حملوں ہم نے کیے ہیں: بیت اللہ محسود

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود نے لاہور میں پولیس کے تربیتی مرکز پر حملے کے علاوہ بنوں میں فوجی قافلے اور اسلام آباد میں سپیشل برانچ پر ہوئے تینوں حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
لاہور کے نواحی علاقے مناواں میں واقع پولیس کے تربیتی مرکز پر پیر کی صبح سات بجے کے قریب متعدد مسلح افراد نے حملہ کیا تھا اور پولیس کمانڈوز ساڑھے آٹھ گھنٹے کے آپریشن کے بعد دہشت گردوں پر قابو پانے میں کامیاب ہوئے اور تربیتی سینٹر کی عمارت کو خالی کرا لیا گیا۔ اس آپریشن میں آٹھ پولیس اہلکار اور چار دہشت گرد ہلاک جبکہ سو کے قریب افراد زخمی ہوئے۔
کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے بیت اللہ محسود کا کہنا تھا کا ان کے گروپ کی کارروائیاں قبائلی علاقوں میں جاری امریکی ڈرون حملوں کا بدلہ تھیں اور آئندہ چند روز میں مزید ایسے حملے کیے جائیں گے۔
گّزشتہ روز لاہور میں پریس کانفرنس میں مشیر داخلہ رحمان ملک نے دعوٰی کیا تھا کہ گرفتار کیے جانے والے دہشت گرد سے کی گئی ابتدائی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی بیت اللہ محسود اور ان کے نائب نے کی ہے۔
رحمان ملک کا یہ بھی کہنا تھا کہ گرفتار کیے جانے والے دہشتگرد کا تعلق افغانستان سے ہے اور وہ پندرہ روز پہلے لاہور آیا تھا جہاں اس نے رہائش کے لیے ایک گھر کرایے پر لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشتگرد کے کچھ ساتھیوں کی شناخت ہوگئی ہے جبکہ دیگر کی شناخت کے لیے کارروائی کی جارہی ہے۔ ان کے بقول جس شخص کو حراست میں لیا گیا وہ اردو نہیں بول سکتا۔
ادھر لاہور شہر میں میں رات بھر مختلف مقامات پر پولیس کے چھاپوں کا سلسلہ جاری رہا اور پچاس کے قریب مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
بیت اللہ محسود نے سکیورٹی فورسز کی جانب سے مناواں پولیس سینٹر کے قریب سے گرفتار کیئے گئے ایک افغان شخص ہجرت اللہ سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسے کہیں اور سے گرفتار کرکے وہاں لایا گیا ہوگا۔
چند روز قبل امریکی حکومت کی طرف سے بیت اللہ محسود کی گرفتاری میں مدد دینے والے کے لیے پچاس لاکھ ڈالر کی انعامی رقم کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس اعلان کے بعد یہ ان کا پہلا بیان ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لاہور کے قریب مناواں پولیس کے تربیتی مرکز پر حملے میں چار حملہ آوروں کے علاوہ آٹھ پولیس اہلکار اور دو راہگیر ہلاک ہوئے تھے۔ بنوں میں سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے پر حملے میں پانچ افراد مارے گئے تھے جبکہ اسلام آباد میں پولیس کے سپیشل برانچ دفتر پر حملے میں حملہ آور سمیت ایک پولیس کانسٹیبل ہلاک ہوئے۔
بیت اللہ محسود نے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں جمرورد کی ایک مسجد پر حملے سے لاتعلقی ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مساجد کو نشانہ نہیں بناتے۔ ’مسجدوں میں حملوں کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ ہمارے علماء کی فکر کے مطابق مساجد میں فدائی حملے جائز نہیں ہیں۔‘
لاہور میں ہی اس ماہ کے اوائل میں سری لنکن ٹیم پر حملے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں۔
امریکی جاسوس طیاروں کے حملے نہ روکے جانے کی صورت میں ان کا لائحہ عمل کیا ہوگا، اس بارے میں کالعدم تنظیم کے سربراہ نے دھمکی دی کہ آئندہ چند روز میں دو تین فدائی حملے اور بھی ہوں گے۔
’جب تک جاسوس طیاروں کے حملے جاری رہیں گے اس وقت تک ہمارا انتقام بھی جاری رہے گا۔ اور اس کے آخر میں ایک ایسا حملہ ہوگا جو حکومت کے دل میں تیر ثابت ہوگا۔‘
تاہم انہوں نے ان حملوں کے مقامات یا وقت کے بارے میں مزید کچھ بتانے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سرکاری سیکیورٹی اداروں کا امتحان ہوں گے۔
ایک سوال کے جواب میں کہ حملے تو امریکہ کر رہا ہے لیکن بدلہ عام پاکستانیوں سے کیوں لیا جا رہا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے امریکی صدر اوباما کی پالیسی کا خیرمقدم کیا ہے۔
’صدر زرداری کی پالیسی امریکہ کی پالیسی ہے۔ وہ زبانی طور پر تو ڈرون حملوں کی مخالفت کرتے ہیں لیکن خفیہ طور پر اس کی حمایت کرتے ہیں۔‘
ان سے دریافت کیا کہ وہ خود بھی مبینہ جاسوسوں کو ہلاک کرنے کے باوجود زمینی خفیہ معلومات کے امریکی نظام کو ناکام نہیں بناسکے ہیں تو بیت اللہ کا کہنا تھا کہ یہ تو ہر وقت ہوتا ہے کہ مسلمان کمزور ہوتے ہیں ان کے پاس وسائل نہیں ہوتے ہیں۔ ’یہ مسلمانوں کا امتحان ہوتا ہے اور آخری کامیابی انہیں کی ہوتی ہے۔‘
انہوں نے مناواں حملے میں ملوث افراد کے بارے میں کچھ بتانے سے انکار یہ کہتے ہوئے کیا کہ اس سے ان کے قبائل کے لیئے مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔
امریکی کی جانب سے ان کی گرفتاری میں مدد پر پچاس لاکھ ڈالر کی انعامی رقم کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ امریکہ سے وہ خود نمٹیں گے۔ ’ کچھ وقت لگے گا لیکن امریکہ کو میں خود سبق سکھاوں گا۔ انشا اللہ جب ہم انتقام لیں گے تو امریکہ کے اندر لیں گے۔ تاہم فل الوقت بات امریکہ سے نہیں پاکستان سے بدلہ لینے کی ہے۔‘
ان کا دعوی تھا کہ انہوں نے امریکی انعام کے اعلان کے بعد اپنی نقل وحرکت میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے بلکہ اس میں اضافہ کر دیا ہے۔
ٹیلیفون پر انٹرویو کے دوران کہیں بھی بیت اللہ محسود کی آواز سے کسی دباؤ کا کوئی تاثر نہیں ملا بلکہ بعض سوالات کے جواب میں تو وہ کھل کر بات کرتے رہے۔






















