یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
26 مارچ کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ کئی دنوں سے امریکہ نے مختلف ثالثوں کے ذریعے پیغامات بھیجنے شروع کیے ہیں تاہم ایران کی پالیسی 'دفاع جاری رکھنے' کی ہے اور ان کا 'فی الحال مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔' ابوظہبی میں حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایک میزائل کا ملبہ گرنے سے دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق متعدد کاروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
26 مارچ کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
ابوظہبی میں حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایک میزائل کا ملبہ گرنے سے دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق متعدد کاروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری لڑائی کے دوران ابو ظہبی کو بھی متعدد حملوں کا سامنا رہا ہے اور یہاں ایران نے اب تک 2100 سے زائد میزائل اور ڈرونز لانچ کیے ہیں۔
اگرچہ وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ زیادہ تر حملوں کو روک دیا گیا ہے، لیکن معلومات تک رسائی میں یہاں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
حملوں سے ہونے والے نقصانات کی تصاویر لینے اور ویڈیو ریکارڈ کرنے کی پاداش میں اب تک 100 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
برطانیہ کے دفتر خارجہ نے برطانیہ کے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ یہاں کی حکومت پر تنقید کرنے والے مواد کو پوسٹ کرنا بھی غیر قانونی ہے۔
لیکن ابوظہبی میں ہونے والے یہ حملے متحدہ عرب امارات میں تحفظ اور استحکام کی کھینچی گئی تصویر کو دُھندلا کر رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت کے دوران اس کے میزائل اور ڈرون پروگرام پر طویل مدت تک پابندی ہونی چاہیے۔
حکام یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ایرانی حملوں نے متحدہ عرب امارات کو واشنگٹن کے ساتھ اپنے سکیورٹی تعلقات کو بڑھانے پر مجبور کیا ہے۔
ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے پاکستانی ہم منصب شہباز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔
وزیرِ اعظم پاکستان کے دفتر کے مطابق گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے عید الفطر کی مبارکباد کا تبادلہ کیا اور امت کے اتحاد اور ترقی کے لیے دعا کی۔
بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی قیادت میں ثالثی کی کوششوں کی حمایت کے پیغام پر ملائیشیا کے وزیرِ اعظم کو خراج تحسین پیش کیا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ملائیشیا کے وزیر اعظم کو امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے برادر خلیجی ممالک اور ایران کے رہنماؤں کے ساتھ ان کی بات چیت سمیت تازہ ترین سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔
بیان کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ملائیشیا کے وزیرِ اعظم کا شکریہ ادا کیا اور اُنھیں یقین دلایا کہ پاکستان خطے کی موجودہ صورتحال میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مخلصانہ اور حقیقی کوششیں جاری رکھے گا۔ دونوں رہنماؤں نے آپسی رابطے بحال رکھنے پر اتفاق کیا۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے شروع ہونے کے بعد سے ایران میں انٹرنیٹ تقریباً مکمل طور پر بند ہے۔ لیکن بی بی سی جنگ کے بارے میں کچھ ایرانیوں سے بات چیت کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
20 سال علی بھی لازمی فوج سروس کے اہل ہیں، حال ہی میں ایک فوجی اڈے پر فضائی حملے میں اُن کے ایک قریبی دوست کی ہلاکت ہو گئی تھی۔
علی کہتے ہیں کہ ’میں نے سنا کہ اُنھوں نے اس جگہ پر بمباری کی ہے۔ اس کے بعد، مجھے پتہ چلا کہ میرا دوست مارا گیا ہے۔ مجھے خود یقین نہیں آیا۔ میں نے دوسرے دوستوں کو فون کیا اور اُنھوں نے مجھے بتایا: ہاں ہمارا وہ دوست مارا گیا ہے۔‘
ایران میں 18 سال سے زیادہ عمر کے ہر مرد کے لیے فوجی تربیت حاصل کرنا لازمی ہے۔
علی کہتے ہیں کہ ’آپ کو جانا پڑتا ہے۔ وہ آپ کے پیچھے آتے ہیں، وہ آپ کو گھر سے لے جاتے ہیں۔ وہ اگر آپ کو گھر سے باہر دیکھتے ہیں تو آپ کو اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔‘
لیکن علی کا کہنا ہے کہ ’میں نہیں جانا چاہتا، میں کوئی نظریاتی نوجوان نہیں ہوں۔ سادہ سی بات ہے کہ میں مرنا نہیں چاہتا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’میں یقینی طور پر نہیں جاؤں گا، کیونکہ میری زندگی کو خطرہ ہو گا۔ میں پوری کوشش کروں گا کہ مجھے فوج میں نہ جانا پڑے۔‘
پاکستان میں وفاقی حکومت نے ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے رواں مالی سال کے لیے ترقیاتی بجٹ میں 10 فیصد کمی کرتے ہوئے اسے 1000 ارب روپے سے کم کر کے 900 ارب روپے کر دیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے بین الاقوامی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کے لیے سبسڈی فراہم کی، تاہم ہائی آکٹین اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کرنا پڑا۔
وزارتِ خزانہ نے وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا ہے کہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں 100 ارب روپے کی کمی کر دی گئی ہے۔
حکومت نے پی ایس ڈی پی کے تحت وزارتوں، ڈویژنز اور محکموں کے لیے 685.9 ارب روپے مختص کیے تھے، جن میں 583 ارب روپے مقامی جبکہ 102 ارب روپے کا فارن فنانس شامل تھا۔ اس کے علاوہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) اور پاور سیکٹر کارپوریشن سمیت کارپوریشنز کے لیے 314 ارب روپے رکھے گئے تھے، جس سے مجموعی حجم 1000 ارب روپے بنتا تھا۔
دریں اثناء وزیراعظم کی ہدایات پر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو وزیراعظم کے کفایت شعاری فنڈ سے 27 ارب روپے کی پہلی قسط فراہم کر دی گئی ہے تاکہ حکومت کے اس فیصلے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے پرائس ڈیفرینشل کلیمز ادا کیے جا سکیں، جس کے تحت صارفین کو بین الاقوامی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق یہ فنڈز وفاقی حکومت کے اندر مختلف اخراجات میں کمی کے اقدامات کے ذریعے حاصل کیے گئے اور انھیں وزیراعظم کے کفایت شعاری فنڈ میں جمع کرایا گیا۔ حکومت اس بات پر بھی غور کر رہی ہے کہ مزید اخراجات میں کمی کے اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے، بجٹ کی حدود میں رہتے ہوئے مزید بچت کے مواقع بھی تلاش کیے جا سکیں۔
اسرائیل کی ایمرجنسی سروس میگن ڈیوڈ ایڈوم (ایم ڈی اے) کا کہنا ہے کہ وسطی اسرائیل پر ہونے والے میزائل حملے کے بعد چھ افراد کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق کفر قاسم شہر میں بھی کئی مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق میزائل ایران کی جانب سے داغے گئے۔
اس سے قبل متحدہ عرب امارات میں حکام نے بتایا تھا کہ یہاں ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کو روکا جا رہا ہے۔
اماراتی حکام کے مطابق بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے لیے فضائی دفاعی نظام تعینات کیا جا رہا ہے جب کہ لڑاکا طیارے آنے والے ڈرون کو مار گرانے کے لیے آسمان پر ہیں۔
بدھ کی رات سے وزارت دفاع کی جانب سے یہ تیسرا انتباہ جاری کیا گیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کی ڈرون اور میزائل سازی کی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اس کے شپ یارڈز کے دو تہائی حصے کو ’نقصان یا تباہ‘ کر دیا ہے۔
کوپر نے بدھ کے روز ایک پر اپنے بیان میں کہا کہ ’اب تک، ہم نے ایران کے دو تہائی سے زیادہ ڈرون اور میزائل کی تیاری کی تنصیبات کے ساتھ ساتھ اس کے شپ یارڈز کو نقصان یا تباہ کر دیا ہے اور ہم یہ سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘
اُنھوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ امریکہ نے ایرانی بحری بیڑے کا 92 فیصد تباہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے تہران خطے اور دُنیا میں اپنے بحری اثر و رسوخ کو نمایاں طور پر کھو چکا ہے۔
اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران سے بیلسٹک میزائل لانچ اور ڈرون حملوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ امریکہ، ایرانی فضائی حدود کو بھی کنٹرول کر رہا ہے۔
ایڈمرل کور کے مطابق امریکی افواج نے ایران میں 10 ہزار سے زائد فوجی اہداف پر بمباری کی ہے۔
اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ اس نے ایک گھنٹے میں ایران سے اسرائیل کی طرف داغے گئے میزائلز کے دو راؤنڈز کی نشاندہی کی ہے۔
آئی ڈی ایف نے شہریوں کو خبردار کیا کہ وہ محفوظ مقامات پر پناہ لیں۔
اسرائیل کی ایمرجنسی سروس میگن ڈیوڈ ایڈوم نے کہا کہ وہ وسطی اسرائیل میں دو لوگوں کو طبی علاج فراہم کر رہی ہے۔
ایران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
بدھ کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ دوست ممالک نے امریکی تجاویز بھجوائی ہیں، تاہم یہ کوئی مذاکرات یا گفت و شنید نہیں ہے۔
بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا کہ ایران کے رہنما یہ تسلیم کرنے سے ’ڈرتے‘ ہیں کہ وہ بات چیت کر رہے ہیں۔
اس دوران برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 1٫6 فیصد اضافے کے ساتھ 103٫85 ڈالرز تک پہنچ گئی ہے۔ جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 1.4 فیصد اضافے کے ساتھ 91.61 ڈالر پر کی سطح پر ہے۔
امریکی محکمہ ڈاک نے جنگ کی وجہ سے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیشِ نظر پہلی مرتبہ آٹھ فیصد عارضی فیول سرچارج عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
محکمہ ڈاک کے مطابق اس اقدام کا مقصد مارکیٹ کے حالات کے مطابق ادارے کو ڈھالنا اور مالی دباؤ کے بغیر ملک گیر سروسز جاری رکھنا ہے۔
محکمہ ڈاک کے مطابق اس اضافے کا اطلاق صرف پیکجز پر ہو گا جبکہ صرف خطوط پر یہ لاگو نہیں ہو گا۔ اس فیس کا اطلاق ترجیحی میل اور زمینی سروس جیسی خدمات کی بنیادی قیمت پر کیا جائے گا۔
یہ اضافہ 26 اپریل سے نافذ العمل ہوگا اور 17 جنوری 2027 تک جاری رہے گا۔ اس کے بعد، امریکی پوسٹل سروس فیصلہ کرے گی کہ آیا کسی اور طویل مدتی حل کی ضرورت ہے۔
امریکی پوسٹل سروس (یو ایس پی ایس) ہفتے میں 17 کروڑ سے زائد پارسلز کی ترسیل کرتی ہے، اس کے مطابق دیگر پوسٹل سروسز نے بہت پہلے ہی اضافی سرچارج لگا دیا تھا۔ تاہم یہ باقی کمپنیوں کے مقابلے میں بہت کم ہے، جنھوں نے اس مد میں 33 فیصد سرچارج لگایا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کی جانب سے ایف-18 لڑاکا طیارہ مار گرانے کی تردید کی ہے۔ اس سے قبل ایران کے پاسداران انقلاب نے جنگ کے دوران ایک امریکی ایف-18 طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔
پاسداران انقلاب نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ یہ طیارہ چابہار کے قریب گرایا گیا۔
آئی آر جی سی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آئی آر جی سی کی نیول موبیلائزیشن فورس کے جدید ایئر ڈیفنس نے ایک لڑاکا طیارے کو درستگی سے نشانہ بنایا جو بحر ہند میں گر کر تباہ ہو گیا۔‘
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس پر فوری ردعمل دیتے ہوئے ایک پر لکھا کہ یہ خبر درست نہیں ہے۔
امریکی صدر ایران جنگ کو ختم کرنے کے لیے کسی راستے کی تلاش میں بہت دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں، جسے وہ جنگ کو ’سمیٹنا‘ کہتے ہیں۔
لیکن اس جنگ سے باہر نکلنے کے لیے صدر ٹرمپ کی حکمت عملی واضح نہیں ہے اور امریکی صدر کے ملے جلے پیغامات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس بارے میں تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر سکے کہ کون سی حکمت عملی بہتر ہو گی۔
آیا اس جنگ کو جلد از جلد ختم کیا جائے یا ایران کے ساتھ بات چیت کے ذریعے کسی تصفیے تک پہنچا جائے۔
منگل کے روز، ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ امریکہ ایک ساتھ دونوں منصوبوں پر عمل کر سکتا ہے۔ چند گھنٹوں میں، پینٹاگون نے ایران میں زمینی فوج بھیجنے کا حکم دیا اور امریکی مذاکرات کاروں نے ایرانی حکومت کو ایک نیا 15 نکاتی امن منصوبہ بھیجا۔
بدھ تک، وائٹ ہاؤس ایران پر زور دے رہا تھا کہ وہ اس معاہدے کو قبول کر لے جبکہ یہ دھمکی دے رہا تھا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو اس ملک کو پہلے سے زیادہ سخت ضرب لگائیں گے، جس سے ٹرمپ کے ارادوں کے بارے میں مزید الجھن پیدا ہو گی۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے صحافیوں سے گفتگو میں خبردار کیا تھا کہ ’صدر ٹرمپ کوئی جھوٹا دعویٰ نہیں کرتے وہ ایران پر جہنم برپا کرنے کے لیے تیار ہیں اور اس معاملے پر ایران کو کوئی غلط اندازہ نہیں لگانا چاہیے۔‘
ایک جانب واشنگٹن تہران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کی بات کر رہا ہے تو وہیں ایران سے یکسر مسترد کر رہا ہے۔
یہ اختلاف ایک گہرے عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے جو فریقین کے درمیان پچھلے مذاکرات سے پیدا ہوا تھا۔ فریقین کے درمیان دو مرتبہ کشیدگی کم ہونے کی اُمید پیدا ہوئی۔ لیکن دونوں مرتبہ ایران پر اسرائیلی اور امریکی فوجی حملے ہوئے۔
ایران کے نقطہ نظر سے بات چیت نے جنگ کے امکانات کو کم نہیں کیا ہے، کیونکہ اس سے پہلے بھی مذاکرات کے باوجود حملے ہوئے، اسی لیے صدر ٹرمپ کے دعوؤں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
ایران کے انکار کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مذاکرات کے خلاف ہے, مسئلہ یہ ہے کہ صورتحال بہت پیچیدہ ہو چکی ہے۔
سفارت کاری کی حمایت کرنے والے اہلکار بھی دباؤ میں ہیں۔ دوبارہ مذاکرات کی کوشش کرنا خطرناک ہو گا۔ اس بات کی کوئی واضح علامت نہیں ہے کہ اب مذاکرات کی صورت میں کچھ مختلف ہو گا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر حکام کے سخت لہجے سے بھی اس معاملے پر وضاحت ملتی ہے۔
بدھ کو بات کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ گزشتہ تین دنوں سے ایران کے ساتھ ’نتیجہ خیز بات چیت‘ میں مصروف ہیں۔
اُنھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف کارروائی شیڈول کے مطابق ہے اور ایرانی حکومت اس جنگ سے نکلنے کی کوشش میں ہے۔
یہ پیغام ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے لہجے کے بالکل برعکس ہے، جنھوں نے بعد میں کہا تھا کہ ایران کا ’فی الحال مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘
اُنھوں نے تصدیق کی کہ ’دوست ممالک‘ کے ذریعے ایران کو پیغامات بھجوائے گئے ہیں، لیکن پیغامات کا یہ تبادلہ مذاکرات یا کوئی گفت و شنید نہیں ہے۔
لیکن صدر ٹرمپ کا اصرار ہے کہ ’ایران مذاکرات کر رہا ہے۔‘ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ یہ کہنے سے ڈرتے ہیں کہ کیونکہ اُنھیں اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں مارے جانے کا خدشہ ہے اور اُنھیں امریکہ کے ہاتھوں مارے جانے کا بھی خطرہ ہے۔
جنگ کے خاتمے کی تجاویز کے بارے میں متضاد اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بدھ کے روز یہ خبریں آئی تھیں کہ ایران کو امریکہ سے جنگ بندی کے لیے 15 نکات موصول ہوئے ہیں۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی نے ایک سینئر ایرانی سکیورٹی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی پانچ شرائط ہیں، جن میں جنگی نقصانات کے ازالے اور معاوضے کی ادائیگی اور تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ بھی شامل ہے۔
دریں اثنا لڑائی جاری ہے اور ایران کی جانب سے میزائل حملے کے بعد اسرائیل کے ایک پاور سٹیشن سے دُھواں اُٹھتا ہوا دیکھا گیا ہے۔ جبکہ تہران میں ایرانی فضائی دفاعی نظام بھی متحرک ہے۔
ایک ایرانی فوجی اہلکار نے کہا ہے کہ اگر ایرانی سرزمین یا خلیج فارس میں اس کے جزائر پر امریکہ نے زمینی حملہ کیا گیا تو ملک ’باب المندب کی آبنائے میں ایک نیا محاذ کھول سکتا ہے۔‘
پاسدارانِ انقلاب سے منسلک سرکاری خبر رساں ایجنسیوں تسنیم اور فارس نے یہ خبر دی ہے۔
یمن کے حوثی، جو ایران کے اتحادی ہیں، اس سے پہلے بھی باب المندب کے علاقے میں حملے کر چکے ہیں۔
باب المندب کی آبنائے بحیرہ احمر اور بحرِ ہند کے درمیان ایک اہم گزرگاہ ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوترش نے امریکہ اور اسرائیل سے کہا ہے کہ اب جنگ ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے، اور ایران سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ قریبی ممالک پر حملے بند کرے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے گوترش نے بتایا کہ لوگ ’بہت غیر یقینی صورتحال‘ میں زندگی گزار رہے ہیں اور وہ خود حال ہی میں لبنان کے دورے کے دوران یہی صورتحال دیکھ چکے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’وہاں بھی جنگ ختم ہونی چاہیے‘ اور حزب اللہ سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل پر حملے بند کرے اور اسرائیل سے کہا کہ اپنی فوجی کارروائیاں اور حملے روک دے۔
انھوں نے مزید کہا: ’غزہ کا ماڈل لبنان میں دہرایا نہیں جانا چاہیے۔‘
خلیجی ممالک کے لیے صورتحال واضح ہے: وہ اب بھی ایران کے ردعمل کی پہلی صف میں ہیں، اور آبنائے ہرمز جس پر ان کی معیشتوں کا انحصار ہے، تاحال محفوظ نہیں۔
کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک ڈرون حملے کے بعد فیول ٹینک میں آگ بھڑک اٹھی، جس پر ہنگامی عملے نے قابو پایا۔ اگرچہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اہم تنصیبات اب بھی خطرے کی زد میں ہیں۔
اقوام متحدہ میں کویت کے سفیر ناصر عبداللہ الہین نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں کہا کہ یہ جارحانہ طرزِ عمل بین الاقوامی خودمختاری اور انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی انتہا تک پہنچ چکا ہے۔
متحدہ عرب امارات ایران کے حملوں کا سب سے زیادہ نشانہ بنا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ ’دہشت گردوں کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہو گا‘۔ حکام کے مطابق اگر ایران کی حکومت برقرار رہتی ہے تو تعلقات کی بحالی مشکل ہو گی۔
خطے کے رہنما اس بات کی ضمانت چاہتے ہیں کہ ان کا علاقہ دوبارہ ایران کے مخالفین کے خلاف استعمال نہیں ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ احساس بھی مضبوط ہو رہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات شاید وہ تحفظ فراہم نہیں کر رہے جس کی توقع کی جا رہی تھی۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ایرانی سرکاری میڈیا کو دیے گئے انٹرویو سے مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
ٹی وی پر نشر ہونے والے اس انٹرویو میں عراقچی نے تنازع کے خاتمے کے لیے امریکہ کے مبینہ 15 نکاتی منصوبے کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا، تاہم اس دستاویز پر ان کا مؤقف فوری طور پر واضح نہیں ہے۔
انھوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ’کچھ تجاویز‘ پیش کی گئی ہیں اور ’ایک یا دو مواقع پر‘ انھوں نے سنا ہے کہ انھیں ’15 نکاتی منصوبہ‘ کہا جا رہا ہے۔
عراقچی نے کہا ’یہ (خیالات) مختلف انداز میں مختلف تجاویز کے طور پر پیش کیے جا رہے تھے، جنھیں ملک کی اعلیٰ قیادت تک پہنچا دیا گیا ہے۔ اگر ان (تجاویز) پر کوئی مؤقف اختیار کرنا ہوا تو وہ یقیناً طے کیا جائے گا۔‘
اس سے قبل اسی انٹرویو سے متعلق اپنی رپورٹ میں ہم بتا چکے ہیں کہ عراقچی نے کہا تھا کہ ایران کا ’فی الحال مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں ہے‘، تاہم انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ’امریکی فریق مختلف ثالثوں کے ذریعے مختلف پیغامات بھیجنا شروع کر چکا ہے۔‘
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے آج ایران کے سرکاری ٹی وی کے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’کئی دنوں سے امریکی فریق نے مختلف ثالثوں کے ذریعے پیغامات بھیجنے شروع کیے ہیں۔‘
لیکن ان کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ پیغامات ’دوستانہ ممالک کے ذریعے پہنچائے گئے‘ اور ایران نے ان کا جواب اپنی پوزیشن بیان کرکے اور انتباہات جاری کرکے دیا، اس لیے یہ ’نہ مکالمہ ہے، نہ مذاکرات، اور نہ ہی اس نوعیت کی کوئی چیز۔‘
عراقچی نے یہ بھی کہا کہ فی الحال ایران کی پالیسی ’دفاع جاری رکھنے‘ کی ہے اور ان کا ’فی الحال مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں‘۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ اسرائیل کی جنگ ہے اور اس کی قیمت خطے کے عوام اور امریکہ کے عوام ادا کر رہے ہیں۔‘
ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف سے منسوب ایکس اکاؤنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ کچھ اطلاعات یہ بتاتی ہیں کہ ایران کے دشمن، خطے کے ایک ملک کی پشت پناہی سے، ایران کے ایک جزیرے پر قبضے کی تیاری کر رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دشمن کی تمام نقل و حرکت ہماری مسلح افواج کی کڑی نگرانی میں ہے اور اگر انھوں نے کوئی غلط قدم اٹھایا تو اس علاقائی ملک کا ’تمام اہم انفراسٹرکچر بلا کسی پابندی کے مسلسل حملوں کا ہدف بنے گا‘۔
بیان میں نہ اس ملک کا نام لیا گیا ہے اور نہ اس جزیرے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
کچھ غیر مصدقہ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ قالیباف کو ممکنہ شراکت دار اور حتیٰ کہ مستقبل کے ممکنہ رہنما کے طور پر دیکھ رہی تھی۔