لائیو, ’امریکہ اب اس پوزیشن میں نہیں رہا کہ آزاد ممالک پر اپنی پالیسیاں مسلط کر سکے‘ ایران کے نائب وزیرِ دفاع

ایران کے نائب وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ امریکہ اب اس پوزیشن میں نہیں رہا کہ وہ آزاد ممالک پر اپنی پالیسیاں مسلط کر سکے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حقیقت ایرانی عوام اور مسلح افواج کی ثابت قدمی کے ذریعے دنیا کے سامنے آ چکی ہے۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی تازہ ترین تجویز سے ڈونلڈ ٹرمپ خوش نہیں ہیں۔

خلاصہ

  • ایران میں پیٹرول کی قلت ہونے والی ہے، ایرانی ایئرلائنز سے تعاون کرنے والی کمپنیاں امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتی ہیں: امریکی وزیر خزانہ
  • جنگ کے خاتمے سے متعلق ایران کی تازہ ترین تجویز پر ڈونلڈ ٹرمپ خوش نہیں ہیں: رپورٹ
  • جنگ کے دوران 50 ہسپتالوں اور ایمرجنسی مراکز کو نقصان پہنچا: ایرانی وزیر صحت
  • ایرانی وزیر خارجہ کا ’سفارتکاری کے لیے روس کی حمایت کا خیر مقدم‘
  • ایرانی اراکین پارلیمان کی امریکہ سے بات چیت کے لیے مرکزی مذاکرات کار کے طور پر باقر قالیباف کی حمایت

لائیو کوریج

  1. خلیجی ممالک کا سربراہی اجلاس آج جدہ میں منعقد ہو گا, منال خلیل - خلیج امور کی ٹیم

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    خلیجی ممالک کا ایک سربراہی اجلاس آج جدہ میں منعقد ہو رہا ہے جس میں خطے کی تازہ ترین صورتِ حال پر غور کیا جائے گا۔

    خلیج تعاون کونسل کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جی سی سی کے ممالک منگل کو سعودی عرب کے شہر جدہ میں ایک سربراہی اجلاس منعقد کریں گے۔

    یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطہ تیز رفتار سیاسی اور سکیورٹی پیش رفت سے گزر رہا ہے اور توقع ہے کہ رہنما مشترکہ ہم آہنگی کو مضبوط بنانے اور علاقائی تعاون سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کریں گے۔

  2. ’امریکہ اب اس پوزیشن میں نہیں رہا کہ آزاد ممالک پر اپنی پالیسیاں مسلط کر سکے‘ ایران کے نائب وزیرِ دفاع

    ایران کے نائب وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ امریکہ اب اس پوزیشن میں نہیں رہا کہ وہ آزاد ممالک پر اپنی پالیسیاں مسلط کر سکے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حقیقت ایرانی عوام اور مسلح افواج کی ثابت قدمی کے ذریعے دنیا کے سامنے آ چکی ہے۔

    ایران کے سرکاری میڈیا پریس ٹی وی کے مطابق بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی‌ نیک نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک پہنچنے پر (جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے دفاع کے اجلاس میں شرکت کے لیے گئے تھے) بین الاقوامی سطح پر ایران کی مسلح افواج کے اور ایرانی عوام کی مثالی مزاحمت کی اہمیت پر زور دیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’امریکہ اب اس پوزیشن میں نہیں کہ آزاد ممالک پر اپنی پالیسیاں مسلط کر سکے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت ’ایرانی عوام اور مسلح افواج کی ثابت قدمی کے ذریعے پوری دنیا کے سامنے آشکار ہو چکی ہے۔ امریکہ بالآخر یہ تسلیم کرے گا کہ اسے اپنے غیر قانونی اور غیر معقول مطالبات ترک کرنا ہوں گے۔‘

    طلائی‌ نیک نے دعویٰ کیا کہ ’اب پوری دنیا امریکہ اور اسرائیل کو ’ریاستی دہشت گردی کی علامتیں‘ سمجھتی ہے۔‘

    انھوں نے کہا ’بے گناہوں کے قتلِ عام میں ان کے جرائم، خصوصاً میناب سکول کے بچوں اور طلبہ کے قتل، نے ان اقدار کے حوالے سے مغربی دنیا کی ساکھ کو تباہ کر دیا ہے جن کا وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ان کی پاسداری کرتی ہے۔‘

    defapress.ir

    ،تصویر کا ذریعہdefapress.ir

    نائب وزیرِ دفاع رضا طلائی‌ نیک نے مزید کہا کہ ایران اپنے دفاعی ہتھیاروں کی صلاحیتیں ’آزاد ممالک، بالخصوص شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے ارکان‘ کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔

    یاد رہے ایران نے فروری کے اواخر سے اپریل کے اوائل تک امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایک جنگ لڑی، جس کے دوران اس نے خطے میں امریکی اڈوں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی مقامات کے خلاف ڈرونز اور میزائلوں کی لہریں داغیں، جبکہ اپنی فضائی حدود میں امریکی فضائی اہداف، بالخصوص ڈرونز، کو وقفے وقفے سے مار گرایا۔

    طلائی‌ نیک نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے دفاع کے اجلاس کے دوران، جو کرغز دارالحکومت میں منعقد ہوا، کہا، ’ہم تنظیم کے دیگر ارکان کے ساتھ امریکہ کی شکست کے تجربات شیئر کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

    ایرانی اہلکار نے حال ہی میں روسی اور بیلاروسی دفاعی حکام کے ساتھ بات چیت کی، جس کے دوران ماسکو اور منسک نے تہران کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے اپنے عزم پر زور دیا۔

    اس جنگ کے سلسلے میں اس ماہ کے اوائل میں اعلان کردہ جنگ بندی کے بعد لڑائی رکی ہوئی ہے، تاہم دو ماہ طویل تنازعے کے حل کی کوششیں تعطل کا شکار ہو گئی ہیں۔

  3. ایران میں پیٹرول کی قلت ہونے والی ہے: امریکی وزیر خزانہ

    امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران میں پیٹرول کی قلت پیدا ہونے والی ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں انھوں نے کہا کہ امریکہ کی بحری ناکہ بندی کی وجہ سے ایران کی تیل پیدا کرنے کی صنعت بند ہو رہی ہے اور ’جلد ہی تیل نکالنے کا عمل رک جائے گا۔‘

    امریکی وزیر خزانہ کے مطابق اس کے بعد ’ایران میں پیٹرول کی قلت پیدا ہو جائے گی۔‘

    ایکس پوسٹ میں سکاٹ بیسنٹ نے یہ بھی لکھا کہ پاسداران انقلاب کے جو رہنما بچ گئے ہیں وہ اس وقت پھنس چکے ہیں۔

    امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

  4. بحری ناکہ بندی کے باوجود روس کا لگژری جہاز آبنائے ہرمز عبور کر گیا

    آبنائے ہرمز سے گزرنے والا لگژری جہاز

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایک ایسا بڑا اور پرتعیش کروز جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہوا ہے جو روسی صدر ولادیمیر پوتن کے قریبی لوگوں میں سے ایک سے منسلک ہے۔

    ’رولنگ‘ نامی 142 میٹر لمبے جہاز کو روسی ارب پتی الیکسی مرداشوف سے منسوب کیا جاتا ہے جو عالمی پابندیوں کی زد میں ہیں۔

    مرداشوف کے روسی صدر پوتن سے قریبی تعلقات ہیں۔ یہ جہاز باضابطہ طور پر ان کے نام رجسٹرڈ نہیں ہے لیکن ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2022 میں یہ جہاز ان کی اہلیہ کی ملکیت والی کمپنی کے نام پر رجسٹرڈ ہوا تھا۔

    اندازے کے مطابق اس کی مالیت 50 کروڑ ڈالرز سے زیادہ ہے۔

    یہ جہاز ہفتے کے آخر میں دبئی سے مسقط روانہ ہوا اور ان چند نجی جہازوں میں سے ایک ہے جو حالیہ بندش کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔

    ایران نے اس ہفتے روس کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات کیے جبکہ امریکہ کے ساتھ آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے پر تعطل اب بھی برقرار ہے۔

    جہازوں کی آمد و رفت کا حساب رکھنے والی ویب سائٹ میرین ٹریفک کے مطابق روسی پرچم والا یہ لگژری جہاز جمعہ کی رات دبئی سے روانہ ہوا اور اتوار کی صبح عمان کے دارالحکومت میں واقع تفریحی مرینا الموج پہنچا۔

    خلیج فارس کے اس راستے پر سمندری ٹریفک اب جنگ سے پہلے کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

  5. اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان میں تقریباً 1000 اہداف تباہ کرنے اور بڑی مقدار میں اسلحہ ضبط کرنے کا دعویٰ

    لبنان میں اسرائیلی فوجیوں کی کارروائیاں

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں اس کی فورسز نے آپریشنز کے دوران تقریباً 1000 ایسی تنصیبات کو تباہ کیا ہے جنھیں اس نے ’دہشت گردوں کا انفراسٹرکچر‘ قرار دیا۔

    اسرائیلی فوج کی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ایلا واویہ نے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’یہ انفراسٹرکچر حزب اللہ کے کارکن اسرائیلی افواج کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہے تھے۔‘

    بیان میں کہا گیا کہ کارروائیوں کے دوران فوج نے سینکڑوں ہتھیار بھی برآمد کیے، جن میں مشین گنز، کلاشنکوف رائفلیں، دستی بم، بارودی سرنگیں، پستول، اینٹی ٹینک میزائل، آر پی جی گولے اور مارٹر شیلز شامل ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ علاقے میں اس کی کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ ان کا خاتمہ کیا جا سکے جنہیں اسرائیلی فوج خطرہ قرار دیتی ہے۔

  6. لداخ میں ایک اور انتظامی تبدیلی، پانچ نئے اضلاع کا قیام, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کا ہمالیائی خطہ لداخ سات برس میں دوسری بڑی انتظامی تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ خطے کے لیفٹینٹ گورنر نے ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ لیہہ اور کرگل نامی دو ضلعوں پر مشتمل لداخ میں مزید پانچ نئے اضلاع (نوبرا، شام، چھانگتھنگ، دراس اور زانسکار) قائم کر دیے گئے ہیں۔

    سنہ 2011 میں ہوئی مردم شماری کے مطابق لداخ کی کل آبادی دو لاکھ 75 ہزار ہے ، تاہم لداخ کا رقبہ 87 ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے اور اس کی سرحدیں چین اور پاکستان کے ساتھ ملتی ہیں۔

    لداخ کے سیاسی اور سماجی حلقوں نے اس نئے فیصلے کا یہ کہتے ہوئے خیرمقدم کیا ہے کہ نئے اضلاع کی تشکیل سے اس خطے کے لیے وفاقی فنڈنگ میں اضافہ ہو گا اور دور دراز علاقوں میں ترقی کے امکانات بڑھیں گے۔ تاہم کشمیر میں اس فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

    کالم نویس اور تجزیہ نگار طاہر بیگ کا کہنا ہے کہ ’پورے جموں کشمیر میں فی ضلع آبادی کا اوسط آٹھ لاکھ ہے، جبکہ نئے فیصلے کے مطابق لداخ کی فی ضلع آبادی 40 ہزار سے بھی کم ہو گی، کیونکہ لداخ کی کل آبادی صرف پونے تین لاکھ ہے۔ مقامی لوگوں کے لیے اچھی بات ہے، لیکن کشمیر میں اس فیصلے سے نئے اضلاع کے قیام کا مطالبہ زور پکڑ سکتا ہے۔‘

    انڈیا کا چین کے ساتھ لداخ کے معاملے پر دیرینہ سرحدی تنازع ہے۔ سنہ 2020 میں انڈیا نے چینی افواج پر دراندازی اور اراضی پر قبضہ کا الزام عائد کیا تھا جس کے بعد دونوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔

    واضح رہے 2019 کے اگست میں انڈین پارلیمنٹ میں ’کشمیر کی تنظیمِ نو‘ بل پاس کیا گیا جس کے تحت کشمیر کو نیم خودمختاری دینے والی آئینی دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کے ساتھ ہی لداخ کو کشمیر کے انتظامی کنٹرول سے الگ کرکے مرکز کے زیرانتظام علیٰحدہ خطہ قرار دیا گیا۔

    اس فیصلے کی چین نے سخت مخالفت کی تھی، کیونکہ چین لداخ کو جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے۔ تاہم نئے اضلاع کی تشکیل سے متعلق ابھی تک چین نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

  7. کشمیر: ’جماعت اسلامی سے مراسم‘ کے شبے میں معروف تعلیمی ادارے جامعہ سراج العلوم کو سیل کر دیا گیا, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    سراج العلوم

    ،تصویر کا ذریعہSirajul Aloom

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حکام نے ضلع شوپیان میں واقع جامعہ سراج العلوم نامی ایک سکول کو انسداد دہشت گردی کے قانون ’ان لافُل ایکٹوٹیز پریوینشن ایکٹ‘ کے تحت ’غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے سیل کر دیا ہے۔

    کشمیر کے صوبائی کمشنر انشول گرگ کے آفس سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ سکول کو سیل کرنے کے بعد یہاں عملے کے افراد یا طالب علموں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ حکمنامے میں لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ سکول کے اندر یا اردگرد اجتماع کی صورت میں احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    اسی سکول سے فارغ التحصیل شوپیان کے معروف وکیل ناصرالاسلام کا کہنا ہے کہ ’اس سکول میں 800 سے زیادہ بچے زیرتعلیم تھے اور 70 اساتذہ اور غیرتدریسی عملے کا براہ راست روزگار سکول کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس سکول میں باقاعدہ سرکاری نصاب پڑھایا جاتا تھا، اور یہ دہائیوں سے سٹیٹ بورڈ سے منظور شدہ ہے۔‘

    دوسری جانب مقامی پولیس ذرائع کا الزام ہے کہ سکول کی انتظامیہ کئی برس قبل کالعدم قرار دی گئی تنظیم جماعت اسلامی کے ساتھ مراسم رکھتی ہے۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ ’تعلیمی اداروں کی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھی جا رہی ہے، کیونکہ تخریب کار عناصر بچوں میں انتہاپسندی کے جذبات بھڑکانے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

    ایڈوکیٹ ناصر الاسلام کا کہنا ہے کہ شوپیان سے تعلق رکھنے والے شخص پیر گُل محمد نے دہائیوں قبل اپنی زمین وقف کرتے ہوئے وصیت کی تھی کہ اس پر ایسا ادارہ بنایا جائے جہاں نئی نسل کو جدید علوم پڑھائے جائیں اور ان کی کردار سازی بھی ہو اور پھر اسی مقام پر جامعہ سراج العلوم نامی ادارے قائم کیا گیا۔

    ناصر کا کہنا ہے کہ سکول کی کارکردگی پورے کشمیر میں معروف ہے، کیونکہ نہ صرف نتائج 100 فیصد ہوتے ہیں بلکہ یہاں کے بچے بورڈ میں امتیازی پوزیشن بھی حاصل کرتے ہیں۔

    واضح رہے کشمیر میں جماعت اسلامی پر سات سال قبل پابندی عائد ہونے کے بعد سینکڑوں ایسے سکولوں کو یا تو بند کیا گیا یا سرکاری سکولوں میں ضم کیا گیا جو جماعت کے ذیلی ادارے فلاح عام ٹرسٹ کے تحت چلائے جارہے تھے۔ سکول انتظامیہ کے مطابق سراج العلوم براہ راست جماعت سے منسلک نہیں تھا۔

    اس پابندی پر سیاسی حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    سابق وزیراعلیٰ اور پی ڈی پی کی رہنما محبوبہ مفتی نے ایکس پر سراج العلوم ادارہ کی ویڈیو اپ لوڈ کرکے لکھا کہ ’ہر دن جموں کشمیر کی شناخت اور وقار پر ہونے والے زہریلے حملوں پر حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ یہ ادارہ ایسے غریب اور نادار لوگوں کے لئے تعلیم کی مشعل جلائے ہوئے تھا ، جو مہنگے اداروں میں داخلہ نہیں لے پاتے۔ وطن دشمنی کےکسی ٹھوس ثبوت کے بغیر ایسے اداروں کو کالعدم قرار دینا گہرے عناد اور بُرے عزائم کو ظاہر کرتا ہے۔‘

    سابق وزیر اور ’اپنی پارٹی‘ کے رہنما الطاف بخاری نے حکومت سے اس فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کی ہے۔ انھوں نے ایکس پر ایک طویل پوسٹ میں لکھا کہ ’اس ادارے کا ریکارڈ ظاہر کرتا ہے یہاں سے ایسے نوجوان فارغ نہیں ہوئے جنھوں نے تشدد کا راستہ اختیار کیا ہو۔ اگر کچھ مثالیں ہوں بھی، تو وہ اتفاقی ہوں گی۔ تعلیمی اداروں کو اس طرح بند کر دینا لوگوں میں بیزاری کے جذبات پیدا کر سکتا ہے۔ شبہات کو دُور کرنے کے سکول کی نئی انتظامیہ تشکیل دی جاسکتی ہے تاکہ سکول کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکے، تاکہ بچوں کا مستقبل اور اساتذہ کا روزگار متاثر نہ ہو۔‘

  8. مزید فوجیوں کی شدید ضرورت، 2026 لڑائی کا سال ہو گا: سربراہ اسرائیلی فوج

    جنرل زامیر، سربراہ اسرائیلی فوج

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف ایال زامیر نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج ممکنہ طور پر 2026 کے دوران پورا سال متعدد محاذوں پر لڑائی جاری رکھے گی۔

    یہ بات انھوں نے پیر کی شام شمالی اسرائیل میں واقع رامات ڈیوڈ ایئر بیس پر ہونے والے ایک اجلاس کے دوران کہی، جس میں فوج کی اعلیٰ قیادت نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایران کے ساتھ جنگ کے تناظر میں اب تک کی فوجی کارروائیوں کے نتائج اور لبنان میں اسرائیلی فوجی آپریشنز کا جائزہ لیا گیا۔

    ایال زامیر نے کہا کہ سات اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی فوج متعدد محاذوں پر مسلسل لڑ رہی ہے اور افواج ہر وقت تیار اور چوکس ہیں تاکہ اگر تمام محاذوں پر شدید لڑائی دوبارہ شروع ہو تو فوری ردعمل دیا جا سکے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ آنے والے برسوں میں فوج پر ذمہ داریوں میں اضافے کے پیشِ نظر اسرائیلی فوج کو مزید فوجیوں کی شدید ضرورت ہے۔

    غزہ، شام اور لبنان میں محاذ جنگ کے ساتھ دفاعی علاقے قائم کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کے سربراہ نے یہ عندیہ بھی دیا یہ سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی افواج کو ان علاقوں میں موجود رہنا چاہیے تاکہ ’طویل المدت‘ بنیادوں پر اسرائیلی شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

  9. جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی تازہ ترین تجویز، ڈونلڈ ٹرمپ خوش نہیں: امریکی عہدے دار

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہKevin Dietsch/Getty Images

    رپورٹس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے اور جنگ ختم کرنے کی تجویز دی ہے جبکہ جوہری پروگرام پر مذاکرات بعد میں مرحلہ وار شروع کرنے کی بات کی گئی ہے۔

    بی بی سی عربی کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی تجویز سے ’مطمئن‘ نہیں ہیں کیونکہ انھوں نے جوہری پروگرام پر بات نہیں کی۔

    واشنگٹن پہلے بھی کہہ چکا ہے کہ جوہری مسئلے پر سب سے پہلے بات کی جائے۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا موقف واشنگٹن کے مطالبات پر پورا نہیں اترتا۔

    انھوں نے فاکس نیوز کو بتایا: ’اگر ایران کے نزدیک آبنائے ہرمز کھولنے کا مطلب ہے کہ یہ اس سے رابطے، اس کی اجازت اور اسے ادائیگی کے بعد کھلے گی، ورنہ وہ آپ پر حملہ کرے گا، تو یہ آبنائے کو کھولنا نہیں ہے۔‘

    ایرانی ذرائع نے پہلے کہا تھا کہ یہ تجویز ایران کے جوہری پروگرام پر بحث کو جنگ کے خاتمے اور خلیج سے نیویگیشن سے متعلق تنازعات کے حل تک ملتوی کر دے گی۔

    سی این این نے اس معاملے سے واقف دو ذرائع کے حوالے سے کہا کہ ٹرمپ نے یہ مؤقف سینئر قومی سلامتی حکام سے ملاقات کے دوران ظاہر کیا، جن میں سے ایک نے تصدیق کی کہ صدر ممکنہ طور پر اس منصوبے کو قبول نہیں کریں گے جو واشنگٹن کو گذشتہ چند دنوں میں موصول ہوا ہے۔

    امریکی حکام کا ماننا ہے کہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کا مسئلہ حل کیے بغیر آبنائے کو دوبارہ کھولنا واشنگٹن کو مذاکرات میں اہم اثر و رسوخ سے محروم کر سکتا ہے۔

    جب کیرولین لیویٹ سے پوچھا گیا کہ کیا امریکی صدر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز قبول کریں گے، تو وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا: ’میں تصدیق کرتی ہوں کہ صدر نے آج صبح اپنی قومی سلامتی ٹیم سے ملاقات کی۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتی، لیکن تجویز زیر غور تھی۔‘

    کیرولین لیویٹ نے زور دیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے حوالے سے ریڈ لائنز نہ صرف امریکی عوام کے لیے بلکہ ایرانی حکومت کے لیے بھی واضح ہو گئی ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ امریکی صدر جلد ہی اس مسئلے پر ذاتی طور پر بات کریں گے۔

  10. عمران خان کی آنکھ میں انجیکشن کی چوتھی ڈوز دی گئی: پمز انتظامیہ

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    بی بی سی نے رپورٹ کیا تھا کہ اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کو اسلام آباد کے پمز (پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز) ہسپتال لے جایا گیا تھا اور طبی معائنے کے بعد صبح چار بجے واپس جیل منتقل کیا گیا۔

    اب پمز انتظامیہ کی جانب سے جاری تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ 28 اپریل کو عمران خان کو پمز لایا گیا جہاں ان کی آنکھ میں انٹرا ویٹریئل انجیکشن کی چوتھی ڈوز دی گئی۔

    پمز انتظامیہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ انجیکشن لگانے سے پہلے آنکھوں کے ماہر معالجین نے عمران خان کا معائنہ کیا اور ان کی طبی حالت مستحکم پائی۔ پمز انتظامیہ کے اعلامیے میں درج ہے کہ عمران خان کی آپٹیکل کوہیرنس ٹوموگرافی کی گئی جس سے طبی بہتری ظاہر ہوئی۔

    اعلامیے کے مطابق عمران خان کی رضامندی حاصل کرنے کے بعد، تمام حفاظتی احتیاطی تدابیر اور پروٹوکولز اختیار کرتے ہوئے، سرجنز نے آپریشن تھیٹر میں ان کی آنکھ میں انجیکشن کی چوتھی ڈوز لگائی۔

    پمز انتظامیہ کے مطابق ہسپتال میں قیام کے دوران عمران خان کی حالت مستحکم رہی، بعد ازاں انھیں مزید نگہداشت اور فالو اَپ سے متعلق ہدایات اور دستاویزات کے ساتھ ڈسچارج کر دیا گیا۔

  11. عمران خان کا پمز ہسپتال اسلام آباد میں طبی معائنہ

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کو طبی معائنے کے لیے اسلام آباد کے پمز ہسپتال لے جایا گیا۔

    اڈیالہ جیل حکام کے مطابق دو گھنٹے تک طبی معائنے کے بعد عمران خان کو صبح چار بجے واپس جیل منتقل کیا گیا۔ عمران خان کی آنکھوں کے علاج سے متعلق تفصیلی رپورٹ طبی معائنہ کرنے والی ٹیم جاری کرے گی۔

  12. جنگ کے دوران 50 ہسپتالوں اور ایمرجنسی مراکز کو نقصان پہنچا: ایرانی وزیر صحت

    ایران کے وزیر صحت محمد رضا ظفرقندی نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران ’صحت اور علاج کے مراکز پر تقریباً 240 حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں 50 ہسپتالوں اور تقریباً 50 ایمرجنسی مراکز کو نقصان پہنچا۔‘

    ایرانی حکومتی عہدیدار کے مطابق ان طبی مراکز پر ہونے والے حملوں کی تفصیلات کو باقاعدہ طور پر دستاویزی شکل دے دی گئی ہے۔

  13. ایرانی ایئرلائنز سے تعاون کرنے والی کمپنیاں امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتی ہیں: امریکی وزیر خزانہ

    امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی فضائی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کرنے والی کمپنیاں امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتی ہیں۔

    سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں انھوں نے کہا کہ یہ انتباہ ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی مہم کا حصہ ہے۔

    سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ غیر ملکی حکومتیں یقینی بنائیں کہ ان کے دائرہ اختیار میں آنے والی کمپنیاں ایرانی طیاروں کو کوئی خدمات فراہم نہ کریں، جن میں ’طیاروں کے لیے ایندھن کی فراہمی، کیٹرنگ سروسز، ہوائی اڈوں پر لینڈنگ فیس یا طیاروں کی دیکھ بھال‘ شامل ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ امریکی وزارت خزانہ ’کسی بھی ایسے تیسرے فریق کے خلاف کارروائی میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گی جو ایرانی اداروں کے ساتھ لین دین کرے یا انہیں سہولت فراہم کرے۔‘

    دوسری جانب ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے حالیہ دنوں میں رپورٹ کیا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار تہران کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے تجارتی پروازیں بحال کر دی گئی ہیں۔

    ان رپورٹس کے مطابق استنبول، مسقط (عمان کا دارالحکومت)، سعودی عرب کے شہر مدینہ، عراق اور قطر کے لیے پروازوں کا منصوبہ بنایا گیا ہے اور بعض پروازیں روانہ بھی کی گئیں۔

  14. ایرانی وزیر خارجہ کا ’سفارت کاری کے لیے روس کی حمایت کا خیر مقدم‘

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایسے وقت میں جب خطے میں بڑی تبدیلیاں ہو رہی ہیں، ہم ’روس کے ساتھ اعلیٰ ترین سطح پر رابطے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہیں۔‘

    ایکس پر پوسٹ میں انھوں نے لکھا: ’حالیہ واقعات نے ہماری تزویراتی شراکت داری کی گہرائی اور مضبوطی کو واضح کر دیا ہے۔‘

    عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے ایران اور روس کا تعلق مزید مضبوط ہو رہا ہے، ’ہم (روس کے) اظہار یکجہتی پر شکر گزار ہیں اور سفارت کاری کے لیے روس کی حمایت کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘

    واضح رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ نے روس کا دورہ کیا ہے جہاں ان کی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات ہوئی۔

  15. ایرانی اراکین پارلیمان کی امریکہ سے بات چیت کے لیے مرکزی مذاکرات کار کے طور پر باقر قالیباف کی حمایت, بی بی سی مانیٹرنگ

    باقر قالیباف

    ،تصویر کا ذریعہMajid Saeedi/Getty Images

    ایرانی اراکین پارلیمان کی ایک واضح اکثریت نے پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف کی حمایت کی ہے جنھوں نے اسلام آباد میں امریکی نمائندوں کے ساتھ مذاکرات میں تہران کی قیادت کی تھی۔

    پارلیمان کی خبر رساں ایجنسی آئی سی اے این اے نے 27 اپریل کو یہ خبر رپورٹ کی۔

    ایک بیان میں ’دشمن کے ساتھ محاذ آرائی کے ایک نئے میدان میں قدم رکھنے‘ پر باقر قالیباف کو سراہا گیا، جس پر پارلیمان کے 285 میں سے 261 ارکان کے دستخط تھے۔ اسی بیان میں سیاسی اور سماجی کارکنوں کو خبردار کیا گیا کہ وہ ’افواہوں اور نا مکمل معلومات پر مبنی قیاس آرائیوں اور تجزیوں‘ سے گریز کریں اور ایران کے ’دشمنوں‘ کی جانب سے منظم کی جانے والی ’فکری جنگ‘ کو ہوا نہ دیں۔

    ارکان پارلیمان نے کہا کہ مذاکرات کے پہلے دور کے بعد امریکہ اور اسرائیل کوشش کر رہے ہیں کہ ایرانی عوام مذاکراتی ٹیم کے حوالے سے ’بد اعتمادی‘ کا شکار ہو جائیں۔

    ایکس پر اپنی پوسٹ میں باقر قالیباف کہہ چکے ہیں کہ ایران کے پاس اب بھی کئی اہم ’غیر استعمال شدہ کارڈز‘ موجود ہیں اور انھوں نے ٹرمپ کا مذاق بھی اڑایا کہ وہ اپنی کامیابیوں پر ’شیخی بھگار‘ رہے ہیں۔

  16. جنگ بندی کے بعد سعودی عرب میں محدود تعداد میں ایرانی حجاج کی آمد, بی بی سی مانیٹرنگ

    سعودی عرب میں ایرانی حاجی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images)

    ایران جنگ کے دوران ریاض اور تہران کے درمیان تعلقات میں بگاڑ کے باوجود حج کی ادائیگی کے لیے ایرانی زائرین سعودی عرب پہنچ رہے ہیں۔

    محدود تعداد میں ایرانی حجاج کی سعودی عرب آمد 25 اپریل سے شروع ہوئی ہے۔ سعودی میڈیا کے مطابق تقریباً 31 ہزار ایرانی زائرین سعودی عرب آئیں گے، یہ تعداد گذشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی ہے۔ گذشتہ سال حج کے لیے تقریباً 90 ہزار ایرانی حجاج آئے تھے۔

    امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے سعودی عرب سمیت کئی خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے۔ ان حملوں کے باعث سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں کشیدگی آ گئی تھی، ریاض نے مارچ میں ایران کے سفیر کو طلب کر کے ان حملوں کی مذمت کی۔

    دونوں ممالک نے سنہ 2023 میں چین کی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے کے تحت سفارتی تعلقات بحال کیے تھے، تاہم جنگ سے دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت متاثر ہوئی، سعودی حکام کا کہنا تھا کہ تہران کے ساتھ جو محدود اعتماد بحال ہوا تھا وہ ٹوٹ چکا ہے۔

    اب جنگ بندی کے بعد دونوں ممالک میں سفارتی رابطے دوبارہ بحال ہوئے ہیں، اور سعودی اور ایرانی وزرائے خارجہ کے درمیان علاقائی صورتحال اور کشیدگی میں کمی کے حوالے سے دو فون کالز ہو چکی ہیں۔

    حج کا سفر ایک طویل عرصے سے سنی اکثریتی سعودی عرب اور شیعہ اکثریتی ایران کے درمیان تعلقات کا ایک حساس پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔

    سنہ 2016 میں سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے بعد ایرانی حجاج حج میں شریک نہیں ہو سکے تھے۔ یہ صورتحال سعودی عرب کی جانب سے ایک شیعہ عالم کی پھانسی اور ایران میں سعودی سفارتی مشنز پر حملوں کے بعد پیدا ہوئی تھی۔

  17. آبنائے ہرمز معاشی جوہری ہتھیار ہے جسے ایران دنیا کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے: امریکی وزیر خارجہ

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آبنائے ہرمز کو ’معاشی جوہری ہتھیار کے مترادف‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اسے دنیا کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    امریکی ٹیلی وژن چینل فاکس نیوز کو انٹرویو میں مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ’ایران فخر سے یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ دنیا کی 20 سے 25 فیصد توانائی کو یرغمال بنا کر رکھ سکتا ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ تصور کریں اگر ایران کو جوہری ہتھیار تک رسائی مل گئی ’تو وہ پورے خطے کو یرغمال بنا لے گا۔‘

    مارکو روبیو نے کہا کہ انھیں امید ہے اس تنازع کے بعد پوری دنیا کو ایران سے لاحق خطرے کا اندازہ ہو گیا ہو گا۔ ان کے مطابق ایران دنیا کے ساتھ جو کچھ جوہری ہتھیار کے ذریعے کرنا چاہتا ہے، وہی وہ اس وقت تیل کے ذریعے کر رہا ہے۔

    انٹرویو میں مارکو روبیو نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران اس صورتحال سے نکلنے کے بارے میں سنجیدہ ہے جس میں وہ پھنسا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنازع کے آغاز سے پہلے ایران کو جن مسائل کا سامنا تھا وہ اب بھی موجود ہیں یا مزید بڑھ چکے ہیں، تاہم اب اس کے پاس پہلے کے مقابلے میں آدھے میزائل رہ گئے ہیں، کوئی فیکٹری باقی نہیں رہی اور اس کی بحریہ بھی ختم ہو چکی ہے۔

    فاکس نیوز کو انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کی حکومت میں تمام عناصر سخت گیر ہیں، لیکن ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ انھیں ایک ملک اور معیشت چلانی ہے۔

    مارکو روبیو کے مطابق ایرانی نظام میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کسی فیصلے کے پیچھے اس کے فائدے اور نقصان کا اندازہ لگاتے ہیں ’اور ہم یہ یقینی بنائیں گے کہ جو بھی شر انگیزیاں وہ کر رہے ہیں، ان کا نقصان فائدے سے زیادہ ہو۔‘

    مارکو روبیو نے زور دے کر کہا کہ امریکہ کی خواہش ایرانی عوام کو نقصان پہنچانے کی نہیں ہے۔ اس سال کے آغاز پر ایران میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں اور حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا: ’ہماری خواہش تھی کہ 30 سے 40 ہزار افراد کو سڑکوں پر قتل کرنے کے بجائے ایرانی عوام کی آواز سنی جاتی۔‘

  18. صدر ٹرمپ کے قتل کی کوشش کے الزام میں مشتبہ شخص پر فردِ جرم عائد تفصیلات

    کول تھامس ایلن

    ،تصویر کا ذریعہDepartment of Justice

    ،تصویر کا کیپشنامریکی صدر ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی کوشش کا الزام، ملزم کول تھامس ایلن کے زیر استعمال گن کو بھی میڈیا کے سامنے ثبوت کے طور پر پیش کر دیا گیا

    امریکی صدر ٹرمپ کے قتل کی کوشش کے الزام میں گرفتار شخص کول تھامس ایلن پر فردِ جرم عائد عائد کر دی گئی ہے۔ فرد جرم میں امریکہ کے صدر پر قاتلانہ حملے کی کوشش، آتشیں اسلحے کے استعمال اور جرم کرنے کے ارادے سے آتشیں اسلحے کی بین الریاستی نقل و حمل جیسے الزامات عائد کیے گئے۔

    کول تھامس ایلن کو پیر کے روز ایک امریکی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ جب جج نے ان سے یہ استفسار کیا کہ کیا وہ اپنے خلاف الزامات سے متعلق آگاہی رکھتے ہیں تو کول تھامس نے جواب دیا: ’جی، یور آنر۔‘

    فیڈرل پراسیکیوٹر جوسلین بالنٹائن نے کول تھامس ایلن کی پیشی کے دوران کہا کہ مدعا علیہ کے پاس 12 گیج کی شاٹ گن، تین چاقو اور دیگر ہتھیار تھے۔ سماعت کے دوران، پراسیکیوٹر نے جج سے کہا کہ وہ ملزم کو حراست میں رکھنے کا حکم دیں کیونکہ ان پر دہشت گردی کا الزام ہے۔

    اگرچہ کول تھامس ایلن پر براہ راست دہشت گردی کا الزام نہیں مگر صدر کو قتل کرنے کی کوشش کو ملکی سطح پر دہشت گردی سمجھا جا سکتا ہے۔ امریکی قانون کے تحت، اس میں عمر قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔

  19. روس نے ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو ’مفید‘ قرار دیا

    USA, Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی تعطل کے باوجود، آج ایک ایرانی وفد صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کے لیے روس پہنچا تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع پر بات چیت کی جا سکے۔

    روسی سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ یہ مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان ’سٹریٹجک تعلقات‘ کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ روسی وزیر خارجہ نے اس بات چیت کو ’مفید‘ قرار دیا۔

    اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اپنے مذاکراتی وفد کو اسلام آباد جانے روک دیا تھا۔

  20. بحرین نے ایران کی حمایت کے الزام پر متعدد افراد کی شہریت منسوخ کر دی

    Bahrian

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بحرین کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ اس نے اُن افراد کی شہریت منسوخ کر دی ہے جنھوں نے ’ایران کے معاندانہ اور مجرمانہ اقدامات کی حمایت یا تعریف کی۔‘ وزارت نے واضح کیا کہ یہ اقدام اُن افراد کے خاندانوں پر بھی لاگو ہو گا جن پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

    بحرین خطے کے اُن کئی ممالک میں شامل ہے جنھوں نے جنگ کے دوران ایرانی حملوں سے متعلق معلومات کو سختی سے کنٹرول کیا اور اُن مقامی و غیر ملکی افراد کو گرفتار کیا جنھوں نے ان حملوں کی ویڈیوز بنائیں۔

    بحرین کی وزارت داخلہ نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’ایران کی معاندانہ اور مجرمانہ کارروائیوں سے ہمدردی اور ان کی تعریف کرنے والوں کی بحرینی شہریت منسوخ کی جا رہی ہے۔ اب تک اس فیصلے کے تحت، ان کے زیرِ کفالت اہلِ خانہ سمیت کُل 69 افراد متاثر ہوئے ہیں۔‘

    ایران کی طرح بحرین میں بھی آبادی کی اکثریت شیعہ ہے اور تنازع کے ابتدائی مرحلے میں ایران کے حق میں مظاہرے دیکھنے میں آئے تھے۔ حکام نے مظاہرین اور مظاہروں کی ویڈیوز بنانے والوں کو بڑے پیمانے پر گرفتار کیا اور درجنوں افراد پر سوشل میڈیا کے غلط استعمال، اشتعال انگیزی، نفرت پھیلانے یا غداری جیسے الزامات عائد کیے۔ ان جرائم میں سزائے موت ہو سکتی ہے۔

    یہ ملک خلیج کے اُن چند ممالک میں بھی شامل ہے جہاں ایسے قوانین موجود ہیں جو بعض جرائم میں سزا پانے والے افراد کی شہریت ختم کرنے کی اجازت دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ افراد بے وطن ہو سکتے ہیں۔ بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات اور قطر میں اس نوعیت کے اقدامات پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے تنقید کی ہے، جن کا کہنا ہے کہ ایسے قوانین اختلافِ رائے کو دبانے اور ناقدین کو سزا دینے کے لیے جبر کے آلے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

Trending Now