوا میں ہونے والی بات چیت ’ایک قدم آگے تھی لیکن خبردار کیا کہ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔‘
ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے خبر رساں ادارے ایکسویئس کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کے قریبی ’انھیں مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ ایران پر بمباری نہ کریں‘ اور مزید کہا کہ وہ ’صدر پر زور دے رہے ہیں کہ وہ انھیں نظر انداز کریں۔‘
لنڈسے گراہم، جو ٹرمپ کے قریبی ساتھی ہیں، نے اس ہفتے کے شروع میں مشرق وسطیٰ کا دورہ کیا اور اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے رہنماؤں کے ساتھ ایران کے مسئلے پر تبادلہ خیال کیا۔
ایکسویئس نے ٹرمپ کے سینیئر مشیروں کے حوالے سے کہا کہ صدر نے ’ابھی تک اپنا ذہن نہیں بنایا ہے،‘ لیکن ان کی ٹیم بھی ایران کے ساتھ بات چیت میں محدود حد تک لچک دکھا رہی ہے۔
ٹرمپ کے کچھ مشیر صدر پر زور دے رہے ہیں کہ وہ حملے بند کر دیں اور فوجی خطرے کو مراعات حاصل کرنے کے لیے فائدہ کے طور پر استعمال کرتے رہیں۔
ٹرمپ کے اندرونی حلقے کے بعض ارکان میں ایران میں حکومت کی تبدیلی کی کارروائی شروع کرنے کے امکانات کے بارے میں بھی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔
دنیا کا سب سے بڑا امریکی طیارہ بردار بحری جہاز جیرالڈ آر فورڈ آبنائے جبرالٹر کے راستے بحیرہ روم میں داخل ہوا، اس کے ساتھ تین ڈسٹرائر بھی تھے، جس سے خطے میں امریکی جنگی جہازوں کی کل تعداد 17 ہو گئی۔
طیارہ بردار بحری جہاز ’ابراہم لنکن‘ بھی جنوری 2026 کے آخر سے مشرق وسطیٰ پہنچ چکا ہے۔
بغداد میں امریکی سفارت خانے کی طرف سے ایکس پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ واضح طور پر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ’ایرانی حکومت پورے خطے کو غیر مستحکم نہیں کر سکتی۔‘
امریکی اخباری ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ٹرمپ اپنے معمول کے مطابق ویک اینڈ گزارنے کے لیے فلوریڈا کے مار-اے-لاگو میں واقع اپنے ریزورٹ میں نہیں گئے اور وائٹ ہاؤس میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔
ذرائع نے وضاحت کی کہ ٹرمپ چند مواقع پر جب وہ ہفتے کے آخر میں وائٹ ہاؤس کے اندر رہتے ہیں تو عام طور پر ان کی کوئی اعلان کردہ سرگرمیاں نہیں ہوتی ہیں لیکن اس چھٹی کے شیڈول میں کئی ان ڈور سرگرمیاں شامل ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے خبر دی ہے کہ امریکی کانگریس اگلے ہفتے کے اوائل میں ایک مسودہ قرارداد پر ووٹ دے سکتی ہے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قانون سازوں کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی حملے کرنے سے روک دے گی۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی فوج سفارتی کوششوں کے ناکام ہونے کی صورت میں تہران کے ساتھ شدید تصادم کے امکان کے لیے تیاری کر رہی ہے۔
کانگریس کے اراکین، جن میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹس دونوں شامل ہیں، نے پہلے بھی ٹرمپ کو قانون سازوں کی منظوری کے بغیر فوجی کارروائی شروع کرنے سے روکنے کی کوشش کی تھی، لیکن وہ ناکام رہے۔
امریکی آئین کہتا ہے کہ امریکی فوجیوں کو جنگ میں بھیجنے کا اختیار کانگریس کے پاس ہے نہ کہ صدر کے، سوائے قومی سلامتی کی وجوہات کی بنا پر محدود حملوں کے لیے۔
ریپبلکن، جن سے ٹرمپ تعلق رکھتے ہیں، سینیٹ اور ایوان نمائندگان دونوں میں کم اکثریت رکھتے ہیں اور انھوں نے قراردادوں کو اس بنیاد پر روک دیا ہے کہ کانگریس کو قومی سلامتی کے شعبے میں صدر کے اختیارات کو محدود نہیں کرنا چاہیے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ ’تیراہ میں ایک بار پھر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے عام شہری نشانہ بنے ہیں، جس کی میں شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔‘
وزیر اعلیٰ کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں چار اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ یہ ’کولیٹرل ڈیمیج‘ (غیر ارادی نقصان) وہاں تعینات سکیورٹی اہلکاروں کی نااہلی کا نتیجہ ہے۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق صوبائی حکومت ہلاک ہونے والوں اور زخمیوں کے اہلِ خانہ کے ساتھ کھڑی ہے اور اس غم کے وقت انھیں اکیلا نہیں چھوڑے گی۔
بلوچستان کے اضلاع بارکھان اور خضدار میں نامعلوم مسلح افراد نے تعمیراتی کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے والے مجموعی طور پر 14 مزدوروں کو اغوا کرلیا ہے۔
پہلا واقعہ ضلع بارکھان کے علاقے عیشانی کے قریب ڈھولا ندی میں پیش آیا، جہاں مسلح افراد نے کرش پلانٹ پر کام کرنے والے تین مزدوروں کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اغوا ہونے والے مزدوروں کا تعلق ضلع موسیٰ خیل سے ہے۔
اطلاعات یہ بھی ہیں کہ اسی علاقے میں مسلح افراد نے ایک پولیس چیک پوسٹ پر حملہ کرکے تین اہلکاروں سے اسلحہ بھی چھین لیا، تاہم اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔
دوسرا واقعہ ضلع خضدار کے علاقے مولہ میں پیش آیا، جہاں ایک تعمیراتی کمپنی کے ساتھ کام کرنے والے 11 مزدوروں کو اغوا کیا گیا۔
خضدار پولیس کے اہلکار یوسف بلوچ کے مطابق واقعے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہوسکے، تاہم تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ ایک سینیئر پولیس افسر نے بتایا کہ اغوا ہونے والے مزدوروں میں چھ کا تعلق سندھ سے ہے اور وہ ورلڈ بینک کے ایک منصوبے کے تحت نالیوں کو پختہ کرنے کے کام میں مصروف تھے۔
پولیس ذرائع کے مطابق اغوا کے بعد مسلح افراد مولہ ٹاؤن بھی گئے اور وہاں کے پولیس تھانے سے اسلحہ لے جانے کی کوشش کی، لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔ کچھ دیر علاقے میں رہنے کے بعد وہ واپس چلے گئے۔
ایران کی کئی یونیورسٹیوں میں طلبہ نے ایک بار پھر حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں، جو کہ گذشتہ مہینے حکام کی جانب سے کیے گئے مہلک کریک ڈاؤن کے بعد اس پیمانے پر ہونے والے پہلے بڑے مظاہرے ہیں۔
بی بی سی نے سنیچر کے روز دارالحکومت تہران میں شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے کیمپس میں مارچ کرتے ہوئے مظاہرین کی فوٹیج کی تصدیق کی ہے۔ بعد ازاں مظاہرین اور حکومتی حامیوں کے درمیان جھڑپیں بھی دیکھی گئیں۔
اس کے علاوہ تہران کی ایک اور یونیورسٹی میں دھرنا دیا گیا، جبکہ شہر کے شمال مشرقی علاقے میں ایک ریلی کے اہتمام کی اطلاعات بھی موجود ہیں۔
خیال رہے یہ طلبہ جنوری میں بڑے پیمانے پر احتجاج کے دوران مارے جانے والے ہزاروں افراد کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے تھے۔
بی بی سی کی جانب سے تصدیق شدہ ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سنیچر کو نئے سیمسٹر کے آغاز پر سینکڑوں مظاہرین شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے کیمپس میں پُرامن مارچ کر رہے ہیں۔
جمع ہونے والے طلبہ نے ’آمر مردہ باد‘ اور دیگر حکومت مخالف نعرے لگائے۔
ویڈیو کے آغاز میں ایک الگ ہجوم کو بھی دیکھا جا سکتا ہے جو کہ حکومت کا حامی تھا۔ اس دورن دونوں گروہوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
اس کے علاوہ تہران کی شہید بہشتی یونیورسٹی میں بھی پُرامن دھرنے کی تصدیق شدہ تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔
بی بی سی نے تہران کی ایک اور درسگاہ، امیر کبیر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، کی بھی ایک فوٹیج کی تصدیق کی ہے، جس میں حکومت کے خلاف نعرے بازی دیکھی جا سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران کے دوسرے سب سے بڑے شہر مشہد میں بھی مقامی طلبہ نے ’آزادی، آزادی‘ اور ’اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرو‘ جیسے نعرے لگائے۔
فی الحال یہ واضح نہیں کہ ان احتجاجی مظاہروں کے دوران کسی کو گرفتار کیا گیا ہے یا نہیں۔
بی بی پشتو کے مطابق گذشتہ رات ننگرہار صوبے کے ضلع بہسود کے علاقے کردی کس میں ایک گھر پر پاکستانی فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے 13 افراد کی تدفین کا عمل جاری ہے۔
بی بی سی فارسی کی یما بارز نے افغانستان سے رپورٹ کیا ہے کہ اس خاندان کے مزید پانچ افراد کی تلاش ابھی تک جاری ہے۔
افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں ایک ہی خاندان کے 18 افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔
بی بی سی پشتو کے مطابق گذشتہ رات بہسود کے علاوہ ننگرہار کے خوگیانی اور غنی خیل میں بھی فضائی حملے کیے گئے، اسی طرح پکتیکا کے برمل اور ارگون میں بھی حملے ہوئے، تاہم وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے ننگرہار اور پکتیکا صوبوں پر پاکستان کے فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں افغانستان کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
کرزئی کے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا گیا: ’میں ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعاگو ہوں۔‘
حامد کرزئی نے ایک بار پھر پاکستان پر زور دیا کہ وہ ’افغانستان کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرے اور اچھے ہمسایہ تعلقات اور مہذب رویہ اپنائے۔‘
افغانستان کی کونسل برائے قومی مفاہمت کے سابق سربراہ عبداللہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ رات پاکستان کے افغان سرزمین پر حملے باعثِ تشویش ہیں اور ہم ان کی سخت مذمت کرتے ہیں۔‘
انھوں نے ایکس پر لکھا کہ ’ایسے اقدامات افغانستان کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف ہیں اور یہ عدم استحکام اور بحران کو بڑھا دیں گے۔‘
عبداللہ نے مزید کہا: ’بمباری، شہریوں کو نشانہ بنانا اور تشدد کوئی حل نہیں ہے، دونوں ممالک کے درمیان مسائل کو حل کرنے کا بہترین طریقہ بات چیت اور مذاکرات ہے۔‘
پاکستانی حکومت گذشتہ کچھ عرصے سے تسلسل سے یہ الزام عائد کرتی آئی ہے کہ ملک میں شدت پسندی کی بڑی کارروائیوں میں ملوث کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغانستان میں موجود طالبان حکومت کی حمایت حاصل ہے۔
گذشتہ برس ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کے سبب پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان متعدد سرحدی جھڑپیں اور فضائی حملے دیکھنے میں آئے جس کے بعد قطر اور ترکی کی کوششوں سے دونوں ممالک میں جنگ بندی ممکن ہوئی تھی۔
جہاں پاکستان افغان طالبان پر ٹی ٹی پی کی پشت پناہی کرنے کا الزام کرتا ہے وہیں افغانستان میں برسراقتدار طالبان حکام اِن الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
گذشتہ شب کے حملے سے قبل 25 نومبر 2025 کو افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایک بیان میں الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان نے صوبہ خوست میں ایک گھر پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں 10 بچے اور خواتین ہلاک ہوئے ہیں جبکہ کنڑ اور پکتیکا میں ہونے والے فضائی حملوں میں مزید چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اس کے جواب می پاکستانی فوج کے ترجمان ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج شہری آبادی کو نشانہ نہیں بناتی اور بغیر پیشگی اطلاع کے حملہ نہیں کرتی۔
نو اکتوبر 2025 کی شب افغانستان کی وزراتِ دفاع کی جانب سے پاکستان پر فضائی حدود کی خلاف ورزی اور کابل سمیت دو مقامات پر فضائی حملوں کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر افغان وزاتِ دفاع کے سرکاری اکاؤنٹ سے جاری کردہ بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’پاکستان نے افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے اور کابل اور ڈیورنڈ لائن کے قریب پکتیکا کے علاقے میں ایک بازار پر بمباری کی ہے۔‘
دونوں ممالک کے مابین 10-11 اکتوبر کی درمیانی شب بھی متعدد مقامات پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا تھا کہ افغان فورسز اور شدت پسندوں کے ساتھ ان جھڑپوں میں 23 پاکستانی ہلاک جبکہ 29 فوجی اہلکار زخمی ہوئے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ مصدقہ انٹیلی جنس اندازوں اور نقصانات کے تخمینے کے مطابق 200 سے زیادہ طالبان اور اس سے منسلک شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا جبکہ زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
آئی ایس پی آر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ افغانستان کی طرف سے بلااشتعال فائرنگ پر جوابی کارروائی میں پاکستانی فورسز نے طالبان کی متعدد پوسٹوں، کیمپوں، ہیڈکوارٹرز اور شدت پسندوں کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا جو پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں استعمال ہو رہا تھا۔
دوسری طرف افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کے افغانستان پر مختلف حملوں کے جواب میں کی گئی کارروائیوں میں پاکستان کے 58 سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ 30 زخمی ہوئے۔
ایران میں گذشتہ ماہ کے احتجاج اور کریک ڈاؤن کے بعد کئی جامعات کے طلبہ نے حکومت مخالف مظاہرے کیے ہیں۔
بی بی سی نے اس فوٹیج کی تصدیق کی ہے جس میں مظاہرین کو سنیچر کے روز دارالحکومت تہران کی شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے کیمپس میں مارچ کرتے دیکھا گیا۔ بعد میں ان طلبہ اور حکومت کے حامیوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
تہران کی ایک اور یونیورسٹی میں دھرنا دیا گیا اور شمال مشرق میں ایک ریلی کی اطلاع ملی ہے۔ یہ طلبہ جنوری میں مارے جانے والوں کی یاد میں مظاہرے کر رہے تھے۔
خیال رہے امریکہ نے ایران کے قریب اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ محدود فوجی حملے پر غور کر رہے ہیں۔
پاکستان کی وزارتِ اطلاعات اور نشریات کے مطابق سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب ’پاکستان نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک کارروائی کے دوران پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘
طالبان حکام نے ان حملوں میں درجنوں شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ’مناسب وقت‘ پر جواب دیا جائے گا۔
بی بی سی پشتو کے مطابق افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے ضلع بہسود میں ایک مکان پر پاکستانی فضائی حملے میں کم از کم 17 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔
صوبہ ننگرہار میں طالبان حکومت کے وزارتِ اطلاعات اور ثقافت کے سربراہ امر قریشی بدلون نے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں 11 بچے شامل ہیں جبکہ باقی چھ خواتین اور مرد تھے۔
بتایا جا رہا ہے کہ حملے کے نتیجے میں مکان مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے اور لاشوں کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔