پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ

- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
مناواں میں پولیس کے تربیتی مرکز پر دہشت گردوں کے حملے میں ہلاک ہونے والے سات پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ منگل کی صبح پولیس لائنز لاہور میں ادا کی گئی جس میں گونر پنجاب سلمان تاثیر کے علاوہ فوج اور پولیس کے اعلی افسران نے شرکت کی۔
ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی اور اس موقع پر پولیس لائنز میں سخت حفاظتی اقدامات کیئے گئے تھے اور ارگرد کی عمارتوں پر مسلح پولیس والےپہرہ دے رہے تھے۔
<link type="page"><caption> تربیتی مرکز پر حملے کی ویڈیو</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/mediaselector/check/urdu/meta/dps/2009/03/090330_manawan_attack_as?nbram=1&nbwm=1&bbram=1&bbwm=1&size=16x9&lang=en-ws&bgc=003399" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> پولیس سینٹر پر حملہ: تصویروں میں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/03/090330_pics_manwan_three_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> لاہور پر ایک اور حملہ: آپ کی رائے</caption><url href="http://newsforums.bbc.co.uk/ws/ur/thread.jspa?forumID=8524" platform="highweb"/></link>
نمازہ جنازہ کی ادائیگی کے بعد ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی لاشیں لواحقین کے حوالے کر دی گئیں۔
نمازہ جنازہ میں موجود پولیس کے آئی جی خواجہ خالد فاروق نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ رات بھر لاہور میں چھاپوں کا سلسلہ جاری رہا ہے اور پچاس کے قریب مشبتہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحقیقات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قبل ازیں وزیراعظم کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے کہا تھا کہ حملے میں ملوث افراد کی شاخت ہوگئی ہے اور اس واقعہ کی منصوبہ بندی بیت اللہ محسود کے ہاں ہوئی تھی۔
لاہور کے نواحی علاقے مناواں میں واقع پولیس کے تربیتی مرکز پر پیر کی صبح سات بجے کے قریب متعدد مسلح افراد نے حملہ کیا تھا اور کمانڈوز نے ساڑھے آٹھ گھنٹے کے آپریشن کے بعد پولیس کے تربیتی سینٹر کی عمارت پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس آپریشن میں آٹھ پولیس اہلکار اور چار دہشت گرد ہلاک جبکہ سو کے قریب افراد زخمی ہوئے۔
بی بی سی کے نامہ نگار عباد الحق کے مطابق لاہور میں پریس کانفرنس میں مشیر داخلہ رحمان ملک نے دعوٰی کیا کہ گرفتار کیے جانے والے دہشت گرد سے کی گئی ابتدائی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی بیت اللہ محسود اور ان کے نائب نے کی ہے۔
رحمان ملک کا یہ بھی کہنا تھا کہ گرفتار کیے جانے والے دہشتگرد کا تعلق افغانستان سے ہے اور وہ پندرہ روز پہلے لاہور آیا تھا جہاں اس نے رہائش کے لیے ایک گھر کرایے پر لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشتگرد کے کچھ ساتھیوں کی شناخت ہوگئی ہے جبکہ دیگر کی شناخت کے لیے کارروائی کی جارہی ہے۔ ان کے بقول جس شخص کو حراست میں لیا گیا ہے وہ اردو نہیں بول سکتا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس واقعہ میں کوئی بیرونی ہاتھ بھی ملوث ہوسکتا ہے کیونکہ بقول ان کے دہشتگرد فاٹا میں رہتے ہیں اور ان کو سرحد پار سے مدد ملتی ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بھی پڑوسی ملک دہشت گردی میں ملوث ہوگا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
رحمان ملک نے بتایا کہ پولیس ٹریننگ سکول میں ہونے والا تمام آپریشن ایلیٹ فورس نے کیا ہے جبکہ اس کارروائی میں سیکیورٹی فورسز کی مکمل معاونت شامل تھی۔ انہوں نے کہا کہ تمام زخمیوں کو مکمل چھان بین کے بعد ہسپتال سے فارغ کیا جائے گا۔
لاہور میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق پنجاب پولیس کے آئی جی خواجہ خالد فاروق نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ اس آپریشن میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اس سے قبل فوجی ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپریشن میں ستائیس پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ چار دہشتگرد مارے گئے اور ایک کو گرفتار کیا گیا ہے۔
لاہور میں ہماری نامہ نگار منا رانا نے بتایا کہ پولیس کے تربیتی سینٹر کے نزدیک ترین واقع گھرکی ہسپتال میں چالیس سے زائد زخمی لائے گئے جن میں سے گیارہ شدید زخمی ہیں جبکہ میو ہسپتال میں تیئس زخمی لائے گئے جن میں سے چھ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔گنگا رام میں انیس جبکہ سروسز ہسپتال میں چوبیس زخمی لائے گئے تھے۔
سروسز ہسپتال میں داخل کروائے جانے والے چھ پولیس اہلکاروں نے میڈیا کو بتایا کہ یہ حملہ چھ سے سات ایسے شدت پسندوں نے کیا جنہوں نے پولیس کی وردیاں پہن رکھی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تک ٹریننگ سینٹر کے گارڈز کے سوا کسی کے پاس اسلحہ نہیں تھا۔شدت پسندوں نے زیر تربیت غیر مسلح پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ کم از کم چھ ہلکے دھماکوں کی آواز بھی سنی گئیں جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ دستی بم چلائے جانے کی آواز ہوسکتی ہے۔

اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے لاہور پولیس ٹریننگ سنٹر پر نامعلوم مسلح افراد کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو واقعہ کی فوری تحقیقات اور چوبیس گھنٹے میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ حزب اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد میاں محمد نوازشریف اور مرکزی صدر اور سابق وزیراعلٰی پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے پولیس مرکز پر حملے کے نتیجہ میں کئی پولیس اہلکاروں کے ہلاک و زخمی ہونے کے واقعہ پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ چوہدری شجاعت حسین، پرویز الٰہی، منور حسن اور عمران خان نے بھی ہلاک اور زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا ہے۔
لاہور میں اسی مہینے کے شروع میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر پندرہ کے قریب شدت پسندوں نے راکٹ لانچر اور فائرنگ کے ذریعے دن دیہاڑے حملہ کیا تھا۔اس حملے میں سری لنکن کرکٹ ٹیم کے کارکن تو زخمی ہوئے تھے جبکہ متعدد پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ اس حملے کے بعد شدت پسند فرار ہوگئے تھے اور پولیس ابھی تک ان میں سے کسی کو بھی گرفتار نہیں کر سکی ہے۔






















