دہلی میں ایک ایسے وقت میں چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ جب پاکستان خود کو امریکہ ایران بحران میں ایک ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے تو کیا انڈیا کو اس سب کے بیچ نظر انداز کیا جا رہا ہے؟
اسلام آباد نے غیر معمولی تیزی دکھاتے ہوئے خود کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق گزشتہ ہفتے اس نے امریکہ کا 15 نکاتی امن منصوبہ ایران تک پہنچایا اور مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی جسے تہران نے مسترد کر دیا۔ اس ہفتے پاکستان نے ایک بار پھر ایک اور کوشش تب کی کہ جب اس کے وزیر خارجہ پانچ نکاتی امن منصوبے کے لیے چینی حمایت حاصل کرنے بیجنگ پہنچے۔
انڈیا کے لیے جو پاکستان کا بڑا پڑوسی اور حریف ہے یہ منظرنامہ کچھ عجیب محسوس ہوتا ہے۔ یہ بے چینی انڈیا اور امریکہ کے تعلقات میں ایک غیر متوازن مرحلے کے باعث مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ پاکستان بظاہر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ روابط بحال کرتا نظر آ رہا ہے۔
اس کے نتیجے میں انڈیا کی سٹریٹجک کمیونٹی کے اندر ایک تقسیم پیدا ہو گئی ہے۔
انڈیا میں حزبِ اختلاف کی کچھ جماعتوں اور تجزیہ کار کہتے ہیں کہ دہلی کو جس کے خطے میں مختلف نوعیت کے تعلقات ہیں کم از کم ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے سامنے آنا چاہیے تھا تاکہ وہ اس جیوپولیٹیکل تبدیلی کے وقت غیر حاضر نہ دکھائی دے۔
انڈیا میں حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے اسے انڈین سفارت کاری کے لیے ’شرمندگی‘ قرار دیا، خاص طور پر ان خبروں کے بعد کہ جب پاکستان کا نام اس معاملے میں ثالث کے طور پر سامنے آیا۔
سٹریٹجک امور کے ماہر برہما چیلانی نے ایکس پر لکھا کہ ’بیانیے کی جنگ میں زیادہ چستی اور جارحیت دکھاتے ہوئے، پاکستان اکثر سفارتی سطح پر انڈیا کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔‘
کچھ لوگ محض نمایاں ہونے کے لیے اس طرح کی سرگرمی کو کم اہمیت دیتے ہیں، اور خبردار کرتے ہیں کہ بغیر اثر و رسوخ یا دعوت کے ثالثی الٹا نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے خیال میں انڈیا کے مفادات خاموش سفارت کاری اور سٹریٹجک فاصلے میں بہتر طور پر محفوظ ہیں۔
یہی وہ مؤقف ہے کہ جو ہمیں انڈین حکومت میں بھی سنائی دیتا ہے۔ گزشتہ ہفتے ایک آل پارٹیز اجلاس میں، انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے مبینہ طور پر پاکستان کے کردار کو ’دلالی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سنہ 1981 سے ایسا کردار ادا کرتا آ رہا ہے، جس میں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات بھی شامل ہیں۔
انھوں نے مبینہ طور پر کہا کہ ’ہم یہ پوچھتے نہیں پھرتے کہ ہم بروکر کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔‘
لیکن کچھ تجزیہ کاروں کے نزدیک دہلی میں اس بحث کی شدت پالیسی سے زیادہ تاثر یعنی پرسیپشن کی عکاسی کرتی ہے۔
شیو نادر یونیورسٹی کے ہیپیمون جیکب کے مطابق بنیادی طور پر یہ مسئلہ حکمتِ عملی سے زیادہ نفسیات کا ہے۔
انھوں نے ایک مضمون میں لکھا کہ ’انڈیا میں ردعمل مسابقتی بے چینی کا مظہر ہے اگر پاکستان کر سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں!‘
اگر انڈیا حقیقت میں ثالثی کی دوڑ میں شامل ہی نہیں تھا، تو بہت سے لوگوں کے مطابق زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اسے اس کے بجائے وہ کون سا کردار ہے جو اسے ادا کرنا چاہیے؟
پاکستان کے لیے سابق انڈین سفارت کار اجے بساریہ کے مطابق اس کا جواب انڈیا کی طاقتوں اور حدود دونوں کو تسلیم کرنے میں پوشیدہ ہے۔
بساریہ کے مطابق اگرچہ انڈیا کے پاس خطے میں اپنے مفادات اور تعلقات کی بنیاد پر امن قائم کرنے کی صلاحیت موجود ہے لیکن یہ کوئی ایسا آلہ نہیں جسے واشنگٹن کے ذریعے ’کنٹرول‘ کیا جا سکے۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’اسی وجہ سے انڈیا اس کردار کے لیے موزوں نہیں ہے‘، اور دلیل دیتے ہیں کہ دہلی کو امن کے فروغ میں زیادہ ٹھوس کردار ادا کرنا چاہیے لیکن ’پاکستان کے طریقے سے نہیں اور نہ ہی موجودہ مرحلے یا وقت پر۔‘
ان تمام باتوں کے درمیان ایک زیادہ عملی اور درمیانی راستہ موجود ہے، انڈیا کو نہ تو خود کو زیادہ خطرناک ثالثی میں جھونکنا چاہیے، لیکن نہ ہی وہ اس سب سے دور رہنے کا متحمل ہو سکتا ہے۔
سابق انڈین سیکرٹری خارجہ نروپما راؤ نے ایکس پر لکھا کہ ’اس جنگ نے عملی طور پر تقریباً ہر لحاظ سے انڈیا کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔۔۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا انڈیا اس بات کو مناسب وضاحت اور کُھلے انداز کے ساتھ کہنے کے لیے تیار ہے؟‘ ملک کے اندر، اس ’احتیاط‘ واے بیانے کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
حزبِ اختلاف کے رہنماؤں نے نریندر مودی حکومت پر غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں اور ایران پر حملوں کے حوالے سے نمایاں خاموشی اختیار کرنے کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ یہ اسرائیل کی جانب بڑھتے ہوئے جھکاؤ اور انڈیا کے روایتی سفارتی توازن سے انحراف کی نشاندہی کرتا ہے۔
حالیہ برسوں میں انڈیا کے عالمی کردار سے متعلق توقعات میں اضافہ ہوا ہے جو اس کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت اور سرکاری بیانیے کی وجہ سے ہے جو اسے عالمی سطح پر ایک نمایاں آواز کے طور پر پیش کرتا ہے۔
مودی حکومت نے جس طرح انڈیا کے عروج کو وسیع تناظر میں پیش کیا ہے اسے گلوبل ساؤتھ کی ایک نمایاں آواز اور جغرافیائی سیاسی تقسیم کے درمیان ایک پل کے طور پر دکھاتے ہوئے، اس سے ہر عالمی بحران میں موجود رہنے کی خواہش بھی بڑھ گئی ہے۔
لیکن جیکب کے مطابق اس خواہش کو متوازن کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’انڈیا نے موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کے شعبوں میں اہم کرداد ادا کر چُکا ہے، اسے ہر کام کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی وہ ایسا کر سکتا ہے۔‘
اُن کے مطابق ’اصل چیلنج صلاحیت اور توقعات کے درمیان فرق کو سنبھالنا ہے اور یہ سمجھنے کی عقل اور دانش رکھنا ہے کہ کیا کرنا ہے، اور اتنا ہی اہم یہ کہ کیا نہیں کرنا۔‘