ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک بار پھر ایران کو ’مکمل تباہ‘ کرنے کی دھمکی: ’وہ رات شاید کل کی رات ہو‘

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی سابقہ دھمکیوں کو دہراتے ہوئے خبردار کیا کہ ’پورے ملک کو ایک ہی رات میں تباہ کیا جا سکتا ہے، اور وہ رات شاید کل کی رات ہو۔‘ دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس نے جنگ بندی کے لیے امریکہ کی تجویز مسترد کر دی ہے، تاہم ساتھ ہی جنگ کے ’واضح اور حتمی‘ خاتمے کا مطالبہ کیا ہے اور اپنے مطالبات کی ایک فہرست بھی پیش کی ہے۔

خلاصہ

  • جنگ کا مستقل خاتمہ ضروری، وقفے سے امریکہ اور اسرائیل کو دوبارہ منظم ہو کر حملے کی ’مہلت‘ مل جائے گی: ایران
  • ایرانی حکومت میں موجود ’معقول لوگوں‘ سے مذاکرات جاری ہیں: ٹرمپ کا دعویٰ
  • ڈیڈ لائن کے خاتمے سے قبل ایران کی اہم پیٹروکیمیکل تنصیب پر اسرائیل کا حملہ
  • اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے جنگ کے خاتمے کی تجاویز پر جواب تیار کر لیا: ایران
  • پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس چیف ماجد خادمی کی ہلاکت کی تصدیق

لائیو کوریج

  1. ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف ’ترغیب اور دباؤ‘ کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے, برنڈ ڈی بوسمین جونیئر، وائٹ ہاؤس سے رپورٹنگ

    اب تک اس نیوز کانفرنس میں وسیع تر تنازعے کے بارے میں بہت کم تفصیلات سامنے آئی ہیں، اور نہ ہی اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ انتظامیہ جنگ کو کیسے سنبھالنے کا ارادہ رکھتی ہے یا امریکہ اس سے کس طرح نکلے گا۔

    تاہم، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا یہ کہنا کہ ’ایران کے پاس ایک انتخاب ہے‘ خاصا معنی خیز ہے۔

    یہ کہتے ہوئے کہ ایران کو ’سمجھ داری سے انتخاب کرنا چاہیے‘ اور یہ یاد دلاتے ہوئے کہ ’یہ صدر مذاق نہیں کرتا‘، ہیگسیتھ دراصل وہی بات دہرا رہے ہیں جو ٹرمپ ماضی میں کہتے رہے ہیں۔۔۔ یعنی ایران کو مذاکرات کی میز پر آ کر امریکی مطالبات ماننے چاہیں، ورنہ اسے مزید اور شدید حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    اب تک اس نوعیت کے مذاکرات نہیں ہو سکے اور اس سے قبل ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ ایران کی جانب سے پیش کی گئی ’اہم تجویز‘ ’کافی نہیں‘ تھی۔

    یہ واضح نہیں کہ اس تجویز میں کیا شامل تھا، تاہم رپورٹس کے مطابق ایران نے سخت مطالبات پیش کیے ہیں اور وہ امریکی تجویز کے بارے میں محتاط ہے۔

    آج متعدد فون انٹرویوز میں ٹرمپ نے اس بات پر امید ظاہر کی کہ کوئی معاہدہ ممکن ہے، لیکن ساتھ ہی انھوں نے اس امکان کو بھی کھلا رکھا ہے کہ ایرانی انفراسٹرکچر کے خلاف تباہ کن حملے اب بھی ایک آپشن ہو سکتے ہیں۔

  2. ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو ’مکمل تباہ‘ کرنے کی دھمکی: ’وہ رات شاید کل کی رات ہو‘

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اب سے کچھ دیر پہلے نیوز کانفرنس میں کہا کہ ایران کے اوپر مار گرائے گئے امریکی فضائیہ کے دو اہلکاروں کے ریسکیو آپریشن کی کامیابی کا جشن منایا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ اس طرح کے مشن عموماً انجام نہیں دیے جاتے، لیکن اس میں ’بہترین صلاحیتیں‘ شامل تھیں، اور ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ خوش قسمتی بھی ہمارے ساتھ تھی۔

    ٹرمپ نے اس آپریشن کو ’تاریخی‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ ثابت کرتا ہے کہ امریکی فوج میں ’ہم کسی امریکی کو پیچھے نہیں چھوڑتے۔‘ٹرمپ نے ایران کو ’برائی‘ قرار دیا اور ملک کے شہری انفراسٹرکچر کے خلاف ان دھمکیوں کو دہرایا جو انھوں نے اس سے پہلے سوشل میڈیا پر دی تھیں۔

    انھوں نے کہا ’پورا ملک ایک ہی رات میں تباہ کیا جا سکتا ہے، اور وہ رات شاید کل کی رات ہو۔‘

    صدر نے ریسکیو مشن کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے امریکی مسلح افواج کو یہ حکم دیا تھا کہ پھنسے ہوئے فضائیہ کے اہلکار کو واپس لانے کے لیے جو بھی ضروری ہو، کیا جائے۔

    انھوں نے کہا کہ اس مشن میں ’غیر معمولی خطرات‘ مول لیے گئے، لیکن کسی بھی ریسکیو اہلکار کو چوٹ نہیں آئی۔

    ٹرمپ نے بتایا کہ دوسرے امریکی فضائی اہلکار کو نکالنے کے لیے کیے گئے ریسکیو مشن میں 155 طیاروں نے حصہ لیا، جن میں چار بمبار، 64 فائٹر جیٹس، 48 ری فیولنگ ٹینکرز، 13 ریسکیو طیارے اور دیگر شامل تھے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ’بہادر‘ افسر تقریباً 48 گھنٹے تک ایران میں زمین پر گرفتاری سے بچتا رہا۔

    انھوں نے بتایا کہ امریکی افواج کو ایران میں کچھ طیارے چھوڑنے پڑے، لیکن ایران کو ان طیاروں کے آلات حاصل کرنے دینے کے بجائے، امریکی فوج نے ان طیاروں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

    ٹرمپ نے آخر میں کہا کہ ’میں کبھی اُن غیر معمولی خطرات کو نہیں بھولتا جو ہم اپنے جنگجوؤں کو میدانِ جنگ میں بھیجتے وقت مول لیتے ہیں۔‘

  3. جنگ کا مستقل خاتمہ ضروری، وقفے سے امریکہ اور اسرائیل کو دوبارہ منظم ہو کر حملے کی ’مہلت‘ مل جائے گی: ایران

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران نے کہا ہے کہ جنگ بندی امریکہ اور اسرائیل کو صرف ’تھوڑی سی مہلت دے گی تاکہ وہ دوبارہ منظم ہو کر نئے جرائم کر سکیں۔

    اس سے قبل ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے امریکی تجویز پر 10 نکاتی جواب جمع کرایا تھا، جس میں مجوزہ جنگ بندی کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جنگ کا مستقل خاتمہ ضروری ہے۔

    ایک پہلے کی پریس کانفرنس میں ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے دعویٰ کیا کہ جنگ بندی سے امریکہ اور اسرائیل کو ’مختصر وقفہ مل جائے گا تاکہ وہ دوبارہ منظم ہو کر نئے جرائم کریں‘۔

    انھوں نے کہا کہ ایران امریکی مذاکرات کاروں پر اعتماد نہیں کر سکتا۔

    اسماعیل بقائی نے کہا ’دشمن کو اس حد تک اپنے اقدامات پر پچھتانا چاہیے کہ وہ دوبارہ ایران کی خودمختاری کو دھمکانے کی ہمت نہ کرے۔‘

  4. ایرانی حکومت میں موجود ’معقول لوگوں‘ سے مذاکرات جاری ہیں: ٹرمپ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ہونے والے سالانہ بچوں کے ایسٹر ایونٹ میں خطاب کیا۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی حکومت میں موجود ’معقول لوگوں‘ کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی نئی قیادت، جنگ کے آغاز سے اب تک مارے جانے والے پچھلے رہنماؤں کے مقابلے میں کافی کم شدت پسند ہے۔

    ٹرمپ نے اپنی گفتگو کا آغاز ایران میں جاری جنگ اور اس زخمی امریکی فضائی اہلکار کی ریسکیو کارروائی سے کیا، جو اپنے طیارے کے مار گرائے جانے کے بعد ایران کے ایک دور دراز پہاڑی علاقے میں پھنس گیا تھا۔

    ٹرمپ نے اس ریسکیو مشن کو ’ایسی چیز جو آپ کم ہی دیکھتے ہیں‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مشکل اور انتہائی خطرناک کارروائی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ ایران سے زیادہ دشمنانہ ماحول کہیں اور ہو سکتا ہے۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ دشمن کے علاقے میں اس طرح کی کارروائی کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، خاص طور پر جب وہ دشمن ’طاقتور‘ ہو لیکن انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران ایک ماہ پہلے جتنا مضبوط تھا، اب نہیں رہا۔

    ٹرمپ سے صحافیوں نے پوچھا کہ انھوں نے گذشتہ روز اپنے ٹروتھ سوشل پوسٹ میں ’اتنی نازیبا زبان‘ کیوں استعمال کی یعنی وہ گالیاں جو انھوں نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کی دھمکی دیتے ہوئے لکھی تھیں۔

    ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’صرف اپنی بات سمجھانے کے لیے۔‘ انھوں نے مزید کہا ’میرا خیال ہے آپ یہ پہلے بھی سن چکے ہیں۔‘

    ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایک بار پھر ایران کو دھمکی دی کہ اگر وہ ہتھیار نہیں ڈالتا تو امریکہ اس کے بنیادی ڈھانچے پر حملے جاری رکھے گا۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ’اور اگر انھوں نے ایسا نہ کیا تو ان کے پاس کوئی پل نہیں ہوگا۔ ان کے پاس کوئی پاور پلانٹ نہیں ہوگا۔ ان کے پاس کچھ بھی نہیں بچے گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ وہ اس سے آگے بات نہیں کریں گے، ’کیونکہ ان دونوں سے بھی بدتر چیزیں موجود ہیں۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر میری مرضی ہوتی تو میں کیا کرتا؟ میں ایران کا تیل قبضے میں کر لیتا۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’کیونکہ وہ تیل وہاں موجود ہے اور وہ (ایرانی ہمارا) کچھ نہیں کر سکتے۔‘

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’بدقسمتی سے امریکی عوام چاہتے ہیں کہ ہم گھر واپس آئیں۔ اگر فیصلہ میرے ہاتھ میں ہوتا تو میں تیل کے ذخائر کو قبضے میں لیتا، تیل اپنے پاس رکھتا۔۔۔ بہت پیسہ کماتا اور ایران کے لوگوں کا بھی خیال رکھتا۔‘

    امریکی طیارے کو مار گرائے جانے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے امریکی لڑاکا طیارے کو قسمت‘ سے نشانہ بنایا۔

    تاہم انھوں نے اعتراف کیا کہ ’ہمارے کچھ ہیلی کاپٹر پر اس وقت شاید گولیوں کے بہت سے نشانات ہیں۔‘

    صحافیوں سے گفتگو ختم کرنے سے پہلے، ٹرمپ نے امریکہ اور اسرائیل کی شدید بمباری کے پس منظر میں یہ بھی کہا کہ ’ایرانی عوام سب سے زیادہ ناخوش ہیں۔۔۔ جب یہ بمباری رکتی ہے۔‘

    صدر نے ایک بار پھر زور دیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انھوں نے کہا ’وہ پاگل ہیں، اور آپ جوہری ہتھیار کسی پاگل کے ہاتھ میں نہیں دے سکتے۔‘

  5. یورپی کونسل کے صدر کا شہری انفراسٹرکچر پر حملوں پر ردِعمل، ’یہ غیر قانونی اور ناقابلِ قبول ہے‘

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    یورپی کونسل کے صدر کا کہنا ہے کہ شہری اہداف پر حملے غیر قانونی ہیں، اور ایران کے ساتھ جاری جنگ کا حل صرف سفارت کاری کے ذریعے ممکن ہے۔

    انتونیو کوسٹا نے آج صبح ایکس پر لکھا ’شہری انفراسٹرکچر، خصوصاً توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانا غیر قانونی اور ناقابلِ قبول ہے۔‘

    ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر ایران آبنائے ہرمز دوبارہ نہیں کھولتا تو وہ ایرانی انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیں گے۔

    بین الاقوامی فوجداری عدالت کے بانی چیف پراسیکیوٹر لوئس مورینو اوکامپو پہلے ہی بی بی سی کو بتا چکے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ بین الاقوامی قانون کے تحت جارحیت کے جرم کے زمرے میں آتی ہے۔

    مزید یہ کہ 100 سے زیادہ بین الاقوامی قانون کے ماہرین نے ایک کھلا خط بھی جاری کیا ہے جس میں انھوں نے امریکہ، اسرائیل اور ایران کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی مبینہ سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

  6. آبنائے ہرمز پر ٹرمپ کی بدلتی ہوئی ڈیڈ لائنز

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    آج ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں جاری جنگ کے بارے میں بات کریں گے۔

    اتوار کو انھوں نے ایک اور دھمکی دی کہ اگر ایران 6 اپریل تک آبنائے ہرمز نہیں کھولتا تو وہ ایران کے شہری انفراسٹرکچر پر حملہ کریں گے۔

    لیکن جنگ کے دوران ٹرمپ کی ڈیڈ لائنز بار بار بدلتی رہی ہیں۔

    ڈیڈ لائن 1 — 21 مارچ

    ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے 48 گھنٹوں میں آبی راستہ دوبارہ نہ کھولا تو وہ ’بجلی گھروں کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیں گے، سب سے بڑے پلانٹس سے شروع کرتے ہوئے‘۔

    ڈیڈ لائن 2 — 23 مارچ

    ٹرمپ نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ’بہت اچھی اور نتیجہ خیز بات چیت‘ ہوئی ہے، اور توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیے۔

    ڈیڈ لائن 3 — 27 مارچ

    ٹرمپ نے کہا کہ وہ ’ایرانی حکومت کی درخواست پر‘ توانائی کے پلانٹس پر حملہ 10 دن کے لیے مؤخر کر رہے ہیں۔ اس طرح نئی ڈیڈ لائن 6 اپریل ہو گئی۔

    6 اپریل کو 48 گھنٹے کی وارننگ

    6 اپریل قریب آتے ہی ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ایران کے پاس ’48 گھنٹے‘ ہیں، ورنہ وہ ’قیامت برپا کر دیں گے‘۔

    تازہ ترین دھمکی — اتوار

    اتوار کو ایک سخت زبان والے سوشل میڈیا پیغام میں ٹرمپ نے دھمکی دہرائی:

    • ’منگل پاور پلانٹ ڈے اور برج ڈے ہوگا‘
    • بعد میں انھوں نے وقت بھی واضح کیا کہ ’منگل، رات 8 بجے!‘
  7. ایران کی حکمتِ عملی خلیجی ممالک کو امریکہ کے مزید قریب کر دے گی: متحدہ عرب امارات, لورنا گورڈن، بی بی سی نیوز

    UAE

    ،تصویر کا ذریعہCorbis via Getty Images

    متحدہ عرب امارات نے خبردار کیا ہے کہ ایسی جنگ بندی جو خطے کے بنیادی مسائل خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام اور ’وہ میزائل اور ڈرون جو اب بھی ہم اور دیگر ممالک پر برس رہے ہیں‘ کو حل نہ کرے، وہ قابلِ قبول نہیں ہوگی۔

    یو اے ای کے صدر کے سینیئر مشیر ڈاکٹر انور قرقاش نے ایک بریفنگ میں کہا کہ ان کا ملک جنگ کے خاتمے کا خواہش مند ہے، لیکن ایسا خاتمہ نہیں چاہتا جو مستقبل میں خطے میں مسلسل عدم استحکام پیدا کرے۔

    ایران نے اس جنگ کے دوران آبنائے ہرمز پر سخت کنٹرول رکھا ہوا ہے۔ اگرچہ چند ٹینکر روزانہ گزر رہے ہیں، لیکن یہ تعداد معمول کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

    انور قرقاش نے کہا کہ ایران کی موجودہ حکمتِ عملی کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ خلیجی ممالک کی سکیورٹی مزید امریکہ کے ساتھ جڑ جائے گی، کم نہیں ہوگی، اور خطے میں اسرائیلی اثر و رسوخ بھی بڑھ سکتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یو اے ای امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو ’مزید مضبوط‘ کرے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز کو کسی ایک ملک کا محتاج نہیں بنایا جا سکتا‘۔

    اور یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ یو اے ای خود کوئی بحری فورس تعینات کرنے کے لیے تیار نہیں، لیکن وہ ’کسی بھی امریکی یا بین الاقوامی کوشش کا حصہ بنے گا جو آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو محفوظ بنانے کے لیے ہو‘۔

  8. اسرائیل کا ایران کی ایک اور پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر بھی حملہ: مقامی میڈیا

    ایران کے متعدد میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا ہے کہ مرودشت پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو ایک ’دشمن کے حملے‘ میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

    خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق حملے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی تھی، لیکن اسے ’چند منٹوں میں قابو کر لیا گیا‘۔

    نیم سرکاری ایجنسی تسنیم نے مرودشت کاؤنٹی گورنر کے دفتر کے حوالے سے بتایا کہ اس صنعتی یونٹ کو ’کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا‘۔

    اس سے قبل اسرائیل نے کہا تھا کہ اس نے ایران کے جنوب میں واقع عسالیہ کے ساؤتھ پارس پیٹروکیمیکل پلانٹ کو نشانہ بنایا ہے۔

  9. امریکہ کے ’غیرمنطقی‘ 15 نکاتی منصوبے کو مسترد کرتے ہیں: ایران

    ایران نے کہا ہے کہ دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات ممکن نہیں۔ پیر کو تہران میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ثالثوں کے ذریعے پہنچائے گئے امریکی 15 نکاتی جنگ بندی منصوبے کو ’غیر منطقی‘ اور ناقابلِ قبول قرار دیا۔

    انھوں نے کہا کہ ایران ضرورت پڑنے پر ’اپنی پوری طاقت کے ساتھ‘ اپنے ملک کا دفاع کرے گا۔

    انھوں نے امریکہ اور اسرائیل پر الزام لگایا کہ ان کے لیے ’کوئی سرخ لکیر نہیں‘ اور وہ بین الاقوامی قوانین کی پروا نہیں کرتے۔

    انھوں نے کہا کہ دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی قومی سلامتی اور قومی مفادات ہی کسی بھی معاہدے کے بنیادی معیار ہوں گے۔

  10. جنگ بندی کے منصوبے کی خبریں ’بہت سی تجاویز میں سے ایک ہیں، اور ٹرمپ نے اس کی منظوری نہیں دی‘: وائٹ ہاؤس اہلکار

    خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ ثالث فوری جنگ بندی کے ایک نئے منصوبے پر کام کر رہے ہیں، یہ بات نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے بتائی گئی۔

    اس رپورٹ کے جواب میں، وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ منصوبہ ’بہت سی تجاویز میں سے ایک ہے اور ٹرمپ نے اس کی منظوری نہیں دی۔ آپریشن ایپک فیوری جاری ہے۔‘

    اہلکار نے مزید کہا کہ اس حوالے سے ٹرمپ مقامی وقت کے مطابق 13:00 بجے ایک پریس کانفرنس میں اس بارے میں مزید بات کریں گے۔

  11. ڈیڈ لائن کے خاتمے سے قبل ایران کی اہم پیٹروکیمیکل تنصیب پر اسرائیل کا حملہ

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایران کی ایک بڑی پیٹروکیمیکل تنصیب کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایران کے انفراسٹرکچر پر ’پوری قوت کے ساتھ‘ حملے جاری رکھے۔

    وزیر دفاع کے مطابق اسرائیلی افواج نے اسالیہ میں واقع ایران کی سب سے بڑی پیٹروکیمیکل تنصیب پر بڑا حملہ کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ گذشتہ ہفتے ایک اور تنصیب پر بھی حملہ کیا گیا تھا۔

    Petrochemicals

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اب یہ دونوں تنصیبات، جو مل کر ایران کی تقریباً 85 فیصد پیٹروکیمیکل برآمدات کی ذمہ دار تھیں، سروس سے باہر ہو چکی ہیں اور کام نہیں کر رہیں۔‘

    اسرائیل کاٹز نے بتایا کہ اسالیہ میں واقع یہ تنصیب ملک کی تقریباً آدھی پیٹروکیمیکل پیداوار کرتی تھی۔

    نیم سرکاری ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ دو پیٹروکیمیکل کمپنیوں پر حملہ کیا گیا ہے۔

    تسنیم نے بوشہر کے ایک نائب گورنر کے حوالے سے بتایا ہے کہ تنصیبات پر حملے کے بعد نقصان کا مکمل اندازہ لگانے کا عمل ابھی جاری ہے۔ خبر کے مطابق کئی پیٹروکیمیکل پیداواری یونٹس کو نقصان پہنچا ہے۔ تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

  12. تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ: پہلے اضافہ، پھر کمی

    تیل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    تیل کی قیمتیں آج صبح کے 110 ڈالر فی بیرل کی سطح سے نیچے آ گئی ہیں۔ یہ اضافہ اس وقت ہوا تھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر ایران آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کی اجازت نہیں دیتا تو امریکہ ایران کے اہم انفراسٹرکچر کو تباہ کر دے گا۔

    اتوار کو ایک سخت اور نازیبا الفاظ والے سوشل میڈیا پیغام میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ بجلی گھروں اور پلوں پر حملہ کرے گا اگر یہ اہم آبی راستہ منگل کی رات 8 بجے تک نہ کھولا گیا۔

    پیر کی صبح برینٹ کروڈ کی قیمت 110 ڈالر (83.38 پاؤنڈ) فی بیرل سے اوپر چلی گئی، لیکن پھر یہ اضافہ کم ہو گیا جب امریکہ۔ایران ممکنہ جنگ بندی سے متعلق بات چیت کی خبریں سامنے آئیں۔

    نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے رپورٹ کیا کہ امریکہ، ایران اور علاقائی ثالث 45 دن کی ممکنہ جنگ بندی کی شرائط پر بات کر رہے ہیں، جو مستقبل میں جنگ کے مستقل خاتمے کی طرف لے جا سکتی ہے۔ یہ معلومات امریکی، اسرائیلی اور علاقائی ذرائع کے حوالے سے دی گئیں۔

    ایگزیوس کی رپورٹ سامنے آنے کے چند گھنٹوں بعد عالمی تیل کی قیمت 110 ڈالر سے کم ہو کر تقریباً 107 ڈالر فی بیرل تک آ گئی۔

  13. ایران اور امریکہ کو پیش کیے گئے امن منصوبے: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    USA, Iran, Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہWhite House

    خبر رساں ادارے روئٹرز اور امریکی ویب سائٹ ایگزیوس یہ رپورٹ کر رہے ہیں کہ جنگ بندی کا ایک مجوزہ منصوبہ امریکہ اور ایران تک پہنچا دیا گیا ہے۔ کچھ معلومات سامنے آئی ہیں، لیکن بہت کچھ ابھی بھی واضح نہیں ہے۔

    1) جنگ بندی کا فریم ورک امریکہ اور ایران کو دیا گیا ہے

    روئٹرز کے مطابق، ایک منصوبہ دونوں ممالک تک پہنچایا گیا ہے تاکہ تنازع ختم کیا جا سکے۔

    2) منصوبہ دو حصوں پر مشتمل ہے

    اطلاعات کے مطابق:

    • پہلا حصہ: فوری جنگ بندی
    • دوسرا حصہ: بعد میں آنے والا زیادہ جامع معاہدہ

    یہ ایگزیوس کی اس خبر سے ملتا جلتا ہے کہ ثالث 45 دن کی جنگ بندی پر بات کر رہے تھے۔

    3) ثالثی میں کئی ممالک شامل ہیں

    ایگزیوس کے مطابق:

    • پاکستان
    • مصر
    • ترکی

    روئٹرز کا کہنا ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ساری رات رابطے میں رہ کر کردار ادا کیا۔

    4) ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے سے انکار کیا ہے

    روئٹرز کے مطابق ایک سینیئر ایرانی اہلکار نے کہا کہ عارضی جنگ بندی کے بدلے آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔

    5) یہ خبریں ٹرمپ کی نئی ڈیڈ لائن کے بعد سامنے آئیں

    ٹرمپ نے ایران کو منگل کی رات آٹھ بجے تک آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

    ہم کیا نہیں جانتے؟

    1) معاہدے کی مکمل شرائط

    ابھی تک یہ واضح نہیں:

    • آبنائے ہرمز کا مستقبل
    • فضائی حملوں کا معاملہ
    • ایران کی جوہری افزودگی کا کردار

    2) یہ منصوبہ پچھلے ناکام منصوبوں سے کتنا مختلف ہے

    مثلاً:

    • مارچ کے آخر میں ایران کو دیا گیا 15 نکاتی منصوبہ کیا موجودہ تجویز اس سے مختلف ہے یا تقریباً وہی؟

    3) خلیجی ممالک کا کردار کیا ہوگا؟

    وہ ممالک جو اس جنگ میں کئی حملوں کا نشانہ بنے:

    • کیا وہ اس امن منصوبے میں شامل ہیں؟
    • ان کے تحفظات کیسے دور کیے جائیں گے؟

    4) دونوں ممالک کے جواب دینے کی کوئی ٹائم لائن ہے یا نہیں

    ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ:

    • امریکہ کب جواب دے گا
    • ایران کب اپنا مؤقف باضابطہ طور پر پیش کرے گا
  14. اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے جنگ کے خاتمے کی تجاویز پر جواب تیار کر لیا: ایران

    پاکستان، ایران، امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ، اسرائیل جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثوں کی کوششوں کے جواب میں ایران نے اپنا مسودہ تیار کر لیا ہے۔

    یہ بیان خبر رساں ادارے روئٹرز کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ پاکستان اس تنازع کے خاتمے کے لیے نئے منصوبے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

    سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے بھیجا گیا 15 نکاتی منصوبہ ’ہماری نظر میں کسی بھی طرح قابلِ قبول نہیں‘۔

    انھوں نے مزید کہا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات ’الٹی میٹمز اور جنگی جرائم کی دھمکیوں‘ کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے۔ یہ بات انھوں نے ٹرمپ کی اس انتباہ کے تناظر میں کہی کہ اگر آبنائے ہرمز دوبارہ نہ کھولی گئی تو امریکہ ایران کے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے گا۔

    ترجمان نے کہا کہ ایران نے اس کے بجائے اپنے مفادات اور ضروریات کی بنیاد پر مطالبات کا ایک سیٹ تیار کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم شروع سے جانتے تھے کہ ہمیں کیا چاہیے اور کون سی سرخ لکیریں ہم پار نہیں کریں گے۔ ہماری پوزیشن آج بھی واضح ہے۔ جیسے ہی یہ بات چیت شروع ہوئی، ہمارے جوابات تیار تھے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ایران نے اپنے جوابات مکمل طور پر تیار کر لیے ہیں اور ’مناسب وقت پر تفصیلات کا اعلان کیا جائے گا‘۔

    امریکی اور برطانوی خبر رساں ادارے رپورٹ کر رہے ہیں کہ امریکہ اور ایران کو 45 روز کے لیے جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق تجاویز پر مشتمل مسودہ موصول ہو گیا ہے۔

    امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق دو ذرائع نے اسے بتایا ہے کہ پاکستان، مصر اور ترکی کی جانب سے مختلف تجاویز پر مشتمل یہ مسودہ تیار کیا گیا ہے جو کئی روز سے جنگ بندی کی کوششیں کر رہے ہیں۔

    خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ کے مطابق پاکستان فوج کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اتوار کی شب رات بھر ان تجاویز کے معاملے پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور سٹیو وٹکوف کے ساتھ رابطے میں رہے۔

    ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ مسودہ اتوار کی شب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی صدر کے ایلچی سٹیو وٹکوف کو بھجوایا گیا، تاہم دونوں کی جانب سے تاحال اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق ان ممالک کو اُمید ہے کہ 45 روزہ جنگ بندی کے دوران بات چیت کے بعد اس جنگ کے مستقل خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل تک آبنائے ہرمز نہ کھولنے کی صورت میں ایران پر جہنم برپا کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے ایسا نہ کیا تو اس کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

    ایران نے امریکی صدر کے بیان کو ’جنگی جرائم‘ کی دھمکی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو ایران بھی اس کا بھرپور جواب دے گا۔

  15. ایران میں وہ مقامات جہاں حملوں سے پہلے ہی انفراسٹرکچر اور شہری اہداف کو نقصان پہنچ چکا ہے

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر ایران منگل تک آبنائے ہرمز دوبارہ نہیں کھولتا تو وہ ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوؤں اور پانی صاف کرنے والے پلانٹس کو تباہ کر دیں گے۔

    جنگ کے دوران کئی انفراسٹرکچر اور شہری مقامات پہلے ہی نشانہ بن چکے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ کچھ حملے فوجی کارروائیوں سے متعلق تھے جبکہ کچھ غلطی سے ہوئے۔

    اہم حملے اور ان کے اثرات

    • 28 فروری، جنگ کے پہلے دن، دو میزائل مناب میں شجرہ طیبہ سکول پر گرے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس حملے میں کم از کم 168 افراد ہلاک ہوئے، جن میں تقریباً 110 بچے شامل تھے۔ کسی نے باضابطہ ذمہ داری قبول نہیں کی، لیکن امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ امریکی تحقیقات کے مطابق یہ حملہ غالباً امریکی فورسز کی جانب سے ہوا۔
    • مارچ کے آغاز میں، تیل کی تنصیبات پر حملوں کے بعد تہران کے اوپر ’سیاہ بارش‘ کے بادل چھا گئے۔ نشانہ بننے والی جگہوں میں فردیس، شہران اور قدسیہ کے تیل ڈپو اور تہران آئل ریفائنری شامل تھیں۔
    • ایران کے دو بڑے سٹیل پلانٹس متعدد امریکی–اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد بند ہو چکے ہیں، کمپنیوں کا کہنا ہے۔ ایران دنیا کے بڑے سٹیل پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
    • گذشتہ ہفتے کے آغاز میں، اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے نے تصدیق کی کہ اسرائیلی حملوں سے خنداب پاور پلانٹ، جو شمال مغربی ایران میں بھاری پانی کا کمپلیکس ہے، کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ تاہم تابکاری کے اخراج کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
    • جمعرات، 2 اپریل کو، کرج میں اہم B1 پل امریکی حملوں میں تباہ ہو گیا۔ ٹرمپ نے بعد میں سوشل میڈیا پر اس پل کی تباہی پر فخر کا اظہار کیا۔
    • آج شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی پر حملہ ہوا، جس سے تہران کے کچھ حصوں میں گیس کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔ جنگ کے آغاز سے اب تک کئی یونیورسٹیاں نشانہ بن چکی ہیں، جن میں تہران یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور شہید بہشتی یونیورسٹی شامل ہیں۔
  16. اگر امریکہ نے شہری انفراسٹرکچر پر حملہ کیا تو ایران فیصلہ کن اور بھرپور جواب دے گا: عباس عراقچی

    عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے وزیرِ خارجہ نے اپنے فرانسیسی ہم منصب ژاں نوئل بارو سے ٹیلیفون پر گفتگو میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے شہری انفراسٹرکچر پر حملہ کیا تو ایران کی طرف سے فیصلہ کن اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ کی یہ دھمکی ’جنگی جرائم اور نسل کشی کو معمول بنانا‘ ہے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق فرانسیسی وزیر خارجہ نے بھی انفراسٹرکچر پر حملے کی دھمکیوں کو خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب قرار دیا اور سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیا۔

  17. ٹرمپ کی ڈیڈ لائن قریب آتے ہی ہنگامی اور آخری کوششوں پر مبنی سفارت کاری میں تیزی آ گئی ہے, بی بی سی نیوز کی لیز ڈوسیٹ کا تجزیہ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    صدر ٹرمپ کی سخت اور دھمکی آمیز زبان کو نظرانداز کرنا آسان ہے، لیکن یہ اتنی خطرناک ہے کہ اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

    اگر ٹرمپ اپنی دھمکیوں پر عمل کرتے ہیں کہ ’ایک بھی پل یا بجلی گھر سلامت نہیں چھوڑیں گے‘، تو اسرائیل بھی ایران کے انفراسٹرکچر پر حملے تیز کر دے گا، اور ایران نے خلیجی ممالک کے خلاف جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

    ٹرمپ کی منگل کی ڈیڈ لائن قریب آتے ہی ہنگامی اور آخری لمحوں کی سفارت کاری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ثالث ایک نئے منصوبے پر کام کر رہے ہیں، جس میں پاکستان اہم کردار ادا کر رہا ہے، تاکہ امریکہ کو اس خطرناک صورتحال سے پیچھے ہٹایا جا سکے۔

    امریکی ویب سائٹ ایگزیوس نے بھی جنگ بندی اور جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے کوششوں کی خبر دی ہے۔

    ایران کا اس مجوزہ منصوبے پر ردِعمل واضح نہیں ہے۔ ایران بارہا کہہ چکا ہے کہ وہ ٹرمپ کی ’سرنڈر کی زبان‘ یا ان کی شرائط کو قبول نہیں کرے گا، جنھیں وہ حکم نامے کے طور پر دیکھتا ہے۔

    لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ کوششیں ٹرمپ کو پیچھے ہٹنے پر آمادہ کر سکیں گی، جیسا کہ وہ مارچ کے آخر میں کر چکے ہیں، تاکہ اس منصوبے اور صدر کو مزید وقت مل سکے؟

  18. ہم یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ آیا امریکی فوج ٹرمپ کو ’نہیں‘ کہنے کے لیے تیار ہے، اوباما دور کے مشیر

    USA

    بین روڈز، جو صدر اوباما کے دور میں امریکہ کے نائب مشیر برائے قومی سلامتی رہے، کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے معاملے پر ٹرمپ کا اندازِ حکمرانی ’ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ایک شخص ایک کمرے میں بیٹھ کر فیصلے کر رہا ہو‘۔

    اس سے کچھ دیر پہلے انھوں نے بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ’ٹوڈے‘ میں کہا کہ ٹرمپ سیاسی اور عسکری مشیروں پر انحصار کرتے نظر نہیں آتے اور وہ ’معمول کے طریقہ کار‘ پر نہیں چل رہے ہیں۔

    بین روڈز کا کہنا ہے کہ امریکی صدر جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، خاص طور پر ایران کے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی تازہ ترین وارننگ کے بعد تو یہ واضح ہو گیا ہے۔

    وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ہم یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ آیا امریکی فوج ٹرمپ کو ’نہیں‘ کہنے کے لیے تیار ہے۔‘

    بین روڈز کے مطابق ٹرمپ کو یہ حقیقت قبول کرنا ہوگی کہ یہ جنگ بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی ختم ہوگی۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ ایران حملوں سے کمزور ہوا ہے، لیکن کچھ پہلوؤں میں وہ مضبوط بھی ہوا ہے۔۔۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کے ذریعے یہ دکھا کر کہ وہ عالمی معیشت پر کس حد تک دباؤ ڈال سکتا ہے۔

  19. پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس چیف ماجد خادمی کی ہلاکت کی تصدیق, غنچہ حبیب زادہ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہIranian state media

    ایرانی پاسداران انقلاب نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں اس کے انٹیلی جنس چیف مارے گئے ہیں۔

    پاسداران انقلاب کے مطابق ماجد خادمی کو پیر کی صبح امریکی اور اسرائیلی فورسز نے نشانہ بنایا۔

    ماجد خادمی کو گذشتہ برس جون میں پاسداران انقلاب فورس کا انٹیلی جنس چیف مقرر کیا گیا تھا۔ اُس وقت اس کے سربراہ محمد کاظمی اسرائیلی حملے میں مارے گئے تھے۔

    خادمی نے رواں برس ایران میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کو ہوا دینے کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کیا تھا۔

  20. ٹرمپ کی دھمکیاں ’جنگی جرائم‘ اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے خلاف ہیں: ایرانی نائب وزیر خارجہ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے نائب وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ ایرانی شہری انفراسٹرکچر سے متعلق ٹرمپ کی دھمکیاں ’جنگی جرائم‘ اور اقوامِ متحدہ چارٹر کے آرٹیکل 2 کی شق چار کی خلاف ورزی ہے۔

    نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی کا مزید کہنا تھا کہ یہ آرٹیکل اقوام متحدہ کے ارکان کو کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے منع کرتا ہے۔

    کاظم غریب آبادی نے مزید کہا کہ ایران کسی بھی جارحیت کا ’فیصلہ کن‘ اور ’فوری‘ جواب دے گا۔

Trending Now