آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, طالبان کا سرحد پر پاکستانی فوج کے مراکز اور تنصیات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

طالبان حکام کے بیان پر پاکستان نے تاحال سرکاری طور پر کوئی ردِعمل نہیں دیا ہے۔ تاہم پاکستان میں باڑہ، تیراہ اور کرم کے علاقوں کے لوگوں نے بی بی بی سی اردو کو بتایا کہ آوازیں دور تک سنی جا رہی ہیں۔

خلاصہ

  • امریکی اور ایرانی حکام جمعرات کو جنیوا میں بالواسطہ مذاکرات کے تیسرے دور کے لیے ملاقات کریں گے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر جوہری معاہدہ نہ ہوا تو وہ ایران پر حملہ کریں گے۔
  • ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ ایران امریکہ مذاکرات کے تیسرے دور کے نتیجے میں واشنگٹن کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت رہبرِ اعلیٰ کی رہنمائی میں اس راہ پر چل رہی ہے تاکہ اس کشمکش کی صورتحال سے نکلا جا سکے۔
  • اردن کے شاہ عبداللہ دوم کا کہنا ہے کہ ان کا ملک کسی علاقائی تنازع میں اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی یا استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اردن کے شہریوں کا تحفظ ان کی اوّلین ترجیح ہے۔
  • پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں براہِ راست ٹیکسوں میں کمی پر غور کر رہی ہے تاکہ کاروباری برادری کو ریلیف ملے جبکہ بالواسطہ ٹیکسوں کی مکمل وصولی یقینی بنائی جائے گی۔
  • بلوچستان کے دو اضلاع میں تشدد کے دو مختلف واقعات میں تین سیکورٹی اہلکاروں سمیت کم ازکم نو افراد ہلاک اور چار افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں چھ عام شہری بھی شامل ہیں، جن کو ایران سے متصل سرحدی ضلع کیچ میں نشانہ بنایا گیا۔

لائیو کوریج

  1. چمن سلنڈر دھماکے میں سات بچے ہلاک، 17 افراد زخمی: حکام

    بلوچستان کے افغانستان سے ملحقہ سرحدی شہر چمن میں گیس سلنڈر کے دھماکے میں کم از کم سات بچے ہلاک اور خواتین اور بچوں سمیت 17 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

    ہلاک اور زخمی ہونے والے بچے افطاری کے لیے لسی لینے کے لیے ایک گھر میں جمع ہوئے تھے۔

    چمن پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ کار یزات پولیس سٹیشن کی حدود میں طورپُل کے قریب ایک گھر سے بچے افطاری کے لیے لسی لینے جاتے تھے۔

    انھوں نے بتایا کہ ’آج بھی یہ بچے لسی لینے کے لیے گھر میں جمع ہوئے تھے کہ شام پانچ بجے کے قریب گھر میں موجود گیس سلنڈر زوردار دھماکے سے پھٹ گیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ دھماکے سے گھر کے دو کمرے منہدم ہو گئے جس کے سبب بچے اور گھر کے بعض افراد دب گئے۔

    انھوں نے بتایا کہ دھماکے کے باعث بچوں سمیت زخمی ہونے والے دیگر افراد کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چمن منتقل کیا گیا ہے۔

    فون پر رابطہ کرنے پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چمن کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد اویس نے بتایا کہ مجموعی طور پر اس گیس سلنڈر کے دھماکے میں 23 افراد زخمی ہوئے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں 7 بچوں کی موت ہوئی، جن کی عمریں دس سال کے لگ بھگ تھیں۔

  2. طالبان کا سرحد پر پاکستانی فوج کے مراکز اور تنصیات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو پشاور

    افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی سرحدی فورسز کی طرف سے پاکستان اور افغان سرحد پر پاکستانی فوج کے مراکز اور تنصیبات پر ’وسیع‘ کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

    ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیانات میں میں طالبان فورسز کی جانب سے متعدد پاکستانی چیک پوسٹس کو تباہ کرنے، کچھ کو قبضے میں لینے اور متعدد فوجی اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ بی بی سی ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    طالبان حکام کے بیان پر پاکستان نے تاحال سرکاری طور پر کوئی ردِعمل نہیں دیا ہے۔

    تاہم پاکستان میں باڑہ اور تیراہ کے علاقوں کے لوگوں نے بی بی بی سی اردو کو بتایا کہ آوازیں دور تک سنی جا رہی ہیں۔

    لوئر کرم اور صدہ کے قریب پاک افغان سرحدی علاقے سے ملک عنایت نامی پاکستانی شہری نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’ڈیڑھ، دو گھنٹے سے دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں لیکن اب تک آبادی کی طرف کوئی گولہ نہیں گِرا ہے اور نہ ہی کوئی نقصان ہوا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ان کے علاقے کا نام الوری ہے اور سرحد کے قریب علاقوں میں لوگ خوفزدہ ہیں۔

    خیال رہے پاکستان نے 21 فروری کو افغانستان کے اندر شدت پسندوں کے ساتھ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ پاکستان میں عسکری ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور نام نہاد دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر حملوں میں 80 سے زیادہ عسکریت پسند مارے گئے تھے۔

    دوسری جانب افغانستان نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کے ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہری مارے گئے تھے۔

    طالبا نے یہ بھی تنبیہ کی تھی کہ ’مناسب وقت‘ پر ان حملوں کا جواب دیا جائے گا۔

  3. ژوب میں آپریشن کے دوران 10 شدت پسند ہلاک: پاکستانی فوج

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع ژوب میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کے دوران 10 شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 25 فروری کو ضلع ژوب میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آپریشن کیا جو کہ 24 فروری کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے تسلسل میں تھا۔

    اس کے مطابق آپریشن کے دوران فورسز نے متعدد راستوں پر شدت پسندوں کا سراغ لگا کر ان کے ٹھکانوں کو موثر انداز میں نشانہ بنایا اور فائرنگ کے تبادلے کے دوران 10 شدت پسند ہلاک ہوئے۔ فوج کے مطابق ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کا تعلق ’فتنہ الخوارج‘ سے تھا۔ یہ اصطلاح عام طور پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

    آئی ایس پی آر نے بتایا کہ کارروائی کے دوران ’دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔‘

    بیان میں مزید بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والے عناصر علاقے میں ’متعدد دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث تھے، علاقے میں دیگر ممکنہ خطرات کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشنز جاری رہیں گے۔‘

    آئی ایس پی آر نے بتایا کہ قومی ایکشن پلان کے مطابق سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسداد دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے ’بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔‘

  4. ایران سے مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں ٹرمپ کے پاس کیا آپشنز ہیں؟

    امریکی میڈیا کی رپورٹس میں ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکاروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ٹرمپ ایرانی رہنماؤں پر دباؤ ڈالنے کے لیے آئندہ دنوں کے دوران پاسداران انقلاب یا جوہری تنصیبات کے خلاف کارروائی پر غور کر رہے تھے۔

    رپورٹس کے مطابق اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکی صدر رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامینہ ای کا تخت الٹنے کا حکم بھی دے سکتے ہیں۔

    امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر حملہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں امریکہ ایک طویل اور پیچیدہ جنگ میں پھنس سکتا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ جنرل ڈین کین کا خیال ہے کہ ایران کے خلاف جنگ ’آسانی سے جیتی‘ جا سکتی ہے۔

    دوسری جانب ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ خطے میں موجود امریکی فوجی اثاثوں اور اسرائیل کو نشانہ بنائے گا۔

    امریکہ کے علاقائی اتحادیوں نے تشویش ظاہر کی ہے کہ ایران پر حملہ پورے خطے میں جنگ کو پھیلا سکتا ہے اور انھوں نے خبردار کیا ہے کہ صرف فضائی حملوں سے ایران کی قیادت کو تبدیل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

    اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایسا کوئی معاہدہ قابل قبول نہیں ہوگا جس میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور اس کے علاقائی اتحادی گروہوں کو شامل نہ کیا جائے۔

    نیتن یاہو کے مطابق ایران اسرائیل کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے اور خطے میں عدم استحکام کا اہم سبب ہے۔ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ نیتن یاہو ایرانی حکومت کو گرانے کے مقصد سے سخت امریکی اقدامات کی ترغیب دے رہے ہیں۔

    امریکہ دنیا کا دوسرا سب سے بڑا جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ رکھتا ہے جبکہ اسرائیل کے پاس بھی جوہری ہتھیار ہونے کا امکان سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ وہ اس بارے میں نہ تصدیق کرتا ہے نہ تردید۔

    سٹیٹ آف دی یونین خطاب سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کانگریس کے ایک خصوصی گروپ کو خفیہ بریفنگ دی۔ ’گینگ آف ایٹ‘ نامی گروپ سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کی قیادت اور خفیہ کمیٹیوں کے سربراہان اور سینئر ارکان پر مشتمل ہوتا ہے۔

    بریفنگ کے بعد سینیٹ کے ڈیموکریٹک رہنما چَک شومر نے کہا کہ صورتحال انتہائی سنگین ہے اور انتظامیہ کو امریکی عوام کے سامنے اپنا مؤقف واضح کرنا ہوگا۔

  5. امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور: تین گھنٹے تک بات چیت کے دوران ’مثبت خیالات کا تبادلہ‘, ہیوگو بچیگا، بی بی سی

    جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور جاری ہے۔ ثالث عمان کے مطابق دونوں ملکوں کے نمائندوں نے پیغامات کا تبادلہ کیا ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد تناؤ میں کمی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متنبہ کر چکے ہیں کہ اگر جوہری ہتھیاروں پر معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ ایران کے خلاف کارروائی کرے گا۔

    امریکی فوج نے سنہ 2003 کی عراق جنگ کے بعد پہلی بار اس قدر وسیع پیمانے پر مشرق وسطیٰ میں تعیناتیاں کی ہیں۔ جبکہ ایران نے ممکنہ امریکی حملے کے خلاف جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔

    جمعرات کو مذاکرات تین گھنٹے تک جاری رہے۔ ثالت اور عمانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی اور ایرانی نمائندوں نے ’تخلیقی اور مثبت خیالات‘ کا تبادلہ کیا اور وقفے کے بعد ان کی واپسی ہو گی۔ ’ہمیں امید ہے کہ ہم مزید پیشرفت حاصل کریں گے۔‘

    مگر معاہدے کے امکانات غیر واضح ہیں۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ سفارتکاری کے ذریعے بحران سے نمٹنا چاہتے ہیں مگر انھوں نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے محدود کارروائی پر بھی غور کیا ہے۔

    امریکی صدر اس بارے میں وضاحت نہیں کر سکے کہ وہ ان مذاکرات میں ایران سے کیا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ وہ اس کے خلاف کارروائی نہ کریں۔ آٹھ ماہ قبل ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے دوران امریکہ نے ایرانی جوہری تبصیبات پر بمباری کی تھی۔

    ایران نے یورینیئم افزدوگی روکنے سے متعلق امریکی مطالبے کو مسترد کیا ہے مگر یہ عندیہ ہے کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام پر کچھ سمجھوتوں کے لیے تیار ہے۔

    اس ماہ کے اوائل میں ہونے والے دو مذاکراتی ادوار کی طرح اس بار بھی ایرانی وفد کی قیادت وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں جبکہ امریکہ کی نمائندگی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے پاس ہے۔

    حالیہ ہفتوں میں امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی عسکری موجودگی غیر معمولی طور پر بڑھا دی ہے۔ ہزاروں امریکی فوجی، دو ایئرکرافٹ کیریئرز، متعدد جنگی جہاز، لڑاکا طیارے اور ایندھن بھرنے والے جہاز خطے میں پہنچ چکے ہیں۔

    ٹرمپ ایران سے کیا چاہتے ہیں؟

    ٹرمپ نے گذشتہ ماہ ایران پر حملے کی دھمکی اسی وقت دی تھی جب ایرانی سکیورٹی فورسز نے حکومت مخالف مظاہروں کو سختی سے کچلتے ہوئے بڑی تعداد میں لوگوں کو ہلاک کیا۔

    اس کے بعد ٹرمپ کی توجہ دوبارہ ایران کے جوہری پروگرام پر مرکوز ہو گئی، جو برسوں سے امریکہ اور مغرب کے ساتھ تنازعے کی بنیاد رہا ہے۔

    امریکہ اور اسرائیل طویل عرصے سے الزام لگاتے آئے ہیں کہ ایران خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے، مگر ایران کا موقف ہے کہ اس کا پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ایران وہ واحد غیر جوہری ملک ہے جس نے یورینیم کو تقریباً ہتھیاروں کے درجے تک افزودہ کیا ہے۔

    ٹرمپ نے اپنے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ایران سے بڑھتی کشیدگی کا ذکر تو کیا لیکن ممکنہ امریکی حملے کی ٹھوس دلیل یا لائحہ عمل واضح نہ کیا۔

    انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران ایسے میزائل بنا رہا ہے جو ’جلد‘ امریکہ تک پہنچ سکیں گے اور یہ کہ گذشتہ سال کے حملوں کے بعد ایران دوبارہ جوہری پروگرام شروع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ وہ دنیا کے ’سب سے بڑے دہشت گردی کے سرپرست‘ کو جوہری ہتھیار نہیں رکھنے دیں گے۔

    امریکہ نے گذشتہ جون میں ایران کی تین جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا اور ٹرمپ نے انھیں ’مکمل طور پر تباہ‘ قرار دیا تھا۔ ایران کا کہنا ہے کہ حملوں کے بعد افزودگی رک گئی تھی تاہم اس نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی کے ادارے کو متاثرہ مقامات تک رسائی نہیں دی۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ایران معاہدہ چاہتا ہے، لیکن اُس نے وہ خاص الفاظ نہیں کہے جو امریکہ سننا چاہتا ہے، یعنی ’ہم کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے۔‘

    ٹرمپ کی تقریر سے چند گھنٹے قبل ایرانی وزیرِ خارجہ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران ’کسی بھی صورت میں کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔‘ عراقچی نے بھی کہا کہ ایسا ’تاریخی موقع‘ موجود ہے جس سے دونوں ملک ایک منفرد مفاہمت تک پہنچ سکتے ہیں۔

    ٹرمپ کے خطاب کے بعد ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے الزام عائد کیا کہ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام، میزائل سرگرمیوں اور ہلاک ہونے والے مظاہرین کی تعداد کے بارے میں ’جھوٹ بول رہا ہے۔‘

    کیا آپشنز زیِرِ غور ہیں؟

    ایران کی طرف سے پیش کی گئی تجاویز اب تک سامنے نہیں لائی گئیں۔

    تاہم جنیوا میں جاری مذاکرات میں ایسے امکانات زیرِ غور ہیں جن میں خطے کے ممالک پر مشتمل ایک مشترکہ تنظیم کی تشکیل شامل ہو سکتی ہے، جو یورینیم کی افزودگی کا نظام چلائے۔

    اس کے ساتھ ساتھ ایران کے تقریباً 400 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے مستقبل کے بارے میں تجاویز اور اس کی نگرانی اور تصدیق کے طریقۂ کار پر بھی بات ہو رہی ہے۔

    بدلے میں ایران توقع رکھتا ہے کہ اس کی معیشت کو شدید نقصان پہنچانے والی پابندیاں ختم کی جائیں۔ ایران کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسی کسی بھی رعایت سے ملک کی مذہبی قیادت کو سہارا مل سکتا ہے۔

    تاہم یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ کن شرائط کو قابلِ قبول سمجھیں گے۔

    ایران پہلے ہی ملک کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر حد بندی یا خطے میں اپنے اتحادی گروہوں کی حمایت ختم کرنے جیسے مطالبات کو مسترد کر چکا ہے۔

    ایران ان گروہوں جیسے حماس (غزہ)، حزب اللہ (لبنان)، عراق کی ملیشیاؤں اور یمن کے حوثیوں کو مشترکہ طور پر ’محورِ مزاحمت‘ کہتا ہے۔

  6. انڈیا کے بیان پر پاکستان کا نئی دہلی پر شدت پسندوں کی معاونت کا الزام

    پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں شدت پسندی کی سرپرستی اور معاونت میں پڑوسی ملک انڈیا کا ہاتھ ہے۔

    جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے انڈین وزارت خارجہ کے اس بیان کو مسترد کیا جس میں نئی دہلی نے افغانستان پر بمباری کی مذمت کی تھی۔

    نئی دہلی نے کہا تھا کہ ’رمضان کے مقدس مہینے کے دوران افغان سرزمین پر پاکستانی فضائی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں جن کی انڈیا مذمت کرتا ہے۔‘

    اس نے کہا تھا کہ پاکستان اپنی ’اندرونی ناکامیاں چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

    انڈین وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ وہ افغانستان کی خود مختاری، علاقائی سلامتی اور آزادی کی حمایت کرتے ہیں۔

    دوسری طرف پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس نے افغان سرزمین پر شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ جبکہ افغان طالبان نے ان حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 18 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

    انڈیا کے بیان پر پاکستان کا جواب

    پریس بریفننگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے افغانستان میں فضائی حملوں سے متعلق انڈین بیان کو مسترد کیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ بیان ہمارے اس موقف کی تصدیق کرتا ہے کہ انڈیا بی ایل اے، فتنہ الہندستان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی معاونت اور حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس ’انڈیا کے دہشت گردی کی سرپرستی اور معاونت کے حوالے سے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔‘

    طاہر اندرابی نے کہا کہ انڈین وزارتِ خارجہ کا حالیہ بیان اور بلوچستان میں ہونے والے شدت پسند حملوں کے بعد جاری کیے گئے بیانات، انڈیا کے پاکستان میں دہشت گردی کے فروغ میں ملوث ہونے کے مزید واضح اور مضبوط تر ثبوت فراہم کرتے ہیں۔

    دریں اثنا پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سمجھوتا ایکسپریس پر حملے کے 19 سال بعد بھی متاثرین انصاف کے منتظر ہیں اور اسلام آباد ’فیئر ٹرائل کا مطالبہ کرتا ہے۔‘

  7. ایرانی وفد سے موصول ہونے والی تجاویز امریکی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ شیئر کر دی گئیں: عمان

    عمان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ انھوں نے گذشتہ شب ایرانی وفد سے موصول ہونے والی تجاویز امریکی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ شیئر کی ہیں۔

    عمان کی وزارت خارجہ کے مطابق ’مذاکراتی عمل کے دوران ایرانی وفد کی تجاویز کے ساتھ ساتھ امریکی مذاکراتی ٹیم کے جوابات اور ان سوالات کا جائزہ لیا گیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے اہم حصے کو کس طرح منظم کیا جائے اور اس اہم معاملے سے متعلق تمام تکنیکی اور ریگولیٹری پہلوؤں میں ایک سازگار معاہدے کے حصول کے لیے ضروری ضمانتیں دی جائیں۔‘

    عمان کی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ عمان کے وزیر خارجہ بدر بسیدی ’سنجیدگی اور تعمیری جذبے کے ساتھ‘ کوشش کر رہے ہیں کہ ’نئے اور تخلیقی خیالات‘ کا استعمال کرتے ہوئے ’ترقی اور پائیدار ضمانتوں کے ساتھ منصفانہ معاہدے کے حصول‘ کے لیے حالات پیدا کیے جائیں۔

  8. جنیوا میں امریکہ، ایران مذاکرات کا تیسرا دور جاری: بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل بھی مذاکراتی عمل میں شریک

    عمانی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی جنیوا میں ہونے والے ایران، امریکہ مذاکرات میں موجود ہیں۔

    عمانی وزارت خارجہ نے اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ نے عمان کے وزیر خارجہ بدر بسیدی اور رافیل گروسی کے درمیان ہونے والی ملاقات کی تصویر پوسٹ کی ہے اور لکھا ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کے ساتھ ایران کے جوہری معاملات سے متعلق مشاورت اور تکنیکی مسائل پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔

    عمان کی وزارت خارجہ کے مطابق اس ملاقات میں بدر بسیدی نے ’متعلقہ طریقہ کار کی شفافیت، اعتبار اور انتظام کو یقینی بنانے میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے پیشہ ورانہ اور تکنیکی کردار کی اہمیت پر زور دیا ہے۔‘

    اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی مذاکرات کے تیسرے دور میں رافیل گروسی کی موجودگی کے امکان سے متعلق اعلان کیا تھا۔

    یاد رہے کہ عمان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور آج جنیوا میں جاری ہے۔

  9. مصطفیٰ عامر قتل کیس: مرکزی ملزمان ارمغان اور شیراز پر فردِ جرم عائد, ریاض سہیل، بی بی سی اُردو، کراچی

    صوبائی دارالحکومت کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مصطفی عامر قتل کیس میں نامزد ملزمان ارمغان اور شیراز پر فرد جرم عائد کر دی ہے، تاہم دونوں ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کیا ہے۔

    جمعرات کی صبح دونوں ملزمان کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اُن پر فرد جرم عائد کی گئی۔

    یاد رہے کہ کراچی کے رہائشی 23 سالہ مصطفیٰ عامر چھ جنوری 2025 کو کراچی کے علاقے ڈیفنس سے لاپتہ ہوئے تھے اور پولیس کے مطابق اُن کی جھلسی ہوئی لاش بلوچستان میں حب کے علاقے دہریجی کے علاقے سے برآمد ہوئی۔ استغاثہ کے مطابق مصطفی کو مبینہ طور پر اغوا کے بعد قتل کیا گیا تھا۔

    اس واقعے کے بعد پولیس نے ملزمان ارمغان اور شیراز کو گرفتار کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ وہ اس کیس میں مرکزی ملزم ہیں۔

    جمعرات کو ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے ملزم شیراز کی درخواست ضمانت بھی مسترد کر دی جبکہ استغاثہ کے گواہوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید سماعت 12 مارچ تک ملتوی کر دی۔

    اس کیس میں گذشتہ سماعت کے موقع پر ملزم ارمغان نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ وہ اپنا مقدمہ خود لڑیں گے اور یہ کہ انھیں وکیل کی ضرورت نہیں ہے۔

  10. نبیل ارمان: مبینہ طور پر اسلام آباد سے اغوا ہونے والے بلوچ سٹوڈنٹس کونسل کے سابق رُکن کو ’رہا کر دیا گیا‘, عمر دراز ننگیانہ، بی بی سی اُردو، اسلام آباد

    بلوچ طلبا کی تنظیم ’بلوچ سٹوڈنٹس کونسل‘ نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ روز اسلام آباد سے مبینہ طور پر اغوا کیے جانے والے اُن کے سابق رُکن نبیل ارمان واپس آ گئے ہیں۔

    نظیم کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ نبیل ارمان کو وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر جی سیون سے بدھ کی شام سادہ کپڑوں میں ملبوس چند افراد نے اغوا کر لیا تھا۔

    تاہم اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے اس نوعیت کے واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔

    تنظیم کی جانب سے جاری کردہ بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب نبیل وفاقی دارالحکومت کے ایک نجی دفتر میں موجود تھے۔

    تنظیم کے مطابق ’سادہ کپڑوں میں ملبوس چند افراد نے دفتر میں آ کر نبیل کو سوال و جواب کی غرض سے الگ گیا اور جاتے ہوئے وہ زبردستی نبیل کے اپنے ساتھ لے گئے۔ باہر لے جا کر انھیں ایک سفید رنگ کی لینڈ کروزر میں بٹھایا گیا۔ پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ نبیل کو شالیمار تھانہ لے کر جایا جا رہا ہے لیکن بعد میں معلوم کرنے پر نہ تو وہ گاڑی اور نہ ہی نبیل شالیمار تھانے گئے تھے۔‘

    اسلام آباد میں بلوچ طلبا تنظیم کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ نبیل کی گمشدگی کے حوالے سے انھوں نے آبپارہ تھانے میں درخواست جمع کروائی تھی تاہم پولیس نے انھیں اس کی کوئی رسید نہیں دی تھی۔

    تاہم اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان دعوؤں کی تردید کی تھی۔ پولیس ترجمان کا کہنا تھا پولیس کو نہ تو اس نوعیت کے کسی واقعہ کا علم ہے اور نہ ہی آبپارہ تھانہ میں اس حوالے سے کوئی درخواست موصول ہوئی ہے۔

  11. ایران کے رہبرِ اعلیٰ نے ایٹمی ہتھیار بنانے کو ممنوع قرار دیا ہے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان عمان کی ثالثی میں ہونے والے تیسرے دور کے مذاکرات سے قبل کہا ہے کہ ایران ہتھیار بنانے کا خواہشمند نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’جب کسی معاشرے کا مذہبی رہنما اعلان کرتا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیار کے پیچھے نہیں جائیں گے، تو یہ موقف اعتقادی اور فقہی بنیاد پر ہے، نہ کہ کوئی سیاسی حکمتِ عملی جو بدل سکتی ہو۔‘

    ان کے مطابق ’ایک سیاستدان مصلحت کے مطابق کچھ کہہ سکتا ہے، لیکن مذہبی رہنما اپنے عقیدے اور شرعی حکم کے خلاف بات نہیں کر سکتا۔‘

    انھوں نے امریکی حکام کے حالیہ بیانات پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’دشمن کہتے ہیں کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار کے پیچھے نہیں جانا چاہیے، یہ وہی بات ہے جو ہم بارہا خود کہہ چکے ہیں کہ ہم ایٹمی ہتھیار کے پیچھے نہیں ہیں۔‘

    دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کل کانگریس میں اپنی سالانہ تقریر میں ایران کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’انھوں نے اپنے شیطانی ایٹمی پروگرام میں دوبارہ اپنی بلند پروازیاں شروع کر دی ہیں۔‘

    ’ہم ان سے مذاکرات کر رہے ہیں اور وہ معاہدہ چاہتے ہیں، لیکن ہم نے یہ الفاظ نہیں سنے کہ وہ کہیں ’ہم ایٹمی ہتھیار نہیں رکھیں گے‘۔‘

  12. تہران کی پیشکش جوہری پروگرام کے حوالے سے واشنگٹن کے تمام بہانے ختم کر دے گی: ایرانی نیوز ایجنسی

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ آج جنیوا میں امریکی فریق کو پیش کی گئی تجویز ’امریکہ کے ان تمام بہانوں کو، جو ایران کے پُرامن جوہری پروگرام سے متعلق ہیں، دور کر دیے گی۔‘

    ارنا کے مطابق اگر وائٹ ہاؤس اس تجویز کو قبول نہ کرے تو یہ ابتدائی بدگمانی کی تصدیق ہوگی کہ امریکہ سفارت کاری میں سنجیدہ نہیں ہے اور ان کی سفارت کاری کی خواہش محض ایک ’نمائش‘ ہے۔

    تاحال یہ واضح نہیں ہی کہ ایران کی جانب سے کیا پیشکش کی گئی ہے تاہم اس سے پہلے عمان کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ بدر بوسعیدی، عمان کے وزیرِ خارجہ، آج ایران کے نقطہ نظر کو امریکی فریق تک پہنچائیں گے۔

    عباس عراقچی، ایران کے وزیرِ خارجہ، گذشتہ شب جنیوا پہنچے تاکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان تیسرے دور کے مذاکرات میں شرکت کریں اور انھوں نے عمانی وزیرِ خارجہ سے ملاقات بھی کی۔

    اسی دوران امریکہ کے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے زور دیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اس کے جوہری پروگرام سے آگے کے مسائل پر بھی ہونے چاہیں۔

    یاد رہے کہ امریکی اور ایرانی حکام جمعرات کو جنیوا میں بالواسطہ مذاکرات کے تیسرے دور کے لیے ملاقات کررہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر جوہری معاہدہ نہ ہوا تو وہ ایران پر حملہ کریں گے۔

  13. ایران امریکہ مذاکرات: جنیوا، آخری باب؟, مریم شبانی - جنیوا میں بی بی سی کی فارسی نامہ نگار

    جنیوا کی صبح ہے، جب دنیا بھر سے درجنوں صحافی ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی کوریج کے لیے اس شہر میں جمع ہو رہے ہیں۔ پچھلے ہفتے کی بارش اور سردی والے دن کے برعکس، آج کا موسم گرم اور دھوپ والا ہے۔

    فضا مگر پچھلے ہفتے سے زیادہ غیر متوقع ہے۔ یہاں بہت سے لوگ ہر طرح کے امکان کے لیے تیار ہیں۔

    بہت سوں کے نزدیک سب سے ممکنہ نتیجہ: اس دور کے مذاکرات کا ’مثبت‘ اختتام اور اگلے دور کا وعدہ ہے یا پھر دو فیصلہ کن نتائج: ناکامی یا کامیابی اور کم از کم مذاکرات کے کچھ حصے کا حتمی ہونا۔

    اگرچہ یہ افواہیں سننے میں آ رہی ہیں کہ اس دور میں ایرانی اور امریکی مذاکرات کار براہِ راست بات چیت کر سکتے ہیں، لیکن عمانی فریق اب بھی میزبان ہے اور باضابطہ طور پر دونوں کے درمیان پیغام رسانی کا واسطہ ہے۔

    جب تک مذاکرات شروع نہ ہوں اور اس بارے میں کوئی باضابطہ اعلان نہ ہو۔ عمان نے اس دور کی تصدیق کے ساتھ یہ امید بھی ظاہر کی تھی کہ دونوں فریق بات چیت کو حتمی شکل دینے کے لیے جنیوا آئیں گے۔

    ایرانی بیانات میں بھی مذاکرات کی پیش رفت کے حوالے سے امید کی جھلک نظر آتی ہے۔ تاہم حالات اور پچھلے ہفتوں میں دونوں طرف سے فوجی طاقت کا مظاہرہ، صورتحال کو نہایت نازک بنا رہا ہے۔

    آج کے مذاکرات کے نتیجے کے بارے میں تقریباً ہر امکان میز پر موجود ہے۔ عسکری تناؤ کا سایہ اب بھی قائم ہے، لیکن شاید کسی بھی دور میں اتنی زیادہ امیدیں وابستہ نہیں کی گئی تھیں۔

    کیا آج کے جنیوا مذاکرات، اگرچہ کتاب کا آخری ورق نہیں، لیکن آخری باب میں داخلہ ثابت ہوں گے؟

    صرف چند گھنٹوں میں یہ واضح ہو جائے گا۔

  14. محسن نقوی کی اٹلی و سپین کے اوریونان کےوزرائے داخلہ سے ملاقات، غیر قانونی امیگریشن روکنے کے اقدمات پر اتفاق

    پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی اٹلی و سپین کے وزرائے داخلہ اوریونان کے وزیر مائیگریشن سے اہم ملاقات کی ۔

    چاروں وزرا نے روم میں غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کیلئے 4 ملکی کانفرنس میں شرکت

    اٹلی۔ سپین اور یونان نے غیرقانونی امیگریشن روکنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا تینوں یورپی ممالک نے غیر قانونی امیگریشن میں 47 فیصد کمی پر پاکستان کی تعریف کی گئی۔

    پاکستانی وزیرداخلہ کی لیگل پاتھ وے کے ذریعے غیرقانونی امیگریشن روکنے کی تجویز پرتینوں ممالک نے اتفاق کیا۔

    ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق تینوں ممالک نے اس سلسلے میں پاکستان کی استعداد بڑھانے کے لیے یورپی یونین کے ذریعے پاکستان کی بھرپور معاونت کا فیصلہ کیا۔

    اعلامیے کے مطابق پاکستان۔ اٹلی۔ سپین اور یونان کا غیر قانونی امیگریشن کو ہر سطح پر روکنے کیلئے مربوط حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔

    یہ بطی طے پایا کہ ’سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کو یورپ سے پاکستان واپس لایا جائے گا اور قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ ‘

    چاروں وزرا نے آئندہ اجلاس رواں برس ہی پاکستان میں منعقد کرانے کا فیصلہ کیا۔

    محسن نقوی نے کہا کہ ’غیر قانونی امیگریشن میں ملوث مافیا کو قانون کی گرفت میں لایا گیا ہے۔ پاسکتان غیرقانونی امیگریشن سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔ مشترکہ میکنزم سے ہی اس چیلنج کا خاتمہ ممکن ہے۔‘

  15. ایران جوہری سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہا ہے: جے ڈی وینس

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک سفارتی وفد کی سربراہی میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا پہنچ گئے۔

    وہ جمعرات کو مشرق وسطیٰ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے سٹیو وائٹیکر کے ساتھ بات چیت کرنے والے ہیں۔

    گذشتہ موسم گرما میں 12 روزہ جنگ کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کا یہ تیسرا دور ہے۔

    حالیہ دنوں میں، جناب عراقچی اور ایرانی وزارت خارجہ کے دیگر حکام نے مذاکرات میں پیش رفت اور امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے تک پہنچنے کے بارے میں پرامید ہے۔

    اس کے برعکس، ڈونلڈ ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کے حکام، سفارت کاری کو ترجیح دینے پر زور دیتے ہوئے، بارہا یہ بات کر چکے ہیں کہ اگر ایران معاہدے کی پاسداری نہیں کرتا ہے تو اس کے لیے فوجی اختیارات اور ’سنگین نتائج‘ ہوں گے۔

    امریکہ اور ایران کے جنیوا میں بات چیت کے نئے دور کے آغاز سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نےکہا کہ ’ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتا۔ اگر وہ دوبارہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ ہمارے لیے ایک مسئلہ ہو گا۔ درحقیقت، ہم نے شواہد دیکھے ہیں کہ وہ بالکل اسی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔‘

    امریکی نائب صدر نے مزید کہا ہے کہ ’اسی لیے صدر نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کار بھیجے ہیں۔ جیسا کہ وہ کئی بار کہہ چکے ہیں، وہ سفارت کاری کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ، ان کے پاس دوسرے آپشن بھی ہیں۔‘

    آئندہ چند گھنٹوں میں وزیر خارجہ عباس عراقچی، ایرانی سفارتی وفد کی سربراہی میں، عمان کی ثالثی سے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں مشرق وسطیٰ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے سٹیو وائٹیکر کے ساتھ بات چیت کرنے والے ہیں۔

  16. پاکستانی فضائی حملوں کا عسکری جواب دیں گے، پاکستان کو اپنے شرمناک اقدام کا جواب ملنا چاہیے: ذبیح اللہ مجاہد

    افغانستان کی طالبان حکومت نے بدھ کے روز کہا کہ وہ حالیہ پاکستانی فضائی حملوں کا عسکری جواب دے گی۔

    طالبان نے اسلام آباد پر الزام لگایا کہ اس نے افغان شہریوں کو نشانہ بنایا اور اپنے ملک میں داعش کے جنگجوؤں کو ’محفوظ پناہ گاہیں‘ فراہم کیں۔

    یاد رہے کہ پاکستان نے اتوار کی رات افغانستان کے اپنی سرحد سے متصل علاقوں ننگرہار اور جنوب مشرقی پکتیکا صوبوں میں فضائی حملے کیے۔ پاکستان کا کہنا تھا کہ یہ حملے ان عسکریت پسند گروہوں پر کیے گئے جو پاکستان میں حملوں کے ذمہ دار ہیں۔

    طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے العربیہ انگلش کو بتایا کہ ’قدرتی طور پر یہ عسکری جواب ہوگا، لیکن اس کی تفصیلات خفیہ ہیں۔ پاکستان کو اپنے شرمناک اقدام کا جواب ملنا چاہیے۔‘

    انھوں نے الزام لگایا کہ پاکستان نے عسکریت پسندوں کے بجائے شہری علاقوں کو نشانہ بنایا۔

    ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق ننگرہار میں ایک خاندان کے 17 ہلاک اور 5 زخمی ہوئے۔ پکتیکا میں بچوں کے ایک سکول پر حملہ ہوا، جس میں ایک بچہ زخمی اور کئی عمارتیں تباہ ہوئیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’وہاں کوئی مسلح افراد نہیں تھے، صرف شہری زخمی اور ہلاک ہوئے۔‘

    پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور داعش سے منسلک جنگجوؤں کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر افغان سرزمین سے کارروائیاں کر رہے تھے۔ کابل ان دعوؤں کو مسترد کرتا ہے۔

    ذبیح مجاہد نے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ افغانستان عسکریت پسند گروہوں کو پڑوسی ممالک کے خلاف اپنی زمین استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’بدقسمتی سے جب بھی پاکستان میں حملے ہوتے ہیں، وہ فوراً بغیر ثبوت کے انھیں افغانستان سے جوڑ دیتے ہیں اور ہم پر الزام لگاتے ہیں۔ ہم اس کو رد کرتے ہیں۔ افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، جسے پاکستانی طالبان بھی کہا جاتا ہے، کی افغانستان میں کوئی موجودگی نہیں ہے۔

    ’یہ پاکستان کے اندرونی مسائل ہیں۔ ٹی ٹی پی پاکستان کے اندر بڑے علاقوں پر قابض ہے۔ وہ وہاں رہ سکتے ہیں، انھیں افغان زمین کی ضرورت نہیں۔‘انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے اپنے دعوؤں کے حق میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔’بغیر ثبوت یا شواہد پیش کیے، وہ صرف دعوے کرتے ہیں، پروپیگنڈا چلاتے ہیں، اور پھر ایسے اقدامات کرتے ہیں جنہیں ہم ناقابلِ معافی سمجھتے ہیں۔‘

    افغان حکومت کے ترجمان نے خاص طور پر خطے کے ممالک اور مسلم اکثریتی ممالک پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے اقدامات کی مذمت کریں اور اسلام آباد کو اپنا رویہ بدلنے پر مجبور کریں۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ خطے اور اسلامی ممالک اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور پاکستان کو اپنا رویہ بدلنے پر آمادہ کریں۔ تاکہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔‘

  17. ممکنہ تصادم کو روکنے کی ’آخری کوشش‘: امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اور جوہری معاہدے کے لیے دباؤ میں اضافہ

    امریکی اور ایرانی حکام جمعرات کو جنیوا میں بالواسطہ مذاکرات کے تیسرے دور کے لیے ملاقات کریں گے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر جوہری معاہدہ نہ ہوا تو وہ ایران پر حملہ کریں گے۔

    یہ بات چیت مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کے سب سے بڑے اضافے کے دوران ہو رہی ہے، جو 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد سے سب سے بڑی تعیناتی ہے۔ ایران نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ طاقت کے ساتھ جواب دے گا۔

    ان مذاکرات کو ممکنہ تصادم کو روکنے کی آخری کوشش سمجھا جا رہا ہے، لیکن کسی معاہدے کے امکانات اب بھی غیر واضح ہیں۔

    ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ بحران کو سفارتکاری کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ وہ ایران پر محدود حملے پر غور کر رہے ہیں تاکہ اس کی قیادت کو معاہدہ قبول کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔

    صدر نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ وہ مذاکرات میں کیا مطالبات کر رہے ہیں اور آٹھ ماہ بعد فوجی کارروائی کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے، جب کہ امریکہ نے اسرائیل اور ایران کی جنگ کے دوران ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری کی تھی۔

    ایران نے اپنی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی روکنے کے امریکی مطالبے کو مسترد کر دیا ہے، لیکن اس بات کے اشارے ملے ہیں کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں کچھ رعایت دینے پر تیار ہو سکتا ہے۔

    جیسا کہ اس ماہ کے اوائل میں عمان کی ثالثی میں ہونے والے پچھلے دو ادوار کے مذاکرات میں ہوا تھا، ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے، جبکہ امریکہ کی نمائندگی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کریں گے۔

    حالیہ ہفتوں میں امریکہ نے ہزاروں فوجی اور وہ ’آرماڈا‘ بھیج دیا ہے جسے ٹرمپ نے بیان کیا تھا، جس میں دو طیارہ بردار جہاز، دیگر جنگی جہاز، لڑاکا طیارے اور ایندھن بھرنے والے جہاز شامل ہیں۔

    ٹرمپ نے پہلی بار گزشتہ ماہ ایران کو بمباری کی دھمکی دی تھی جب ایرانی سکیورٹی فورسز نے مبینہ طور پر حکومت مخالف مظاہروں کو سختی سے کچل دیا تھا اور ہزاروں افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ لیکن اس کے بعد ان کی توجہ ایران کے جوہری پروگرام پر مرکوز ہو گئی ہے، جو مغرب کے ساتھ ایک طویل تنازعے کا مرکز رہا ہے۔

    دہائیوں سے امریکہ اور اسرائیل ایران پر خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے، تاہم خدشات ہیں کہ وہ واحد ایسا ملک ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار نہیں لیکن اس نے یورینیم کو ہتھیاروں کے درجے تک افزودہ کر رکھا ہے۔

    ایران کا کہنا ہے کہ حملوں کے بعد اس کی یورینیم افزودگی کی سرگرمیاں رک گئی ہیں، اگرچہ اس نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو متاثرہ مقامات تک رسائی نہیں دی۔

    ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہم نے وہ خفیہ الفاظ نہیں سنے کہ ’ہم کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے‘۔‘

    تاہم، اس تقریر سے چند گھنٹے پہلے ایرانی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران ’کسی بھی صورت میں کبھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا‘۔

    عراقچی نے مزید کہا کہ ایک ’تاریخی موقع‘ موجود ہے جس کے ذریعے ایک بے مثال معاہدہ کیا جا سکتا ہے جو باہمی خدشات کو دور کرے اور مشترکہ مفادات حاصل کرے۔

    ٹرمپ کی تقریر پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائلوں اور مظاہروں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں ’بڑے جھوٹ‘ دہرا رہا ہے۔

    ایران کی تجاویز عوامی طور پر ظاہر نہیں کی گئی ہیں، لیکن جنیوا میں ہونے والی بات چیت میں یورینیم افزودگی کے لیے ایک علاقائی کنسورشیم بنانے اور ایران کے تقریباً 400 کلوگرام افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے بارے میں بات شامل ہو سکتی ہے۔ بدلے میں، ایران توقع کرتا ہے کہ اس کی معیشت کو مفلوج کرنے والی پابندیاں ختم کی جائیں۔

    تاہم اریان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ریلیف سے مذہبی حکمرانوں کو سہارا ملے گا۔

    ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ کن شرائط کو معاہدے کے لیے قابلِ قبول سمجھیں گے۔ ایران پہلے ہی اپنے میزائل پروگرام پر پابندیوں اور خطے میں اتحادی گروہوں کی حمایت ختم کرنے پر بات کرنے سے انکار کر چکا ہے۔ یہ اتحاد، جسے تہران ’محورِ مزاحمت‘ کہتا ہے، میں غزہ میں حماس، لبنان میں حزب اللہ، عراق کی ملیشیائیں اور یمن میں حوثی شامل ہیں۔

    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ آنے والے دنوں میں ایران کی انقلابی گارڈز یا جوہری تنصیبات پر ابتدائی حملے پر غور کر رہے ہیں تاکہ ایرانی قیادت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو صدر اتنا آگے جا سکتے ہیں کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہٹانے کی مہم شروع کر دیں۔

    امریکی فوجی قیادت نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر حملے خطرناک ہو سکتے ہیں اور امریکہ کو طویل جنگ میں الجھا سکتے ہیں، حالانکہ ٹرمپ کا اصرار ہے کہ جنرل ڈین کین کا ماننا ہے کہ یہ جنگ ’آسانی سے جیتی جا سکتی ہے۔‘

    دوسری جانب ایران نے دھمکی دی ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں وہ مشرقِ وسطیٰ اور اسرائیل میں امریکی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنائے گا۔

  18. نریندر مودی کی غزہ امن منصوبے کی حمایت، ہولوکاسٹ تاریخ کا سیاہ ترین باب قرار

    انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے غزہ امن منصوبے کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے نہ صرف خطے میں امن قائم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ مسئلہ فلسطین بھی حل ہو گا۔

    انڈین وزیرِ اعظم جو کہ دو روزہ دورے پر بدھ کے روز یروشلم پہنچے ہیں اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) سے خطاب کرنے والے پہلے انڈین رہنما ہیں۔

    بی بی سی ہندی کے مطابق، اپنی تقریر کے دوران، نریندر مودی نے حماس کے سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا، ’انڈیا اس وحشیانہ دہشت گردانہ حملے میں تمام جانوں کے ضیاع پر سوگوار ہے اور متاثرہ افراد کے غم میں برابر کا شریک ہے۔‘

    انڈین وزیر اعظم نے کہا کہ ’شہریوں کے قتل کو کسی بھی طرح جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ انڈیا اسے سمجھ سkتا ہے کیوں کہ ’ممبئی حملے میں اسرائیلی شہری سمیت ہمارے بے گناہ شہری اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔‘

    اسرائیلی پارلیمان سے تقریر کرتے ہوئے انھوں نے ہولوکاسٹ کو دنیا کی تاریخ کا سیاہ ترین باب قرار دیا۔

    انڈیا اور اسرائیل کی ہزاروں سال پرانی تہذیبوں کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ انڈیا کی عوام اسرائیل کی کامیابیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

    اسرائیل کے ساتھ اپنے خصوصی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے نریندر مودی کا کہنا تھا کہ وہ 17 ستمبر 1950 کو پیدا ہوئے تھے، یہ وہی دن ہے جب انڈیا نے اسرائیل کو تسلیم کیا تھا۔

    ’صرف دوست نہیں، بھائی ہیں

    اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کنیسٹ میں وزیر اعظم مودی کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے عزیز دوست، مجھے آج آپ کے یہاں آنے سے بہت خوشی ہوئی ہے۔‘

    انھوں نے نریندر مودی کو اسرائیل کا ایک قریبی دوست، انڈیا-اسرائیل شراکت داری کا عظیم حامی، اور عالمی سطح پر ایک عظیم رہنما قرار دیا۔

    ’میں یہ کہنے کی جسارت کرتا ہوں کہ آپ نہ صرف ایک دوست ہیں، بلکہ ایک بھائی ہیں۔‘

    اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کے پچھلے دورے سے اب تک انڈیا اور اسرائیل کے درمیان تجارت دوگنی جبکہ باہمی تعاون تین گنا بڑھ چکا ہے۔

    انڈین وزیرِ اعظم کے دورے کے موقع پر اسرائیلی پارلیمان کو انڈیا کے پرچم کے رنگوں سے سجایا گیا تھا۔

  19. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے بروقت اور جامع اقتصادی اصلاحات ناگزیر ہیں جس کے لیے وفاق، صوبوں اور تمام ریاستی اداروں کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہو گا۔ اسلام آباد میں پاکستان گورننس فورم سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں براہِ راست (ڈائریکٹ) ٹیکسوں میں کمی پر غور کر رہی ہے تاکہ کاروباری برادری کو ریلیف ملے جبکہ بالواسطہ ٹیکسوں کی مکمل وصولی یقینی بنائی جائے گی۔
    • ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ ایران امریکہ مذاکرات کے تیسرے دور کے نتیجے میں واشنگٹن کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت رہبرِ اعلیٰ کی رہنمائی میں اس راہ پر چل رہی ہے تاکہ اس کشمکش کی صورتحال سے نکلا جا سکے۔
    • اردن کے شاہ عبداللہ دوم کا کہنا ہے کہ ان کا ملک کسی علاقائی تنازع میں اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی یا استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اردن کے شہریوں کا تحفظ ان کی اوّلین ترجیح ہے۔
    • بلوچستان کے دو اضلاع میں تشدد کے دو مختلف واقعات میں تین سیکورٹی اہلکاروں سمیت کم ازکم نو افراد ہلاک اور چار افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں چھ عام شہری بھی شامل ہیں، جن کو ایران سے متصل سرحدی ضلع کیچ میں نشانہ بنایا گیا۔
    • پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے ایک رُکن اسمبلی نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی آنکھ کی بیماری کے حوالے سے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے اور عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان کے رہنما کو اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔
    • جاپان کے وزیرِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ وہ مارچ 2031 تک تائیوان کے قریب واقع اپنے دور دراز مغربی جزیرے پر زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل تعینات کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ جاپان نے سنہ 2022 میں پہلے اعلان کے بعد یوناگونی جزیرے پر میزائل تعیناتی کے لیے کوئی واضح ٹائم لائن دی ہو۔ چین خود مختار تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور اس کے ساتھ ’دوبارہ اتحاد‘ کے لیے طاقت کے استعمال کے امکان کو رد نہیں کرتا۔
Trending Now