آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, اشتعال انگیز اقدامات اور جنگ بندی کی بار بار ’خلاف ورزیاں‘ سفارتی عمل کے تسلسل میں رکاوٹ ہیں: ایران، ٹرمپ کا ایران کے ساتھ معاہدہ ’نسبتاً جلد‘ طے پائے جانے کا دعویٰ

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ ایک ٹیلیفونک گفتگو میں کہا ہے کہ ایران امریکہ کے حوالے سے ’ تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گا۔‘ جبکہ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اس وقت ایران کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ تشکیل دے رہا ہے جو سابق امریکی صدور کے دور میں ہونے والے معاہدوں سے ’کہیں بہتر‘ ہوگا۔

خلاصہ

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو دو ہفتے کی جنگ بندی میں توسیع کا امکان بہت کم ہے
  • ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ 'ایرانی کبھی طاقت کے آگے سر نہیں جھکائیں گے۔'
  • امریکی وزارتِ خارجہ کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان سفیروں کی سطح پر مذاکرات کا دوسرا دور رواں ہفتے جمعرات کو ہوگا
  • چین کے صدر شی جنپنگ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی معمول کی آمدورفت جاری رہنی چاہیے
  • روس کا کہنا ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات میں ثالث نہیں ہے لیکن ضرورت پڑنے پر کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

لائیو کوریج

  1. لبنان میں حالیہ جنگ کے آغاز سے اب تک ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 2,387 ہو گئی، رپورٹ

    لبنان میں جنگ کے آغاز سے اب تک ہلاکتوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 2,387 ہو گئی ہے جبکہ اب تک 7,602 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی نے حکومت کے ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ یونٹ کے اعداد و شمار کے حوالے سے یہ ڈیٹا جاری کیا ہے۔

    یہ تعداد جمعے کو لبنانی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مقابلے میں 93 مزید ہلاکتوں کی نمائندگی کرتی ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل پیر کو ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) سے منسلک مہر نیوز ایجنسی نے ایران میں ہلاکتوں کی تعداد 3,375 بتائی تھی جس کا حوالہ ایران کی فرانزک میڈیسن آرگنائزیشن کے سربراہ نے بھی دیا تھا۔

    یاد رہے کہ ، امریکی وزارتِ خارجہ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جمعرات کو ہوگا۔

  2. اشتعال انگیز اقدامات اور جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیاں سفارتی عمل کے تسلسل میں رکاوٹیں ہیں۔: عراقچی, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پاکستانی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ ایک ٹیلیفونک گفتگو میں کہا ہے کہ ایران امریکہ کے حوالے سے ’ تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گا۔‘

    عراقچی کا کہنا تھا کہ ’اشتعال انگیز اقدامات اور جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیاں‘ سفارتی عمل کے تسلسل میں حائل رکاوٹیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایرانی تجارتی جہازوں کے خلاف ’دھمکیاں اور مداخلت‘ اور ایران کے بارے میں ’متضاد بیانات اور دھمکی آمیز زبان‘ بھی سفارتی عمل میں حائل رکاوٹیں ہیں۔

    یاد رہے کہ پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے گفتگو کے بارے میں بیان جاری کیا گیا تھا۔

    بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے تمام زیرِ التوا معاملات کے حل کے لیے جلد از جلد مسلسل رابطے اور بات چیت کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔ بیان میں بتایا گیا تھا کہ ’دونوں وزرائے خارجہ نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔‘

    دوسی جانب پیر کے روز روسی وزیرِ خارجہ کے ساتھ ایک علیحدہ ٹیلی فونک گفتگو میں عراقچی نے کہا کہ ایران ’امریکہ کے اقدامات پر نظر رکھے گا اور اپنے مفادات اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مناسب فیصلہ کرے گا۔‘

    دونوں بیانات میں عراقچی نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ایران شرکت کرے گا یا نہیں۔

  3. امریکی میڈیا رپورٹس پر ٹرمپ کی شدید تنقید: ’ایران بھی انھی میڈیا رپورٹس کی وجہ سے ’کنفیوژن‘ کا شکار ہے‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’صورتحال بہت اچھی جاری‘ رہنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری جنگ ’بڑے مارجن سے جیت رہے ہیں، امریکی فوج ’شاندار کارکردگی‘ کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

    سوشل میڈیا پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے امریکی میڈیا کی جنگ سے متعلق رپورٹنگ پر کڑی تنقید کی اور اس حوالے سے انھوں نے خاص طور پر نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور وال سٹریٹ جرنل کا نام لیا۔

    انھوں نے لکھا کہ ’اگر کوئی امریکی میڈیا کی رپورٹنگ پر انحصار کرے تو اسے یوں محسوس ہوگا جیسے امریکہ جنگ ہار رہا ہو۔ ایران بھی انھی میڈیا رپورٹس کی وجہ سے ’کنفیوژن‘ کا شکار ہے۔‘

    انھوں نے امریکی میڈیا پر الزام لگایا کہ وہ ’ایران کی جیت کی خواہش رکھتا ہے لیکن ایسا نہیں ہوگا۔‘

    اپنی پوسٹ میں انھوں نے ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایران کو ’بالکل تباہ کر رہی ہے‘ اور اسے اس وقت تک نہیں ہٹایا جائے گا جب تک کوئی ’معاہدہ‘ نہیں ہو جاتا۔

    ایران کے حوالے سے ان کا دعویٰ تھا کہ ’ایران 500 ملین ڈالر کا نقصان اٹھا رہا ہے جو قلیل مدت کے لیے بھی ایک ناقابلِ برداشت نقصان ہے۔‘

  4. ایران کے ساتھ معاہدہ ’نسبتاً جلد‘ طے پا جائے گا: ٹرمپ کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ’نسبتاً جلدی‘ طے پا جائے گا۔

    صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں اس تاثر کی بھی سختی سے تردید کی کہ وہ کسی قسم کے ’دباؤ‘ میں آ کر معاہدہ کرنے کی کوشش میں ہیں۔

    وہ کہتے ہیں ’یہ ہرگز درست نہیں۔‘

    صدر ٹرمپ نے اس سے قبل ایک پوسٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ اس وقت ایران کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ تشکیل دے رہا ہے جو سابق امریکی صدور کے دور میں ہونے والے معاہدوں سے ’کہیں بہتر‘ ہوگا۔

    ٹرمپ نے خاص طور پر 2015 کے جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (جے سی پی او اے) کا حوالہ دیا جو ایران اور امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، روس اور جرمنی کے درمیان طے پایا تھا۔

    ٹرمپ نے اس معاہدے کو ’ملکی سلامتی سے متعلق بدترین معاہدوں میں سے ایک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ’جوہری ہتھیار تک پہنچنے کا یقینی راستہ‘ تھا ۔ انھوں نے کہا کہ ’ایسا نہ پہلے ہوا اور نہ کبھی ہونے دیا جائے گا۔‘

    یاد رہے کہ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں امریکہ کو اس معاہدے سے الگ کر لیا تھا۔

    ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اگر وہ اس معاہدے کو ختم نہ کرتے تو جوہری ہتھیار اسرائیل پر اور پورے مشرقِ وسطیٰ میں استعمال ہو چکے ہوتے۔

  5. کیا ایران اسلام آباد مذاکرات میں شریک ہو گا؟, لیز ڈوسیٹ عہدہ,نامہ نگار برائے عالمی اُمور

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے بیان میں ایک اہم نکتہ ان کے ’اب تک‘ کے الفاظ ہیں۔

    اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے ’اب تک‘ ہمارے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے۔‘

    یہ جملہ اس امکان کو ظاہر کرتا ہے کہ تہران آخری لمحے میں پڑوسی ملک پاکستان جانے کا فیصلہ کر لے! اور یوں بھی دونوں ملکوں کے درمیان فاصلہ بھی زیادہ نہیں۔

    لیکن اس واقعے نے ایران کو ایک مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے تازہ واقعے سے پہلے ہی ایرانی میڈیا یہ رپورٹ کر رہا تھا کہ جب تک امریکی بحریہ کی جانب سے اس کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری ہے، اسلام آباد جانے کا امکان نہیں۔

    یاد رہے ایران امریکہ بحران کے دوران گزشتہ روز پہلی بار امریکی بحریہ نے ایک ایرانی جہاز پر چڑھائی کر کے اسے قبضے میں لے لیا ہے۔

    امریکی کارروائی کو ایران بحری قزاقی اور جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دے رہا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کو اس بات پر بھی تشویش ہے کہ آئندہ اعلیٰ سطحی اور نہایت اہم مذاکرات کے ایجنڈے پر خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔

    صدر ٹرمپ تیز رفتار فیصلوں اور مطالبات کے ذریعے معاملات آگے بڑھانے کے خواہاں رہتے ہیں جبکہ ایران ہمیشہ طویل المدتی حکمتِ عملی اور لین دین کے ذریعے سفارت کاری کرتا آیا ہے۔

    دونوں فریق کسی درمیانی راستے پر متفق ہو پائیں گے یا نہیں اور کیا وہ مشکل سمجھوتوں کے لیے تیار ہیں، اس بارے میں ابھی کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا۔

  6. اگر معاہدہ نہ ہوا تو جنگ بندی میں توسیع کا بہت کم امکان ہے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو دو ہفتے کی جنگ بندی میں توسیع کا امکان بہت کم ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلومبرگ کو دیے گئے انٹرویو میں ترمپ کا کہنا تھا کہ جب تک معاہدہ نہیں ہوتا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

    دوسری جانب امریکی خبر رساں ادارے پی بی ایس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہو گئی تو ’بہت سارے بم پھٹنا شروع ہو جائیں گے۔‘

    یاد رہے کہ رواں ماہ آٹھ تاریخ کو ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی ہوئی تھی۔

  7. لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جمعرات کو ہوگا، امریکی وزارتِ خارجہ

    امریکی وزارتِ خارجہ کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان سفیروں کی سطح پر مذاکرات کا دوسرا دور رواں ہفتے جمعرات کو ہوگا۔

    عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکہ 14 اپریل سے شروع ہونے والے تعمیری رابطوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔

    ان کے مطابق امریکہ لبنان اور اسرائیل کی حکومتوں کے درمیان براہِ راست اور نیک نیتی پر مبنی بات چیت میں سہولت فراہم کرتا رہے گا۔

    گذشتہ ہفتے اسرائیل اور لبنان کے درمیان 1993 کے بعد پہلی مرتبہ براہِ راست مذاکرات ہوئے تھے۔ ان مذاکرات میں ثالثی کرنے والے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ یہ حزب اللہ کے اثر و رسوخ کے خاتمے کے لیے ایک تاریخی موقع ہے۔

  8. ایران طاقت کے آگے کبھی نہیں جھکے گا: مسعود پزشکیان

    ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے ممکنہ دوسرے دور سے قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ’ایرانی کبھی طاقت کے آگے سر نہیں جھکائیں گے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ایران میں امریکی حکومت کے حوالے سے ’گہرا تاریخی عدم اعتماد‘ پایا جاتا ہے جو کہ اب بھی موجود ہے۔

    ایکس پر جاری بیان میں ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ بامعنی مذاکرات کی بنیاد وعدوں کی پاسداری پر قائم ہوتی ہے۔

    ’امریکی حکام کی جانب سے غیر تعمیری اور متضاد اشارے ایک تلخ پیغام دیتے ہیں؛ وہ ایران کے ہتھیار ڈالنے کے خواہاں ہیں۔‘

  9. توقع ہے کہ امریکی وفد کچھ دیر میں اسلام آباد کے لیے روانہ ہو جائے گا: ذرائع, برنڈ ڈیبسمین جونیئر، نامہ نگار برائے وائٹ ہاؤس

    کافی دیر سے اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے متضاد خبریں آ رہی تھیں کہ آیا امریکی وفد روانہ ہو گیا ہے یا نہیں۔

    اس حوالے سے باخبر ایک ذریعے نے ابھی بی بی سی کو بتایا ہے کہ وفد کچھ دیر میں روانہ ہو جائے گا۔ تاہم انھوں نے اس بارے میں مزید کوئی تفصیل فراہم نہیں کی ہے اور نہ ہی یہ بتایا ہے کہ وہ کب تک اسلام آباد پہنچیں گے۔

    اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دی نیو یارک پوسٹ کو بتایا تھا کہ نائب صدر جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف اور جیرد کشنر پر مشتمل امریکی وفد ایران کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ ہو گیا ہے اور توقع ہے کہ وہ اگلے چند گھنٹوں میں اسلام آباد پہنچ جائیں گے۔

    انھوں نے فاکس نیوز کو بھی بتایا تھا کہ آج رات معاہدہ ہو جائے گا۔

    تاہم یہ ناممکن لگ رہا ہے کیونکہ اسلام آباد کا فاصلہ بہت ہے اور طیارے کو راستے میں ری فیولنگ کے لیے بھی رکنا پڑتا ہے۔

  10. ایران، امریکہ امن مذاکرات دوسرا دور: ترمپ کی وفد بھیجنے کی تصدیق اور تہران کی جانب سے متضاد اشارے, ڈینیئل بش، واشنگٹن

    توقع کی جا رہی تھی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کا دوسرا دور سوموار کے روز شروع ہو گا۔ تاہم اب ممکنہ مذاکرات کب ہوں گے اس حوالے سے صورتحال غیر واضح ہے اور متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان میں امریکی مذاکراتی وفد کی قیادت کریں گے جیسا کہ رواں ماہ کے آغاز میں مذاکرات کے پہلے دور کے دوران انھوں نے کیا تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیو یارک پوسٹ کو بتایا ہے کہ وینس آج رات اسلام آباد پہنچیں گے۔

    تاہم ایران کی جانب سے مذاکرات کے حوالے سے متضاد اشارے مل رہے ہیں، جس کے باعث یہ قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں کہ تہران آبنائے ہرمز کے کنٹرول سے متعلق اختلافات کی وجہ سے عین موقع پر مذاکرات سے دستبردار ہو سکتا ہے۔

    امریکہ نے آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی قائم کر رکھی ہے اور ایک ایرانی مال بردار جہاز کو بھی تحویل میں لے لیا تھا۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ امریکہ اپنی ناکہ بندی ختم کرے۔

    اس نوعیت کی شٹل ڈپلومیسی عموماً پیچیدہ ہوتی ہے اور اس میں آخری لمحات تک تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔

    تاہم اس سب کے باوجود غیر یقینی کی یہ سطح کچھ غیر معمولی ہے۔ یہ اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ دونوں فریقوں کو ان مذاکرات میں پیش رفت اور کسی پائیدار طویل المدتی امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے کتنی بڑی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

  11. ایران کا مذاکرات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ تبدیل نہیں ہوا: ایرانی میڈیا

    کچھ دیر قبل امریکی جریدے دی نیو یارک پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں امریکی وفد اسلام آباد روانہ ہو چکا ہے۔

    اس اعلان کے باوجود ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک تسنیم نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے مذاکرات میں حصہ نہ لینے کے فیصلے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

    تسنیم کی خبر کے مطابق امریکی بحری ناکہ بندی مذاکرات میں ایک ’رکاوٹ‘ہے۔ خبر کے مطابق اس کے علاوہ امریکہ کی جانب سے ایران کو بھیجے گئے پیغامات میں ’مزید ضرورت سے زیادہ مطالبات کیے گئے ہیں‘ جو مذاکرات کے امکانات پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

    تسنیم کا کہنا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ ’فوجی تصادم اور اسے ایک بار پھر سبق سکھانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔‘

    تاہم تسنیم نے اپنی رپورٹ میں کسی عہدیدار کا نام نہیں لیا ہے۔ ابھی دیکھنا ہے کہ آیا ایران مذاکرات میں شرکت کرے گا یا نہیں۔

  12. نئی قیادت عقلمندی دکھائے تو ایران کا مستقبل خوشحال اور عظیم ہو سکتا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے نئے رہنما عقلمند ہیں تو ایران کا مستقبل بہت تابناک ہو سکتا ہے۔

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے لیے اسرائیل نے انھیں راغب نہیں کیا اور سات اکتوبر 2023 کے واقعے نے ان کے دیرینہ موقف کو تقویت بخشی کہ ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتے۔

    صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ایران کی نئی قیادت عقلمند ہے تو ایران کا مستقبل خوشحال اور عظیم ہو سکتا ہے۔

    اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر اسلام آباد میں امریکہ ایران مذاکرات میں کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو وہ خود ایرانی قیادت سے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے امریکی جریدے دی نیو یارک پوسٹ کو بتایا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف اور جیرد کشنر پر مشتمل امریکی وفد ایران کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ ہو گیا ہے اور توقع ہے کہ وہ اگلے چند گھنٹوں میں اسلام آباد پہنچ جائیں گے۔

    ’وہ (اسلام آباد وقت کے مطابق) آج رات وہاں پہنچ جائیں گے۔‘

    انھوں نے مذاکرات کے حوالے سے شکوک و شبہات دور کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے مذاکرات ہونے جا رہے ہیں۔

    ’لہذا میں اس وقت فرض کروں گا کہ کوئی بھی کھیل نہیں کھیل رہا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا ہے کہ اگر کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو وہ سینئر ایرانی رہنماؤں سے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔ ’مجھے ان سے ملنے میں کوئی مسئلہ نہیں۔‘

    صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’اگر وہ (ایرانی قیادت) ملاقات کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے پاس کچھ بہت قابل لوگ ہیں۔۔۔۔ لیکن مجھے ان سے ملنے میں کوئی مسئلہ نہیں۔‘

  13. کشیدگی کم کرنے کے لیے ہر سفارتی راستہ استعمال کیا جائے: ایرانی صدر

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ’جنگ سے کسی کو فائدہ نہیں ہوتا، اور خطرات کے خلاف ڈٹے رہتے ہوئے، کشیدگی کم کرنے کے لیے ہر منطقی اور سفارتی راستہ استعمال کیا جانا چاہیے۔‘

    سوموار کے روز وزارت انصاف کے دورے کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایرانیوں کو ’ملک کے حقائق سے آگاہ رکھا جانا چاہیے۔‘

    ’غلط معلومات یا غیر حقیقی وعدے نہ صرف مسائل کو حل کرنے میں کوئی مدد فراہم نہیں کرتے بلکہ اس کے نتیجے میں عوامی اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔‘

    پزیشکیان کا کہنا ہے کہ ’کامیابیوں اور چیلنجز دونوں کو ایمانداری سے عوام کے سامنے رکھنا چاہیے۔‘

  14. آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی معمول کی آمدورفت جاری رہنی چاہیے، صدر شی جنپنگ

    چین کے صدر شی جنپنگ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی معمول کی آمدورفت جاری رہنی چاہیے۔

    چینی خبر رساں ایجنسی زنہوا کے مطابق، صدر شی نے یہ بات سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہی۔

    مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے شی جنپنگ کا کہنا تھا کہ چین فوری اور جامع جنگ بندی اور عسکری کارروائیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے اور امن کی بحالی کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

    چینی صدر کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی معمول کے مطابق آمدورفت خطے کے ممالک اور عالمی برادری کے مشترکہ مفاد میں ہے۔

  15. امریکہ کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے پر امید نہیں، ایرانی وزارتِ خارجہ

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ معاملات کے حوالے سے زیادہ ’پر امید نہیں‘، وہ بس ’حقیقت پسند‘ ہے۔

    ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ: ’اگر یہ کہا جائے کہ ایک حد تک بدگمانی موجود ہے… تو یہ بالکل فطری بات ہو گی۔‘

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ’دشمن کے حوالے سے بدگمان رہنا دراصل دانائی کے مترادف ہے۔‘

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اپنا ایک وفد پاکستان بھیجا ہے۔ دوسری جانب ایران نے اب تک ان مذاکرات میں شرکت کی تصدیق نہیں کی ہے۔

  16. ثالث نہیں لیکن ضرورت پڑنے پر کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں: روس

    روس کا کہنا ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات میں ثالث نہیں ہے لیکن ضرورت پڑنے پر کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    روسی حکومت کے ترجمان دمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال بہت نازک اور عملی طور پر غیر متوقع ہے۔

    روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق، پیسکوف کا کہنا ہے کہ روس کو امید ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے حوالے سے مذاکراتی عمل جاری رہے گا اور دوبارہ طاقت کا استعمال شروع نہیں کیا جائے گا۔

    ’ہمیں امید ہے کہ مذاکراتی عمل جاری رہے گا جس سے فوجی کارروائیوں کو روکنا ممکن ہو گا کیونکہ اس سے علاقائی سلامتی اور عالمی معیشت پر بہت زیادہ منفی اثرات مرتب ہوں گے۔‘

    روسی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ماسکو نے اب تک مشرق وسطیٰ کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا نہیں کیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو ماسکو فریقین کو کسی معاہدے تک پہنچنے میں مدد کرنے کے لیے کردار ادا کر سکتا ہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ روس متعدد مواقع پر پہلے بھی کہہ چکا ہے کہ ضرورت پڑنے پر ہم پرامن حل کی تلاش اور متعلقہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے کوئی بھی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

  17. اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا تعلق ایران، امریکہ بات چیت سے نہِیں: لبنانی صدر

    لبنان کے صدر جوزف عون کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کا تعلق امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات یا ’کسی اور قسم کی بات چیت‘ سے نہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں لبنانی صدر کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے اگلے دور میں لبنانی وفد کی قیادت امریکہ میں لبنان کے سابق سفیر سائمن کرم کریں گے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ لبنان کی جانب سے اس مشن میں نہ تو کوئی اور شریک ہوگا اور نہ ہی ان کی جگہ لے گا۔

    لبنانی صدر کے مطابق مذاکرات کے مقاصد میں عسکری کارروائیوں کا خاتمہ‘ لبنان کے جنوبی علاقوں پر اسرائیلی ’قبضے کا خاتمہ‘ اور لبنان کی ’بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ جنوبی سرحدوں‘ تک اس کی فوج کی تعیناتی شامل ہے۔

    ان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی لبنان کے مطالبات کو پوری طرح سے سمجھتے ہیں اور مذاکرات کے اگلے دور کی راہ ہموار کرنے میں مدد کی ہے۔

    لبنانی صدر کا کہنا ہے کہ ’پوری امید ہے کہ ہم لبنان کو بچانے میں کامیاب ہو سکیں گے۔‘

    تاہم دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں سرحد سے تقریباً 10 کلومیٹر (6.2 میل) اندر تک تعینات رہے گی۔

  18. نیتن یاہو کی اسرائیلی فوجی کی جانب سے حضرت عیسی کے مجسمے پر حملے کی مذمت: ’اس واقعے سے پہنچنے والی تکلیف پر معذرت خواہ ہیں‘

    اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی فوجی کی جانب سے حضرت عیسی کے مجسمے کو نقصان پہنچانے کے عمل کی ’شدید ترین الفاظ میںمذمت‘ کی ہے۔

    نتن یاہو کا بیان اس تصویر کے آن لائن وائرل ہونے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایک اسرائیلی فوجی کو ہتھوڑے سے حضرت عیسی کے ایک مجسمے پر وار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ کہ وہ اور ’اسرائیلیوں کی بھاری اکثریت‘اس واقعے کی بارے میں جان کر ’دلبرداشتہ‘ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ فوجی حکام اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور ذمہ دار فوجی کے خلاف ’سخت تادیبی کارروائی‘کی جائے گی۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم کا مزید کہنا کہ ’اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں واحد مقام ہے جہاں تمام مذاہب کے لیے عبادت کی آزادی کو برقرار رکھا جاتا ہے۔ ہم اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور اس سے پہنچنے والی کسی بھی تکلیف پر معذرت خواہ ہیں۔‘

    اس سے قبل اسرائیل میں امریکہ کے سفیر مائیک ہکابی نے اس واقعے پر ’فوری، سخت اور اعلانیہ‘ کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

  19. پاکستانی وزیرِ داخلہ کی امریکی اور ایرانی سفیروں سے ملاقات: ’اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کی کامیابی کے لیے دعا گو ہیں‘

    پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سوموار کے روز اسلام آباد میں امریکہ کی سفیر نیٹلی بیکر اور ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی ہیں۔

    اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو میں واقع امریکہ کے سفارتخانے میں نیٹلی بیکر سے ملاقات کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے سکیورٹی انتظامات سے متعلق امریکی سفیر کو آگاہ کیا۔

    وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اپنے تمام خاص مہمانوں کے لیے سکیورٹی کےخصوصی انتظامات کیے ہیں۔

    محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ’اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کی کامیابی کے لیے دعا گو ہیں۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی سفیر نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کے مخلصانہ کردار کو سراہا۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ نے اسلام آباد میں تعینات ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم سے بھی ملاقات کی اور اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے کیے انتظامات پر تبادلہ خیال کیا۔

    وزارتِ داخلہ کے بیان کے مطابق ملاقات کے دوران کشیدگی میں کمی لانے کے لیے سفارتی و مذاکراتی چینلز کے ذریعے پائیدار حل کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

    محسن نقوی کا کہنا ہے کہ پاکستان مذاکرات کے ذریعے ایران امریکہ تنازع کے حل کا داعی ہے۔

    انھوں نے ایرانی سفیر کو آگاہ کیا کہ اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے تیاریاں مکمل کی جا چکی ہیں اور غیر ملکی وفود کے لیے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔

    بیان کے مطابق ایرانی سفیر نے کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کے مثبت و تعمیری کردار کو سراہا۔

  20. افزودہ یورینیم کے ذخائر کی منتقلی ایران کے ایجنڈے کا حصہ نہیں، اسماعیل بقائی

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کی منتقلی ایجنڈے کا حصہ نہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے کسی دور میں بھی ایران کے یورینیم کے ذخائر امریکہ یا کسی دوسرے ملک منتقل کرنے کا معاملہ زیرِ بحث نہیں آیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ ایران کے مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ نہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم ایران کے یورینیم ذخائر حاصل کر کے اسے امریکہ منتقل کر دیں گے۔

Trending Now