لاہور میں بسنت کا پھیکا پھیکا رنگ

لاہور بسنت
،تصویر کا کیپشنلاہور کی انتظامیہ نے چودہ مارچ کے شام پانچ بجے سے پندرہ مارچ کے شام پانچ بجے تک بسنت منانے کی اجازت دی ہے

پاکستان کے شہر لاہور میں ایک بار پھر بسنت منائی جا رہی ہے، تاہم اس بار پابندی لگائے جانے سے پہلے منائی جانے والی بسنت سے کافی کم جوش و خروش ہے۔

لاہور کی انتظامیہ نے چودہ مارچ کے شام پانچ بجے سے پندرہ مارچ کے شام پانچ بجے تک بسنت منانے کی اجازت دے دی تھی لیکن چونکہ اس کا اعلان کچھ تاخیر سے ہوا اس لیے پتنگ بازی کے شوقین افراد پہلے سے اسے منانے کا انتظام نہ کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ رات آٹھ نو بجے تک تو پتنگ اڑتے ہوئے دکھائی نہیں دیے البتہ جوں جوں رات بھیگتی گئی پتنگ بازی کے شوقین افراد چھتوں پر چڑھ گئے۔ ایک ماہر پتنگ باز خرم علی کے بقول ہوا کم ہونے کے سبب پتنگ اڑانے میں دشواری ہو رہی تھی جس سے ان شوقین افراد کو مایوسی بھی ہوئی۔

گو کہ انتظامیہ نے اس بار بھی فائرنگ اور دھاتی ڈور پر پابندی لگائی اور اس پر سختی سے عملدرآمد کا بھی دعوی کیا گیا۔لیکن رات گئے تک چھتوں پر سے ہوائی فائرنگ کی آوازیں آتیں رہیں جبکہ بلند آواز میں موسیقی بھی بجتی رہی۔

لاہور کے علاقے اقبال ٹاؤن میں بسنت منانے والے ایک نوجوان عبداللہ نے بتایا کہ اس سال گزشتہ برسوں کی نسبت کم پتنگیں اڑائی جا رہیں ہیں جس کی ایک وجہ ان کے بقول ڈور اور پتنگ کی کم دستیابی بھی ہے۔

لاہور میں گزشتہ دو برسوں سے بسنت منانے پر پابندی عائد ہے جبکہ اس سے پہلے لاہور کی بسنت دیدنی ہوتی تھی۔نہ صرف نجی سطح پر بلکہ سرکاری سطح پر بھی بسنت نائٹ منانے کا اہتمام ہوتا تھا جسمیں لاہور کا ہارٹی کلچر کا ادارہ بہت بڑے فنکشن کا انتظام کرتا تھا جس میں موسیقی کے پروگراموں سمیت پتنگ بازی اور طعام کا بھی خاطر خواہ اہتمام کیا جاتا تھا۔ تاہم اس بار سرکاری سطح پر بسنت کی ایسی کوئی تقریب منعقد نہیں ہوئی۔

لاہور میں بسنت
،تصویر کا کیپشنچونکہ بسنت کا اعلان کچھ تاخیر سے ہوا اس لیے پتنگ بازی کے شوقین افراد پہلے سے اسے منانے کا انتظام نہ کر سکے

اندرون شہر جہاں کبھی بسنت نائٹ پر ہرگھر کی چھت پر پتنگ بازی ہوتی تھی وہاں بھی گزشتہ برسوں کی نسبت کم پتنگیں اڑتی نظر آئیں۔جبکہ اندرون شہر میں کچھ حویلیوں پر بھی بسنت نائٹ کے لیےکافی بڑے پیمانے پررنگا رنگ پروگرام ہوا کرتے تھے، تاہم اس بار ان حویلیوں میں چھوٹے پیمانے پر نجی تقریبات ہی منعقد کی گئیں ہیں۔

پابندی لگائے جانے سے پہلے بسنت فروری کے مہینے میں منائی جاتی تھی لیکن اس بار اسے مارچ میں ان دنوں میں منانے کا اعلان کیا گیا جب لاہور سے عدلیہ کی بحالی کے لیے نکالے جانے والے لانگ مارچ کا آغاز ہونا تھا۔

بسنت پر پابندی لگائے جانے کی سب سے بڑی وجہ دھاتی تار سے اڑائی جانے والی پتنگوں کے سبب شہریوں کی ہلاکت تھی۔ ان میں بہت سے ایسے تھے جن کی گردنوں کو موٹر سائکل چلاتے ہوئے اس دھاتی تار نے کاٹ ڈالا ۔ان ہلاکتوں میں کئی معصوم بچے بھی تھے۔

لاہور کی انتظامیہ نے بسنت کی اجازت دینے کے ساتھ سنیچر کی شام پانچ بجے سے اتوار کی شام پانچ بجے تک موٹر سائیکل چلانے پر پابندی عائد کر دی۔

موٹر سائیکل پر پابندی لا وقت شروع ہوے سے پہلے ہی سنیچر کی صبح ایک نوجوان ذیشان کی گردن پر کٹی ہوئی پتنگ کی ڈور پھر گئی۔ایک نجی ٹیلی ویژن کے مطابق اس کی شہ رگ کٹنے سے محفوظ رہی اور ڈاکٹرز نے پر وقت طبی امداد دے کر اس کی جان بچا لی۔

لاہور کی انتظامیہ نے ایسے ہی ناخوشگوار واقعات سے نمٹنے کے لیے لاہور اور نواح کی ہسپتالوں کو تیار رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔محکمہ صحت نے ایمر جینسی کے علاوہ آپریشن تھیٹر بھی کھلے رکھنے کی ہدایت دی ہے جبکہ بسنت کے دوران ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل سٹاف کی ٹیموں کو ہر دم تیار رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔