آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کی آبی گزر گاہ کے قریب فوجی جہازوں کے لیے تنبیہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا جانے کی کوشش کرنے والے ’کسی بھی جہاز‘ پر ناکہ بندی عائد کرنے کی دھمکی کے جواب میں، ایرانی بحریہ نے کہا کہ آبی گزرگاہ کے قریب آنے والے کسی بھی فوجی جہاز سے ’انتہائی سختی‘ سے نمٹا جائے گا۔

خلاصہ

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ جلد ہی ان تمام جہازوں کی 'ناکہ بندی' شروع کرے گا جو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے کی کوشش کریں گے۔
  • امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان 21 گھنٹے طویل مذاکرات کے باوجود معاہدہ نہیں ہو سکا ہے
  • ایرانی حکام کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے آغاز سے اب تک 3300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
  • ایران کا مذاکرات میں جزوی پیش رفت کا دعویٰ: ’دو، تین اہم نکات پر اختلاف رائے‘ کے سبب معاہدہ نہیں ہو سکا، اسماعیل بقائی
  • محض ایک ملاقات میں کسی کو معاہدہ طے پانے کی توقع نہیں تھی، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان
  • پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا، امید ہے دونوں فریق جنگ بندی کے لیے اپنا عزم جاری رکھیں گے، اسحاق ڈار
  • تاحال مذاکرات کے اگلے دور کے وقت، مقام اور طریقۂ کار کا فیصلہ نہیں ہوا ہے، ایرانی میڈیا

لائیو کوریج

  1. ہنگو میں انسداد پولیو ٹیم پر حملہ، ایک پولیس اہلکار ہلاک اور چار زخمی

    پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں نا معلوم افراد نے انسداد پولیو ٹیم پر حملہ کیا ہے جس میں ایک اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔

    پولیس کے مطابق جوابی کارروائی میں حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے جس میں دو حملہ آوروں کی ہلاکت کی اطلاع ہے لیکن ان کی لاشیں حملہ آور ساتھ لے گئے ہیں۔

    ہنگو پولیس کے ترجمان نے بتایا ہے کہ یہ حملہ ہنگو کے علاقے چھپری وزیران میں پیش آیا ہے ۔ پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شدت پسندوں نے پولیس پارٹی پر اچانک فائرنگ کی ہے جس میں پانچ پولیس اہلکاروں کو زخم آئے ہیں ان میں ایک اہلکار کی جان چلی گئی ہے۔

    ڈی آئی جی کوہاٹ عرفان طارق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پولیس نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے شدت پسندوں کا بھرپور مقابلہ کیا ہے جس کے نتیجے میں دو شدت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

    ایسی اطلاع ہے کہ اس علاقے میں انسداد پولیو مہم جاری تھی جس کے لیے پولیس بھی تعینات کی گئی تھی۔

    پولیس ترجمان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ سکیورٹی فورسز مزید سدت پسندوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔

    دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ ہنگو میں جاری پولیو مہم معمول کے مطابق جاری رہے گی اور شدت پسند قوم کے حوصلے ہرگز پست نہیں کر سکتے۔

    وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ضلع ہنگو میں انسداد پولیو ٹیم پر فائرنگ کا نوٹس لیا ہے اور انسپکٹر جنرل پولیس سے اس بارے میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔

    وزیر اعلی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی فریضے پر مامور اہلکاروں کو نشانہ بنانا انتہائی بزدلانہ فعل ہے۔

    وزیر اعلیٰ کی زخمی پولیس اہلکاروں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت دی۔

  2. بریکنگ, آبنائے ہرمز میں ایران کی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی میں برطانیہ شامل نہیں ہوگا

    بی بی سی کو علم ہوا ہے برطانیہ ایران کی بندرگاہوں کے خلاف امریکی فوجی ناکہ بندی کے نفاذ میں حصہ نہیں لے گا۔

    برطانوی بحری جہاز اور فوجی اہلکار ایرانی بندرگاہوں کو روکنے کے لیے استعمال نہیں کیے جائیں گے، تاہم برطانیہ کے بارودی سرنگیں صاف کرنے والے جہاز اور اینٹی ڈرون صلاحیتیں خطے میں اپنا کام جاری رکھیں گی۔

    برطانوی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’ہم جہازرانی کی آزادی اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں، جو عالمی معیشت اور ملک میں زندگی گزارنے کے اخراجات کے لیے نہایت ضروری ہے۔‘

  3. ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کا مقصد ایران کو تیل فروخت کرنے سے روکنا ہے

    دفاعی تجزیہ کار جسٹن کرمپ کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا منصوبہ ایران کی جنگ میں مزید شدت کا باعث بنے گا اور یہ ’امن معاہدہ حاصل نہ ہونے پر ٹرمپ کے غصے‘ کی عکاسی کرتا ہے۔

    بی بی سی بریک فاسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کرمپ نے کہا کہ ان تجاویز کے نتیجے میں ایران اپنے خریداروں، جیسے چین، کو تیل فروخت نہیں کر سکے گا، جس سے ایران پر دباؤ بڑھے گا۔

    کرمپ کا خیال ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے پاس ایک دوسرے پر برتری ہے، اور دونوں فریق ’یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اصل میں وہی جیتے ہیں تاکہ دوسرے کو نیچے لایا جا سکے‘۔

    ان کے مطابق اس سے کشیدگی اور خلل میں اضافہ ہوتا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اختتامِ ہفتہ ہونے والی بات چیت میں ایک ’مثبت پہلو‘ موجود تھا، چاہے وہ کسی حل تک نہ پہنچی ہو۔

    انھوں نے کہا، ’کافی گفتگو ہوئی، جو اچھی بات ہے۔ اگر بات کرنے کو کچھ نہ ہوتا تو یہ بہت جلد ختم ہو جاتا۔‘

  4. لداخ کے شناختی کارڈ میں ترمیم، سٹیٹ کے خانے میں جموں کشمیر کی جگہ لداخ درج ہوگا, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے مشرقی خطے لداخ کے باشندوں کی شناخت اب کشمیر نہیں بلکہ لداخی کے طور ہوگی۔

    پیر کے روز انڈیا کے یُونیک آئیڈنٹفکیشن اتھارٹی آف انڈیا نے اپنے ڈیٹا بیس میں لداخیوں کے شناختی کارڈ ’آدھار‘ میں اب ریاست کی جگہ جموں کشمیر کی بجائے اب لداخ لکھا جائے گا۔

    اس فیصلے پر لداخ کے سیاسی و سماجی حلقوں نے اطمینان کا اظہار کرکے لداخ کو باقاعدہ ریاستی درجہ دینے کا مطالبہ دوہرایا ہے، تاہم آر ایس ایس کی حامی جماعت شِوسینا نے اسے ’جموں کشمیر کی جغرافیائی اور ثقافتی وحدت کے خلاف سازش‘ قرار دیا ہے۔

    واضح رہے 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے وقت لداخ کو کشمیر سے الگ کرکے علیٰحدگہ خطہ بنایا گیا جس کا انتظام براہ راست نئی دلی کے ہاتھ میں ہوگا۔

    لداخ انتظامیہ کے ترجمان کے مطابق، لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ کی ذاتی مداخلت کے بعد یہ دیرینہ مسئلہ حل ہوا ہے۔ اس سے پہلے لداخ کا پن کوڈ ڈالنے پر بھی ریاست کے خانے میں جموں و کشمیر ہی ظاہر ہوتا تھا، جس سے لداخی عوام کو شناختی دستاویزات اور سرکاری مراعات حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

    اب عوام کو انفرادی طور پر آدھار سینٹرز پر جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی، بلکہ ڈیٹا بیس میں خودکار طریقے سے یہ تبدیلی کر دی گئی ہے۔

    شِو سینا کا سخت ردعمل

    جہاں لداخ کی انتظامیہ اس فیصلے کو ایک بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے، وہیں جموں میں شیو سینا (یو بی ٹی) نے اس اقدام پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور اسے دونوں خطوں کے درمیان دوری پیدا کرنے کی گہری سازش قرار دیا ہے۔

    جموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیو سینا جموں و کشمیر یونٹ کے صدر منیش ساہنی نے اس فیصلے کی سخت مذمت کی۔

    ساہنی نے الزام لگایا کہ ’مرکزی حکومت نے پہلے جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ چھینا، اسے ریاست سے مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنایا، اور اب وہ سرکاری کاغذات پر لکیریں کھینچ کر لوگوں کے دلوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘

    شِو سینا کے رہنما نے مزید کہا کہ، ’لداخ اور جموں و کشمیر کا رشتہ محض جغرافیائی نہیں ہے، بلکہ یہ صدیوں پرانی مشترکہ ثقافت، روایات، تجارت اور بھائی چارے پر مبنی ہے۔ کسی بھی نوکر شاہی کے فیصلے سے اس رشتے کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔‘

    انھوں نے مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر کو فوری طور پر مکمل ریاست کا درجہ بحال کیا جائے اور یہاں کے لوگوں کی زمین، ملازمت اور ثقافتی شناخت کو تحفظ دینے کے لیے آئین کے آرٹیکل 371 کے تحت خصوصی دفعات نافذ کی جائیں۔

    اگرچہ لداخ کی مقامی اور بی جے پی نواز قیادت نے اس فیصلے کو انتظامی سہولت اور لداخی خود مختاری کی علامت کے طور پر خوش آئند قرار دیا ہے، لیکن جموں و کشمیر کی مقامی اور لداخ کی چند اہم اپوزیشن جماعتوں نے اس فیصلے کی تنقید کی ہے۔

    حکمراننیشنل کانفرنس کے ترجمان نے الزام عائد کیا کہ ’ حکومت ایسے علامتی اقدامات کے ذریعے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانا چاہتی ہے۔ اصل مسئلہ لداخ اور جموں و کشمیر کے عوام کو ان کے جمہوری حقوق، ریاستی درجہ، اور زمین و ملازمت کے تحفظ کی ضمانت دینا ہے جو 5 اگست 2019 کو چھین لیے گئے تھے۔‘

    اپوزیشن رہنمامحبوبہ مفتی کی جماعت پی ڈی پی نے کہا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت مسلسل ایسے اقدامات کر رہی ہے جس سے جموں، کشمیر اور لداخ کے عوام کے درمیان نفسیاتی اور جغرافیائی لکیریں مزید گہری ہو جائیں۔

  5. آبنائے ہرمز ایران کے لیے ’جوہری بم‘ سے بھی زیادہ مؤثر ہتھیار

    امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے دوران ہر جانب آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کی بازگشت رہی۔

    40 روزہ لڑائی کے دوران ایران کے جوہری ہتھیاروں یا اس کی جوہری صلاحیت سے زیادہ اس کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو روکنے کا معاملہ زیرِ بحث رہا۔

    جنگ کے آغاز پر یہ سمجھا جا رہا تھا کہ ایران کے اہم مقامات اور رہنماؤں کو نشانہ بنا کر اسے حکومت کی تبدیلی پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ایران نے امریکہ کے خلیجی اتحادیوں پر میزائل اور ڈرون سے حملے کر کے جواب دیا۔

    لیکن جیسے جیسے لڑائی میں تیزی آئی، ایران نے خلیج فارس کو عالمی منڈیوں سے ملانے والی تنگ آبی گزرگاہ کے ذریعے سمندری ٹریفک میں خلل ڈالنے کی طرف اپنی توجہ مرکوز کر لی۔

    اس اقدام نے جلد ہی امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر بہت زیادہ دباؤ ڈالا، جو آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل کے بلاتعطل بہاؤ پر انحصار کرتے ہیں۔

    تو ایران مستقبل میں آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کے لے مزید کیا کر سکتا ہے؟

  6. آبی گزرگاہ کے قریب آنے والے کسی بھی فوجی جہاز سے سختی سے نمٹا جائے گا: ایرانی بحریہ

    ایران نے امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی کرنے کے اپنے ارادے کے اعلان پر متعدد ردعمل جاری کیے ہیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ اور ایران پاکستان میں امن مذاکرات کے دوران ایک معاہدے تک پہنچنے کے ’بہت قریب‘ تھے، لیکن تہران نے ’زیادہ مطالبات، بدلتے ہوئے حالات اور ناکہ بندی‘ کے بارے میں بیان کیے جانے پر حیرانی کا اظہار کیا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا جانے کی کوشش کرنے والے ’کسی بھی جہاز‘ پر ناکہ بندی عائد کرنے کی دھمکی کے جواب میں، ایرانی بحریہ نے کہا کہ آبی گزرگاہ کے قریب آنے والے کسی بھی فوجی جہاز سے ’انتہائی سختی‘ سے نمٹا جائے گا۔

  7. ناکام مذاکرات کے بعد عالمی معیشت کے حوالے سے بڑھتے خدشات, سورنجنا تیواری، ایشیا بزنس رپورٹر

    امن مذاکرات کے خاتمے اور اس کے ساتھ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے عالمی معیشت کو ایک اور جھٹکا دیا ہے۔

    بنیادی تشویش رسد کے بارے میں ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازرانی میں خلل جاری رہا تو روزانہ بیس لاکھ بیرل تک تیل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

    جہازرانی کے اعداد و شمار پہلے ہی ظاہر کر رہے ہیں کہ ٹینکرز کی آمد و رفت نہایت کم ہو گئی ہے، اور امریکا کی مجوزہ ناکہ بندی کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

    اس صورتحال نے قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے اور توانائی کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ بڑھا دیا ہے۔

    وسیع تر معیشت پر اس کے اثرات نسبتاً براہِ راست ہیں۔ تیل کی بلند قیمتیں نقل و حمل، خوراک اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں شامل ہو کر مہنگائی بڑھاتی ہیں اور گھریلو بجٹ پر دباؤ ڈالتی ہیں۔

    بہت سے بڑے مرکزی بینکوں نے حال ہی میں ہی بلند شرحِ سود سے ہٹنا شروع کیا ہے۔ اگر تیل کی قیمتیں بلند رہیں تو انھیں شرحِ سود میں کمی مؤخر کرنا پڑ سکتی ہے۔

    یورپ اور ایشیا کے بیشتر ممالک، جو درآمدی توانائی پر انحصار کرتے ہیں، میں ترقی اور اخراجات پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ برآمد کنندگان طلب میں کمی پر تشویش کا شکار ہیں۔

    منڈیاں پہلے ہی کمزور حصص، بلند تیل کی قیمتوں اور بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے ساتھ ردِعمل دے رہی ہیں، یہ امتزاج سست ترقی کے ساتھ بلند مہنگائی کے خدشات کو جنم دیتا ہے۔

  8. ایران نے اپنی جنگی حکمت عملی سے امریکہ اور اسرائیل کو کیسے حیران کیا؟

    28 فروری کو جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملوں کا آغاز کیا تھا، تو اس وقت بنیادی سوال یہی تھا کہ یہ جنگ کب تک جاری رہے گی؟

    پھر معاملہ دنوں سے ہفتوں اور اب مہینوں پر محیط ہوتا نظر آ رہا ہے اور بظاہر یہ جنگ ختم ہونے کی کوئی واضح ڈیڈ لائن موجود نہیں ہے۔ اس جنگ کے آغاز کے بعد سے وہ تمام چیزیں ہوئیں جن کی ڈونلڈ ٹرمپ نے شاید امید نہیں کی تھی۔

    جیسے جیسے یہ جنگ طوالت اختیار کر رہی ہے امریکہ اور اسرائیل بین الاقوامی تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اس تنازع کے خلاف خود امریکہ میں بھی بڑے مظاہرے ہوئے ہیں۔

    تو کیا اس پس منظر میں ایران اپنی جنگی حکمت عملی اور سفارتکاری کے ذریعے کسی حد تک امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ماحول بنانے میں کامیاب رہا ہے؟

  9. اگر امریکہ نے ہمارے ارادوں کا دوبارہ امتحان لیا تو وہ بڑا سبق سیکھے گا۔: قالیباف

    ایرانی پارلیمان کے سپیکر اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے اہم رکن محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے حکم کے ردعمل میں کہا ہے کہ ’ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں کا ایرانی قوم پر کوئی اثر نہیں ہوا، یہ کوئی نعرہ نہیں ہے، ہم نے اسے ثابت کر دیا ہے۔‘

    انھوں نے خبردار کیا کہ ’اگر امریکیوں نے ایک بار پھر ہمارے ارادوں کا امتحان لیا تو ہم انہیں بڑا سبق سکھائیں گے۔‘

    اتوار کو صحافیوں سے اپنے دورہ پاکستان اور جے ڈی وینس کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے قالیباف نے زور دیا کہ ’ہم نے شروع سے اعلان کیا ہے کہ ہمیں امریکیوں پر بھروسہ نہیں ہے۔ ہماری بے اعتمادی کی دیوار 77 سال پرانی ہے اور انھوں نے ایک سال سے بھی کم عرصے میں مذاکرات کے وسط میں ہم پر دو بار حملہ کیا۔ لہذا وہ وہی ہیں جنہیں ہمارا اعتماد حاصل کرنا چاہیے۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے بیانات اور آبنائے ہرمز کے بارے میں ان کے انتباہ کے جواب میں قالیباف نے کہا: ’اس طرح کی دھمکیوں کا ایرانی قوم پر کوئی اثر نہیں ہوتا، ہم نے ثابت کیا ہے کہ یہ نعرہ نہیں ہے اور دنیا نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔۔۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ لڑیں گے تو ہم لڑیں گے اور اگر آپ منطق کے ساتھ آگے آئیں گے تو ہم منطق سے نمٹیں گے۔ ہم انھیں ایک بار پھر ایسی دھمکیوں کو آزمانے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

  10. ایران اب بھی جوہری ہتھیار چاہتا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

    پاکستان میں ہونے والے امن مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہونے کے بعد، ایران کے جوہری عزائم پر ڈونلڈ ٹرمپ کے مزید بیانات سامنے آئے ہیں۔

    امریکی صدر نے کہا کہ ایران اب بھی جوہری ہتھیار چاہتا ہے اور اس ارادے کا اظہار اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے دوران کیا گیا۔

    ٹرمپ نے کہا، ’وہ اب بھی یہ چاہتے ہیں، اور انھوں نے گذشتہ رات یہ بات واضح کر دی۔ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘

    ٹرمپ اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات اس لیے ناکام ہوئے کیونکہ تہران ’اپنے جوہری عزائم ترک کرنے پر آمادہ نہیں تھا‘۔

    اس سے پہلے، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ دونوں فریق معاہدے کے ’بالکل قریب‘ پہنچ چکے تھے، لیکن ایران کو ’انتہائی سخت موقف، بدلتے ہوئے مطالبات، اور رکاوٹوں‘ کا سامنا کرنا پڑا۔

  11. مجھے پروا نہیں کہ ایران مذاکرات میں واپس آتا ہے یا نہیں: ٹرمپ کا بیان

    کچھ دیر قبل واشنگٹن ڈی سی کے قریب جوائنٹ بیس اینڈریوز پر فلوریڈا سے واپسی کے بعد گفتگو کرتے ہوئے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ اگر ایران مذاکرات میں واپس نہیں آتا تو انھیں ’کوئی مسئلہ نہیں‘۔

    ٹرمپ نے کہا، ’مجھے پروا نہیں کہ وہ واپس آتے ہیں یا نہیں۔ اگر وہ واپس نہیں آتے تو بھی میں ٹھیک ہوں۔‘

    یہ بیان اس کے ایک دن بعد آیا جب پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کسی معاہدے پر منتج نہیں ہو سکے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ’اچھی طرح برقرار‘ ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ان دو امریکی فضائی اہلکاروں کے بارے میں بھی تازہ معلومات فراہم کیں جنہیں اس ماہ کے آغاز میں ایران سے بچایا گیا تھا، جب ان کا لڑاکا طیارہ مار گرایا گیا تھا۔

    ٹرمپ نے جوائنٹ بیس اینڈریوز پر صحافیوں کو بتایا، ’وہ بہت اچھی حالت میں ہیں اور ہمیں ان پر بہت فخر ہے۔‘

    ان میں پائلٹ شامل تھا، جسے جہاز سے نکلنے کے فوراً بعد تلاش کر لیا گیا تھا اور ایک ویپن سسٹم آفیسر شامل تھا جسے ایران کے پہاڑوں میں 24 گھنٹے سے زیادہ چھپے رہنے کے بعد بچایا گیا۔ دونوں کو اس واقعے میں زخمی بھی ہونا پڑا۔

  12. ڈونلڈ ٹرمپ کی پوپ لیو چہاردہم پر سخت تنقید

    ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پوپ لیو چہاردہم پر سخت تنقید کی ہے، یہ تنقید رومن کیتھولک چرچ کے پہلے امریکی سربراہ کی جانب سے ایران کے خلاف امریکی صدر کی دھمکی کی مذمت کرنے پر کی گئی۔

    ٹروتھ سوشل پر ایک طویل پوسٹ میں، امریکی صدر نے لکھا کہ پوپ خارجہ پالیسی کے لیے ’انتہائی خراب‘ ہیں۔

    ٹرمپ نے کہا، ’میں ایسا پوپ نہیں چاہتا جو یہ سمجھے کہ ایران کے لیے جوہری ہتھیار رکھنا ٹھیک ہے۔‘

    پوپ کے بارے میں دیگر شکایات گنواتے ہوئے، ٹرمپ نے لکھا کہ پوپ لیو ’جرائم کے معاملے میں کمزور، جوہری ہتھیاروں کے معاملے میں کمزور‘ ہیں۔

    گزشتہ ہفتے، پوپ لیو نے ٹرمپ کی اس دھمکی پر تنقید کی تھی کہ اگر ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ نہ کیا تو ’ایک پوری تہذیب آج رات مر جائے گی‘۔

    اسے ’واقعی ناقابلِ قبول‘ قرار دیتے ہوئے، انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’یقیناً بین الاقوامی قانون کے سوالات موجود ہیں، لیکن اس سے بڑھ کر یہ ایک اخلاقی سوال ہے۔‘

  13. امن مذاکرات میں ’نیک نیتی‘ کے ساتھ حصہ لیا: ایرانی وزیرِ خارجہ

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اپنے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ تہران نے اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات میں ’نیک نیتی‘ کے ساتھ حصہ لیا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’جب ہم اسلام آباد میں منعقد مزاکرات کے دوران معاہدے سے چند انچ کے فاصلے پر تھے تو ہمیں زیادہ سے زیادہ مطالبات، بدلتے ہوئے اہداف اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔‘

    انھوں نے اپنے پیغام کے آخرمیں لکھا کہ ’نیک نیتی نیک نیتی کو جنم دیتی ہےاور دشمنی دشمنی کو فروغ دیتی ہے۔‘

  14. امریکی سینٹرل کمان کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے وقت کا اعلان، ناکہ بندی پیر سے شروع ہو گی: سینٹکام

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے مطابق آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے وقت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی پیر سے شروع ہو گی۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے اعلان کے مطابق 13 اپریل کو صبح 10 بجے(ایسٹرن ٹائم) ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور نکلنے والی تمام سمندری ٹریفک کی ناکہ بندی پر عمل درآمد شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    سینٹ کام کے مطابق یہ ناکہ بندی تمام ممالک کے جہازوں پر یکساں طور پر نافذ کی جائے گی جو ایرانی بندرگاہوں یا ساحلی علاقوں میں داخل ہوں گے یا وہاں سے نکلیں گے۔ اس میں خلیج اور بحیرہ عمان میں واقع تمام ایرانی بندرگاہیں شامل ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’سینٹ کام آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا جو غیر ایرانی بندرگاہوں کی جانب یا وہاں سے آ رہے ہوں۔‘

    سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کے آغاز سے قبل تجارتی جہاز رانی کے اداروں کو باضابطہ نوٹس کے ذریعے مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔

    یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے کی کوشش کرنے والے تمام جہازوں کی ناکہ بندی کے عمل کا آغاز کرے گا۔

  15. امریکہ کے ساتھ معاہدہ تب ممکن ہو سکتا ہے اگر وہ ’آمریت ترک کرے‘: ایرانی صدر

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر ’امریکی حکومت اپنی آمرانہ روش ترک کر کے ایرانی قوم کے حقوق کا احترام کرے تو امریکہ کے ساتھ ایک معاہدہ ہونا ممکن ہو سکتا ہے۔‘

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایرانی صدر کا یہ بیان ایرانی میڈیا کی جانب سے صدر پزشکیان اور روسی صدر پوتن کے درمیان ہونے والی گفتگو کی خبروں کے بعد سامنے آیا ہے۔

    ایرانی میڈیا میں صدر پزشکیان کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ ’دسترس سے باہر نہیں۔‘

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات اس لیے ناکام ہوئے کیونکہ ’ایران اپنے جوہری عزائم ترک کرنے پر آمادہ نہیں۔‘

    انھوں نے فاکس نیوز کو بتایا تھا کہ ’میری پیش گوئی ہے کہ وہ واپس آئیں گے اور ہمیں وہ سب کچھ دیں گے جو ہم چاہتے ہیں۔‘

  16. پاکستان اور ترکی کا امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی پابندی پر زور

    پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے درمیان ٹیلفونک رابطے میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت پر گفتگو کی گئی۔

    ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان اسلام آباد مذاکرات میں پیش رفت پر گفتگو کی گئی اور فریقین پر جنگ بندی کی پابندی پر زور دیا گیا۔

    بیان کے مطابق ترک وزیر خارجہ نے ایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق ہاکان فیدان نے اسحاق ڈار کو انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کی دعوت دی۔

  17. اسرائیل کا پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کو نظرانداز کیا جانا, نک بیک، بی بی سی نیوز، اسرائیل

    اسرائیلی حکومت کی جانب سے پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کو بڑی حد تک نظرانداز کیا جا رہا ہے کم از کم عوامی سطح پر تو یہی تاثر لیا جا رہا ہے۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو شروع ہی سے ان مذاکرات کے حق میں نہیں تھے۔ ان کی خواہش امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے جاری رکھنا تھی۔

    انھیں عالمی سطح پر بے چینی بڑھنے کے باعث یہ تاثر بھی ختم کرنا پڑا کہ وہ آخری لمحات تک صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک عبوری جنگ بندی پر رضامند ہونے سے لاعلم تھے۔

    اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان کسی فوری معاہدے پر اتفاق نہ ہونے پر اسرائیلی حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا اگرچہ ایسا معاہدہ پہلے بھی کم ہی متوقع تھا۔

    اس کے برعکس اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کے سربراہ نے فوج کو ہائی الرٹ پر جانے کا حکم دیا ہے، ایسی سطح پر جو ماضی کی بڑی فوجی کارروائیوں سے قبل دیکھی گئی تھی۔

    ہم نے اس بارے میں اسرائیلی فوج سے تصدیق کی درخواست کی ہے تاہم تاحال جواب موصول نہیں ہوا۔ البتہ یہ بیانیہ نیتن یاہو کے حالیہ بیانات سے مطابقت رکھتا ہے۔

    چند روز قبل انھوں نے کہا تھا کہ انگلی ’ابھی بھی ٹریگر پر ہے‘ اور گزشتہ شب انھوں نے ایک بار پھر عزم ظاہر کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم نہیں ہوئی۔

    اسی دوران اسرائیلی فوج لبنان پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

    بیروت کے حکام کے مطابق حالیہ ہفتوں میں ان کارروائیوں کے نتیجے میں دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  18. ایران مذاکرات کی میز پر دوبارہ آئے گا: صدر ٹرمپ کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر آئے گا اور ’ہمیں وہ سب کچھ دے گا جو ہم چاہتے ہیں۔‘

    فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی مذاکرات کاروں نے تقریبا ہر نکتے پر اتفاق سے آمادگی کا اظہار کر دیا تھا تاہم ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا۔

    ان کا دعویٰ تھا کہ ایران ’مذاکرات کی میز سے اٹھا نہیں‘ ہے۔

    ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ’میرا خیال ہے وہ واپس آئیں گے اور ہمیں وہ سب کچھ دیں گے جو ہم چاہتے ہیں۔‘

    انٹرویو کے ایک اور حصے میں ٹرمپ نے چین کو خبردار کیا کہ اگر اس نے ایران کی فوجی مدد کی تو اس پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ موجودہ تنازع کے بعد تیل اور گیس کی قیمتیں بالآخر کم ہو جائیں گی۔

  19. امریکہ کے ساتھ معاہدہ دسترس سے باہر نہیں: ایرانی صدر

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ بین الاقوامی قانون کی پابندی کرے تو امریکہ کے ساتھ معاہدہ ’دسترس سے باہر نہیں‘ ہے۔

    ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق یہ بات صدر پزشکیان اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ہونے والی ایک ٹیلیفونک گفتگو کے دوران سامنے آئی ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ رابطہ اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ اور ایران مذاکرات کے بعد کیا گیا۔

    ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے اس گفتگو کے حوالے سے مختصر بیان جاری کیا ہے۔

  20. پاکستان مذاکرات کے عمل میں سہولت کاری جاری رکھے گا: اسحاق ڈار

    نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان مذاکرات کے عمل میں سہولت کاری کا عمل جاری رکھے گا۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق آج سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور اسحاق ڈار کے درمیان ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی ہے۔

    اس موقع پر نائب وزیرِ اعظم نے اسلام آباد مذاکرات سے متعلق تازہ پیش رفت سے آگاہ کیا اور تمام فریقوں کی جانب سے جنگ بندی کے وعدوں پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔

    پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان مذاکرات کے عمل میں سہولت کاری جاری رکھے گا اور خطے سمیت وسیع تر امن و استحکام کے لیے تمام سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا۔

Trending Now