مولانا گل داد: طالبان کے خلاف اپنی بہادری اور قربانیوں پر تمغہ شجاعت حاصل کرنے والے مولانا گل داد کون ہیں؟

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

باجوڑ میں نومبر 2007 میں شدت پسندی اپنے عروج پر تھی، کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے حملوں میں اضافہ ہو رہا تھا، لیکن ایسے میں ایک ایسی آواز سامنے آئی جو طالبان کی بھرپور مخالفت کر رہی تھی۔

یہ آواز مولانا گل داد کی تھی وہ لوگوں سے کہہ رہے تھے کہ شدت پسندی کی مزاحمت کرنے کے لیے سب کا متحد ہونا ضروری ہے۔ لیکن شدت پسندوں کی جانب سے اس کے ردعمل میں مولانا گل داد پر 17 حملے کیے گئے جن میں وہ خود بھی دو مرتبہ شدید زخمی ہوئے تھے۔ ان کے اہل خانہ اور رشتہ داروں پر بھی حملے کیے گئے جن میں ان کا بیٹا، بھائی، سسر اور دیگر رشتہ دار اور ساتھی ہلاک ہوئے۔

اب پاکستان کی حکومت کی جانب سے مولانا گل داد خان کو ان کی خدمات، بہادری اور قربانیوں کے بدلے میں تمغہ شجاعت سے نوازا گیا ہے۔

مولانا گل داد پہلی مرتبہ اس وقت منظر عام پر آئے تھے جب شدت پسندوں نے سنہ 2007 میں ناواگئی کے علاقے میں ایک سکیورٹی اہلکار کو قتل کر دیا تھا اور دھمکی دی تھی کہ لاش کوئی نہیں اٹھائے گا۔ لیکن مولانا گل داد وہاں گئے اور لاش اٹھا کر سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دی۔

اس کے بعد شدت پسندوں کی جانب سے ان پر حملے شروع ہو گئے۔

مولانا گل داد کون ہیں؟

دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک اور دارالعلوم سوات سے فارغ التحصیل مولانا گل داد قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی سے وابستہ ہیں۔ وہ جماعت کے باجوڑ کے رہنما اور ممتاز عالم دین ہیں۔

مولانا گل داد کے بیٹے حفیظ اللہ ظاہر لیکچرر ہیں۔ وہ بھی مولانا گل داد کے ہمراہ حملوں میں زخمی ہوئے تھے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ مولانا گل داد کا تعلق خلجی خاندان سے ہے۔ وہ 1953 میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مقامی مدرسے میں حاصل کرنے کے بعد درس نظامی کے لیے مولانا سمیع الحق کے مدرسے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک چلے گئے تھے۔ یہ وہ مدرسہ ہے جہاں سے طالبان کی ایک بڑی تعداد نے تعلیم حاصل کی ہے۔ انھوں نے ایم اے اسلامیات کیا اور 1975 میں استاد بھرتی ہوئے اور 25 سال تک تعلیم کے شعبے سے وابستہ رہے۔

مولانا گل داد سنہ 2019 میں ایک حملے میں پانچ دیگر افراد کے ہمراہ زخمی ہو گئے تھے۔ ان کا ایک محافظ بعد میں دم توڑ گیا تھا۔ صحتیاب ہونے کے بعد مولانا گل داد نے ایک مرتبہ پھر شدت پسندوں کی مخالفت میں بیان دیا تھا۔

انھوں نے طالبان کو مناظرے کا چیلنج بھی دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ کہیں بھی کسی بھی مقام پر ان کے ساتھ مناظرہ کرلیں، جس میں وہ ان کے موقف کو غلط ثابت کر دیں گے۔

مولانا گل داد پر 17 حملے ہوئے جن میں ان کا بیٹا، بھائی، سسر اور دیگر رشتہ دار اور ساتھی ہلاک ہوئے۔ ان پر ایک حملہ 2009 میں اس وقت ہوا جب وہ اپنے گھر میں موجود تھے۔ شدت پسندوں نے ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا جس میں ان کے اس کمرے کو زیادہ نقصان پہنچا جس میں ان کی کتابیں پڑی تھیں۔ مولانا گل داد کے مکان پر متعدد راکٹ فائر کیے گئے جس میں وہ شدید زخمی ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ اسی سال ان پر ایک حملہ اس وقت ہوا جب وہ اپنے علاقے کے لوگوں کے ساتھ گندم کی فصل کی کٹائی کر رہے تھے۔

مولانا کا ایک بیٹا ایک دیسی ساختہ بارودی سرنگ کے حملے میں ہلاک ہو گیا تھا لیکن وہ اس کے باوجود شدت پسندوں کی مذمت کرتے رہے۔

مولانا گل داد کا موقف

باجوڑ میں مولانا گل داد کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انھوں نے ایک مرتبہ مقامی سطح پر صحافیوں سے بات چیت میں کہا تھا کہ افغانستان میں جب طالبان منظر عام پر آئے اور پھر ’انگریزوں نے ان پر حملہ کیا‘ تو اس دوران پاکستان میں بھی ایک تحریک ابھری جسے تحریک طالبان کہا جاتا ہے۔

ان کے مطابق تحریک طالبان کے ساتھ لوگوں نے پہلے محبت کا اظہار کیا کیونکہ لوگوں کی نظر میں یہ طالبان ڈاکؤوں کے خلاف تھے لیکن وہ خود پہلے روز سے ان شدت پسندوں کے موقف کے حامی نہیں تھے اور ان کے خلاف تھے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے بھائی کو جب مارا گیا تو اس وقت انھوں نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ ان کے خلاف اب کارروائی کریں گے اور اس دوران ان پر حملے ہوئے جس میں ان کے خاندان کو جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور انھوں نے کوئی نقل مکانی نہیں کی بلکہ اپنے علاقے میں ہی موجود رہے۔

’لوگ کہتے تھے مولانا گل داد کو شدت پسندوں کی طاقت کا اندازہ نہیں ہے

پاکستان کے ان علاقوں میں 2004 اور پھر 2005 میں جب تشدد کے واقعات شروع ہوئے اور ان میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا تو بڑی تعداد میں لوگ سہم گئے تھے اور اکثر لوگ خاموش تھے۔ ان قبائلی علاقوں میں شدت پسنوں کے حملے بڑھ رہے تھے اور یہ حملے بظاہر سکیورٹی فورسز یا ان لوگوں پر کیے جاتے تھے جو حکومت کی حمایت کرتے تھے لیکن ان میں عام لوگ بھی نشانہ بنے۔

مقامی صحافی بلال یاسر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس دور میں جب شدت پسندوں کا اپنا موقف تھا اور مولانا گل داد ان کی مخالفت میں ڈٹے ہوئے تھے تو ایسے میں لوگ کھل کر نہ تو طالبان کے ساتھ ہوتے اور نہ ہی ان کی مخالفت کرتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ کچھ سیاسی رہنماؤں نے ایسے بیانات ضرور دیے جن میں مولانا گل داد کی بہادری کو سراہا اور کہا گیا کہ مولانا گل داد نے ان علاقوں میں امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ان کے مطابق باجوڑ میں اب امن کے قیام کے بعد لوگ ان کے موقف کی حمایت کرتے ہیں اور ان کو شدت پسندوں کے خلاف اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کے لیے سراہتے بھی ہیں۔

ان کے مطابق مقامی لوگ مولانا گل داد کو اس دور میں معصوم سمجھتے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ مولانا گل داد کو شدت پسندوں کی طاقت کا اندازہ نہیں ہے۔

مولانا گل داد اور رشتہ داروں پر کہاں کہاں اور کب حملے ہوئے؟

مولانا گل داد پر حملوں کی تفصیل کچھ یوں ہے:

مولانا گل داد پر شدت پسندوں کی جانب سے 17 حملے ہوئے جن میں ان کے خاندان کے پانچ افراد سمیت نو افراد ہلاک اور 22 افراد زخمی ہوئے۔

سنہ 2007 میں انھوں نے شدت پسندوں کی مخالفت کی اور پھر سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر آپریشن میں حصہ لیا۔

ان کے بیٹے حفیظ اللہ ظاہر کے مطابق مولانا گل داد کے بھائی 2008 میں شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہوئے اور اس میں باجوڑ میں شدت پسندوں کے رہنما بھی ہلاک ہوئے تھے۔

مولانا گل داد پر 2009 میں حملے ہوئے جس میں ایک حملے میں وہ زخمی ہو گئے تھے۔ اس دوران انھیں جان کی دھمکیاں دی گئیں کہ وہ سکیورٹی فورسز کا ساتھ چھوڑ دیں لیکن وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔

اس کے بعد اپریل 2010 میں شدت پسندوں کے حملے میں مولانا گل داد کے سسر ہلاک ہو گئے تھے۔ اس طرح مئی 2010 میں دو مرتبہ ان پر حملہ ہوا لیکن وہ محفوظ رہے تھے۔

حفیظ اللہ ظاہر نے بتایا کہ مئی 2014 اور دسمبر 2014 میں ان کے بیٹے اور پوتے پر حملے ہوئے، پہلے حملے میں محفوظ رہے لیکن دوسرے حملے میں دونوں زخمی ہو گئے تھے۔

اس کے بعد مئی 2015 میں مولانا کے بیٹے خالد پر بارودی سرنگ سے حملہ کیا گیا جس میں وہ ہلاک ہو گئے تھے۔ خالد گریڈ 17 میں سرکاری ملازم تھے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انسٹرکٹر تھے۔ ان کے علاوہ مولانا کے چچا زاد بھائی اور بھتیجے پر بھی حملے ہوئے جس میں دونوں ہلاک ہو گئے تھے۔