سعودی عرب کا ڈرون ناکارہ بنانے کا دعویٰ
سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے ایک ڈرون کو مار گرایا ہے جو اس کے سفارت خانوں کے لیے مختص علاقے کی جانب جا رہا تھا۔
اسی دوران، آج صبح دبئی اور عراق کے شہر بغداد میں دھماکوں کی بھی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، کیونکہ ایران خلیجی ممالک پر اپنے حملوں کو دوبارہ شروع کر رہا ہے۔
دبئی میں بی بی سی کی نامہ نگار آزادہ موشیری کہ کہنا ہے کہ بدھ کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 10 منٹ پر ہماری ٹیم کے فونز پر اُس وقت ایک اور الرٹ آیا، جس میں آنے والے میزائل کے خطرات کی اطلاع دی گئی کہ جب ہم بالکونی پر ٹی وی کے لیے لائیو جانے کے لیے تیاری کر رہے تھے۔
اس الرٹ کے تقریباً 10 سیکنڈ بعد ہی ہم نے دو شدید نوعیت کے دھماکوں کی آوازیں سنی۔
دبئی معمول سے کافی حد تک خالی دکھائی دے رہا تھا مگر جب ہم شہر کی جانب نظر ڈالی تو دیکھا کہ تعمیراتی کاموں میں مصروف مزدور اپنا کام جاری رکھے ہوئے تھے اور گاڑیاں بھی سڑکوں پر رواں دواں ہیں۔
یہ فون الرٹس اور دھماکوں کی آوازیں اب ان رہائشیوں کے لیے معمول بن چکی ہیں، جو یہاں اس ساری صورت حال کے باوجود موجود ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے جنگ کے آغاز سے اب تک 2000 سے زائد میزائل اور ڈرونز کا سامنا کیا ہے۔
یو اے ای کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ انھوں نے ان میں سے زیادہ تر حملوں کو ناکام بنایا اور یہ آوازیں دراصل ان کے فضائی دفاعی نظام کی ہیں جو ملک کی حفاظت کر رہا ہے۔
لیکن جس چیز کی حفاظت کرنا زیادہ مشکل ہے وہ دبئی کا یہاں آنے والوں کو ایک محفوظ ماحول فراہم کرنے کا وعدہ ہے۔
دبئی کے میڈیا آفس کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے حالیہ حملوں کو ناکام بنایا اور کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔