آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایرانی فوج میں ’70 لاکھ شہریوں کی رضارکارانہ شمولیت‘، تہران اور کرج پر نئے حملوں کی اطلاعات

ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ 70 لاکھ ایرانیوں نے فوجی خدمات کے لیے رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کیا ہے۔ دوسری جانب تہران اور کرج پر نئے حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں

خلاصہ

  • امریکہ اور اسرائیل جنگ بند کریں: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا مطالبہ
  • ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ 70 لاکھ ایرانیوں نے فوجی خدمات کے لیے رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کیا ہے
  • آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے 40 ممالک کے وزرائے خارجہ کا آن لائن اجلاس۔ برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے 'عالمی معاشی سلامتی کو نقصان' پہنچ رہا ہے
  • ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ان بحری جہازوں کے لیے کھلی ہے جن کا امریکہ اور اسرائیل سے 'تعلق نہیں‘
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پر ’انتہائی سخت حملے‘ کرنے کی دھمکی۔ ایران کی جانب سے ’تباہ کن، وسیع تر اور شدید حملوں‘ کا انتباہ

لائیو کوریج

  1. تہران اور کرج پر نئے حملوں کی اطلاعات، دو افراد ہلاک, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    تہران اور کرج سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ان شہروں پر نئے حملے کیے گئے ہیں۔

    کرج پر دو حملوں میں پل کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ شہر ایران کے صوبہ البرز میں واقع ہے۔ البرز کے گورنر آفس میں سکیورٹی امور کے نائب نے بتایا کہ کرج میں ایک پل پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    نائب کے مطابق شہر کے پل کو نشانہ بنائے جانے کے باعث متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اس اہلکار کا بیان ایرانی میڈیا اداروں نے نشر کیا ہے۔

    اس کے بعد اسی پل پر دوسرے حملے کی بھی اطلاعات سامنے آئیں۔

    مجھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پہلے حملے کے بعد شہر کے بعض حصوں میں بجلی کی بندش ہوئی۔

    میں نے اسرائیلی فوج سے کرج میں پل پر ہونے والے دونوں حملوں کے بارے میں پوچھا، تاہم اسرائیل ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اس نوعیت کے کسی حملے کا علم نہیں۔‘

  2. برطانیہ میں آئندہ ہفتے فوجی منصوبہ سازوں کا اجلاس ہو گا: وزارت دفاع

    برطانیہ کی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ آئندہ ہفتے فوجی منصوبہ سازوں کا اجلاس برطانوی فوج کے مرکز میں ہو گا، جس میں آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال پر غور کیا جائے گا۔

    اس سے قبل برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر بتا چکی ہیں کہ وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والے اجلاس کے بعد فوجی منصوبہ سازوں کی سطح پر بھی بات چیت کی جائے گی۔

    وزارت دفاع کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آئندہ ہفتے ہونے والے اجلاس میں ’آبنائے ہرمز کو قابلِ رسائی اور محفوظ بنانے کے عملی طریقہ کار پر غور کیا جائے گا۔‘

    وزارت دفاع نے مزید بتایا کہ گذشتہ رات برطانوی فضائی رجمنٹ کے گنرز نے ایک ’انتہائی خطرناک‘ علاقے میں پرواز کرنے والے متعدد ایرانی ڈرونز کو کامیابی سے مار گرایا۔

  3. اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا امریکہ اور اسرائیل سے جنگ روکنے کا مطالبہ

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فوری طور پر جنگ کے خاتمے اور تمام فریقوں کی جانب سے لڑائی روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا: ’ہم ایک ایسی وسیع تر جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں جو پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے اور جس کے دنیا بھر پر سنگین اثرات ہوں گے۔‘

    انتونیو گوتریس نے بڑھتی قیمتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لوگ پہلے ہی مہنگی ہوتی توانائی اور خوراک کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔

    اقوام متحدہ کے سربراہ نے تنازعات کو ’پر امن طریقے سے‘ حل کرنے پر زور دیا اور کہا کہ شہری تنصیبات کا احترام کیا جائے اور ان کی حفاظت کی جائے۔

    انھوں نے مزید کہا: ’میرا پیغام بالکل واضح ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ اس جنگ کو روکیں جو انسانوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہی ہے اور اس کے تباہ کن معاشی نتائج پہلے ہی سامنے آ چکے ہیں۔‘

    انتونیو گوتریس نے ایران سے بھی اپیل کی کہ وہ ’اپنے ہمسایہ ممالک پر حملے بند کرے۔‘

  4. جنگ میں لڑنے کے لیے 70 لاکھ ایرانیوں نے خود کو پیش کر دیا: محمد باقر قالیباف

    ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد سے 70 لاکھ ایرانیوں نے فوجی خدمات کے لیے رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کیا ہے۔

    ان کے مطابق ’ایک طاقتور قومی مہم‘ کے نتیجے میں لاکھوں ایرانیوں نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ ’ہتھیار اٹھانے اور اپنے وطن کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

    محمد باقر قالیباف نے کہا: ’ہم یہ پہلے بھی کر چکے ہیں اور دوبارہ کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ آپ ہمارے گھر پر حملہ کرو گے تو پورا خاندان آپ کا مقابلہ کرے گا۔‘

  5. حملوں کی اطلاعات کے بعد ایرانی ایئر پورٹ پر آگ کی ویڈیو, پیٹر موائے، شیان سردار زادہ

    بی بی سی ویریفائی نے ایک ویڈیو کا جائزہ لیا ہے جس میں ایران کے شمال مشرقی شہر مشہد کے مرکزی ہوائی اڈے کے قریب دھوئیں کا ایک بڑا بادل اٹھتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

    تصدیق شدہ ویڈیو آج صبح سوشل میڈیا پر سامنے آئی اور اسے مشہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے نزدیک ایک چلتی گاڑی سے فلمایا گیا۔

    بی بی سی ویریفائی نے ویڈیو میں نظر آنے والی عمارات کو سٹریٹ ویو تصاویر سے ملا کر تصدیق کی کہ ویڈیو مشہد کے قریب ایک بڑی شاہراہ سے بنائی گئی ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق ہو سکتا ہے کہ ایندھن ذخیرہ کرنے کے ٹینکس اور ایک گودام کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ اس ہوائی اڈے پر ایرانی فضائیہ کا ایک ایئر بیس بھی موجود ہے، تاہم ویڈیو سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ ہدف کس کو بنایا گیا۔

  6. امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کا 34 واں روز، آج کیا کچھ ہوا؟, نبیحہ احمد، بی بی سی

    امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ، آج کی اہم پیش رفت:

    • کشیدگی میں اضافے کی نئی دھمکیاں: ایران نے آنے والے وقت میں ’تباہ کن، وسیع تر اور شدید حملوں‘ کی دھمکی دی ہے۔ اس سے چند گھنٹے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ آئندہ ہفتوں میں ایران پر ’انتہائی سخت حملے‘ کرے گا۔
    • ایران میں تازہ حملے: بی بی سی فارسی کی رپورٹر غنچے حبیبی آزاد کے مطابق تہران کے مغرب میں واقع شہر کرج کو شدید حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ شہر میں ایک اہم پل کو بھی ہدف بنایا گیا ہے۔
    • آبنائے ہرمز کی صورتحال: ایران کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے اُن جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے رہا ہے جو امریکہ یا اسرائیل سے متعلق نہیں۔
    • وزرائے خارجہ کا اجلاس: اسی دوران آبنائے ہرمز کھلوانے کی سفارتی کوششوں کے تحت 40 سے زائد ممالک کے وزرائے خارجہ کا ورچوئل اجلاس ہو رہا ہے۔ اجلاس سے خطاب میں برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی ’فوری ضرورت‘ پر زور دیا ہے۔
    • خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا گیا: آج سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، دونوں ممالک نے اطلاع دی ہے کہ ان کی فضائی حدود کی طرف میزائل اور ڈرونز داغے گئے ہیں۔
  7. اصفہان میں میزائل اڈے پر حملوں کے بعد زوردار دھماکے, شایان سردار زادہ، شیری رائیڈر

    بی بی سی ویریفائی نے اصفہان کے مضافات میں واقع ایران کے ایک بڑے میزائل اڈے کے قریب ہونے والے شدید دھماکوں کی ویڈیوز کی تصدیق کر لی ہے۔

    بی بی سی ویریفائی نے سوشل میڈیا پر گذشتہ روز شیئر کیے گئے تین ویڈیو کلپس کا جائزہ لیا۔ ان میں سے ایک ویڈیو میں اصفہان کے میزائل اڈے کے قریب فضا میں دھوئیں کا بڑا بادل اور آگ کے شعلے دکھائی دیتے ہیں۔ ویڈیو بنانے والا شخص دھماکے کی شدت پر حیرت کا اظہار کرتا سنائی دیتا ہے۔

    میزائلوں کا یہ اڈا وسطی ایران میں اصفہان کے جنوب میں ایک پہاڑی سلسلے کے کنارے واقع ہے۔

    اڈے کے شمالی علاقے سے بنائی گئی ایک اور ویڈیو میں پہاڑوں کے اوپر آگ لگنے کے بعد اٹھتا ہوا دھواں اور اس کے بعد ہونے والے کئی بڑے ثانوی دھماکے دکھائی دیتے ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی یا اسرائیلی حملے کے بعد مزید دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا۔

    تیسری ویڈیو قریبی قصبے بہارستان سے ہے، اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ میزائل اڈے پر کئی منٹ تک آگ بھڑکتی رہی۔

    اس ویڈیو میں بھی متعدد ثانوی دھماکے نظر آتے ہیں، جن کے دوران ملبہ بار بار فضا میں اچھلتا ہے اور کچھ حصے قصبے کی سمت یا پہاڑوں میں جا گرتے ہیں۔

  8. ایران کی جانب سے آج 19 میزائل اور 26 ڈرون داغے گئے: متحدہ عرب امارات

    متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ آج ایران کی جانب سے 19 میزائل اور 26 ڈرون داغے گئے۔

    وزارت دفاع کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک متحدہ عرب امارات کے فضائی دفاعی نظام نے مجموعی طور پر 457 میزائلوں اور 2038 ڈرونز کو ناکام بنایا۔

  9. یہ کوئی تماشہ نہیں ہے: ٹرمپ کے بیان پر میکخواں کا رد عمل, ہیو شوفیلڈ، نامہ نگار فرانس

    امریکی صدر ٹرمپ فرانس کے خلاف جارحانہ انداز اپنائے ہوئے ہیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں فرانس نے مدد نہیں کی۔ وہ فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں پر ذاتی نوعیت کی تنقید بھی کر چکے ہیں۔

    بدھ کے روز ٹرمپ نے یہ تبصرہ بھی کیا کہ فرانسیسی صدر کی اہلیہ بریجیٹ میکخواں ان سے ’انتہائی برا سلوک‘ کرتی ہیں۔

    ردِ عمل میں صدر میکخواں نے اس تبصرے کو غیر شائستہ اور نا موزوں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جواب دینے کے بھی قابل نہیں۔

    تاہم سٹریٹیجک امور پر بات کرتے ہوئے فرانسیسی صدر نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ مسلسل متضاد پیغامات دے رہی ہے۔

    صدر میکخواں کا کہنا تھا: ’بہت زیادہ باتیں ہو رہی ہیں لیکن ہمیں استحکام، سکون اور امن کی طرف واپسی کی ضرورت ہے۔ یہ کوئی تماشہ نہیں ہے۔‘

    انھوں نے کہا: ’اگر آپ سنجیدہ ہونا چاہتے ہیں تو ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک روز آپ کوئی بات کریں اور اگلے روز اس کے الٹ بات کریں۔‘

  10. برطانوی وزیر خارجہ کا آبنائے ہرمز ’فوری طور پر‘ کھولنے پر زور، ایران کی ’غیر ذمہ داری‘ کی مذمت

    برطانیہ کی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے کہا ہے کہ عالمی جہاز رانی کے لیے آبنائے ہرمز ’فوری طور پر‘ کھولنے کی اشد ضرورت ہے۔

    انھوں نے یہ بات ایک آن لائن اجلاس میں کہی جس میں 40 سے زیادہ ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ یہ ورچوئل اجلاس آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے سفارتی کوششوں کے تحت منعقد کیا گیا ہے۔

    ایویٹ کوپر نے کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صرف 25 جہاز آبنائے ہرمز سے گزر پائے، جبکہ معمول کے دنوں میں اس راستے سے تقریباً 150 بحری جہاز گزرتے ہیں۔

    ایران کی جانب سے اس اہم سمندری راستے کی مؤثر ناکہ بندی نے بین الاقوامی تجارت کو شدید متاثر کیا ہے۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث دو ہزار کے قریب جہاز پھنسے ہوئے ہیں، جن پر عملے کے لگ بھگ 20 ہزار افراد سوار ہیں۔

    اجلاس سے خطاب میں برطانوی وزیرِ خارجہ نے ایران کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو ’غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے ’عالمی معاشی سلامتی کو نقصان‘ پہنچ رہا ہے۔

  11. آبنائے ہرمز کیسے کھلوائی جائے؟ اس سوال کا جواب آسان نہیں, فرینک گارڈنر، نامہ نگار برائے سکیورٹی امور

    سفارت کاری کے ذریعے آبنائے ہرمز کو معمول کی تجارتی سرگرمیوں کے لیے دوبارہ کیسے کھولا جائے؟

    یہی وہ بنیادی سوال ہے جس پر آج غیر ملکی وزرائے خارجہ کے ایک آن لائن اجلاس میں غور کیا جا رہا ہے۔ اس اجلاس کی میزبانی برطانیہ کی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر کر رہی ہیں۔

    تاہم اس سوال کا کوئی آسان جواب موجود نہیں۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ نے ایک عجیب صورتحال پیدا کر دی ہے۔ سودے بازی کے لیے ایرانی حکومت جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط پوزیشن میں آ چکی ہے۔ اس اہم آبی گزر گاہ سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے کر ایران عملاً عالمی معیشت کو یرغمال بنا سکتا ہے۔

    آبنائے ہرمز کے دونوں جانب سینکڑوں تجارتی جہاز پھنسے ہوئے ہیں، جس کے باعث تیل، گیس اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

    صدر ٹرمپ کبھی ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم دیتے نظر آتے ہیں اور کبھی یہ اشارہ دیتے ہیں کہ وہ اس مسئلے سے دستبردار ہو سکتے ہیں۔

    اب ان کا کہنا ہے کہ جن ممالک کو خلیجی خطے سے آنے والی مصنوعات درکار ہیں، وہ اس مسئلے سے خود نمٹیں۔

  12. ایرانی شہر کرج پر ’شدید حملوں‘ کی اطلاعات, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    دو مختلف ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ تہران کے مغرب میں واقع ایرانی شہر کرج کو شدید حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

    تہران میں موجود ایک ذریعے نے بتایا کہ وہ اپنے گھر کے اوپر سے گزرتے جنگی طیاروں کی آوازیں سن سکتے تھے۔ ایران کے میڈیا اداروں نے بھی کرج پر حملوں کی اطلاعات دی ہیں۔

  13. ٹرمپ اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے کو دوبارہ دھمکیاں

    ایران نے دھمکی دی ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل پر ’تباہ کن‘ اور ’وسیع تر‘ حملے کرے گا۔

    اس سے پہلے امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی تھی کہ آنے والے دو سے تین ہفتوں میں ’شدید حملے‘ کیے جائیں گے۔

    دونوں ممالک کی ایک دوسروں کو دھمکیوں کی ٹائم لائن:

    21 مارچ: صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران نے 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ نہ کھولی تو امریکی فورسز ایران کے بجلی گھروں کو ’مکمل طور پر تباہ‘ کر دیں گی۔

    اس دھمکی کے بعد اسرائیلی شہر دیمونا کے قریب ایک حملہ کیا گیا، جو اسرائیل کے غیر اعلانیہ جوہری پروگرام سے منسلک علاقہ سمجھا جاتا ہے۔

    ایران نے اس دوران ایک بار پھر واضح کیا کہ آبنائے ہرمز اُن ممالک کے لیے کھلی ہے جو اُس کے خلاف حملوں میں شریک نہیں۔

    23 مارچ: صدر ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت‘ ہوئی ہے، جس کے بعد توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیے گئے۔

    تین دن بعد، 26 مارچ کو یہ وقفہ بڑھا کر 10 دن کر دیا گیا۔ اس کے بارے میں ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ یہ ایرانی حکومت کی درخواست پر کیا گیا۔

    31 مارچ: ایرانی پاسداران انقلاب نے مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں، جن میں مائیکروسافٹ، ایپل اور آئی بی ایم شامل ہیں، کو ایک بار پھر دھمکیاں دیں۔ اس دھمکی کو غیر سنجیدہ لیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کر ہی کیا سکتا ہے۔

  14. خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بارشوں سے متعلقہ حادثات کے نتیجے میں 32 ہلاکتیں, محمد کاظم، کوئٹہ۔ عزیز اللہ خان، پشاور

    پاکستان کے صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث 32 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    خیبر پختونخوا میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے نے بتایا ہے کہ 25 مارچ سے اب تک بارشوں اور متعلقہ حادثات کے نتیجے میں مجموعی طور پر 25 افراد ہلاک اور 77 زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک افراد میں 18 بچے، پانچ خواتین اور دو مرد شامل ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق اب تک 88 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں 71 جزوی جبکہ 17 مکمل طور پر منہدم ہو چکے ہیں۔ یہ واقعات بنوں، ایبٹ آباد، کوہاٹ، پشاور اور نوشہرہ سمیت مختلف اضلاع میں پیش آئے۔

    دوسری جانب بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حالیہ بارشوں اور سیلابی ریلوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد سات ہو چکی ہے جبکہ متعدد اضلاع میں درجنوں مکانات اور فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    پی ڈی ایم اے بلوچستان کے مطابق آواران، چمن اور بارکھان سمیت 19 اضلاع میں بارشیں ریکارڈ کی گئیں۔ حکام کے مطابق قلعہ عبداللہ، کچھی، کیچ اور ہرنائی میں زیادہ بارش کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آئی۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ضلع کچھی میں دریائے ناڑی کے پشتے میں شگاف پڑنے سے 100 سے زائد مکانات منہدم اور 400 ایکڑ زرعی اراضی زیر آب آ گئی، جبکہ 50 سے زائد مویشی ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ ضلع کیچ کے علاقے بھگدر اور قلعہ عبداللہ کے علاقے ارمبی کاکوزئی میں بھی 50 سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا۔

  15. آبنائے ہرمز ان بحری جہازوں کے لیے کھلی ہے جن کا امریکہ اور اسرائیل سے ’تعلق نہیں‘: ایران وزارت خارجہ

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز سے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے رہا ہے بس شرط یہ ہے کہ ’ان کا تعلق جارحیت کرنے والے ممالک سے نہ ہو۔‘

    ٹی وی چینل نیوز روم افریقہ کو دیے گئے انٹرویو میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ جہازوں کو ’ہمارے متعلقہ حکام سے ضروری رابطے کے بعد‘ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔

    وسیع تر تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے بقائی نے کہا کہ ایران ’جنگ کرنے، جنگ بند کرنے اور مذاکرات کرنے کا شیطانی چکر‘ برداشت نہیں کرے گا۔

    جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 دن تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران امریکہ نے ایران کے کئی جوہری اور فوجی مقامات کو نشانہ بنایا تھا۔

    بقائی کے مطابق: ’انھوں نے کہا جنگ بند کرتے ہیں، تو ہم نے بند کر دی۔ اور پھر نو ماہ بعد انھوں نے دوبارہ شروع کر دی۔‘

  16. ایران جنگ اور پاکستان کی ثالثی، کیا انڈیا نظر انداز کر دیا گیا ہے؟, بی بی سی نیوز کے سوتک بسواس کا تجزیہ

    دہلی میں ایک ایسے وقت میں چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ جب پاکستان خود کو امریکہ ایران بحران میں ایک ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے تو کیا انڈیا کو اس سب کے بیچ نظر انداز کیا جا رہا ہے؟

    اسلام آباد نے غیر معمولی تیزی دکھاتے ہوئے خود کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق گزشتہ ہفتے اس نے امریکہ کا 15 نکاتی امن منصوبہ ایران تک پہنچایا اور مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی جسے تہران نے مسترد کر دیا۔ اس ہفتے پاکستان نے ایک بار پھر ایک اور کوشش تب کی کہ جب اس کے وزیر خارجہ پانچ نکاتی امن منصوبے کے لیے چینی حمایت حاصل کرنے بیجنگ پہنچے۔

    انڈیا کے لیے جو پاکستان کا بڑا پڑوسی اور حریف ہے یہ منظرنامہ کچھ عجیب محسوس ہوتا ہے۔ یہ بے چینی انڈیا اور امریکہ کے تعلقات میں ایک غیر متوازن مرحلے کے باعث مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ پاکستان بظاہر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ روابط بحال کرتا نظر آ رہا ہے۔

    اس کے نتیجے میں انڈیا کی سٹریٹجک کمیونٹی کے اندر ایک تقسیم پیدا ہو گئی ہے۔

    انڈیا میں حزبِ اختلاف کی کچھ جماعتوں اور تجزیہ کار کہتے ہیں کہ دہلی کو جس کے خطے میں مختلف نوعیت کے تعلقات ہیں کم از کم ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے سامنے آنا چاہیے تھا تاکہ وہ اس جیوپولیٹیکل تبدیلی کے وقت غیر حاضر نہ دکھائی دے۔

    انڈیا میں حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے اسے انڈین سفارت کاری کے لیے ’شرمندگی‘ قرار دیا، خاص طور پر ان خبروں کے بعد کہ جب پاکستان کا نام اس معاملے میں ثالث کے طور پر سامنے آیا۔

    سٹریٹجک امور کے ماہر برہما چیلانی نے ایکس پر لکھا کہ ’بیانیے کی جنگ میں زیادہ چستی اور جارحیت دکھاتے ہوئے، پاکستان اکثر سفارتی سطح پر انڈیا کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔‘

    کچھ لوگ محض نمایاں ہونے کے لیے اس طرح کی سرگرمی کو کم اہمیت دیتے ہیں، اور خبردار کرتے ہیں کہ بغیر اثر و رسوخ یا دعوت کے ثالثی الٹا نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے خیال میں انڈیا کے مفادات خاموش سفارت کاری اور سٹریٹجک فاصلے میں بہتر طور پر محفوظ ہیں۔

    یہی وہ مؤقف ہے کہ جو ہمیں انڈین حکومت میں بھی سنائی دیتا ہے۔ گزشتہ ہفتے ایک آل پارٹیز اجلاس میں، انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے مبینہ طور پر پاکستان کے کردار کو ’دلالی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سنہ 1981 سے ایسا کردار ادا کرتا آ رہا ہے، جس میں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات بھی شامل ہیں۔

    انھوں نے مبینہ طور پر کہا کہ ’ہم یہ پوچھتے نہیں پھرتے کہ ہم بروکر کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔‘

    لیکن کچھ تجزیہ کاروں کے نزدیک دہلی میں اس بحث کی شدت پالیسی سے زیادہ تاثر یعنی پرسیپشن کی عکاسی کرتی ہے۔

    شیو نادر یونیورسٹی کے ہیپیمون جیکب کے مطابق بنیادی طور پر یہ مسئلہ حکمتِ عملی سے زیادہ نفسیات کا ہے۔

    انھوں نے ایک مضمون میں لکھا کہ ’انڈیا میں ردعمل مسابقتی بے چینی کا مظہر ہے اگر پاکستان کر سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں!‘

    اگر انڈیا حقیقت میں ثالثی کی دوڑ میں شامل ہی نہیں تھا، تو بہت سے لوگوں کے مطابق زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اسے اس کے بجائے وہ کون سا کردار ہے جو اسے ادا کرنا چاہیے؟

    پاکستان کے لیے سابق انڈین سفارت کار اجے بساریہ کے مطابق اس کا جواب انڈیا کی طاقتوں اور حدود دونوں کو تسلیم کرنے میں پوشیدہ ہے۔

    بساریہ کے مطابق اگرچہ انڈیا کے پاس خطے میں اپنے مفادات اور تعلقات کی بنیاد پر امن قائم کرنے کی صلاحیت موجود ہے لیکن یہ کوئی ایسا آلہ نہیں جسے واشنگٹن کے ذریعے ’کنٹرول‘ کیا جا سکے۔

    وہ مزید کہتے ہیں کہ ’اسی وجہ سے انڈیا اس کردار کے لیے موزوں نہیں ہے‘، اور دلیل دیتے ہیں کہ دہلی کو امن کے فروغ میں زیادہ ٹھوس کردار ادا کرنا چاہیے لیکن ’پاکستان کے طریقے سے نہیں اور نہ ہی موجودہ مرحلے یا وقت پر۔‘

    ان تمام باتوں کے درمیان ایک زیادہ عملی اور درمیانی راستہ موجود ہے، انڈیا کو نہ تو خود کو زیادہ خطرناک ثالثی میں جھونکنا چاہیے، لیکن نہ ہی وہ اس سب سے دور رہنے کا متحمل ہو سکتا ہے۔

    سابق انڈین سیکرٹری خارجہ نروپما راؤ نے ایکس پر لکھا کہ ’اس جنگ نے عملی طور پر تقریباً ہر لحاظ سے انڈیا کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔۔۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا انڈیا اس بات کو مناسب وضاحت اور کُھلے انداز کے ساتھ کہنے کے لیے تیار ہے؟‘ ملک کے اندر، اس ’احتیاط‘ واے بیانے کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    حزبِ اختلاف کے رہنماؤں نے نریندر مودی حکومت پر غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں اور ایران پر حملوں کے حوالے سے نمایاں خاموشی اختیار کرنے کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ یہ اسرائیل کی جانب بڑھتے ہوئے جھکاؤ اور انڈیا کے روایتی سفارتی توازن سے انحراف کی نشاندہی کرتا ہے۔

    حالیہ برسوں میں انڈیا کے عالمی کردار سے متعلق توقعات میں اضافہ ہوا ہے جو اس کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت اور سرکاری بیانیے کی وجہ سے ہے جو اسے عالمی سطح پر ایک نمایاں آواز کے طور پر پیش کرتا ہے۔

    مودی حکومت نے جس طرح انڈیا کے عروج کو وسیع تناظر میں پیش کیا ہے اسے گلوبل ساؤتھ کی ایک نمایاں آواز اور جغرافیائی سیاسی تقسیم کے درمیان ایک پل کے طور پر دکھاتے ہوئے، اس سے ہر عالمی بحران میں موجود رہنے کی خواہش بھی بڑھ گئی ہے۔

    لیکن جیکب کے مطابق اس خواہش کو متوازن کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’انڈیا نے موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کے شعبوں میں اہم کرداد ادا کر چُکا ہے، اسے ہر کام کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی وہ ایسا کر سکتا ہے۔‘

    اُن کے مطابق ’اصل چیلنج صلاحیت اور توقعات کے درمیان فرق کو سنبھالنا ہے اور یہ سمجھنے کی عقل اور دانش رکھنا ہے کہ کیا کرنا ہے، اور اتنا ہی اہم یہ کہ کیا نہیں کرنا۔‘

  17. امریکی سفارت خانے کی اپنے شہریوں کو فوری طور پر عراق چھوڑنے کی ہدایت

    بغداد میں امریکی سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو فوری طور پر عراق چھوڑنے کی ہدایت کر دی ہے۔

    آج بغداد میں امریکی سفارت خانے نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران عراقی دارالحکومت کے وسطی علاقوں میں، جنھیں اس نے مسلح دہشت گرد گروہوں سے منسوب کیا ہے ممکنہ حملے کیے جا سکتے ہیں۔ سفارت خانے نے امریکی شہریوں سے فوری طور پر عراق چھوڑنے کی اپیل کی ہے۔

    سفارت خانے نے اپنی سکیورٹی وارننگ میں کہا کہ ایران اور اس کے اتحادی مسلح گروہ ماضی میں عراق کے مختلف علاقوں، بشمول کردستان ریجن میں امریکی شہریوں اور امریکا سے منسلک اہداف پر حملے کر چکے ہیں۔

    مزید کہا گیا کہ ممکنہ حملے امریکی شہریوں، کمپنیوں، تعلیمی اداروں، سفارتی تنصیبات، توانائی کے بنیادی ڈھانچے، ہوٹلوں اور ہوائی اڈوں کے علاوہ عراقی اداروں اور شہری اہداف کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔

    سفارت خانے نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ بعض سابقہ حملوں میں امریکی شہریوں کو اغوا کرنے کی کوششیں بھی شامل رہی ہیں۔

    امریکی سفارت خانے نے مزید بتایا کہ ان گروہوں کے کچھ عناصر کے پاس شناختی دستاویزات ہو سکتی ہیں جن سے وہ خود کو عراقی حکومت کے ملازم ظاہر کر سکتے ہیں۔

  18. سعودی عرب کے دفاعی نظام نے ڈرونز اور بیلسٹک میزائل کو روک کر مار گرایا: وزارتِ دفاع

    گزشتہ ایک گھنٹے کے دوران سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کے ایک ترجمان نے کہا کہ ملک کے دفاعی نظام نے ڈرونز کی ایک نئی لہر کو ناکام بنا دیا ہے۔

    اس سے قبل وزارت نے بتایا تھا کہ اس نے ملک کے مشرقی علاقے کی جانب آنے والے ایک بیلسٹک میزائل کو بھی مار گرایا ہے۔

  19. ایران کی امریکہ اور اسرائیل کو ’تباہ کن‘ اور ’وسیع تر‘ حملوں کی دھمکی

    ایران نے امریکہ اور اسرائیل پر ’تباہ کن‘ اور ’وسیع تر‘ حملوں کی وارننگ دی ہے۔

    ایرانی فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ’غیر اہم‘ اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ انھوں نے آنے والے ’تباہ کن، وسیع تر اور شدید‘ حملوں کی تنبیہ جاری کی ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے تسنیم اور نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز کے ذریعے جاری بیان میں ترجمان نے کہا کہ دونوں ممالک کے پاس تہران کی فوجی صلاحیتوں اور سازوسامان کے بارے میں ’نامکمل‘ معلومات ہیں۔

    ترجمان نے مزید کہا کہ ایران کی فوجی پیداوار ’ایسی جگہوں پر ہوتی ہے جن کے بارے میں آپ کو بالکل بھی علم نہیں‘ اور اسی طرح انھوں نے ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ ایران کے ہتھیاروں کے ذخائر بڑے پیمانے پر تباہ اور ختم ہو چکے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کو ’اس جارحیت کی قیمت چکانی ہو گی جس کا آغاز آپ نے کیا۔‘

  20. عالمی بینک کا امریکہ ایران جنگ کے معاشی اثرات پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار

    عالمی بینک کے ڈائریکٹر جنرل پاسکل ڈونوہو نے بدھ کے روز فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے عالمی معیشت پر اثرات کے حوالے سے اپنے ’گہرے خدشات‘ کا اظہار کیا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کئی ممالک پہلے ہی عالمی بحرانوں کی ایک طویل سلسلہ وار لہر کے باعث مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔

    ڈونوہو نے کہا کہ ’ہمیں اس بات پر شدید تشویش ہے کہ اس جنگ کے نتیجے میں عالمی سطح پر مہنگائی، روزگار میں کمی اور غذائی قلت جیسے پہلے سے موجود مسائل میں مزید اضافہ ہوگا۔ تاہم ہماری کوشش اور تیاری جاری ہے کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فوری اور مناسب اقدامات کیے جائیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم کئی حکومتوں اور ممالک کے ساتھ ان کی ضروریات کو سمجھنے کے لیے مشاورت کر رہے ہیں اور مجھے توقع ہے کہ آنے والے ہفتوں میں ہمارے پاس مزید معلومات ہوں گی۔‘

    عالمی بینک کو خاص طور پر اپنی موسمِ بہار میں ہونے والی میٹنگز جو 12 سے 17 اپریل کے دوران واشنگٹن میں ہوں گی کی مدد سے اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ آنے والے وقت میں ہمیں کن مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

    ڈونوہو نے کہا کہ فی الحال ’ہم اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہمارے پاس کتنی رقوم دستیاب ہیں اور کن مُمالک کو اس میں شامل کیا جا سکتا ہے تاکہ مسائل کے شکار دیگر مُمالک کو ایران میں جنگ کے قلیل مدتی اثرات سے نمٹنے میں مدد دی جا سکے۔‘

Trending Now