جان سلیکی کو رہا کر دیا گیا

- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
دو ماہ قبل کوئٹہ سے اغواء کیے جانے والے اقوام متحدہ کے اعلٰی اہلکار جان سلیکی کو رہا کر دیا گیا ہے۔
اغواء کاروں نے جان سلیکی کو مستونگ کے قریب کھڈ کوچہ کے مقام پر ایک ہوٹل کے قریب چھوڑ دیا جہاں سے انہیں کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے۔
مستونگ سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ رہائی کے بعد جان سلیکی خاصے کمزور نظر آ رہے تھے اور انہیں سہارا دے کر گاڑی میں بٹھایا گیا۔
وفاقی مشیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ جان سلیکی کو ہسپتال لے جایا جائے گا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جائے گی۔ رحمان ملک نے کہا کہ سلیکی کی رہائی کسی ڈیل کا نتیجہ نہیں اور اغوا کاروں کا کوئی مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا۔
ادھر جان سلیکی کو اغوا کرنے والی کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن یونائیٹڈ فرنٹ کے ترجمان شہک بلوچ نے ایک خبر رساں ادارے کو فون کر کے کہا ہے کہ وہ جان سلیکی کو انسانی ہمدردی کے تحت رہا کیا ہے اور اس رہائی کا مقصد عالمی برادری کو یہ بتانا ہے کہ بلوچ دہشتگرد نہیں بلکہ ایک مہذب قوم ہے۔
اس بارے میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کی ترجمان دنیا اسلم خان سے رابطہ قائم کیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ جان سلیکی کو رہا کر دیا گیا ہے لیکن وہ تھکاوٹ کی وجہ سے بات نہیں کر پا رہے ہیں۔ مستونگ سے مقامی صحافی عطاءاللہ نے بتایا ہے کہ جان سلیکی کھڈ کوچہ میں ایک ہوٹل کے قریب واقع باغ سے ملے۔ جان سلیکی کی بازیابی کی اطلاع پر وزیراعلی بلوچستان خود مستونگ گئے اور انہیں اپنی گاڑی میں بٹھا کر کوئٹہ لے آئے۔
خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے ڈائریکٹرجان سلیکی کو دو فروری کو کوئٹہ میں چمن ہاؤسنگ سکیم سے اغوا کیا گیا تھا جس کے بعد ایک نئی تنظیم بلوچ لبریشن یونائئٹڈ فرنٹ نے ان کی ایک ویڈیو جاری کر کے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس تنظیم نے سلیکی کی رہائی کے بدلےگیارہ سو نو لاپتہ بلوچ مرد اور خواتین کی بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔ سلیکی کی رہائی کے سلسلے میں حکومتِ پاکستان نے نواب خیر بخش مری اور حیربیار مری سے بھی رابطے کیے جنہوں نے جان سلیکی کی رہائی کی اپیلیں بھی کی تھیں۔

















