ہنگو میں انسداد پولیو ٹیم پر حملہ، ایک پولیس اہلکار ہلاک اور چار زخمی
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں نا معلوم افراد نے انسداد پولیو ٹیم پر حملہ کیا ہے جس میں ایک اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔
پولیس کے مطابق جوابی کارروائی میں حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے جس میں دو حملہ آوروں کی ہلاکت کی اطلاع ہے لیکن ان کی لاشیں حملہ آور ساتھ لے گئے ہیں۔
ہنگو پولیس کے ترجمان نے بتایا ہے کہ یہ حملہ ہنگو کے علاقے چھپری وزیران میں پیش آیا ہے ۔ پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شدت پسندوں نے پولیس پارٹی پر اچانک فائرنگ کی ہے جس میں پانچ پولیس اہلکاروں کو زخم آئے ہیں ان میں ایک اہلکار کی جان چلی گئی ہے۔
ڈی آئی جی کوہاٹ عرفان طارق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پولیس نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے شدت پسندوں کا بھرپور مقابلہ کیا ہے جس کے نتیجے میں دو شدت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
ایسی اطلاع ہے کہ اس علاقے میں انسداد پولیو مہم جاری تھی جس کے لیے پولیس بھی تعینات کی گئی تھی۔
پولیس ترجمان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ سکیورٹی فورسز مزید سدت پسندوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔
دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ ہنگو میں جاری پولیو مہم معمول کے مطابق جاری رہے گی اور شدت پسند قوم کے حوصلے ہرگز پست نہیں کر سکتے۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ضلع ہنگو میں انسداد پولیو ٹیم پر فائرنگ کا نوٹس لیا ہے اور انسپکٹر جنرل پولیس سے اس بارے میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔
وزیر اعلی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی فریضے پر مامور اہلکاروں کو نشانہ بنانا انتہائی بزدلانہ فعل ہے۔
وزیر اعلیٰ کی زخمی پولیس اہلکاروں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت دی۔