آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

انڈیا کا یوم جمہوریہ کی پریڈ میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہائپر سونک میزائل کی نمائش کا اعلان

بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق انڈین حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ میزائل جدید ہتھیاروں کے نظام کے حصول کے لیے انڈین نیوی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

خلاصہ

  • وفاقی حکومت یا فوج نے وادی تیراہ خالی کروانے کا کوئی حکم نہیں دیا، وزارتِ اطلاعات
  • خیبر پختونخوا میں مزید بارشوں اور برفباری کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے کا سیاحوں کو بالائی علاقوں کا رخ نہ کرنے کا مشورہ
  • پاکستان حکومت کا کراچی، لاہور اور اسلام آباد ایئر پورٹس کی آؤٹ سورسنگ کے لیے عام بولی کا اعلان
  • افغانستان میں نیٹو کے کردار پر تنقید کے بعد ٹرمپ کی برطانوی سپاہیوں کی تعریف: 'وہ بہترین جنگجوؤں میں سے ہیں'
  • چین میں صدر شی جنپنگ کے قریبی سمجھے جانے والے اعلیٰ ترین فوجی جنرل کے خلاف تحقیقات کا آغاز

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    26 جنوری کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. بلوچستان کے ضلع پنجگور میں ایک کارروائی میں تین شدت پسند ہلاک: پاکستانی فوج

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے ضلع پنجگور میں کیے گئے ایک آپریشن کے دوران اس کے اہلکاروں نے تین شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔

    اتوار کو پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ یہ کارروائی علاقے میں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات موصول ہونے کے بعد کی گئی تھی۔

    پاکستانی فوج کے مطابق فائرنگ کے شدید تبادلے میں شدت پسند کمانڈر فاروق عرف سورو، عدیل اور وسیم نامی مسلح افراد ہلاک ہوئے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے شدت پسند دہشتگردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے اور ان کے قبضے سے اسلحہ اور بارودی مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔

  3. انڈیا کا یوم جمہوریہ کی پریڈ میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہائپر سونک میزائل کی نمائش کا اعلان, بی بی سی مانیٹرنگ

    انڈیا کی ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) نے 26 جنوری کو یوم جمہوریہ کی پریڈ میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے اینٹی شپ ہائپر سونک میزائل کی نمائش کا اعلان کیا ہے۔

    بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق انڈین حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ میزائل جدید ہتھیاروں کے نظام کے حصول اور انڈین نیوی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

    ڈی آر ڈی او نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ ہتھیار ایک ہائپر سونک گلائیڈ میزائل ہے، جو جامد اور حرکت کرنے والے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے مختلف پے لوڈ لیجانے کے لیے بھی ڈیزائن کیا گیا ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ میزائل اپنی نوعیت کا پہلا میزائل ہے جس میں مقامی ایویونکس سسٹم اور ہدف کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی خصوصیات ہیں۔

    ہائپرسونک کا مطلب ہے کہ ایسی چیز جو آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ تیزی سے سفر کر سکتی ہو۔ یہی خصوصیت ہائپر سونک میزائلوں کو سپر سونک میزائلوں سے منفرد بناتی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ میزائل تیز رفتاری کے ساتھ کم اُونچائی پر پرواز کرتا ہے اور آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ رفتار برقرار رکھتا ہے۔

  4. یہودی، اسرائیلی اداروں پر حملوں کی مبینہ منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں حماس کا مبینہ رُکن جرمنی میں گرفتار

    جرمن پولیس نے ایک لبنانی شہری کو مسلح تنظیم حماس کے رُکن ہونے اور یورپ میں حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کے شبہے میں گرفتار کر لیا ہے۔

    لبنانی شخص، جس کی شناخت ’محمد ایس‘ کے نام سے کی گئی ہے، کو جمعے کی شام بیروت سے آمد کے بعد برلن کے براندنبورگ ایئرپورٹ پر گرفتار کیا گیا تھا۔

    وفاقی پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ اگست 2025 میں گرفتار شخص نے 300 گولیاں حاصل کرنے میں یگر ملزمان کو مدد فراہم کی تھی اور وہ یہودی اور اسرائیلی اداروں پر حملوں کی مبینہ منصوبہ بندی میں ملوث ہیں۔

    گرفتار شخص کو ایک وفاقی جج کے سامنے پیش کیا جانا ہے جو کہ عدالتی کارروائی سے قبل ملزم کو حراست میں رکھنے کے حوالے سے فیصلہ کریں گے۔

    جرمن حکام کا کہنا ہے کہ ’محمد ایس‘ نے گذشتہ برس اکتوبر میں یہودی اور اسرائیلی اداروں پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے تین میں سے ایک حماس کے مبینہ رُکن ’عابد ال جی‘ کے ساتھ مل کر کام کیا تھا۔

    اطلاعات کے مطابق یہ تینوں افراد برلن میں ہتھیار ایک دوسرے کے حوالے کرتے وقت گرفتار کیے گئے تھے۔ ان میں سے دو ملزمان جرمن شہری ہیں جبکہ ایک کا تعلق لبنان سے ہے۔

    خیال رہے گذشتہ برس نومبر میں بھی پولیس نے ایک لبنانی شہری کو حماس کا مبینہ رکن ہونے کے شک پر چیک رپبلک کی سرحد کے قریب سے گرفتار کیا تھا۔

  5. بلوچستان میں شدید سردی، زیارت اور کچھی میں تفریحی مقامات پر جانے پر پابندی عائد

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دو اضلاع زیارت اور کچھی میں شدید سردی اور موسمی حالات کے باعث تفریحی مقامات پر جانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

    دونوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز دفعہ 144 کے تحت یہ پابندیاں نافذ کی ہیں۔

    اس سلسلے میں جاری ہونے والے سرکاری اعلامیہ میں انتظامیہ کو متوقع شدید سردی کی لہر، بارشوں اور برفباری کے پیش نظر احتیاطی اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    اس سلسلے میں سیاحتی مقامات، پکنک پوائنٹس اور دریاؤں کے کناروں پر جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

    اسی طرح ندی نالوں اور ڈیمز کے قریب جانے، لوگوں کے اکھٹے ہونے، کیمپنگ اور تیراکی پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

    حکام کی جانب شہریوں سے اپیل کی گئی ہے وہ پہاڑوں اور ایسے علاقوں کی جانب جانے سے گریز کریں جہاں سیلاب آنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

    اعلامیہ کے مطابق دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق، دونوں اضلاع میں دفعہ 144 کے تحت یہ پابندیاں تاحکم ثانی جاری رہیں گی۔

  6. پاکستان نے آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے سکواڈ کا اعلان کر دیا

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے انڈیا میں ہونے والے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے 15 رکنی سکواڈ کا اعلان کر دیا۔

    پی سی بی کے مطابق، سلمان علی آغا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان کے کپتان ہوں گے۔

    سکواڈ کے دیگر ارکان میں ابرار احمد، بابر اعظم، فہیم اشرف، فخر زمان، خواجہ محمد نافع، محمد نواز، محمد سلمان مرزا، نسیم شاہ، صاحبزادہ فرحان، صائم ایوب، شاداب خان، شاہین شاہ آفریدی، عثمان خان اور عثمان طارق شامل ہیں۔

    آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز سات فروری سے شروع ہو رہے ہیں جو آٹھ مارچ تک جاری رہیں گے۔ پاکستان کا پہلا میچ نیدرلینڈز کے خلاف سات فروری کو ہے۔

    تاہم پاکستان کی ایونٹ میں شمولیت کے حوالے سے پی سی بی چیئرمین محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے ٹیم انڈیا بھیجنے کا فیصلہ حکومت کرے گی۔

  7. شامی حکومت کا کرد جنگجوؤں کے ساتھ جنگ بندی معاہدے میں 15 روز کی توسیع کا اعلان

    شامی حکومت نے کرد جنگجوؤں پر مشتمل سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے ساتھ ملک گیر جنگ بندی معاہدے میں 15 روز کی توسیع کا اعلان کر دیا ہے۔

    کہا جا رہا ہے کہ جنگ بندی بندی میں توسیع اس لیے کی گئی ہے تاکہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے قیدیوں کو عراق منتقل کرنے کا امریکی آپریشن مکمل کیا جا سکے۔

    اس سے قبل کئی ذرائع اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ شامی حکومت اور ایس ڈی ایف کے درمیان معاہدے کی توسیع پر اتفاق ہو چکا ہے۔

    شام کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی میں 15 دن کی توسیع کی جا رہی ہے جو سنیچر کے رات 11 بجے سے نافذالعمل ہو گی۔

    وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ یہ فیصلہ ’ایس ڈی ایف کی جیلوں سے داعش کے قیدیوں کو عراق سے نکالنے کے امریکی آپریشن کی حمایت میں لیا گیا ہے۔‘

    یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے شامی حکومت نے کرد جنگجوؤں کے ساتھ ملک گیر جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت نے ملک کا تقریباً مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

    یہ جنگ بندی ایک وسیع تر 14 نکاتی معاہدے کا حصہ ہے جس کے تحت ایس ڈی ایف کو شام کے فوجی اور ریاستی اداروں میں ضم کیا جائے گا۔

  8. خیبر پختونخوا میں مزید بارشوں اور برفباری کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے کا سیاحوں کو بالائی علاقوں کا رخ نہ کرنے کا مشورہ

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے نے صوبہ خیبر پختونخوا میں 25 سے 27 جنوری کے دوران مزید بارشوں اور پہاڑی علاقوں میں برفباری کی پیشگوئی کے پیشِ نظر تمام انتظامی سیکریٹریز، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ سیاحت کو ایڈوائزری جاری کرتے ہئے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تمام حفاظتی اقدامات یقینی بنائے کی ہدایت کی ہے۔

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق، بارشوں اور برفباری کے باعث مختلف علاقوں میں سڑکوں کی بندش، پھسلن، لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودے گرنے اور فلیش فلڈ جیسے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں، جس سے عوام اور سیاح متاثر ہو سکتے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ اس دوران وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، جبکہ سیاحوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ برفباری اور شدید بارش کے دوران بالائی اور دور دراز علاقوں کا رخ نہ کریں۔

    اس کے علاوہ ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ سیاحوں کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کریں اور برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ سے متعلق بروقت الرٹس جاری کیے جائیں۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں عوام پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

    گذشتہ روز پی ڈی ایم اے کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ 22 جنوری سے شروع ہونی بارشوں اور برفباری کے باعث برفانی تودے گرنے، لینڈ سلائیڈنگ اور گھروں کی چھتیں گرنے جیسے حادثات میں اب تک نو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں سات بچے جبکہ ایک مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔

  9. وفاقی حکومت یا فوج نے وادی تیراہ خالی کروانے کا کوئی حکم نہیں دیا، وزارتِ اطلاعات

    پاکستان کی وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ حکومت یا فوج کی جانب سے خیبر پختونخوا کے علاقے وادی تیراہ کو خالی کروانے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔

    اتوار کے روز وفاقی وزارتِ اطلاعات کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے ان گمراہ کن خبروں کا نوٹس لے لیا ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ وادی تیراہ کو فوج کے احکامات پر خالی کروایا جا رہا ہے۔

    وزارتِ اطلاعات نے ان دعوؤں کو ’بے بنیاد‘ اور ’بدنیتی پر مبنی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان خبروں کا ’مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا، سکیورٹی اداروں کے خلاف غلط معلومات دینا اور ذاتی و سیاسی مفادات کا حصول ہے۔‘

    بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’قانون نافذ کرنے والے ادارے معمول کے مطابق صرف دہشت گرد عناصر کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہیں‘ اور اس دوران اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ شہریوں کی زندگی متاثر نہ ہو۔

    ’ان کارروائیوں کے لیے کسی قسم کی آبادی کی منتقلی یا ہجرت کی نہ ضرورت ہے اور نہ ہی ایسا کچھ کیا جا رہا ہے۔‘

    بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ خیبر پختو نخوا کی حکومت کے ریلیف، بحالی اور آبادکاری کے محکمے نے 26 دسمبر 2025 کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس کے تحت اطلاعات کے مطابق چار ارب روپے جاری کیے گئے۔

    وزارتِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ یہ رقم تیراہ (باغ) کے بعض علاقوں سے ممکنہ، عارضی اور رضا کارانہ طور پر آبادی کی نقل و حرکت کے پیش نظر جاری کی گئی تاکہ پیشگی تیاری اور امدادی اقدامات کیے جا سکیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ نوٹیفکیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ’ڈپٹی کمشنر خیبر کے مطابق یہ مجوزہ رضا کارانہ نقل مکانی مقامی آبادی کی رائے اور خواہشات کی عکاسی کرتی ہے، جو ضلعی سطح پر منعقد ہونے والے نمائندہ جرگے کے ذریعے سامنے آئی۔‘

    یاد رہے کہ رواں ماہ آٹھ جنوری کو سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے خبر دی تھی کہ تیراہ کے 24 رکنی جرگے سے ہونے والے مذاکرات کی کامیابی کے بعد فوجی آپریشن کے پیشِ نظر 10 جنوری سے تیراہ سے مقامی آبادی کا انخلا شروع ہو گا جو 25 جنوری تک جاری رہے گا۔

    وزارتِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت یا اس کے کسی عہدیدار کی جانب سے میڈیا کو دیا گیا کوئی بھی ایسا بیان، جس میں اس نقل مکانی کو مسلح افواج سے جوڑا جائے، سراسر غلط، من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی ہے۔

    ’ایسے بیانات سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے دیے جا رہے ہیں اور بد قسمتی سے سکیورٹی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش ہیں، جو انتہائی افسوسناک ہے۔‘

    15 جنوری کو خیبر پختونخواہ کے وزیرِ اعلیٰ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ’اس وقت تیراہ کا آپریشن اور لوگوں کا زبردستی انخلأ بند کمروں کا فیصلہ ہے جس کا مقصد سیاسی عزائم پورے کرنا ہے۔‘

    سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’تیراہ میرا گھر ہے۔ وہ لوگ میرے ہیں۔‘

    مقامی آبادی کا انخلا گذشتہ ہفتے بھی جاری تھا کہ جمعرات کے روز اس علاقے اور قرب و جوار میں برفباری کا آغاز ہوا اور راستے بند ہو گئے۔ اس صورتحال کے باعث درجنوں افراد سڑکوں پر موجود اپنی گاڑیوں تک محدود ہونے پر مجبور ہو گئے۔

    22 جنوری کو وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک اور بیان میں علاقے سے لوگوں کے انخلا کے عمل ’زبردستی‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’انخلا کے دوران لوگ بر فباری میں پھنسے ہوئے ہیں، تمام وسائل کو بروئے کار لا کر اُن کی مدد کی جا رہی ہے۔

    بعد ازاں سنیچر کے روز ہنگامی امداد کے ادارے ریسکیو 1122 کی جانب سے بتایا گیا کہ وادی تیراہ میں برفباری میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے جاری ریسکیو اپریشن کے دوران 1500 سے زائد افراد اور 350 گاڑیوں کو ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

  10. امریکی یونیورسٹی نے ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کی بیٹی کو برطرف کر دیا

    امریکی ریاست اٹلانٹا کی ایموری یونیورسٹی نے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کی بیٹی کو یونیورستی سے برطرف کر دیا ہے۔

    بی بی سی فارسی کو اس بات کی تصدیق یونیورسٹی کے ایک فیکلٹی ممبر نے کی ہے۔

    فاطمہ اردشیر لاریجانی اٹلانٹا کی ایموری یونیورسٹی کے کینسر ریسرچ ڈیپارٹمنٹ میں کام کر رہی تھیں۔

    خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں ایرانی حکومت کے مخالفین نے یونیورسٹی کے سامنے جمع ہو کر فاطمہ کی برطرفی کا مطالبہ کیا تھا۔ فاطمہ لاریجانی یونیورسٹی میں اپنے درمیانی نام اردشیر سے جانی جاتی ہیں۔

    جمعرات کے روز جارجیا سے امریکی ایوان نمائندگان کے رکن ارل کارٹر نے یونیورسٹی حکام کو ایک خط لکھ کر مطالبہ کیا تھا کہ فاطمہ لاریجانی کو برطرف کیا جائے اور ان کا میڈیکل لائسنس بھی منسوخ کیا جائے۔

    یونیورسٹی کی جانب سے تاحال اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

    جنوری 2025 میں، امریکہ نے علی لاریجانی کو ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کو دبانے میں ان کے کردار اور ’شیڈو بینکنگ‘ نیٹ ورکس اور تیل کی آمدنی کی منی لانڈرنگ سے متعلق سرگرمیوں کی وجہ سے پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

    حالیہ دنوں میں بیرونِ ملک مقیم ایرانیوں نے ایران میں ملک گیر احتجاج میں حصہ لینے والوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے مختلف ممالک میں احتجاج منعقد کیے اور ان ملکوں سے ایرانی حکومت سے وابستہ افراد کو نکالنے کا مطالبہ کیا تھا۔

  11. افغانستان میں نیٹو کے کردار پر تنقید کے بعد ٹرمپ کی برطانوی سپاہیوں کی تعریف: ’وہ بہترین جنگجوؤں میں سے ہیں‘

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کے فوجیوں کو ’عظیم اور انتہائی بہادر‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانوی سپاہی ہمیشہ امریکہ کے ساتھ ہوں گے۔

    اس سے قبل امریکی صدر کی جانب سے افغانستان میں نیٹو فوج کے کردار پر تبصرے کے بعد انھیں برطانیہ اور یورپی ممالک کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    صدر ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دِیے گئے ایک انٹرویو میں افغانستان میں نیٹو افواج کے کردار پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’وہ کہیں گے کہ اُنھوں نے افغانستان میں کچھ فوجی بھیجے۔۔اُنھوں نے ایسا کیا۔۔لیکن وہ کچھ پیچھے رہے۔۔وہ فرنٹ لائنز سے کچھ پیچھے رہے۔‘

    صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں کبھی اُن کی ضرورت نہیں رہی اور نہ ہی ہم نے کبھی اُن سے کسی چیز کے لیے پوچھا۔

    برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر اور شہزادہ ہیری نے بھی صدر ٹرمپ کے بیان کی مذمت کی تھی۔

    برطانوی وزیر اعظم نے صدر ٹرمپ کے ریمارکس کو ’توہین آمیز‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’مجھے کوئی تعجب نہیں ہے کہ اُن کے ان الفاظ سے ہلاک یا زخمی ہونے والوں کے پیاروں کو اور درحقیقت پورے ملک کو تکلیف پہنچی ہو گی۔‘

    برطانوی وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کو جب احساس ہوگا کہ اُنھوں نے غلط بات کی ہے تو وہ یقینی طور پر اس پر معافی مانگیں گے۔

    سنیچر کے روز برطانوی وزیراعظم نے صدر ٹرمپ سے بات کی۔ برطانوی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سر کیئر سٹارمر نے امریکی صدر سے گفتگو میں ’افغانستان میں شانہ بشانہ لڑنے والے بہادر برطانوی اور امریکی فوجیوں کا مدعہ اٹھایا جن میں سے اکثر کبھی اپنے وطن واپس نہیں لوٹے۔ ہمیں ان کی قربانی کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے۔‘

    بعد ازاں صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام جاری کیا جس میں انھوں نے برطانوی فوجیوں کو ’بہترین جنگجو‘ قرار دیا تاہم انھوں نے انٹرویو میں استعمال کیے گئے اپنے الفاظ کے لیے معافی نہیں مانگی۔

    ’افغانستان میں، 457 ہلاک ہوئے، بہت سے لوگ شدید زخمی ہوئے، اور وہ تمام لوگ بہترین جنگجوؤں میں سے تھے۔

    ’یہ اتنا مضبوط رشتہ ہے جسے کبھی توڑا نہیں جا سکتا۔ برطانیہ کی فوج، بھرپور دل اور جان کے ساتھ، کسی سے کم نہیں ہے (امریکہ کے علاوہ)۔ ہم آپ سب سے پیار کرتے ہیں، اور ہمیشہ کرتے رہیں گے!‘

  12. حکومت کا کراچی، لاہور اور اسلام آباد ایئر پورٹس کی آؤٹ سورسنگ کے لیے عام بولی کا اعلان

    پاکستان کی وزارتِ نجکاری کا کہنا ہے کہ ملک کے تین بڑے ہوائی اڈوں کے آپریشنز کی آؤٹ سورسنگ کے لیے عام بولی کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    سنیچر کے روز وزارتِ نجکاری کے ماتحت نجکاری کمیشن کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے آپریشنز کی آؤٹ سورسنگ کے لیے متعدد ممکنہ طریقہ کار پر غور کر رہی ہے، جس میں انتظامی معاہدے اور طویل مدتی تجارتی مراعات بھی شامل ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حکمت عملی کے تحت کراچی اور لاہور کے ہوائی اڈوں کی طرح اسلام آباد ایئرپورٹ کو بھی نجکاری کے پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔

    نجکاری کمیشن کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد کارکردگی اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا، آمدن میں اضافہ، انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا اور ملکی اور بین الاقوامی نجی شعبے کو سرمایہ کاری کے لیے راغب کرنا شامل ہے۔

    کمیشن کے مطابق، اس بارے میں متحدہ عرب امارات، ترکی، سعودی عرب سمیت متعدد بین الاقوامی سٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعمیری بات ہوئی ہے۔

    نجکاری کمیشن کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس نومبر میں مختلف سرمایہ کاروں کی جانب سے ایئر پورٹس کی آؤٹ سورسنگ میں دلچسپی کے اظہار کے بعد حکومت نے تینوں ہوائی اڈوں کی گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ کے بجائے اوپن بِڈنگ (عام بولی) کا فیصلہ کیا ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس مسابقتی عمل میں، تمام ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے پاس بولی کے عمل میں حصہ لینے کا برابر کا موقع ہوگا۔ ’اس فیصلے کا کوئی سیاسی یا سفارتی پس منظر نہیں ہے اور یہ خالصتاً اقتصادی اور طریقہ کار پر مبنی ہے۔‘

  13. چین میں صدر شی جنپنگ کے قریبی سمجھے جانے والے اعلیٰ ترین فوجی جنرل کے خلاف تحقیقات کا آغاز

    چین کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے ملک کے اعلیٰ ترین جنرل کے خلاف ’ڈسپلن اور قانون کی سنگین خلاف ورزیوں‘ کے معاملے پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

    چینی وزارت دفاع کی جانب سے جنرل ژانگ یوشیا کے خلاف الزامات کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ خیال رہے کہ جنرل ژانگ یوشیا چینی صدر شی جنپنگ کے قریبی سمجھے جاتے ہیں۔ چین میں عام طور پر غلط کاموں کی اصطلاح بدعنوانی کے الزامات کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

    وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ جنرل یوشیا کے علاوہ ایک اور سینیئر فوجی افسرجنرل لیو ژینلی کے خلاف بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    اس سے قبل اکتوبر میں چین میں نو اعلیٰ جرنیلوں کو برطرف کر دیا گیا تھا جسے کئی دہائیوں میں فوج کے خلاف ہونے والا سب سے بڑا کریک ڈاؤن سمجھا جا رہا ہے۔

    75 سالہ ژانگ سینٹرل ملٹری کمیشن (سی ایم سی) کے وائس چیئرمین ہیں۔ یہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کا وہ گروپ ہے جو مسلح افواج کو کنٹرول کرتا ہے اور اس کی سربراہی صدر شی کرتے ہیں۔

    ژانگ کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ فیصلہ ساز ادارے کے بھی رکن ہیں۔

    جنرل ژانگ کے والد چینی کمیونسٹ پارٹی کے بانی جنرلوں میں سے ایک تھے۔ ژانگ نے 1968 میں فوج میں شمولیت اختیار کی اور ان کا شمار جنگی تجربہ رکھنے والے چند سینیئر رہنماؤں میں ہوتا ہے۔

    انھیں چین کی فوج میں عام طور پر رائج ریٹائرمنٹ کی عمر کے بعد بھی عہدے پر برقرار کھا گیا تھا جو اس بات کی جانب اشارہ تھا کہ صدر شی ان پر اعتماد کرتے تھے۔

  14. منیاپولس میں وفاقی ایجنٹوں کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت ہو گئی

    امریکی ریاست مینیسوٹا کے شہر منیاپولس میں سنیچر کے روز وفاقی امیگریشن ایجنٹوں کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت ہو گئی ہے۔

    امریکی سینیٹر ایمی کلبوچر نے ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت ایلکس پریٹی کے نام سے کی ہے۔

    انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ 37 سالہ ایلکس پریٹی منیاپولس کے رہائشی اور امریکی شہری تھے اور وہ بطور نرس کام کرتے تھے۔

    دوسری جانب ہاؤس ہوم لینڈ سیکیورٹی کمیٹی کے چیئرمین اینڈریو گاربارینو کا کہنا ہے کہ وہ منیاپولس میں ہونے والی فائرنگ کے بعد سے محکمہ سے رابطے میں ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ انھیں توقع ہے کہ ’حالیہ واقعات‘ کی ’مکمل تحقیقات‘ کی جائے گی۔ اینڈریو گاربانیو کا کہنا ہے کہ امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن اور امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ دونوں محکموں کے حکام کو گواہی کے لیے بلایا گیا ہے۔

    گاربارینو کا کہنا ہے کہ ’یہ بہت اہم ہے کہ کانگریس قانون نافذ کرنے والے افسران اور ان لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنائے جن کی حفاظت کے لیے یہ محکمے بنائے گئے ہیں۔‘

    خیال رہے کہ یہ ہلاکت امریکی شہری رینی گڈ کی منیاپولس میں ہی ایک امیگریشن ایجنٹ کے ہاتھوں ہلاکت کے تین ہفتے سے بھی کم وقت کے بعد ہوئی ہے۔

    امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوئم نے دعویٰ کیا ہے کہ افسران نے اپنے دفاع میں فائر کیا تھا۔

    تاہم مینیسوٹا کے گورنر ٹم والٹز نے وفاقی حکام کے بیانات کو ’بکواس‘ اور ’جھوٹ‘ پر مبنی قرار دیا ہے۔

    والٹز کا کہنا تھا کہ شکر ہے ہمارے پاس ویڈیو ہے کیونکہ ہوم لینڈ سکیورٹی تو دعویٰ کر رہے ہے کہ ان کے سات اہلکاروں پر جیسے کسی پوری بٹالین نے حملہ کر دیا تھا۔ ’یہ بکواس ہے، لوگوں۔ یہ بکواس ہے، اور یہ جھوٹ ہے۔‘

  15. لاہور کے ہوٹل میں آتشزدگی سے تین افراد ہلاک، متعدد زخمی: ریسکیو 1122

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے علاقے گلبرگ میں 19منزلہ انڈیگو ہوٹل میں آگ لگنے سے تین افراد ہلاک جبکہ نو افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    ترجمان ریسکیو پنجاب فاروق احمد کے مطابق ریسکیو کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر میں سنیچر کے روز دن 12 بج کر 25 منٹ پر انڈیگو ہوٹل سے فائر کال موصول ہوئی۔ جس کے بعد فوری سرچ و ریسکیو ٹیمیں حادثے کے مقام پر پہنچ گئیں۔

    ترجمان کے مطابق اس ہوٹل میں رہائشی اور عملے سمیت 275 افراد کو باحفاظت نکالا گیا اور پانچ گھنٹے میں فائر، سرچ و ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا۔

  16. منیاپولس میں فائرنگ، وفاقی امیگریشن ایجنٹس کی کارروائی میں ایک شخص ہلاک

    امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے بی بی سی کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سنیچر کے روز صبح مقامی وقت کے مطابق نو بج کر پانچ منٹ پر ایک وفاقی افسر نے امریکی ریاست مینیسوٹا کے شہر منیاپولس میں ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

    منیاپولس کے پولیس چیف برائن او’ہارا نے کہا ہے کہ ’آج صبح فائرنگ میں ہلاک ہونے والا شخص 37 سالہ سفید فام مرد تھا جو منیاپولس کا رہائشی اور غالباً امریکی شہری تھا۔‘

    پولیس کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور مزید تفصیلات جلد سامنے آئیں گی۔

    امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی ترجمان ٹریشیا میک لافلن کے مطابق بارڈر پٹرول افسران ایک ’ٹارگٹڈ آپریشن‘ کر رہے تھے جس کا تعلق ایک ایسے ’غیر قانونی تارکِ وطن سے تھا جو پرتشدد حملے کے الزام میں مطلوب تھا۔‘ اسی دوران ایک شخص نائین ایم ایم سیمی آٹومیٹک پستول کے ساتھ سامنے آیا۔

    میک لافلن نے بتایا کہ ’افسران نے مشتبہ شخص کو غیر مسلح کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے شدید مزاحمت کی۔ اپنی جان اور ساتھی افسران کی جان و سلامتی کے خوف سے ایک ایجنٹ نے دفاعی فائرنگ کی۔ جائے وقوعہ پر موجود طبی عملے نے فوری طبی امداد فراہم کی لیکن مشتبہ شخص موقع پر ہی دم توڑ گیا۔‘

    ترجمان نے مزید کہا کہ ’مشتبہ شخص کے پاس دو میگزین تھے اور کوئی شناختی دستاویز موجود نہیں تھی۔ واقعے کے بعد مظاہرین موقع پر پہنچ گئے اور انھوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو روکنے اور ان پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔‘

    منیاپولس کے میئر جیکب فری نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’مزید کتنے رہائشی، مزید کتنے امریکیوں کو مرنا یا شدید زخمی ہونا پڑے گا تاکہ یہ آپریشن ختم ہو؟‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اس طرح کی کارروائیاں شہر میں تحفظ پیدا نہیں کر رہیں بلکہ عوامی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہی ہیں اور اُن کے دلوں میں خدشات کو جنم دے رہی ہیں۔‘

  17. افغانستان میں شدید برفباری سے 61 افراد ہلاک، درجنوں زخمی

    افغانستان میں طالبان حکومت کے قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی پی آر ڈی نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں افغانستان میں شدید برفباری کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 61 ہو گئی ہے۔

    ادارے کے ترجمان نے سنیچر کی شب بتایا کہ مختلف صوبوں میں برفباری، برفانی تودے گرنے اور شدید بارشوں کے نتیجے میں 110 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جبکہ سینکڑوں مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔

    این ڈی پی آر ڈی کی ترجمان محمد یوسف حماد کے مطابق متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں تاہم ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    افغانستان جو حالیہ برسوں میں شدید خشک سالی کا شکار رہا ہے بدھ کے روز سے غیر معمولی برفباری اور معض علاقوں میں شدید طوفانی بارشوں کا سامنا کر رہا ہے۔ اس موسمی صورتحال نے مُلک کے متعدد علاقوں میں سڑکوں کی بندش، بجلی کی فراہمی میں رکاوٹ اور مواصلاتی نظام میں خلل پیدا کر دیا ہے۔

  18. چین سے تجارتی معاہدے کی صورت میں 100 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا ہوگا، ٹرمپ کی کینیڈا کو دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر کینیڈا کے وزیرِاعظم چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرتے ہیں تو امریکا کینیڈا کی تمام مصنوعات پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرے گا۔

    صدر ٹرمپ نے یہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر سنیچر کے روز ایک پیغام میں کہا کہ ’اگر کینیڈا چین کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ کرتا ہے تو فوری طور پر امریکہ میں آنے والی تمام کینیڈین مصنوعات پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔‘

    حالیہ دنوں میں امریکی صدر ٹرمپ اور کینیڈین وزیرِاعظم مارک کارنی کے درمیان کشیدگی میں اُس وقت اضافہ ہوا کہ جب کارنی نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ایک تقریر کی جس میں انھوں نے دنیا کی بڑی طاقتوں کے خلاف مؤقف اختیار کیا۔

    اسی دوران انھوں نے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی اور اعلان کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے، جس میں دونوں ممالک نے الیکٹرک گاڑیوں سمیت کئی شعبوں میں تجارتی معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کے روز ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں کینیڈا کے وزیرِاعظم کو ’گورنر کارنی‘ کہہ کر مخاطب کیا۔ انھوں نے لکھا کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ کینیڈا کو چین کی مصنوعات امریکا میں بھیجنے کے لیے ایک ’ڈراپ آف پورٹ‘ بنایا جا سکتا ہے، تو یہ ان کی سخت غلط فہمی کا شکار ہیں۔

    واضح رہے کہ 16 جنوری 2026 کو چینی صدر شی جن پنگ اور کینیڈین وزیرِاعظم مارک کارنی کے درمیان بیجنگ میں اہم ملاقات کے بعد تجارتی معاہدے کے تحت محصولات میں کمی کا اعلان کیا گیا تھا۔

    اس حوالے سے چین نے کینیڈین کینولا آئل پر محصولات 85 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کرنے کا اعلان کیا جو یکم مارچ سے نافذ ہوگا جبکہ کینیڈا نے چینی برقی گاڑیوں پر محصولات کو 6.1 فیصد پر مقرر کرنے پر اتفاق کیا۔

    یہ معاہدہ برسوں سے جاری کشیدہ تعلقات اور ایک دوسرے پر جوابی محصولات کے بعد ایک بڑی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

    چینی صدر شی نے اسے تعلقات میں موڑ قرار دیا جبکہ تقریباً ایک دہائی بعد چین کا دورہ کرنے والے پہلے کینیڈین رہنما وزیرِاعظم کارنی کے لیے بھی یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔

    مارک کارنی طویل عرصے سے کینیڈا کی تجارت کو اپنے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار امریکہ پر انحصار کرنے سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کوشش اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بار بار بدلتی ہوئی محصولات کی پالیسی نے غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی تھی۔

    چین اور کینیڈا کے درمیان حالیہ تجارتی معاہدہ نہ صرف محصولات میں کمی کا باعث بنا ہے بلکہ اس سے کینیڈا میں چینی سرمایہ کاری میں اضافے کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔

  19. یوکرین کی تازہ روسی حملوں کی مذمت: ’ہماری عوام کے علاوہ مذاکرات بھی ان حملوں کا نشانہ بنے ہیں‘

    یوکرین نے روس کی جانب سے حملوں کی تازہ لہر کی مذمت کی ہے جس میں ایک شخص ہلاک اور 35 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

    یوکرین کے وزیر خارجہ اندری سیبیہا کا کہنا نے کہ ان ’وحشیانہ‘ حملوں کا حکم روسی صدر ولادیمیر پوتن نے دیا تھا اور ہمارے لوگوں کے علاوہ مذاکرات کی میز بھی اس کا نشانہ بنی ہے۔

    یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب روس، یوکرین اور امریکہ کے وفود کے درمیان ابوظہبی میں سہ فریقی مذاکرات ہو رہے تھے۔

    یوکرینی وفد میں شامل اعلیٰ مذاکرات کار رستم عمروف کی ترجمان ڈیانا ڈیویتین نے میڈیا کو بتایا ہے کہ مذاکرات سنیچر کے روز ختم ہوگئے۔

    دوسری جانب روسی میڈیا آر آئی اے نے خبر دی ہے کہ ماسکو روس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان بات چیت جاری رکھنے کے لیے راضی ہے۔

    ایک ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے لیکن سرحدی حدود کا تنازعہ اب بھی حل طلب ہے۔

  20. وادی تیراہ: اب تک برفباری میں پھنسے 1500 سے زائد افراد کو نکالا جا چکا، ریسکیو 1122

    ہنگامی امداد کے ادارے ریسکیو1122 کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے علاقے وادی تیراہ میں برف باری میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو اپریشن مسلسل جاری ہے اور اب تک 1500 سے زائد افراد اور 350 گاڑیوں کو ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

    رسیکیو 1122 کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران 100 سے زائد افراد کو طبی امداد بھی فراہم کی گئی۔

    ریسکیو 1122 کا کہنا ہے کہ خیبر، پشاور، مردان، نوشہرہ اور صوابی کے 120 سے زائد اہلکار اس ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ رواں ماہ آٹھ جنوری کو پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے خبر دی تھی کہ تیراہ کے 24 رکنی جرگے سے ہونے والے مذاکرات کی کامیابی کے بعد فوجی آپریشن کے پیشِ نظر 10 جنوری سے تیراہ سے مقامی آبادی کا انخلا شروع ہو گا جو 25 جنوری تک جاری رہے گا۔

    جمعرات کے روز مقامی آبادی کا انخلا جاری تھا جب اس علاقے اور قرب و جوار میں برفباری کا آغاز ہوا اور سڑکیں بند ہوئیں۔ اس صورتحال کے باعث درجنوں افراد سڑکوں پر موجود اپنی گاڑیوں تک محدود ہونے پر مجبور ہو گئے۔

    خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ ’تقریباً تین جگہوں پر لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ کُچھ لوگوں کو نزدیک واقع گھروں میں اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے بنائئ گئے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ جبکہ کچھ لوگوں کے ساتھ سگنلز نہ ہونے اور راستہ کلیئر نہ ہونے کی وجہ سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔‘

Trending Now