آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایرانی حملے میں ہلاک ہونے والے چار امریکی فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی گئی
امریکی فوج نے ایران کے ساتھ جاری جنگ میں ہلاک ہونے والے پہلے چار امریکی فوجیوں کی شناخت کر لی ہے۔ یہ فوجی امریکی آرمی ریزرو کے 103ویں سسٹینمنٹ کمانڈ (ڈیس موئنز، آئیووا) سے تعلق رکھتے تھے۔
خلاصہ
- سعودی عرب میں سی آئی اے سٹیشن پر ایران کا ڈرون حملہ، سعودی عرب کا جوابی حملوں پر غور
- دبئی میں امریکی قونصل خانے کے قریب ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، حکام کی تصدیق
- امریکہ نے اب تک ایران میں 1,700 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے: حکام
- امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’اب ایران کے پاس نہ بحریہ ہے، نہ فضائیہ اور نہ ہی فضائی دفاعی نظام، تقریباً سب کچھ تباہ ہو گیا ہے‘
- ایران کی ہلالِ احمر سوسائٹی کا کہنا ہے کہ سنیچر کو شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران میں اب تک 787 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
- سعودی فوج کے ترجمان نے بتایا ہے کہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے کو دو ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
- امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ یہ ایرانی حکومت کو روکنے کا ’آخری اور بہترین موقع‘ تھا۔
لائیو کوریج
سعودی عرب میں سی آئی اے سٹیشن کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا: امریکی میڈیا
امریکی میڈیا کے مطابق پیر کے روز سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے کے اندر موجود سی آئی اے سٹیشن کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
امریکہ اور سعودی عرب نے تصدیق کی ہے کہ دو ڈرونز نے ریاض میں سفارتخانے کے کمپلیکس کو نشانہ بنایا، تاہم یہ واضح نہیں کہ جاسوسی مرکز حملے کا اصل ہدف تھا یا نہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حملے کے نتیجے میں سفارتخانے کی چھت کا ایک حصہ گر گیا اور اندر دھواں بھر گیا۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی ایک وارننگ میں کہا گیا ہے کہ سفارتخانے کو "ساختی نقصان" پہنچا ہے اور عملے کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ "جگہ پر ہی پناہ لیے رکھیں۔"
ایرانی حملوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں: سعودی عرب
سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ یہ بیان سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے نے جاری کیا ہے۔
سعودی کابینہ نے زور دیا کہ مملکت ’اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لانے کے لیے تیار ہے تاکہ اتحادی ممالک کی حمایت کی جا سکے‘ جو ایران کی جانب سے کسی ممکنہ حملے کا جواب دے رہے ہیں۔
سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق سعودی کابینہ نے منگل کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اجلاس منعقد کیا جس کی صدارت ولی عہد اور وزیرِاعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے کی۔
اس اجلاس کے بعد تفصیلی اعلامیہ جاری کیا گیا۔
اس اعلامیے میں کیا کہا گیا ہے؟
اس اعلامیے کے مطابق اجلاس میں خطے کی تازہ ترین صورتحال اور اس کے علاقائی و بین الاقوامی سلامتی پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ کابینہ نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب اپنی سلامتی، سرزمین، شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
کابینہ کو حالیہ دنوں میں خطے کی صورتحال پر ہونے والے رابطوں اور مشاورت کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ کابینہ نے ان برادر اور دوست ممالک کے رہنماؤں کے مؤقف کو سراہا جنھوں نے سعودی عرب، خلیجی تعاون کونسل کے ممالک اور اردن پر ایرانی حملوں کی مذمت کی۔
کابینہ نے ان برادر ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا جن کی سرزمین ایرانی جارحیت کا نشانہ بنی۔ اس نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب ان ممالک کی حمایت کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لانے کے لیے تیار ہے تاکہ وہ ان حملوں کے جواب میں جو اقدامات کریں، ان میں مدد فراہم کی جا سکے۔
اجلاس میں ان سہولتوں اور مہمان نوازی کا بھی جائزہ لیا گیا جو سعودی عرب کی فضائی اڈوں پر پھنسے خلیجی ممالک کے شہریوں کو فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ وہ اپنے دوسرے گھر میں آرام دہ رہ سکیں، جب تک کہ حالات ان کی محفوظ واپسی کی اجازت نہ دیں۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق وزیرِ اطلاعات سلمان الدوسری نے اجلاس کے بعد کہا کہ کابینہ نے خطے اور عالمی سطح پر سعودی عرب کی شرکت کے نتائج پر بھی غور کیا۔ کابینہ نے امید ظاہر کی کہ اسلامی تعاون تنظیم کے حالیہ ہنگامی اجلاس کے نتائج رکن ممالک کے درمیان ہم آہنگی کے طریقہ کار کو بہتر بنائیں گے اور فلسطینی عوام کے حقوق اور ان کے جائز مقصد کے لیے کوششوں کو تقویت دیں گے۔
ایرانی حملے میں ہلاک ہونے والے چار امریکی فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی گئی
امریکی فوج نے ایران کے ساتھ جاری جنگ میں ہلاک ہونے والے پہلے چار امریکی فوجیوں کی شناخت کر لی ہے۔ یہ فوجی امریکی آرمی ریزرو کے 103ویں سسٹینمنٹ کمانڈ (ڈیس موئنز، آئیووا) سے تعلق رکھتے تھے۔
ان میں 35 برس کے کیپٹن کوڈی اے خورک تھے جن کا تعلق ونٹر ہیون فلوریڈا سے تعلق تھا۔ 42 برس کے سارجنٹ فرسٹ کلاس نوح ایل ٹیٹجینز کا تعلق بیلویو، نیبراسکا سے تھا۔ 39 برس کے سارجنٹ فرسٹ کلاس نکول ایم امور وائٹ بیئر لیک، منی سوٹا کے رہائشی تھے۔ 20 برس کے سارجنٹ ڈیکلن جے کوڈی ویسٹ ڈیس موئنز، آئیووا سے تعلق رکھتے تھے۔
امریکی فوج کے مطابق کویت میں ایک فوجی تنصیب پر اتوار کو ایرانی حملے میں مزید دو فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں، تاہم ان کی شناخت ابھی تک ظاہر نہیں کی گئی۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے پیر کو کہا کہ کویت میں ایک امریکی بنکر کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب ایران کا جوابی حملہ فضائی دفاعی نظام سے بچ نکلا۔
امریکی فوج کے مطابق ایران کے خلاف اسرائیل کے ساتھ مل کر کارروائی شروع کرنے کے بعد اب تک صرف یہی چھ ہلاکتیں باضابطہ طور پر تصدیق شدہ ہیں۔
امریکی قانون سازوں کو پہلی بار جنگی منصوبے پر بریفنگ: ’خوفزدہ ہوں کہ کہیں ہمیں زمینی فوج نہ بھیجنی پڑے‘
کیپیٹل ہل پر منگل کی شام معمول سے زیادہ صحافی موجود تھے اور سکیورٹی بھی سخت کر دی گئی تھی، کیونکہ قانون سازوں کو ٹرمپ انتظامیہ کے جنگی منصوبے کی پہلی جھلک دکھائی گئی۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور ٹرمپ انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ حکام کانگریس کے تمام ارکان کو مکمل بریفنگ دینے کے لیے موجود تھے۔
کچھ قانون سازوں نے کانگریس کی منظوری کے بغیر کارروائی پر ناراضی کا اظہار کیا، جبکہ دیگر نے ایک ’ظالم حکومت‘ کے خلاف انتظامیہ کے اقدام کو سراہا۔
سینیٹر لِنڈسے گراہم، جو جنگ کے حوالے سے انتظامیہ کے پُرجوش حامی ہیں، نے بریفنگ کے بعد کہا کہ ’یہ سوال نہیں کہ ایرانی رجیم کا تختہ کب دھڑام ہوگا، بلکہ یہ ہے کہ ایسا کب ہوگا۔‘
ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی نے کانگریس کی منظوری نہ ہونے پر تنقید کی۔
قانون سازوں کے مطابق یہ اب بھی واضح نہیں کہ انتظامیہ کتنے عرصے تک اس جنگ میں مصروف رہے گی اور امریکی فوجی کردار کس شکل میں سامنے آ سکتا ہے۔
ڈیموکریٹ سینیٹر رچرڈ بلومینتھال نے کہا کہ وہ اب بھی انتظامیہ کی ’ترجیحات‘ کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس بریفنگ کے بعد پہلے سے زیادہ خوفزدہ ہوں کہ شاید ہمیں زمینی فوج بھیجنی پڑے۔‘
حزب اللہ کے تقریباً 60 اہداف کو نشانہ بنایا: اسرائیل کا دعویٰ
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ایران کے حمایت یافتہ گروہ حزب اللہ کے ’تقریباً 60 اہداف‘ کو نشانہ بنایا ہے۔
آئی ڈی ایف کے مطابق ان اہداف میں ’ہتھیاروں کے ذخیرہ گاہیں، کمانڈ سینٹرز، میزائل لانچرز اور دیگر دہشت گردی سے متعلق ڈھانچے‘ شامل تھے۔
اسرائیلی فوج نے اس سے قبل کہا تھا کہ اس نے جنوبی لبنان کے علاقوں صور اور صیدون میں بھی حزب اللہ کے اہداف پر اضافی حملے مکمل کیے ہیں۔
کینیڈا کے وزیرِاعظم کا امریکہ اور اسرائیل سے بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری کا مطالبہ
کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے منگل کی شام اپنے بیان میں ایران میں امریکی کارروائی کی حمایت دہراتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک اس آپریشن کے ساتھ ہے۔
انھوں نے ایران کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں شہریوں اور شہری تنصیبات پر حملوں کی مذمت کی۔
مارک کارنی نے زور دیا کہ ’تمام فریقین، بشمول امریکہ اور اسرائیل، بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری کریں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’کینیڈا کشیدگی میں فوری کمی کا مطالبہ کرتا ہے اور اس مقصد کے حصول میں مدد دینے کے لیے تیار ہے۔‘
مارک کارنی نے مزید کہا کہ سفارتی روابط اور وسیع تر سیاسی حل کے لیے عزم، بحران کے خاتمے اور بڑے تصادم سے بچنے کے لیے نہایت اہم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’معصوم شہریوں کا تحفظ لازمی ہے اور تمام فریقین کو اس بات کا عہد کرنا ہوگا کہ وہ جوہری پھیلاؤ اور دہشت گرد انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے پائیدار معاہدوں تک پہنچیں۔‘
ضرورت پڑنے پر امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں ٹینکروں کی حفاظتی نگرانی یقینی بنائے گی: ٹرمپ
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’اگر ضرورت پڑی تو امریکی بحریہ جلد از جلد آبنائے ہرمز میں ٹینکروں کو حفاظتی نگرانی فراہم کرنا شروع کر دے گی۔‘
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ نے تقریباً مکمل طور پر اس سمندری راستے سے گزرنے والی شپنگ کو روک دیا ہے۔
یہ آبی گزرگاہ خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع ہے اور دنیا میں تیل و گیس کی ترسیل کے سب سے اہم راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل گزرتا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ انھوں نے ایک وفاقی ادارے کو ہدایت دی ہے کہ ’خلیج کے ذریعے ہونے والی تمام سمندری تجارت کے لیے سیاسی خطرے کی انشورنس اور ضمانتیں فراہم کرے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’کسی بھی صورت میں، امریکہ دنیا کو توانائی کی آزادانہ فراہمی کو یقینی بنائے گا۔‘
ایران میں سیکڑوں میزائل لانچرز تباہ کر دیے: اسرائیل کا دعویٰ
ٹیلیگرام میسجنگ ایپ پر جاری تازہ اپڈیٹ میں اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا ہے کہ اس نے ایران میں تقریباً 300 میزائل لانچرز تباہ کر دیے ہیں اور لبنان میں بھی کئی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ’گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیکڑوں لڑاکا طیارے اور جہاز ایران اور لبنان میں بیک وقت سیکڑوں اہداف پر حملے کر رہے ہیں۔‘ بیان میں مزید بتایا گیا کہ سنیچر کے روز شروع ہونے والے آپریشن کے بعد سے ایران میں 4,000 ہتھیار استعمال کیے جا چکے ہیں۔
اسرائیلی فضائیہ کے مطابق ’اسرائیلی ایئر فورس ایرانی حکومت کے بیلسٹک میزائل نظام اور فضائی دفاعی ڈھانچوں پر مسلسل حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔‘
شہریوں کے انخلا کے لیے پروازوں کا انتظام کر رہے ہیں: امریکی محکمہ خارجہ
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ ’متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور اردن سے امریکی شہریوں کے لیے چارٹر پروازوں کی سہولت فراہم کر رہا ہے۔‘
ایک بیان میں بتایا گیا کہ ’گذشتہ چند دنوں میں 9,000 سے زائد امریکی شہری محفوظ طریقے سے مشرقِ وسطیٰ سے واپس آ چکے ہیں‘، جن میں ’300 سے زیادہ اسرائیل سے‘ آنے والے شامل ہیں۔
محکمہ خارجہ نے مزید کہا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان اور مصر میں تجارتی پروازوں کے آپشنز اب بھی دستیاب ہیں، اور محکمہ خارجہ ’امریکی شہریوں کو ان ٹکٹوں کی بکنگ میں فعال طور پر مدد فراہم کر رہا ہے۔‘
اس سے قبل امریکی معاون وزیرِ خارجہ برائے عالمی عوامی امور ڈیلن جانسن نے کہا تھا کہ محکمہ خارجہ ’امریکی شہریوں کے لیے فوجی طیارے اور چارٹر پروازیں فعال طور پر یقینی بنا رہا ہے‘ تاکہ وہ مشرقِ وسطیٰ سے نکل سکیں۔
وزیر خارجہ مارکو روبیو کی دبئی میں امریکی قونصل خانے کے قریب پارکنگ لاٹ پر ڈرون حملے کی تصدیق
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبریو نے تصدیق کی ہے کہ ایک ڈرون نے قونصل خانے کی عمارت کے ساتھ واقع پارکنگ لاٹ کو نشانہ بنایا۔
انھوں نے کہا کہ ’جب میں یہاں آیا تو دبئی کے قونصل خانے سے متعلق میڈیا رپورٹس بھی دیکھیں۔ کیمرے کے سامنے آنے سے چند لمحے پہلے مجھے جو تازہ ترین اطلاع ملی وہ یہ تھی کہ ایک ڈرون نے بدقسمتی سے چانسیری عمارت کے ساتھ واقع پارکنگ لاٹ کو نشانہ بنایا اور وہاں آگ بھڑک اٹھی۔‘
مارکو روبیو نے مزید کہا کہ ’تمام عملہ محفوظ ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ہم نے پہلے ہی اپنے سفارتی دفاتر سے عملے کو واپس بلانا شروع کر دیا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’لیکن ہماری سفارتخانوں اور سفارتی تنصیبات پر ایک دہشت گرد حکومت براہِ راست حملے کر رہی ہے۔‘
قونصل خانہ شہر کے ایک گنجان آباد علاقے میں واقع ہے، جو برطانوی سفارتخانے اور سعودی قونصل خانے کے قریب ہے۔
دبئی میں امریکی قونصل خانے کے قریب ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، حکام کی تصدیق
دبئی کے سرکاری میڈیا آفس نے تصدیق کی ہے کہ متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں امریکی قونصل خانے کے قریب ڈرون حملے کے بعد آگ لگ گئی۔
حکام کے مطابق آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ایمرجنسی ٹیمیں فوراً موقع پر پہنچیں۔ کسی قسم کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔‘
ایران کی قیادت کے نگران ادارے سے منسلک عمارت حملے میں تباہ
آج قم شہر میں بنائی گئی دو ویڈیوز میں مجلسِ خبرگانِ رہبری کے سیکرٹریٹ کی عمارت پر حملے کے بعد کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ یہ ایران کا مرکزی قیادت کا نگران ادارہ ہے۔
بی بی سی ویریفائی کے مطابق یہ ویڈیوز قم کے بسیج سکوائر کے قریب فلمائی گئی ہیں اور ان میں دکھایا گیا ہے کہ سیکرٹریٹ کی عمارت تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔ قریب کی ایک اور عمارت بھی شدید نقصان کا شکار ہوئی ہے۔
ایران کے آئین کے مطابق ماہرین کی اسمبلی 88 سینیئر علما پر مشتمل ہے اور اس کا کام نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کرنا ہے، خاص طور پر آیت اللہ علی خامنہ ای کی سنیچر کے روز ہلاکت کے بعد۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’مہر‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ یہ عمارت پرانی تھی اور اسمبلی کے اجلاسوں کے لیے استعمال نہیں ہو رہی تھی۔
سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے کہا ہے کہ ’یہ عمارتیں پہلے ہی خالی کرا لی گئی تھیں‘ اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
امید ہے کہ ایرانی عوام اپنے ملک کی تقدیر کا فیصلہ خود کر سکیں گے: فرانسیسی صدر
فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں نے کہا ہے کہ وہ جرمنی اور برطانیہ کے رہنماؤں سے متفق ہیں کہ ایران میں جاری تنازع کا فوری حل تلاش کرنا ضروری ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ انھیں امید ہے کہ ایرانی عوام اپنے ملک کے مستقبل کے بارے میں خود فیصلہ کر سکیں گے۔
فرانسیسی صدر نے بتایا کہ ان کی فوج خطے میں اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہے اور سفارتخانوں میں سکیورٹی کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ تقریباً 400,000 فرانسیسی شہری خطے میں مختصر یا طویل قیام پر موجود ہیں اور وطن واپسی کی پروازیں جاری ہیں، دو پروازیں آج شام پیرس پہنچیں گی۔
صدر ایمانوئل میخواں نے کہا ہے کہ فرانس کو ’خطے میں اپنے دوستوں اور اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے‘، اور یہ کہ ملک کی ’ذمہ داری مکمل طور پر دفاعی ہے‘۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمارا مقصد ہے کہ امن کو جلد از جلد بحال کیا جائے۔‘
صدر ایمانوئل میخواں نے بتایا کہ فرانس نے سائپرس کو اضافی فضائی دفاعی نظام بھیجنے پر اتفاق کیا ہے، جن میں ایک فرانسیسی فریگیٹ یعنی جنگی جہاز بھی شامل ہے جو آج شام سائپرس کے ساحل پر پہنچے گا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم اپنے یورپی اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی کر رہے ہیں تاکہ مشرقی بحیرۂ روم کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔‘
امریکہ نے اب تک ایران میں 1,700 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے: حکام
امریکی حکام کے مطابق سنیچر کو ایران میں فضائی حملے شروع کرنے کے بعد سے امریکہ نے 1,700 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ تفصیلات امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے جاری کی ہیں۔
نشانہ بنائے گئے مقامات میں میزائل سائٹس، بحری جہاز، آبدوزیں اور کنٹرول سینٹرز شامل ہیں۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ان حملوں کے لیے طیارے، جن میں متعدد لڑاکا طیارے شامل ہیں، کے ساتھ ساتھ میزائل سسٹمز اور بحری جہاز بھی استعمال کیے۔
یہ اپ ڈیٹ کارروائی کے ابتدائی 72 گھنٹوں کی تفصیلات فراہم کرتی ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ سینٹ کام ان ’مقامات کو ترجیح دے رہا ہے جو فوری خطرہ پیدا کرتے ہیں۔‘
برطانوی ایف-35 طیاروں نے اردن، عراق اور قطر کے اوپر ڈرون مار گرائے: وزارتِ دفاع
برطانیہ کی وزارتِ دفاع نے اپنی ویب سائٹ پر نئی تصاویر اور ویڈیو جاری کی ہیں جن میں برطانوی ایف-35 لڑاکا طیارے دکھائے گئے ہیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ ان طیاروں نے اردن، عراق اور قطر کے اوپر ڈرون مار گرائے ہیں۔
وزارتِ دفاع کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ برطانوی ایف-35 طیاروں نے کسی فعال آپریشن کے دوران اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
ایف-35 ایک لڑاکا طیارہ ہے جسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اسے ڈھونڈنا یا ٹریک کرنا انتہائی مشکل ہو۔
وزارت کا کہنا ہے کہ برطانوی افواج ’خطے بھر میں شراکت داروں کا فعال طور پر دفاع کر رہی ہیں اور یہ مربوط دفاعی کارروائی کا حصہ ہے۔‘
ایران میں تقریباً سب کچھ تباہ ہو گیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’اب ایران کے پاس نہ بحریہ ہے، نہ فضائیہ اور نہ ہی فضائی دفاعی نظام، تقریباً سب کچھ تباہ ہو گیا ہے۔‘
وائٹ ہاؤس میں جرمنی کے چانسلر کے ساتھ میڈیا بریفنگ کے دوران ان سے مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں پہلا سوال یہ کیا گیا کہ کیا اسرائیل نے ٹرمپ کو مجبور کیا؟ اس پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’نہیں، میں نے شاید انھیں مجبور کیا۔‘
ایران کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ کہتے ہیں کہ ’ہم ان پاگلوں کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے، اور میری رائے تھی کہ وہ پہلے حملہ کرنے والے ہیں۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ ایسا ہو۔‘
انھوں نے کہا کہ ایسے میں ’تو اگر کچھ ہے تو میں نے شاید اسرائیل کو مجبور کیا۔ میرا خیال ہے وہ حیران تھے، میں حیران تھا، اور اب وہ تمام ممالک ان کے خلاف لڑ رہے ہیں۔‘
اگلا سوال یہ کیا گیا کہ ایران میں امریکہ نے بدترین صورتحال کے لیے کیا منصوبہ بنایا ہے۔ ٹرمپ نے جواب دیا کہ بدترین صورتحال یہ ہے کہ ’ہم یہ کرتے ہیں اور کوئی ایسا شخص اقتدار سنبھال لیتا ہے جو پچھلے شخص جتنا ہی برا ہو۔‘
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کے ذہن میں کچھ لوگ تھے جو ملک کی قیادت کر سکتے تھے، لیکن وہ اب مر چکے ہیں۔‘
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتیں ’کچھ عرصے کے لیے‘ زیادہ رہ سکتی ہیں
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر امریکی حملوں کے بعد بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں پر بات کی۔
انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’لوگوں کو لگا کہ یہ کام کرنا ضروری تھا۔‘
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’تو اگر کچھ عرصے کے لیے تیل کی قیمتیں زیادہ رہتی ہیں۔۔ جیسے ہی یہ ختم ہوگا، وہ قیمتیں گر جائیں گی۔‘
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے بارے میں اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟
- امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے ایران کو بتایا ہے کہ مذاکرات کے لیے اب ’کافی دیر‘ ہو گئی ہے۔
- ایران میں ہلالِ احمر کے مطابق سنیچر کو شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں مرنے والوں کی تعداد 787 ہو گئی ہے۔
- جنیوا میں ایران کے اقوامِ متحدہ کے لیے سفیر نے کہا ہے کہ ایران کو اب امریکہ کے ساتھ ’مذاکرات کے کارآمد ہونے پر شک ہے۔‘
- تہران کے مھرآباد انٹرنیشل ایئرپورٹ پر بھی حملے ہوئے ہیں۔
- اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے اعلان کیا ہے کہ ان کے ملک کی فوج لبنان میں داخل ہوگی اور ’سٹریٹجک اہمیت کے حامل علاقوں کا کنٹرول‘ سنبھالے گی۔
- اب سے کچھ دیر قبل اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کے شہروں تہران او اصفہان میں حکومتی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا اپنا آپریشن مکمل کر لیا ہے۔
- ایران نے منگل کو بھی اپنے جوابی حملے جاری رکھے اور نو خلیجی ممالک میں اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔
- متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ سنیچر سے اب تک اس نے 172 ایرانی میزائلوں اور 755 ڈرونز کو تباہ کیا ہے۔
- دوسری جانب قطر کا کہنا ہے کہ اس کے تہران کے ساتھ تعلقات منقطع ہو چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب نے ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ایرانی حملوں کی مذمت کی ہے۔
- برطانیہ کے وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ وہ قبرص میں اپنے اڈے کی سکیورٹی کو بڑھانے کے لیے ہیلی کاپٹر تعینات کر رہے ہیں اور خطے میں ایچ ایم ایس ڈریگن بحری جہاز بھیج رہے ہیں۔
برطانیہ کا قبرص میں اپنے اڈے کی حفاظت کے لیے بحری جہاز ایچ ایم ایس ڈریگن بھیجنے کا فیصلہ: وزیرِ اعظم
برطانیہ نے قبرص میں اپنے اڈے پر فضائی دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے ڈرون تباہ کرنے کی صلاحیت کے حامل ہیلی کاپٹرز کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
برطانوی وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر کا کہنا ہے کہ ائر ڈیفینس ڈسٹرائر ایچ ایم اس ڈریگن کو بھی اس خطے میں بھیجا جا رہا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ برطانیہ ’قبرص کی سکیورٹی اور وہاں تعینات برطانوی فوجی اہلکاروں کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔‘
خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ کی ’صحت بالکل ٹھیک‘ ہے: ایرانی میڈیا
ایرانی میڈیا کے مطابق سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ علی کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کی ’صحت بالکل ٹھیک‘ ہے۔
ایران کی مھر نیوز ایجنسی کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای ’اس وقت اپنے خاندان کے شہدا کے امور کو دیکھ رہے ہیں اور ملک کے اہم معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘
خیال رہے اتوار کو اسرائیل اور امریکہ کے حملوں میں ان کے والد ہلاک ہوئے تھے۔
ایرانی میڈیا نے گذشتہ روز خامنہ ای کی اہلیہ منصورہ خجستہ باقرزادہ کی موت کی بھی تصدیق کی تھی۔اس حملے میں مجتبیٰ باقرزادہ کی اہلیہ، آیت اللہ علی خامنہ ای کی ایک بیٹی اور ایک نواسی اور پوتا بھی ہلاک ہوئے تھے۔
مجتبیٰ ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ کے دوسرے بیٹے ہیں اور ان کا نام اکثر ان کے والد کے متبادل کے طور پر لیا جاتا رہا ہے۔
ظھران میں ایرانی میزائل اور ڈرون حملے یقینی ہیں: سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے کی وارننگ
سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے نے خبردار یا ہے کہ ظھران میں میزائل یا ڈورن حملے یقینی ہیں، جہاں امریکی قونصل خانہ واقع ہے۔
امریکی شہریوں کو محفوظ پناہ گاہوں میں پناہ لینے اور ’کسی حملے کے نتیجے میں سکیورٹی پر نظرِ ثانی‘ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
ظھران سعودی عرب کے مشرقی ساحل پر واقع ہے، جو کہ ملک کی آئل انڈسٹری میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں سعودی آئل کمپنی آرامکو کا ہیڈکوارٹر بھی واقع ہے۔