آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, اسرائیلی فوج کے تہران میں ’وسیع پیمانے‘ پر فضائی حملے: کئی دہائیوں بعد بدترین توانائی بحران کا خدشہ جس سے کوئی ملک محفوظ نہیں رہے گا، آئی ای اے

اسرائیل نے ایران کے دارالحکومت تہران میں ’وسیع پیمانے‘ پر نئے فضائی حملوں کا آغاز کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ مزید کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ایگزیکٹیو ڈائیریکٹر فاتح بیرول کا کہنا ہے اس جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے توانائی بحران سے کوئی بھی ملک ’محفوظ‘ نہیں رہ پائے گا۔

خلاصہ

  • ایسے کوئی شواہد نہیں کہ ایرانی میزائل لندن تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، برطانوی وزیر
  • اگلے 48 گھنٹے میں آبنائے ہرمز نہ کھولی تو امریکہ ایران کے پاور پلانٹس کو تباہ کر دے گا: ٹرمپ کی دھمکی
  • ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے پاور پلانٹس پر حملہ کیا گیا تو وہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ سے منسلک توانائی کے انفراسٹرکچر پر جوابی کارروائی کرے گا
  • قطر میں ہیلی کاپٹر گِر کر تباہ ہونے سے چھ افراد ہلاک: وزارتِ دفاع
  • اسرائیلی جوہری تنصیب کے قریب ایرانی حملوں میں 160 افراد زخمی: حکام
  • ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کچھ جہازوں سے 20 لاکھ ڈالر فیس وصول کر رہا ہے، ایرانی رکنِ پارلیمنٹ کا دعویٰ

لائیو کوریج

  1. کئی دہائیوں کے بدترین ممکنہ توانائی بحران سے کوئی ملک ’محفوظ‘ نہیں رہے گا: بین الاقوامی توانائی ایجنسی

    امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ سے توانائی کا ایسا بحران پیدا ہو سکتا ہے جو 1970 کی دہائی میں سامنے آنے والے بحرانوں سے شدید ہو گا اور اس کا موازنہ سنہ 2022 میں یوکرین کے روس پر حملے کے بعد پیدا ہونے والے اثرات سے کیا جا سکے گا۔

    یہ انتباہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ایگزیکٹو ڈائیریکٹر فاتح بیرول کا ہے۔

    آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بیرول نے کہا: ’ہم میں سے بہت سوں کو 1970 کی دہائی میں آنے والے تیل کے دو مسلسل بحران یاد ہوں گے۔ ہر بحران کے دوران دنیا میں یومیہ 50 لاکھ بیرل تیل کی کمی پیدا ہوئی تھی اور مجوعی طور پر یہ کمی ایک کروڑ بیرل روزانہ تھی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’موجودہ صورت حال میں دنیا ایک کروڑ 10 لاکھ بیرل یومیہ تیل کی سپلائی سے محروم ہو چکی ہے۔ یعنی گذشتہ دونوں بحرانوں کی مجموعی مقدار سے بھی زیادہ۔‘

    فاتح بیرول کے مطابق اس بحران کے اثرات سے کوئی بھی ملک محفوظ نہیں رہ سکے گا کیونکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی عالمی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے۔

  2. اسرائیلی فوج کے حملوں کے بعد تہران میں دھماکے

    اسرائیلی فوج نے ایران کے دارالحکومت تہران میں ’وسیع پیمانے پر‘ فضائی حملے کیے ہیں۔

    پاسداران انقلاب کے حامی خبر رساں ادارے فارس سمیت ایران کے سرکاری میڈیا نے شہر کے کئی مقامات پر دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔

    فارس کے مطابق: ’دھماکوں کی خوفناک آوازوں کی اطلاعات ملی ہیں۔‘

    اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ تہران میں ’دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر‘ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

  3. لبنان کے لوگوں کو تشویش ہے کہ اسرائیل جنوبی حصے کو الگ کر کے ایک بفر زون قائم کرنا چاہتا ہے, ہیوگو باچیگا، بیروت میں موجود نامہ نگار برائے مشرق وسطیٰ

    اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ لبنانی مسلح گروہ حزب اللہ کے خلاف زمینی اور فضائی حملوں میں توسیع کے منصوبے منظور کر لیے گئے ہیں۔

    لبنان میں بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل ملکی سرحدوں میں وسیع پیمانے پر در اندازی کی تیاری کر رہا ہے۔

    امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا اور سیاسی تنظیم حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ داغے تھے۔ اس کے بعد سے اسرائیل حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں میں بھی شدت لا چکا ہے۔

    لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں کے آغاز سے اب تک ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں کم از کم 118 بچے اور 40 طبی کارکن شامل ہیں۔اس کے علاوہ 10 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں جس کے باعث ایک بڑا انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔

    اسرائیل کے وزیر دفاع نے کہا کہ فوج کو دریائے لیٹانی پر اُن گزر گاہوں کو تباہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جن کے ذریعے حزب اللہ اپنے جنگجو بھیج رہی ہے۔

    یہ دریا لبنان اسرائیل سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور وہاں موجود پُلوں کو عام شہری بھی استعمال کرتے ہیں۔

    لبنان میں خدشات بڑھ رہے ہیں کہ اسرائیل آپریشن سے پہلے جنوبی علاقے کو ملک کے باقی حصوں سے الگ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے تاکہ کچھ علاقوں پر قبضہ کر کے ایک نام نہاد بفر زون قائم کر سکے۔

    حزب اللہ وہ تنظیم ہے جو 1980 کی دہائی میں 15 سالہ خانہ جنگی کے دوران اسرائیل کے لبنان پر قبضے کے رد عمل کے طور پر بنائی گئی تھی۔

    لبنانی حکومت حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا عزم ظاہر کر چکی ہے لیکن ابھی تک اس تنظیم نے اپنے ہتھیاروں کے مستقبل پر بات کرنے سے انکار کیا ہے۔

    لبنان کے صدر، جو فوج کے سربراہ بھی رہے، حزب اللہ کے خلاف طاقت کے استعمال کو رد کرتے ہوئے خبردار کر چکے ہیں کہ ایسا کرنے سے ملک میں فرقہ وارانہ تقسیم بڑھ سکتی ہے اور صورت حال تشدد کی طرف جا سکتی ہے۔

  4. امریکی سفارت خانے کی جانب سے اسرائیل میں موجود شہریوں کو نکالنے کے لیے بسوں کی فراہمی

    بیت المقدس میں امریکی سفارت خانہ سوموار کے روز سے اردن کے دارالحکومت عمان کے لیے بسیں چلا رہا ہے۔

    امریکی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ اسرائیل چھوڑنے کے خواہش مند امریکی شہری اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ بسیں اردن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے تک چلائی جائیں گی۔

    سفارت خانے کے مطابق: ’اس وقت بسیں بیت المقدس اور تل ابیب سے روانہ ہوں گی۔ عمان کے ہوائی اڈے سے آگے سفر کے لیے نشستوں کی بکنگ مسافروں کی ذمہ داری ہو گی۔‘

  5. ایران کے خلاف جنگ سے امریکہ کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ایک جائزہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے اپنے منصوبوں کے بارے میں کیا کچھ کہہ چکے ہیں، اس کا جائزہ لیتے ہیں۔

    جمعے کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے لیے اپنے مقاصد بتاتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ اپنی عسکری کارروائیوں میں ’کمی لانے پر‘ غور کر رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران کی میزائل صلاحیت اور اس کی دفاعی صنعت کے ڈھانچے کو ’مکمل طور پر ختم کرنے‘ کے قریب ہے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ ایران کی بحریہ، فضائیہ اور طیارہ شکن اسلحے کو ختم کرنا چاہتا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری صلاحیت کے قریب پہنچنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور امریکہ اپنے مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں کا ’اعلیٰ ترین سطح پر‘ دفاع کرے گا۔

    دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی کہا کہ ایران کے خلاف 28 فروری کو پہلی مرتبہ حملے کے بعد سے امریکہ کے مقاصد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

    انھوں نے رپورٹرز کو بتایا کہ امریکہ کا مقصد ایران کے میزائل لانچرز، اس کی دفاعی صنعت اور بحریہ کو تباہ کرنا تھا اور یہ بات یقینی بنانا تھا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار نہ بنا سکے۔

  6. ایران کا امریکہ اور اسرائیل پر نشریاتی مرکز کو نشانہ بنا کر ایک شخص ہلاک کرنے کا الزام

    ایران کے پاسداران انقلاب سے منسلک نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق جنوبی ایران کے نشریاتی مرکز پر حملے میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہوا۔

    حملے میں آبنائے ہرمز کے ساتھ ایران کے جنوبی ساحل پر موجود شہر بندر عباس میں ایک ٹرانسمیٹر کو نشانہ بنایا گیا۔

    تسنیم کے مطابق حملے میں خلیج فارس ریڈیو اور ٹیلی وژن سینٹر پر تعینات ایک محافظ ہلاک اور ایک اور شخص زخمی ہوا۔

    ایران نے حملے کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر لگایا ہے تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

  7. نیٹو ایرانی میزائلوں کی صلاحیت کے بارے میں دعوؤں کی ’تصدیق نہیں‘ کر سکتا

    نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے اس دعوے کی ’جانچ پڑتال‘ کر رہے ہیں کہ ایران کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو یورپی دارالحکومتوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

    سنیچر کے روز اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اب تہران کے پاس ایسے میزائل ہیں جو ’لندن، پیرس یا برلن‘ تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رٹّے نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے پروگرام فیس دی نیشن کو بتایا کہ نیٹو ’اس وقت اس دعوے کی تصدیق نہیں کر سکتا۔‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر یہ دعویٰ درست ہوا تو ’یہ اس بات کا مزید ثبوت ہو گا کہ صدر جو کچھ کر رہے ہیں وہ انتہائی اہم ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا: ’جو بات ہم یقینی طور پر جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ ایران اس صلاحیت کو حاصل کرنے کے بہت قریب پہنچ گیا ہے‘ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’آیا برطانوی فوجی اڈے ڈیاگو گارسیا کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا، اس کا ہم جائزہ لے رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ اگر ڈیاگو گارسیا کو ایرانی میزائلوں نے نشانہ بنایا ’تو اس کا مطلب ہے وہ یہ صلاحیت پہلے ہی حاصل کر چکے ہیں۔ اگر یہ بات درست نہیں تو ہم یہ جانتے ہیں کہ وہ یہ صلاحیت حاصل کرنے کے بہت قریب ہیں۔‘

  8. جنگ کے دوران ایران کی حمایت میں عربی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کیوں بڑھتے جا رہے ہیں؟, بی بی سی مانیٹرنگ

    جوں جوں امریکہ اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران علاقائی تنازع بڑھ رہا ہے، ویسے ویسے ’ایران ان عربک‘ اور ’ایران نیوز‘ سمیت ایران سے منسلک عربی زبان کے کئی سوشل میڈیا صفحات نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔

    بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان اکاؤنٹس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک اور ایکس پر اپنی رسائی تیزی سے بڑھائی ہے اور ایران نواز اور مغرب مخالف بیانیے کو فروغ دینے میں کردار ادا کیا ہے۔

    اگرچہ یہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس ایران کے حامی ایک وسیع اور مشکل سے سمجھ آنے والے آن لائن نیٹ ورکس کا صرف ایک حصہ ہیں، لیکن چند نمایاں اکاؤنٹس کا جائزہ لینے سے سمجھ آتا ہے کہ یہ نظام کیسے چلتا ہے، اس کے پیچھے کون ہو سکتا ہے اور لوگ اس پر کس طرح کا ردِ عمل دے رہے ہیں۔

    مجموعی طور پر یہ صفحات ایک بکھرا ہوا مگر فعال ڈیجیٹل نظام دکھاتے ہیں جو خبر رسانی، سیاسی پیغام رسانی اور تفریحی انداز کو ملا جلا کر پیش کرتا ہے۔

    ان کا جغرافیائی پھیلاؤ، مختلف پس منظر اور مختلف لہجے مرکزی کنٹرول کی کمی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، لیکن ان کے بیانیے اور انھیں بڑھاوا دینے کے طریقے عموماً ایک جیسے ہوتے ہیں۔

    بکھرا ہوا اور بدلتا ہوا نیٹ ورک

    ان اکاؤنٹس کا کوئی ایک جغرافیائی مرکز نہیں۔ ایکس پر دستیاب لوکیشن ڈیٹا ان کی بکھری ہوئی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے جس میں جرمنی، بلغاریہ اور مغربی ایشیا کے دیگر ممالک میں رجسٹرڈ اکاؤنٹس شامل ہیں۔ تاہم ساتھ ہی کم از کم ایک اکاؤنٹ ایران میں موجود ہے۔

    مثال کے طور پر ایک سوشل میڈیا پیج اپنا پتہ چین میں ظاہر کرتا ہے تاہم اس کی رابطہ معلومات دمشق کی لوکیشن دکھاتی ہیں۔

    اسی دوران دیگر صفحات کا مبہم یا غیر مستقل لوکیشن ڈیٹا سامنے آیا۔

    ان صفحات کا پس منظر دیکھیں تو ان کی تاریخیں مختلف دکھائی دیتی ہیں مثلاً کچھ 2009 سے موجود ہیں جبکہ کچھ صرف حال ہی میں سامنے آئے۔

    ایک اکاؤنٹ ایسا بھی ہے جو فروری 2026 میں ویری فائی ہوا، جو حالیہ جنگ کے آغاز کے وقت کے ساتھ میچ کرتا ہے۔

    یہ وقت اور پوسٹنگ میں اچانک اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کچھ اکاؤنٹس شاید جنگ شروع ہونے پر فعال کیے گئے یا ان کا استعمال بدل دیا گیا۔

    یہی رجحان فیس بک پر اور بھی واضح دکھائی دیتا ہے جہاں صفحات کی تعداد نمایاں طور پر زیادہ دکھائی دیتی ہے۔

    یہ وسیع تر استعمال کے رجحانات کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ فیس بک عرب دنیا کے بیشتر حصوں، خاص طور پر شمالی افریقہ میں اب بھی سب سے زیادہ استعمال ہونے والا پلیٹ فارم ہے۔

    زیادہ تر صفحات میں جدید معیاری عربی زبان کا استعمال کیا جاتا ہے اور خود کو پورے عرب خطے کے پلیٹ فارم کے طور پر متعارف کروایا گیا ہوتا ہے۔

    ایک نمایاں استثنیٰ ایک فیس بک پیج ہے جو مصری لہجے، مزاح اور میمز پر مبنی ہے اور زیادہ مقامی ناظرین کی توجہ لینے کی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے۔

    یہ تمام پوسٹس عام طور پر ایرانی فوجی سرگرمیوں، خاص طور پر خطے بھر میں حملوں کو نمایاں کرتی ہیں، اور اکثر ایرانی حکام اور پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ شخصیات کے بیانات کا حوالہ دیتی ہیں۔

    ان تمام اپ ڈیٹس کے ساتھ، کچھ صفحات وقفے وقفے سے مذہبی پیغامات بھی شامل کرتے ہیں جن میں شیعہ فرقے کو فروغ دینے والے نعروں اور علامتوں کا استعمال ہوتا ہے، اگرچہ یہ ہمیشہ ان کے مواد کا مرکزی حصہ نہیں ہوتا۔

    ایکس پر دیکھے گئے بڑے اکاؤنٹس میں سے ایک iraninarabic_ir کے تقریباً 15 لاکھ فالوورز ہیں۔ یہ اکاؤنٹ ہر گھنٹے میں کئی پوسٹس لگاتا ہے جن میں عراق اور اسرائیل میں ایرانی حملے، ایرانی فوجی رہنماؤں کے بیانات اور لبنانی حزب اللہ کے حملے نمایاں ہوتے ہیں۔

    ایک اور اکاؤنٹ iranin_arabic کے تقریباً پانچ لاکھ فالوورز ہیں۔ اس اکاؤنٹ میں عموماً ردِ عمل دینے والا لہجہ نظر آتا ہے جس میں ناقدین کو جواب دینا اور ایران کے حق میں بیانیے کو بڑھانا نمایاں دکھائی دیتا ہے۔

    اس اکاؤنٹ نے روسی صدر پوتن سے منسوب ایک بیان سمیت ایسا مواد بھی شیئر کیا جس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

    اس بیان میں یوکرین پر حملے کے بعد نیٹو کے ردِ عمل کا موازنہ غزہ کی جنگ پر اس کے ردِعمل سے کیا گیا تھا، لیکن یہ بیان کسی معتبر ذریعے میں موجود نہیں۔

    اس اکاؤنٹ نے 11 منٹ کی ایک اینی میٹڈ ویڈیو بھی شائع کی جس میں تنازع کو ایرانی نقطۂ نظر سے بیان کیا گیا تھا۔ اینی میشن اور کہانی بیان کرنا نوجوان ناظرین کو متوجہ کرنے کی کوشش ظاہر کرتا ہے۔

    ویڈیو میں جاری تنازع کے مختلف پہلو دکھائے گئے ہیں جن میں خلیجی ممالک پر حملے بھی شامل تھے اور ان حملوں کو جوابی کارروائی اور صرف امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کے طور پر پیش کیا گیا۔

    اس میں ایک منظر میں ایسا دکھایا گیا کہ ایک خلیجی ملک کا رہنما امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون کر کے جنگ ختم کرنے کی درخواست کر رہا ہے، ایسی جنگ جس میں خلیجی ممالک کا کوئی کردار نہیں۔

    ویڈیو میں ایک منظر میں روسی اور چینی رہنماؤں کو ایک دوسرے کو فون کرتے اور امریکہ کے خلاف منصوبہ بندی کرتے بھی دکھایا گیا۔

    ایک اور منظر میں پوتن یہ کہتے ہوئے نظر آئے کہ ’امریکی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا ہے۔‘

    فیس بک کا مواد

    فیس بک پر ’ایران ان عربک‘ کے نام سے دو صفحات کے مجموعی طور پر 45 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں۔

    ان میں سے ایک صفحہ، جس کے تقریباً 32 لاکھ فالوورز ہیں، غیر تصدیق شدہ ہے اور اپنی لوکیشن چین بتاتا ہے۔

    فیس بک پر اس صفحے کا یوزر نیم (صارف کا نام) چائنا ڈاٹ ایریبک (china.arabiic) ہے۔

    یہ صفحہ اکثر اے آئی سے بنائی گئی تصاویر اور ویڈیوز کا استعمال کرتا ہے، جن کے ساتھ اکثر انگریزی کیپشن ہوتے ہیں۔ اس کا مواد جنگ کی تازہ معلومات کے ساتھ جغرافیائی سیاسی پیغامات شامل کرتا ہے۔

    17 مارچ کو اس فیس بک پیج سے ایک ویڈیو شیئر کی گئی جس میں تائیوان کے اوپر چینی طیارے دکھائے گئے تھے۔

    ساتھ ہی یہ سوال کیا گیا کہ کیا چین تائیوان کے ذریعے امریکی اثر و رسوخ پر ضرب لگانے کی تیاری کر رہا ہے؟

    اس سے ایک دن پہلے یہاں مبینہ طور پر ایرانی رہنما علی لاریجانی سے منسوب ایک بیان پوسٹ کیا گیا۔

    اس بیان میں تنازع کو ایک ایسے انتخاب کے طور پر پیش کیا گیا تھا جس میں ایک طرف ایران اور اس کے اتحادی ہیں اور دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل۔

    اس کے برعکس دوسرا صفحہ بالکل مختلف انداز اختیار کرتا ہے۔ سنہ 2016 میں بنائے گئے اس صفحے پر ابتدا میں غیر سیاسی مواد شیئر کیا جاتا رہا ہے۔

    حالیہ دنوں میں اس پیج پر تفریح اور سیاسی پیغام رسانی کو ملا کر شائع کیا گیا۔

    اس کی پرانی سرگرمیوں میں برلن سے جڑے واقعات شامل ہیں، اگرچہ اس کی موجودہ لوکیشن واضح نہیں۔

    یہ صفحہ زیادہ تر اسرائیل مخالف مواد اور ایران کے اسرائیل پر حملوں کی روزانہ اپ ڈیٹس پوسٹ کرتا ہے۔

  9. ٹرمپ اور سٹارمر میں ٹیلیفونک رابطہ، ’آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا عالمی توانائی منڈی میں استحکام کے لیے ضروری ہے‘

    برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے۔

    ڈاؤننگ سٹریٹ کے ترجمان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان آج ٹیلیفونک گفتگو میں مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، خصوصاً عالمی بحری تجارت کی بحالی کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی ضرورت پر بات کی گئی۔

    ترجمان نے کہا کہ دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا عالمی توانائی منڈی میں استحکام کے لیے ضروری ہے۔’

  10. ایران کے معاملے پر جوہری توانائی کے پلانٹ پر حملے سمیت کوئی بھی آپشن ’خارج از امکان نہیں‘: مائیک والٹز

    اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے سی بی ایس کے پروگرام فیس دی نیشن میں کہا کہ ایران کے معاملے پر کوئی بھی آپشن ’خارج از امکان نہیں‘ بشمول جوہری توانائی کے پلانٹ پر حملہ۔‘

    سابق صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے توانائی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی دھمکی سے متعلق سوال پر مائیک والٹز نے کہا کہ وہ صدر کے لیے کسی بھی آپشن کو مسترد نہیں کریں گے ’خاص طور پر ٹیلی ویژن پر تو بالکل نہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی)، جسے امریکہ اور کئی یورپی ممالک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں، ایران کے اہم انفرسٹرکچر، معیشت اور حکومتی اداروں پر بڑا اثر رکھتی ہے۔

    مائیک والٹز کے مطابق ایران کی فوجی صلاحیت اور دفاعی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے لیے ’تمام آپشنز میز پر ہونے چاہئیں‘ اور صدر اس بارے میں واضح ہیں۔

  11. ایران اور حزب اللہ کے خلاف مزید کئی ہفتوں لڑائی جاری رہنے کی توقع ہے: اسرائیلی فوج

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور حزب اللہ کے خلاف فوجی کارروائیاں مزید کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ ان کارروائیوں کا مقصد ’دہشت گرد حکومت‘ کو بتدریج کمزور کرنا ہے

    انھوں نے کہا کہ ’فوج کو توقع ہے کہ مزید کئی ہفتوں تک لڑائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی کسی بھی کوشش کی اجازت نہیں دے گا اور اس مقصد کے حصول تک فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

  12. ہائی آکٹین فیول پر لیوی 100 روپے سے بڑھا کر 300 روپے کرنے کا فیصلہ: پی ایم ہاؤس اعلامیہ

    پاکستان میں لگژری گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی آکٹین فیول پر لیوی 100 روپے سے بڑھا کر 300 روپے کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

    وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت جلاس میں ہائی آکٹین فیول پر لیوی بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

    اعلامیے کے مطابق فیصلے سے حکومت کو ماہانہ نو ارب روپے کی بچت ہوگی جس سے عوام کو ریلیف دیاجائے گا۔

    وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق نچلے اور درمیانے طبقے کے زیر استعمال عام گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ایندھن کی قیمتیں نہیں بڑھائی گئیں اور صرف لگژری گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی آکٹین فیول کی قیمت بڑھائی گئی ہے۔

    اعلامیے کے مطابق ریگولر پیٹرول پرانی قیمت پر ہی ملے گا اور اس فیصلے سے پبلک ٹرانسپورٹ اور ہوائی جہازوں کے کرایوں میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا۔

    یاد رہے کہ ہائی آکٹین کی قیمتوں کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان نے نوٹس لیا تھا اور متعلقہ وزارت کو اس حوالے سے لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی تھی۔

  13. ایران کے میزائل حملے میں زخمی ہونے والا 60 سالہ شخص ہلاک، 12 زخمیوں کی حالت تشویشناک

    اسرائیلی ایمرجنسی سروس نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ روز ایران کے میزائل حملوں میں زخمی ہونے والا ایک شخص دم توڑ گیا ہے۔

    میگن ڈیوڈ ادوم کی جانب سے موصول معلومات کے مطابق ہلاک ہونے والا شخص 60 کی دہائی کا ایک مرد تھا جو میزائل کا نوکیلا ٹکڑا لگنے سے زخمی ہوا تھا۔

    ایم ڈی اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ان کی ٹیموں نے 164 افراد کو طبی امداد فراہم کی جن میں 150 کو جسم پر زخم تھے جبکہ 14 افراد میں اضطراب کی علامات پائی گئیں۔

    ادارے کے مطابق 12 افراد کی حالت تشویشناک ہے جنھیں میزائل کے ٹکڑے اور دھماکوں کے نتیجے میں چوٹیں آئی ہیں، 20 افراد کی حالت قدرے بہتر جبکہ 88 افراد کو معمولی زخم آئے ہیں۔

    ایم ڈی اے کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک وہ 1,576 افراد کو طبی امداد فراہم کر چکا ہے۔

    جنگ کے شروع ہونے سے اب تک اسرائیل میں میزائل حملوں میں مجموعی طور پر 16 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

  14. سعودی عرب کا متعدد ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس نے ملک کے مشرقی حصے میں متعدد ڈرون مار گرائے ہیں۔

    بیان کے مطابق صبح سے اب تک مجموعی طور پر نو ڈرونز گرائے جانے کی اطلاع دی گئی ہے۔

    سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق ایران کی جانب سے سعودی عرب پر ڈرون حملے جاری ہیں۔ وزارت نے دن بھر میں سوشل میڈیا پر کئی بیانات جاری کیے جن میں بتایا گیا کہ ڈرونز کو مشرقی خطے کے اوپر روک کر تباہ کیا گیا۔

  15. اسرائیلی فوج کی جانب سے ایرانی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران میں ایک فوجی اڈے سمیت ہتھیاروں کی تیاری و ذخیرہ کرنے والے مقام کو نشانہ بنایا ہے۔

    ٹیلیگرام پر جاری ایک پیغام میں اسرائیل ڈیفنس فورسز نے کہا کہ رات گئے کیے گئے حملوں میں اُن مقامات کو نشانہ بنایا گیا جو ایرانی حکومت کے ماتحت سکیورٹی اداروں کی جانب سے ہتھیاروں کی تیاری اور ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

    دوسری جانب ایران کے دارالحکومت تہران میں نئے حملوں کی رپورٹس موصول ہو رہی ہیں جس کے بعد ایرانی میڈیا کے مطابق مشرقی تہران میں فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا ہے۔

  16. آبنائے ہرمز سب کے لیے کھلی ہے، سوائے اُن کے جو ہماری سرزمین کی خلاف ورزی کریں: ایرانی صدر

    ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز ’ایرانی سرزمین پر جارحیت ہماری سرزمین کی خلاف ورزی‘ کرنے والوں کے علاوہ تمام بحری جہازوں کے لیے کھلا ہے۔

    ایرانی صدر نے یہ بات سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں کہی ہے۔

    پیزشکیان نے مزید کہا کہ ’امریکہ کی جانب سے ایران کو نقشے سے مٹانے کا فریب ’مایوسی‘ کی علامت ہیں۔

    ان کے مطابق ’ایران کو نقشے سے مٹانے کا وہم ایک تاریخ ساز قوم کی مرضی کے مقابلے میں مایوسی کو ظاہر کرتا ہے۔ دھمکیاں اور دہشت گردی ہماری یکجہتی کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔‘

    صدر نے اپنے بیانات کے مطابق، ایران کی کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم جنگ کے میدان میں بے بنیاد دھمکیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔‘

  17. جنوبی لبنان میں پُلوں پر اسرائیلی حملے ’زمینی حملوں کی طرف پیش قدمی‘ کے مترادف ہیں: صدر عون جوزف

    لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ ملک کے جنوبی حصے میں واقع پلوں پر اسرائیلی حملے ’زمینی حملوں کی طرف پیش قدمی‘ کے مترادف ہیں۔

    لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق ایک بیان میں صدر جوزف عون نے ’دریائے لیطانی پر بنے پُل اور دیگر پلوں سمیت جنوبی لبنان میں اہم انفراسٹرکچر اور تنصیبات پر اسرائیلی حملوں‘ کی مذمت کی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حملے ’خطرناک حد تک کشیدگی میں اضافہ کر رہے ہیں، لبنان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں اور زمینی حملوں کی طرف پیش قدمی کے مترادف ہیں۔‘

    انھوں نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ ’فوری اقدامات کے ذریعے اسرائیل کو اس حملے سے روکا جائے۔‘

  18. پاور پلاٹس پر حملوں کی امریکی دھمکی: ایران نے آبنائے ہرمز ’مکمل طور پر بند‘ کرنے کا عندیہ دے دیا

    ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکی صدر ٹرمپ نے ملک میں پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے کی اپنی دھمکی پر عمل کیا تو آبنائے ہرمز کو ’مکمل طور پر بند‘ کردیا جائے گا۔

    مشرقِ وسطیٰ میں آج کیا کیا ہوتا رہا؟

    • ٹرمپ نے اگلے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو نہ کھولنے کی صورت میں ایران کے پاور پلانٹس کو ہدف بنانے کی دھمکی دی تھی اور کہا تھا کہ ’سب سے بڑے پلانٹ کو پہلا ہدف بنایا جائے گا۔‘
    • ایران کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ ’ایران کے دشمنوں کے علاوہ‘ آبنائے ہرمز سب کے لیے کھلی ہے۔
    • پاسدارانِ انقلاب نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ اپنی دھمکی پر عمل کرتا ہے تو آبنائے ہرمز ’تباہ شدہ پاور پلانٹس کی دوبارہ تعمیر تک بند‘ رہے گی۔
    • بی بی سی کی نامہ نگار برائے جنوبی ایشیا کے مطابق اگر ایران آبنائے ہرمز کو کھول دیتا ہے تو اس جنگ میں وہ اپنی سب سے بڑی طاقت کو کھو دے گا۔
    • دوسری جانب اسرائیل میں ایرانی حملوں میں آج اب تک 175 سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ ایمرجنسی سروسز کے مطابق عراد میں بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد 84 جبکہ دیمونا میں 78 افراد کو علاج مہیا کیا گیا ہے۔ یہ دونوں علاقے ایک اسرائیلی جوہری تنصیب کے قریب واقع ہیں۔
  19. ایسے شواہد نہیں ملے کہ ایرانی میزائل لندن تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، برطانوی وزیر

    برطانوی کابینہ کے ایک وزیر کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے اس دعوے کو ’ثابت کرنے کے لیے کوئی شواہد نہیں ملے‘ کہ ایران کے پاس طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایسے میزائل ہیں جو لندن تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    ہاؤسنگ سیکرٹری سٹیو ریڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسے کوئی شواہد نہیں کہ ایران برطانیہ کو نشانہ بنا رہا ہے یا اگر وہ چاہیں تو ایسا کر سکتے ہیں۔

    سنیچر کے روز اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ تہران کے پاس ایسے ہتھیار ہیں جو 4,000 کلومیٹر تک مار کر سکتے ہیں۔

    یہ دعویٰ ایران کی جانب سے بحر ہند میں ڈیاگو گارشیا پر امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ فوجی اڈے کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سامنے آیا تھا۔ یہ جزائر ایران سے تقریباً 3,800 کلومیٹر دور ہیں۔

    ریڈ نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ یہ میزائل برطانوی سرزمین کے کتنے قریب پہنچے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ’آپریشنل تفصیلات‘ شیئر نہیں کر سکتے۔

    ایران نے ڈیاگو گارشیا پر دو بیلسٹک میزائل داغے تھے جن میں سے ایک ناکام ہو کر گر گیا تھا جبکہ دوسرے کو مار گرایا گیا تھا۔

  20. ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی خطے سے باہر تکنیکی اور سیاسی اہداف کو نشانہ بنانے کی دھمکی

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس یونٹ نے ایکس پر جاری ایک پیغام میں کہا ہے کہ وہ ’خطے سے باہر‘ اہداف کو نشانہ بنانے کے بارے میں سوچ رہے پیں۔

    پیغام میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ پاور پلانٹس کے خلاف دھمکیوں کے جواب میں تکنیکی اور سیاسی اہداف کے ’ریڈ ٹارگٹ بینک‘ کی طرف اشارہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کارروائی ’48 گھنٹے سے بھی پہلے‘ کی جا سکتی ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دی تھی اور کہا تھا کہ اگر ایران یہ آبی گزرگاہ نہیں کھولتا تو ایرانی پاور پلانٹس کو ’تباہ‘ کر دیا جائے گا۔

Trending Now