جان سلیکی: اغواء کاروں کا الٹی میٹم

- مصنف, عزیزاللہ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے اعلی اہلکار جان سلیکی کی مبینہ اغواکار تنظیم کے ترجمان نے کہا ہے کہ جان سلیکی عارضہ قلب میں مبتلا ہیں اور ان کی صحت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ابتر ہوتی جا رہی ہے اس لیے اقوام متحدہ کے حکام ان کی بازیابی کے لیے مطالبات پر عمل درآمد کریں۔
کوئٹہ میں ایک خبر رساں ایجنسی کو نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر اپنے آپ کو بلوچ لبریشن یونائیٹڈ فرنٹ کا ترجمان ظاہر کرنے والے شہک بلوچ نے کہا ہے کہ جان سلیکی کی طبیعت صحیح نہیں ہے وہ عارضہ قلب میں مبتلا ہیں اور ان کے حالت روز بروز خراب ہو رہی ہے اگر اس دوران جان سلیکی کو کچھ ہو گیا تو اس کی ذمہ داری ان پر عائد نہیں ہو گی۔
شہک بلوچ نے آن لائن کے دفتر فون کرکے کہا ہے کہ وہ اڑتالیس گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہیں اور اس دوران ان کے مطالبات تسلیم کیے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ نہ تو لاپتہ مرد اور خواتین کی بازیابی کے لیے اب تک کچھ اقدامات کیے گئے ہیں اور نہ ہی انھیں اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق انھوں نے حیر بیار مری کے حوالے سے ثالثی پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن اقوام متحدہ کے حکام سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے ہیں ۔
انھوں نے کہا کہ وہ جان سلیکی کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کر رہے ہیں لیکن ان کی صحت میں بہتری نہیں آ رہی اس لیے جن لاپتہ افراد کی فہرست فراہم کی گئی ہے ان کی بازیابی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
بلوچ لبریشن یونائٹڈ فرنٹ بی ایل یو ایف ایک نئی مسلح تنظیم ہے اور اس تنظیم کے ترجمان نے یو این ایچ سی آر کے اہلکار جان سلیکی کو اغوا کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ جان سلیکی کو دو فروری کو کوئٹہ سے اغوا کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے حکام نے جان سلیکی کی بازیابی کے لیے نہ صرف وفاقی حکومت بلکہ بلوچ رہنماوں سے بھی رابطے کیے ہیں لیکن ڈیرھ ماہ گزر جانے کے باوجود جان سلیکی کو تاحال بازیاب نہیں کرایا جا سکا ہے۔















