آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
قائداعظم یونیورسٹی میں پھر احتجاج، 60 سے زائد طلبہ گرفتار
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس نے دو ہفتے سے زیادہ عرصے بند رہنے کے بعد پیر کو کھلنے والی قائداعظم یونیورسٹی سے 60 سے زیادہ طلبہ کو احتجاج کرنے کے الزام میں حراست میں لے لیا ہے۔
ادھر طلبہ کا موقف ہے کہ ان کا احتجاج پرامن تھا اور پولیس نے بلاوجہ لاٹھی چارج کر کے بڑی تعداد میں طلبہ کو زخمی بھی کیا ہے۔
سیکریٹیریٹ سرکل کے سب ڈویژنل پولیس افسر عبدالرزاق نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ ابھی تک ان طلبہ کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ نقص امن اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی۔
طلبہ کی گرفتاری کے خلاف ان کے ساتھیوں نے اسلام آباد کے پریس کلب کے باہر مظاہرہ بھی کیا ہے۔ مظاہرے میں شریک طلبہ نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور وہ پولیس کے اقدامات کے خلاف نعرے بازی بھی کر رہے تھے۔
پلے کارڈز پر پولیس اور یونیورسٹی کی انتظامیہ کے خلاف نعرے درج تھے۔
اسلام آباد کی سب سے بڑی یونیورسٹی اور حالیہ دنوں میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی درجہ بندی میں تحقیق کے لیے بہترین قرار دی گئی اس درس گاہ میں حالات گذشتہ چند ماہ سے خراب ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قائداعظم یونیورسٹی کی انتظامیہ نے گذشتہ جمعرات بظاہر طلبہ کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد درس گاہ کو سوموار سے کھولنے کا اعلان کیا تھا۔
حالیہ کشیدگی کی وجہ اس سال مئی میں دو لسانی طلبہ تنظیموں کی درمیان تصادم تھا جس کے بعد تقریباً 40 طلبہ کو یونیورسٹی سے نکال دیا تھا۔
اس تازہ احتجاجی مظاہرے میں طلبہ نے انتظامیہ کے سامنے 13 مطالبات رکھے جن میں یونیورسٹی سے نکالے جانے والے طلبہ کی جامعہ میں واپسی، طلبہ کے لیے سفری سہولیات کے نظام کو بہتر کیا جانا، پیرامیڈکس سمیت دیگر غیر رجسٹرڈ شعبہ جات کی رجسٹریشن اور فیسوں میں ہونے والے اضافے کو واپس لیے جانے کے مطالبات شامل ہیں۔
انتظامیہ نے فیسوں میں کمی کا مطالبہ تو مان لیا لیکن وہ 40 طلبہ کو بحال نہ کرنے پر مصر ہے۔ بعض طلبہ اس فیصلے سے خوش نہیں تھے اور انھوں نے اپنا پرامن احتجاج پیر کے روز بھی جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔
ایک طالب علم نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'پیر کی صبح کئی ٹرکوں میں پولیس اور انسداد دہشت گردی کی فورس کے اہلکار یونیورسٹی آئے اور احتجاج کرنے والے طلبا کو زبردستی گرفتار کر کے ساتھ لے گئے۔ پولیس نے طالبات کے ساتھ بھی زیادتی کی اور انھیں مارا۔
عینی شاہد طالب علم نے یونیورسٹی انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ ملک کے اس بہترین تعلیمی ادارے کی زبوں حالی پر توجہ نہیں دے رہی اور طلبہ اگر شکایت کرتے ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔
طلبہ کی بحالی کی مخالفت صرف انتظامیہ نہیں کر رہی بلکہ حکومت اور اساتذہ بھی اس کے مخالف ہیں۔
یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ کمیٹی کے سابق رُکن اور سینیئر لیکچرار وحید احمد نے کہا کہ 'اگر جامعہ کے قوانین کو توڑنے والے طلبا کو واپس یونیورسٹی میں داخل کیا گیا تو اگلا احتجاج اساتذہ کریں گے۔'