وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے عشائیے میں شوٹنگ، ملزم کول تھامس ایلن پر فرد جرم عائد

،تصویر کا ذریعہDepartment of Justice
کول تھامس ایلن کو امریکی صدر کے قتل کی ناکام کوشش کے بعد گرفتار کیا گیا تھا، کو آج ایک امریکی عدالت میں باقاعدہ طور پر پیش کیا گیا تھا، جہاں ان کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی۔ ان پر جو فرد جرم میں امریکہ کے صدر پر قاتلانہ حملے کی کوشش، پرتشدد جرم کے دوران آتشیں اسلحہ کا استعمال، جرم کرنے کے ارادے سے آتشیں اسلحے کی بین ریاستی نقل و حمل جیسے الزامات عائد کیے گئے۔
جب جج نے ان سے یہ استفسار کیا کہ کیا وہ اپنے خلاف الزامات سے متعلق آگاہی رکھتے ہیں تو کول تھامس نے جواب دیا: ’ہاں، یور آنر۔‘
فیڈرل پراسیکیوٹر جوسلین بالنٹائن نے کول تھامس ایلن کی پیشی کے دوران کہا کہ مدعا علیہ کے پاس 12 گیج کی شاٹ گن، تین چاقو اور دیگر ہتھیار تھے۔
سماعت کے دوران، پراسیکیوٹر نے جج سے کہا کہ وہ ملزم کو حراست میں رکھنے کا حکم دیں کیونکہ ان پر دہشت گردی کے جرائم کا الزام ہے۔
اگرچہ کول تھامس ایلن کے الزامات میں سے کوئی بھی براہ راست دہشت گردی کا الزام نہیں مگر صدر کو قتل کرنے کی کوشش کو ملکی سطح پر دہشت گردی سمجھا جا سکتا ہے۔ امریکی قانون کے تحت، اس میں عمر قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔
ابھی تک ملزم کول تھامس نے صحت جرم سے انکار نہیں کیا اور انھوں نے کوئی الزام تسلیم کیا ہے۔















