امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ’پولیسنگ‘ کے لیے ’تقریباً سات‘ ممالک سے بات چیت ہوئی ہے۔
اتوار کو فلوریڈا سے واشنگٹن واپسی کی پرواز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’میں نے چین سے پوچھا کہ کیا آپ آنا پسند کریں گے؟ اور ہم دیکھیں گے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔‘
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چین تیل کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔
ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ چین کے علاوہ اُن کی کس ملک سے اس حوالے سے بات چیت ہوئی ہے۔ لیکن اُن کا کہنا تھا کہ نیٹو اور دوسرے ممالک جو اس علاقے کے ذریعے اپنی توانائی کی ضروریات حاصل کرتے ہیں اُنھیں بھی ’اپنی اپنی سرزمین‘ کا دفاع کرنے کی ضرورت ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میں نے اپنے ہم منصبوں سے کہا ہے کہ اگر وہ مدد نہیں کرتے تو ہم یاد رکھِیں گے۔‘ امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ کچھ ممالک کے پاس بارودی سرنگیں رکھنے اور ایک خاص قسم کی کشتی ہے جو ہماری مدد کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ سنیچر کو بھی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ آبنائے ہرمز میں جنگی بحری جہاز بھیجیں گے تاکہ ایران وہاں کسی قسم کا خطرہ نہ پیدا کر سکے۔
اس پر مختلف ممالک کی جانب سے ردعمل بھی سامنے آیا تھا۔ برطانوی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا تھا کہ 'جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ہم خطے میں جہازرانی کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ متعدد آپشنز پر بات چیت کر رہے ہیں۔'
واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے سی این این کو بتایا تھا کہ چین فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے۔
ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ بیجنگ ٹرمپ کی اپیل پر عمل کرے گا یا نہیں لیکن یہ ضرور کہا تھا کہ توانائی کی مسلسل اور مستحکم فراہمی کو یقینی بنانا تمام فریقوں کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ جاری رکھے گا۔
ٹرمپ نے اپنے اس دعوے کو دہرایا کہ ایران بے چینی کے ساتھ معاہدہ چاہتا ہے، سفارتی بات چیت کے بارے میں صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم ان سے بات کر رہے ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ تیار ہیں، لیکن وہ کافی قریب آ رہے ہیں۔‘
جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران کے خلاف فتح کا اعلان کرنے کے لیے تیار ہیں؟ تو اس پر امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اُنھیں بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور اگر ہم نے انھیں ابھی چھوڑ دیا تو انھیں تعمیر نو کے لیے 10 سال لگیں گے۔‘