قبائلی علاقوں میں تشدد میں کمی

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہزاروں کی تعداد میں فوجی تعینات ہیں
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہزاروں کی تعداد میں فوجی تعینات ہیں
    • مصنف, عبدالئی کاکٹر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں گزشتہ کئی برس سے جاری شدت پسندی کی کارروائیوں میں آجکل بہت حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

سوات میں تقریباً بارہ سو سے زائد شہریوں اور سترہ لاکھ کی آبادی میں تقریباً سات لاکھ افراد کے بےگھر ہونے کے بعد ہی صوبائی حکومت اور کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے امن معاہدے نے جنگ کی آگ کو ٹھنڈا کردیا ہے۔

اسی طرح قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں بھی تقریباً چھ ماہ کی فوجی کارروائی کے نتیجے میں تقریباً دو سو سے زائد شہریوں اور نو لاکھ کی آبادی میں تقریباً چار لاکھ افراد کی نقل مکانی کے بعد وہاں پر بھی کارروائیاں روک دی گئی ہیں۔

سوات اور باجوڑ میں اگر پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ اور فرنٹیئر کور میڈیا سیل کے دعوؤں پر مبنی بیانات کو درست مان لیا جائے تو وہاں پر اب تک طالبان کا صفایا ہوجانا چاہیے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سوات کے تقریباً اسی فیصد علاقے پر اب بھی طالبان قابض ہیں جبکہ باجوڑ میں بھی طالبان ایک مضبوط قوت کے طور پر موجود ہیں۔

سوات میں حکومت ذرائع کے مطابق اس پوری لڑائی میں سو سے بھی کم طالبان ہلاک ہوئے ہیں جبکہ باجوڑ میں بھی مرنے والے طالبان کی تعداد سو سے زائد بتائی جارہی ہے۔طالبان رہنماء مولوی فقیر نے چند دن پہلے دعویٰ کیا تھا کہ چھ ماہ کی فوجی کارروائی میں ان کے صرف چونتیس ساتھی مارے گئے ہیں۔

اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد مرکز اور صوبہ سرحد کی حکومتیں کوششوں کے باوجود خودکش حملے، بم دھماکے، ٹارگٹ کلنگ اور فرقہ ورانہ فسادات نہیں روک پائیں۔اس دوران سوات میں صوبائی حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست معاہدہ بھی ہوا جس نے بمشکل ایک مہینے کی ہی عمر پائی اور ٹوٹ گیا۔

اس بار سوال یہ ہے کہ اچانک صرف دو ہفتے کے دوران اتنی بڑی تبدیلی کیسے واقع ہوئی کہ سوات اور باجوڑ میں فریقین کے درمیان معاہدے ہوئے اور وہاں اب زندگی قدرے معمول پر آرہی ہے۔

اسکی سب بڑی وجہ امریکہ میں اوبامہ انتظامیہ کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں اپنی توجہ عراق سے ہٹاکر افغانستان کی طرف مرکوز بنانا بتائی جارہی ہے۔

اوباما انتظامیہ نے افغانستان میں تیس ہزار مزید فوج بھیجنے کا اعلان کررکھا ہے جس میں سے سترہ ہزار بہت جلد پہنچ جائے گی۔ امریکی حکام نے نیٹو میں شامل ممالک سے بھی مزید فوج بھیجنے پر آمادہ کرنے کی کوششیں بھی شروع کردی ہیں۔یعنی آنے والے مہینوں میں افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کارروائیاں اور جوابی کارروائیاں تیز ہوسکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ افغانستان اور پاکستان میں سرگرم طالبان اور ان کی پشت پر مبینہ طور پر کھڑی ریاستوں نے طالبان کی دوبارہ صف بندی اور انہیں منظم کرنے کی پالیسی پر کام شروع کردیا ہے ۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ مختلف علاقوں میں برسرِ پیکار طالبان داخلی جنگ سے جان چھڑا کر سرحد پار افغانستان میں امریکی اور نیٹو فورسز سے لڑنے کے لیے اپنی تمام قوت مجتمع کریں۔

اسی پالیسی کے تحت اگر دیکھا جائے تو تقریباً دو ہفتوں کے اندر اتنی بڑی پیش رفت ہوئی کہ جنوبی وزیرستان میں بیت اللہ محسود، مولوی نذیر اور حافظ گل بہادر نے اپنے تمام تر اختلافات بھلا کرآپس میں اتحاد کرلیا۔

اس دوران اچانک مولانا صوفی محمد کو سرگرم کردیا گیا اور ان کے توسط سے حکومت اور مولانا فضل اللہ کے درمیان مستقل جنگ بندی ہوگئی۔ابھی اس اعلان کے چند دن ہی نہیں گزرے تھے کہ باجوڑ میں طالبان کے سربراہ مولانا فقیر نے غیر متوقع طور پر یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کردیا۔

قابل اعتبار ذرائع کا کہنا ہے کہ یکطرفہ جنگ بندی سے قبل ایک اعلیٰ فوجی اہلکار اور طالبان سربراہ مولوی فقیر محمد کے درمیان ماموند کے علاقے میں خفیہ ملاقات ہوئی جس میں تحائف کا تبادلہ بھی ہوا۔

اس ملاقات میں طے پایا کہ چونکہ حکومت ابھی تک سوات کے معاہدے پر امریکہ اور دیگر عالمی برادری کا دباؤ کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے اور باجوڑ میں اس قسم کا سرعام معاہدہ اس کے لیے مزید مشکلات پیدا کردے گا لہذا اس بار طالبان یکطرفہ اعلان کریں گے جبکہ حکومت طالبان کو مکمل شکست کا دعویٰ کرنے کا موقف اپنائے گی۔

اس ملاقات کے چند دن بعد ہی فرنٹیئر کور کے سربراہ میجر جنرل طارق نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ حکومت نے طالبان کو شکست دیدی ہے اور علاقے سے طالبان کا صفایا کردیا گیا ہے۔

اگردیکھا جائے تو اس وقت پاکستان میں طالبان کے اہم قائدین بیت اللہ محسود، مولوی نذیر، حافظ گل بہادر، مولانا فضل اللہ اور مولوی فقیر کی داخلی جنگ سے جانیں چھڑا دی گئی ہیں اور افغان طالبان نے بھی پاکستانی طالبان سے رابطے تیز کردیئے ہیں۔اب ان کو صرف اوباما انتظامیہ کی افغان پالیسی کے باقاعدہ اعلان اور اس پر عمل کا انتظار ہے۔