آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’گندگی، گندگی سے ختم نہیں ہوتی‘
پاکستان سپر لیگ کے فائنل لاہور میں انعقاد کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے متنازع بیان کی بازگشت سوشل میڈیا سے کم نہ ہوئی تھی کہ جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے بعد ایک نئے ہنگامے نے پاکستانی سوشل میڈیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
پاکستان تحریک انصاف کے رکن سمبلی مراد سعید کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ نون کی رکن اسمبلی جاوید لطیف پر 'مکے کا وار' اور اس کے بعد جاوید لطیف کا متنازع بیان جمعے کو بھی سوشل میڈیا پر موضوع بحث رہا۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ٹوئٹر پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے جاوید لطیف کے بیان کی سخت مذمت کی۔ انھوں نے کہا کہ 'مسلم لیگ نون نے ایک بار پھر خواتین اور مخالفین کی خاندان کے ارکان 'چادر اور چار دیواری' کے تقدس سے جعلی وابستگی کا مظاہرہ کیا ہے۔'
بہت سے پاکستانی صارفین جاوید لطیف اور مراد سعید سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔
نذرانہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ 'جاوید لطیف ایک مائنڈ سیٹ ہے۔ مرد اپنے غیرت اور انا کے اطمینان کے لیے بہنوں، ماؤں، بیٹیوں کو گالی دینا اپنا حق سمجھتے ہیں۔'
ایک اور صارف عبیر آصف مغل نے لکھا کہ جاوید لطیف کے الفاظ کا چناؤ انتہائی برا تھا اور وہ مکا کھانے کے مستحق تھے۔
ہما سیف نے لکھا کہ 'مراد سعید کو جسمانی تشدد کرنے پر قانون کے مطابق سزا دینی چاہیے اور جاوید لطیف کے خلاف بھی سخت کارروائی ہونا چاہیے۔ یکطرفہ انصاف نہیں ہونا چاہیے۔'
انعم چیمہ کا کہنا تھا کہ 'مراد سعید کو اپنا غصہ قابو میں رکھنے کی ضرورت ہے ایسا نہیں ہوسکتا ہے جو کوئی بھی ان کے رہنما کو برا بھلا کہے یا نازیبا زبان استعمال کرے اسے وہ تھپڑ اور ملے مارتے جائیں۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
متحدہ قومی موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی کا کہنا تھا کہ 'مراد سعید عمر اور تجربے میں میاں جاوید لطیف سے آدھے ہیں، انھیں کم از کم سینیارٹی کا خیال رکھنا چاہیے تھا۔'
خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر مشتاق غنی کا کہنا تھا کہ 'مسلم لیگ نون کی جانب سے کوئی مذمت؟ ایک حاضر رکن اسمبلی کے خلاف نازیبا زبان کے استعمال کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔'
جہاں پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اور سپورٹرز جاوید لطیف کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں وہیں پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنماؤں اور سپورٹرز کی جانب سے بھی جاوید لطیف کے بیان کی مذمت کی جارہی ہے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ وہ 'جاوید لطیف کے میڈیا کو دیے گئے بیان کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ پی ٹی آئی جو کچھ بھی کرتی ہے ہمیں شائستگی برقرار رکھنا چاہیے۔'
مراد سعید اور جاوید لطیف سے پیدا ہونے والے تنازعے کے بارے میں صحافی مرتضیٰ سولنگی نے دبے لفظوں میں یہ پیغام دیا: 'ایک سندھی کہاوت ہے: گندگی گندگی سے ختم نہیں ہوتی، یہ پانی سے دھوئی جاتی ہے۔'