آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ایران سے مذاکرات اگلے دو روز میں ہو سکتے ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر ’بہت اچھا کام‘ کر رہے ہیں: ٹرمپ کا ’پاکستان‘ میں بات چیت کا عندیہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیو یارک پوسٹ کو بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ’اگلے دو دنوں میں‘ ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے اخبار کو بتایا کہ ’اگلے دو دنوں میں کچھ ہو سکتا ہے اور ہم وہاں (پاکستان) جا سکتے ہیں۔‘ صدر ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کے آرمی چیف، فیلڈ مارشل عاصم منیر مذاکرات کے حوالے سے ’بہت اچھا کام‘ کر رہے ہیں۔‘

خلاصہ

  • امریکہ اور اسرائیل سے بات چیت 'نتیجہ خیز' رہی، مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ اور مقام کا اعلان بعد میں کیا جائے گا: لبنانی سفیر
  • لبنان کو حزب اللہ کے چنگل سے آزاد کروانے پر اتفاق ہو گیا ہے: واشنگٹن میں سہ فریقی مذاکرات کے بعد اسرائیلی سفیر کا دعویٰ
  • ایرانی تیل پر عائد پابندیوں میں کی گئی عارضی نرمی میں توسیع نہیں کی جائے گی: امریکی محکمہ خزانہ
  • ایران سے مذاکرات اگلے دو روز میں ہو سکتے ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر 'بہت اچھا کام' کر رہے ہیں: ٹرمپ کا 'پاکستان' میں بات چیت کا عندیہ
  • اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر نے بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کو خود مختاری کی ’سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    15 اپریل کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. دنیا ’جنگل کے قانون‘ کی طرف جا رہی ہے، چینی صدر شی جنپنگ

    چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی زنہوا کے مطابق چینی صدر شی جنپنگ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا ایک بار پھر’جنگل کے قانون‘ کی طرف لوٹ رہی ہے۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر شی جنپنگ نے یہ بات چین کے دورے پر آئے ہسپانوی ہم منصب پیڈرو سانچیز سے گفتگو کے دوران کہی۔

    بظاہر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دنیا ’انتشار‘ کا شکار ہے اور ’قانون اور طاقت کی حکمرانی کے درمیان رسہ کشی‘ جاری ہے۔

    ملاقات کے دوران صدر شی نے سپین کے ساتھ تعاون مضبوط کرنے پر زور دیا تاکہ دنیا کو ’جنگل کے قانون‘ کی طرف جانے سے روکا جا سکے اور ’بین الاقوامی قانون پر مبنی عالمی نظام‘ کا دفاع کیا جا سکے۔

  3. تہران میں دھماکے کی آواز سنی گئی ہے: ایرانی ذرائع ابلاغ

    ایرانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ تہران میں دھماکے کی آواز سنی گئی ہے۔

    تہران کے ضلع 10 کے پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد بالیدہ نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ’غدار اور غیر محبِ وطن عناصر‘ نے ایک ’معمولی دھماکہ‘ کیا ہے۔ تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس دھماکے کے پیچھے کون ملوث ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ شہر میں صورتِ حال ’قابو میں‘ ہے۔

    اس ویڈیو پیغام کے بعد پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ فارس نیوز ایجنسی نے اپنی ایک علیحدہ رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ دھماکہ ’مائع گیس سے بنائے گئے دو دیسی ساختہ دھماکہ خیز پیکیجز‘ کی وجہ سے ہوا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اس دھماکے میں تین افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں جبکہ تین گھروں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور دو گاڑیوں کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔

  4. ایران اور امریکہ کے درمیان پائیدار امن معاہدے کی امید، تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری

    منگل کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید کمی دیکھنے میں آئی جسے تجزیہ کار ایران اور امریکہ کے درمیان پائیدار امن معاہدے کے امکان سے جوڑتے ہیں۔

    عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت ساڑھے چار فیصد کم ہو کر فی بیرل 94.87 ڈالر کی نچلی سطح تک آ گئی۔ تاہم بعد ازاں اس میں معمولی بحالی بھی دیکھی گئی۔

    سرمایہ کاری کی تجاویز دینے والی کمپنی کوئلٹر سے وابستہ لنڈزی جیمز کہتی ہیں کہ ممکنہ طور پر مذاکرات کے دوسرے دور کی خبروں نے منڈیوں میں بہتری لانے میں مدد دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے بھی ایسے اشارے ملے ہیں کہ تہران امریکی ناکہ بندی کو آزمانے کے بجائے فوجی تصادم سے بچنے کے لیے تیل کی ترسیل عارضی طور پر روکنے کو ترجیح دے گا۔

  5. ایرانی تیل پر عائد پابندیوں میں کی گئی عارضی نرمی میں توسیع نہیں کی جائے گی: امریکی محکمہ خزانہ

    امریکی وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ ایران پر عائد کردہ تیل کی پابندیوں میں کی گئی عارضی نرمی میں توسیع نہیں کی جائے گی۔

    وزارتِ خزانہ کی جانب سے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ سمندر میں پھنسے ہوئے ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت کے لیے جو قلیل مدتی اجازت نامہ جاری کیا گیا تھا اس میں توسیع نہیں کیا جائے گا۔ یہ اجازت 19 اپریل کو ختم ہو رہی ہے۔

    محکمے کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد ایران پر ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ برقرار رکھنا ہے۔

    ایکس پر جاری ایک اور پیغام میں امریکی وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ وہ ایسے غیر ملکی مالیاتی اداروں کے خلاف بھی پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار ہے جو ’ایران کی سرگرمیوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

  6. امریکہ اور اسرائیل سے بات چیت ’نتیجہ خیز‘ رہی، مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ اور مقام کا اعلان بعد میں کیا جائے گا: لبنانی سفیر

    امریکہ میں لبنان کی سفیر ندا حمادہ معوض کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ہونے والی ابتدائی بات چیت ’نتیجہ خیز‘ رہی۔

    منگل کے روز ہونے والے مذاکرات کے بعد جاری ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے نومبر 2024 میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے پر ’مکمل عمل درآمد کی فوری ضرورت‘ پر زور دیا۔

    یاد رہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 13 ماہ تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد یہ معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کو جنوبی لبنان میں اپنی مسلح موجودگی ختم کرنے کے لیے 60 دن دیے گئے تھے۔

    ندا حمادہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے جنگ بندی کے ساتھ ساتھ بے گھر افراد کی اپنے گھروں کو واپسی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ انھوں نے لبنان کی ’تمام لبنانی علاقوں پر مکمل خودمختاری‘ اور تنازع کے باعث پیدا ہونے والے ’شدید انسانی بحران‘ میں کمی کے لیے اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

    لبنانی سفیر کا کہنا ہے کہ آئندہ مذاکرات کی تاریخ اور مقام کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

  7. اسرائیل اور لبنان براہِ راست مذاکرات شروع کرنے پر متفق ہو گئے ہیں: امریکی محکمہ خارجہ

    امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ڈی سی میں آج ہونے والی بات چیت کے بعد اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہِ راست مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

    واشنگٹن میں ہونے والی بات چیت میں امریکی نمائندے بھی شریک تھے۔

    امریکی محکمۂ خارجہ کے نائب ترجمان ٹامی پیگٹ نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں ممالک کے سفیروں اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات ’تاریخی‘ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو امید ہے کہ اس رابطے کے نتیجے میں واشنگٹن کی ثالثی میں طویل المدتی امن معاہدے کی راہ ہموار ہو گی۔

    پیگٹ کے مطابق اسرائیل اور لبنان دونوں نے ایرانی حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ لبنانی حکومت ’ریاست کی اجارہ داری بحال کرنے اور حد سے زیادہ ایران کے بڑھتے اثر و رسوخ کے خاتمے‘ کا ارادہ رکھتی ہے۔

    لبنانی وفد نے ملک میں ’جنگ بندی اور سنگین انسانی بحران سے نمٹنے اور اس میں کمی کے لیے ٹھوس اقدامات‘ کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے لبنان کے ساتھ مل کر ’تمام غیر ریاستی دہشت گرد گروہوں‘ کو ختم کرنے اور ’پائیدار امن‘ کے حصول کے لیے کام کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ تاہم اسرائیل نے لبنان پر حملے بند کرنے کے متعلق رضامندی ظاہر نہیں کی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکہ نے حزب اللہ کے مسلسل حملوں کے خلاف اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے۔‘

    خیال رہے کہ یہ اجلاس 1993 کے بعد دونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان ہونے والی پہلی براہِ راست بات چیت تھی۔

  8. لبنان کو حزب اللہ کے چنگل سے آزاد کروانے پر اتفاق ہو گیا ہے: واشنگٹن میں سہ فریقی مذاکرات کے بعد اسرائیلی سفیر کا دعویٰ

    منگل کے روز واشنگٹن میں اسرائیل، لبنان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد امریکہ میں اسرائیل کے سفیر یخئیل لیٹر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تینوں ممالک کے نمائندوں کو ’معلوم پڑا ہے کہ ہم سب ایک ہی طرف کھڑے ہیں، اور یہی سب سے مثبت ترین نتیجہ ہے جو ہم اس ملاقات سے اخذ کر سکتے تھے۔‘

    انھوں نے دعوی کیا ہے کہ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ لبنان کو اُس طاقت کے چنگل سے آزاد کرایا جائے جس پر ایران حاوی ہے اور جسے حزب اللہ کہا جاتا ہے۔

    لیٹر نے امریکہ میں لبنانی سفیر ندا حمادہ سے ہونے والی اپنی گفتگو کی مزید تفصیلات بھی بیان کیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ متعدد امور پر بات چیت ہوئی جس میں سب سے اہم طویل المدتی وژن تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وژن کے تحت ہمارے ممالک کے درمیان ایک واضح حدِ سرحد موجود ہو گی۔

    اسرائیلی سفیر کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے ’ایک دوسرے کی سرزمین پر جانے کی واحد وجہ کاروباری مقاصد کے لیے بزنس سوٹ پہن کر یا تعطیلات گزارنے کے لیے سوئمنگ سوٹ میں جانا ہو گا۔‘

    لیٹر کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل نے واضح کر دیا ہے کہ ہمارے شہریوں کی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔

    ’یہ سمجھ داری، ذمہ داری اور امن کی فتح ہے۔‘

    لیٹر کے مطابق حزب اللہ ’اتنی کمزور کبھی نہیں تھی جتنی آج ہے‘ اور انھوں نے خطے کو اس کے ’مہلک‘ خطرے سے پاک کرنے کا عمل جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ لبنان میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں نے حزب اللہ کو اس حد تک کمزور کر دیا ہے کہ لبنانی حکومت کے لیے ’امن کے ایک نئے دور میں داخل ہونا ممکن ہو گیا ہے۔‘

    اسرائیلی سفیر نے بتایا کہ فریقین کے درمیان بات چیت تقریباً اڑھائی گھنٹے تک جاری رہی اور امکان ہے کہ جلد ایک مشترکہ بیان جاری کیا جائے گا۔

    تاحال اس ملاقات کے حوالے سے امریکہ اور لبنان کی جانب سے کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

  9. اسرائیل کی لبنان کے ساتھ مذاکرات ختم ہونے کی تصدیق

    واشنگٹن میں اسرائیلی سفارتخانے نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور لبنان کے ساتھ مذاکرات ختم ہو گئے ہیں۔

    اس سے قبل لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے نیشنل نیوز ایجنسی واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے مذاکرات ختم ہو نے کی خبر دی تھی اور کہا تھا کہ یہ مذاکرات تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہے۔

  10. امریکی ناکہ بندی کے باوجود دو ایرانی جہاز بندرگاہ سے روانہ, الیكس مرے، بی بی سی ویریفائی

    بی بی سی ویریفائی کی جانب سے تجزیہ کیے گئے جہازوں کی نقل و حرکت کے ڈیٹا سے ایسے شواہد سامنے آئے ہیں کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے باوجود ایرانی بندرگاہوں سے جہاز روانہ ہو رہے ہیں۔

    بظاہر 13 اپریل کو کارگو جہاز اشکان 3 ایران کی چابہار بندرگاہ کے قریب سے بغیر سامان لادے روانہ ہوا تھا۔ چابہار کی بندرگاہ آبنائے ہرمز سے سینکڑوں کلو میٹر مشرق میں واقع ہے۔ یہ جہاز اس وقت پاکستان کے قریب مشرق کی جانب سفر کر رہا ہے۔

    ایک اور کنٹینر شپ شابدیث بھی 13 اپریل کو چابہار بندرگاہ کے قریب سے بغیر سامان لادے روانہ ہوا۔ امریکی ناکہ بندی کے نفاذ کے بعد اس نے بھی مشرق کی سمت سفر شروع کیا اور اب انڈیا کے قریب ہے۔ یہ جہاز اپنی منزل چین کے شہر ژوہائی کو ظاہر کر رہا ہے۔

    ناکہ بندی کے آغاز کے بعد ان دونوں جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور نہیں کی۔ دونوں جہاز ایرانی پرچم تلے سفر کر رہے ہیں۔

  11. واشنگٹن میں اسرائیل، لبنان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ختم: لبنانی میڈیا

    لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیل، لبنان اور امریکہ کے درمیان واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے مذاکرات ختم ہو گئے ہیں۔

    ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہے۔

    تاحال امریکی یا اسرائیلی وفود کی جانب سے اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

  12. حزب اللہ کا 13 اسرائیلی بستیوں پر حملے کا دعویٰ

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات جاری ہیں۔

    دریں اثنا، حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس شمال اسرائیل میں واقع 13 بستیوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔

    حزب اللہ کے مطابق یہ حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک امریکی۔اسرائیلی حملے بند نہیں ہوتے۔

    اس سے قبل اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکہ میں مذاکرات کے آغاز کے بعد اسرائیلی افواج کو حزب اللہ کی جانب سے حملوں میں اضافے کی توقع ہے۔

  13. بریکنگ, ایران سے مذاکرات اگلے دو روز میں ہو سکتے ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر ’بہت اچھا کام‘ کر رہے ہیں: ٹرمپ کا ’پاکستان‘ میں بات چیت کا عندیہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیو یارک پوسٹ کو بتایا ہے کہ امریکہ اور اور ایران کے درمیان مذاکرات ’اگلے دو دنوں میں‘ ہو سکتے ہیں۔

    انھوں نے اخبار کو بتایا کہ ’اگلے دو دنوں میں کچھ ہو سکتا ہے اور ہم وہاں (پاکستان) جا سکتے ہیں۔‘

    خیال رہے گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، لیکن یہ بے نتیجہ ہی ختم ہوئے تھے۔

    اس سے قبل ایران کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ تہران اور پاکستان کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ضرور ہوا ہے، لیکن امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ’کوئی معلومات‘ موجود نہیں ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ امریکی اخبار نیویارک پوسٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کے آرمی چیف، فیلڈ مارشل عاصم منیر مذاکرات کے حوالے سے ’بہت اچھا کام‘ کر رہے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’وہ شاندار ہیں شخصیت کے مالک ہے اور اسی لیے زیادہ امکان ہے کہ ہم دوبارہ وہاں جائیں۔‘

  14. بریکنگ, گذشتہ 24 گھنٹوں میں ناکہ بندی سے کوئی بحری جہاز نہیں گزرا: امریکہ کا دعویٰ

    امریکہ کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کے پہلے 24 گھنٹوں میں کوئی جہاز ایرانی بندرگاہوں سے نہیں گزرا۔

    امریکہ نے کہا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں پر اس کی بحری ناکہ بندی کے ابتدائی 24 گھنٹوں میں کوئی بھی جہاز وہاں سے گزرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق اس ناکہ بندی میں 10 ہزار سے زائد فوجی اہلکار، درجنوں جنگی بحری جہاز اور طیارے شامل ہیں۔

    سینٹ کام کا کہنا ہے کہ چھ تجارتی جہازوں نے امریکی فورسز کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اپنا راستہ تبدیل کیا اور واپس ایرانی بندرگاہوں کی طرف لوٹ گئے۔

    یہ تازہ بیان اس ٹریکنگ ڈیٹا کے بعد سامنے آیا ہے جس کی بی بی سی نے تصدیق کی تھی، اور جس کے مطابق ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد ایران سے منسلک چار جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے تھے۔

    سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی ان تمام ممالک کے جہازوں پر لاگو ہے جو ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہو رہے ہیں یا وہاں سے نکل رہے ہیں، جبکہ وہ ان جہازوں کے لیے "آزادیٔ جہاز رانی کی حمایت" جاری رکھے ہوئے ہیں جو ایران کی طرف یا ایران سے نہیں آ رہے۔

  15. پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کی ملاقات ترکی میں 17 اپریل کو ہوگی

    پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے 29 مارچ سنہ 2026 کے مشاورتی اجلاس کے تسلسل میں چاروں ممالک کی وزارتِ خارجہ کے سینئر حکام کا اجلاس منگل اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

    پاکستانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس اہم اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ و ترجمان سفیر طاہر اندرابی نے کی۔ جبکہ ترکی، مصر اور سعودی عرب کے وفود کی سربراہی بالترتیب ڈپٹی وزیرِ خارجہ موسیٰ کُلاکلیکایا، اسسٹنٹ وزیرِ خارجہ نزیہ النگاری اور ڈائریکٹر جنرل وزارتِ خارجہ شہزادہ ڈاکٹر عبداللہ بن خالد بن سعود الکبیر آل سعود نے کی۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سینئر حکام کے اس اجلاس کی سفارشات چاروں برادر ممالک کے وزرائے خارجہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کی جائیں گی جو 17 اپریل سنہ 2026 کو ترکی انطالیہ میں انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر منعقد ہوگا۔

    اجلاس میں شریک سینئر حکام نے پاکستان کے نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور سیکریٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ سے بھی مشترکہ ملاقات کی۔

  16. اٹلی کے ساتھ ہمارا کوئی سکیورٹی معاہدہ نہیں: اسرائیلی وزارتِ خارجہ

    اس سے قبل اٹلی کی وزیرِاعظم جورجیا میلونی نے کہا تھا کہ اٹلی اسرائیل کے ساتھ اپنا دفاعی معاہدہ معطل کر رہا ہے۔

    اس اعلان کے جواب میں اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے اسرائیل کی سکیورٹی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

    وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’اٹلی کے ساتھ ہمارا کوئی سکیورٹی معاہدہ موجود نہیں۔‘

    اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اس معاہدے کو ’کئی سال پرانی مفاہمتی یادداشت‘ قرار دیا، جس میں ’کبھی کوئی ٹھوس یا عملی مواد شامل نہیں رہا۔‘

    واضح رہے کہ اٹلی کی وزیرِاعظم جورجیا میلونی نے اس سے قبل ایک بیان مںی کہا تھا کہ ’اٹلی اسرائیل کے ساتھ اپنے دفاعی معاہدے کی تجدید نہیں کر رہا۔‘

    اُن کے مطابق اسرائیل اور الالی کے درمیان یہ معاہدہ ہر پانچ سال بعد خودکار طور پر تجدید کے بعد نئے دورانیہ کہ لیے دونوں مُمالک کے درمیان روابط کا باعث بنتا تھا اور اس میں فوجی ساز و سامان کے تبادلے اور مشترکہ تحقیق کا تعاون شامل تھا۔

  17. اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات اب سے کُچھ دیر میں واشنگٹن میں شروع ہوں گے

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات اب سے کُچھ دیر میں واشنگٹن ڈی سی میں دوبارہ شروع ہونے والے ہیں۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق بات چیت کے اس دور میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو بھی اس میں شریک ہوں گے۔

    دونوں ممالک کے امریکہ میں تعینات سفیر اسرائیلی سفیر یخیل لیٹر اور لبنانی سفیر نَدا حمادہ معوض مذاکرات میں حصہ لیں گے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں سفیر مذاکرات کے آغاز سے قبل مختصراً میڈیا سے گفتگو کریں گے جس کے بعد بات چیت بند کمرے میں جاری رہے گی۔

    اس حوالے سے سامنے آنے والی تمام اہم پیش رفت سے ہم اپنے قارعین کو آگاہ کرتے رہیں گے۔

  18. جارحانہ اقدامات اور غیر ضروری بیانات خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہے ہیں: پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم

    پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ ’بحری ناکہ بندی قائم کرنے کا غیر قانونی، اشتعال انگیز اور غیر تعمیری اقدام ایک غیر ذمہ دارانہ قدم ہے۔‘

    ایکس پر جاری بیان میں پاکستان میں ایرانی سفیر کا مزید کہنا تھا کہ ’اس اقدام کا مقصد یہ تاثر پیدا کرنا ہے کہ معاملات طاقت کے ذریعے مسلط کیے جا رہے ہیں تاکہ اسلحے کی تعیناتی، سخت بیانات، جانی نقصان اور امریکی ٹیکس دہندگان پر پڑنے والے مالی بوجھ کو جواز فراہم کیا جا سکے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ غلط اندازہ خطے اور اس سے باہر کے ممالک کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے اور غلطیوں کی فہرست میں ایک اور اضافہ ہے۔‘

    بیان میں اس اقدام کو معاشی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’یہ لوگوں کے معاش، عالمی امن، سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈال کر چند مخصوص مفادات کی تکمیل کے لیے کیا جا رہا ہے۔‘

    آخر میں کہا گیا کہ ’دنیا اس صورتحال کو بغور دیکھ رہی ہے۔‘

  19. اُمید کرتے ہیں کہ آنے والی نسلوں کی زندگیاں بہتر ماحول میں بسر ہوں: ایرانی نوجوانوں کی بی بی سی سے گفتگو

    بی بی سی فارسی نے ایران میں نوجوانوں سے جنگ کی تازہ صورتحال پر ان کے خیالات جانے کی کوشش کے ہے۔

    تہران میں مقیم ایک 20 سالہ نوجوان نے کہا کہ ’میں اب ان مُشکل حالات کا سامنا کرتے کرتے تھک چکا ہوں۔ بہت زیادہ تھک چکا ہوں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ انھیں جنگ کے ایک اور مرحلے کے شروع ہونے کا خوف ہے ’کیونکہ ہماری جوانی کے بہترین سال جنگ کے منڈلاتے سائے کے نیچے گزر رہے ہیں۔‘

    گیلان صوبے میں رہنے والے ایک اور 30 سالہ نوجوان نے کہا کہ انھیں نہیں لگتا کہ ’دونوں میں سے کوئی بھی فریق جنگ روکنے کے لیے سنجیدہ ہے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ وہ اس وقت بے روزگار ہیں اور اُن کا ایک اور دوست جو سرچ انجن آپٹیمائزیشن کے شعبے میں کام کرتا تھا حکومت کی جانب سے جاری انٹرنیٹ پابندیوں کے باعث اب انھیں کی طرح بے روزگار ہو چُکا ہے۔‘

    تہران کی ایک 20 سالہ نوجوان خاتون نے کہا کہ ’مجھے بہت دکھ ہوتا ہے جب میں سوچتی ہوں کہ میری عمر کے لوگ دوسرے ملکوں میں کیسے زندگی گزار رہے ہیں۔‘

    انھوں نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ ’ہاں، شاید جب میں 40 سال کی ہوں گی تو حالات بہتر ہو جائیں۔ لیکن تب میں شاید کام کرنے کے قابل نہ رہوں۔ میں بس امید کرتی ہوں کہ ہمارے بعد آنے والی نسل کی زندگی ہم سے بہتر ہو۔‘

  20. ایران نقصانات کا تخمینہ لگا رہا ہے تاکہ ہرجانے کو مذاکرات کا حصہ بنایا جا سکے: ایرانی میڈیا کا دعویٰ

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران جنگ سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگا رہا ہے تاکہ ہرجانے کے معاملے کو مذاکرات میں شامل کیا جا سکے۔

    روسی میڈیا سے گفتگو میں ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ ’ابتدائی اور محتاط اندازے کے مطابق اب تک ہونے والا نقصان تقریباً 270 ارب ڈالر بنتا ہے تاہم اس رقم میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

    تسنیم کے مطابق انھوں نے مزید کہا کہ ’ایرانی حکام نقصانات کا جائزہ لینے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں جس میں عمارتوں کو پہنچنے والے نقصان اور صنعتی سرگرمیوں کی بندش سے ہونے والے مالی خسارے کا حساب بھی شامل ہے۔‘

    ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ایرنا کے مطابق مہاجرانی نے یہ بھی بتایا کہ ہرجانہ مذاکرات کے دوران امریکہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں بھی زیرِ بحث آیا تھا۔

    اس سے قبل امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ پاکستان میں ہونے والی بات چیت میں ’اہم معاملات‘ پر گفتگو ہوئی تاہم کسی معاہدے تک نہیں پہنچا جا سکا۔

Trending Now