گندم کی زیادہ پیداوار بھی مسئلہ

پاکستان میں گندم کی غیر معمولی زیادہ پیداوار نے سرکاری سطح پر خریداری کے مسائل کھڑے کر دیئے ہیں۔ کاشتکاروں کی ایک بڑی تعداد سرکاری خریداری مراکز کے باہر قطار در قطار کھڑی اس کی فروخت کی منتظر ہے جبکہ سرکاری گودام بھر چکے ہیں اور اب اطلاعات کے مطابق حکومت کو فنڈز کی قلت کا سامنا ہے۔
پاکستان میں اس برس گندم کی سرکاری قمیت تقریباً دوگنی کردی گئی تھی جس کی وجہ سے گندم کی غیر معمولی پیداوار ہوئی جو ملکی ضروریات سے زیادہ ہے۔ سندھ میں نسبتاً زیادہ کامیابی سے گندم خرید لی گئی جس کے بعد پنجاب میں گندم کی خریداری شروع ہوئی تو اس نے حکومت کے ہوش اڑا دیے ہیں۔
اپوزیشن جماعت مسلم لیگ قاف نے الزام لگایا ہے کہ گندم کی خریداری کی ناقص سرکاری پالیسی سے کسانوں کو نقصان ہورہا ہے۔
صوبائی وزیر خوراک ندیم کامران کے بقول گزشتہ برس صرف تیرہ لاکھ ٹن گندم خریدی گئی تھی اور اب تک حکومت چھتیس لاکھ ٹن گندم خرید چکی ہے۔ ان کے بقول گندم کی سرکاری خریداری کا یہ ایک ریکارڈ ہے اور ملکی ضروریات کے لیے کافی ذخیرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود اس کی خریداری جاری ہے۔
حکومت پنجاب نے صوبےکے کاشتکاروں سے ساٹھ لاکھ ٹن گندم خریدنے کا اعلان کر رکھا ہے اور ابھی بھی کسانوں کی لمبی قطاریں تقریباً ہر خریداری مرکز پر نظر آتی ہے۔
مسلم لیگ قاف پنجاب کے صدر پرویز الہی نے اپنی پارٹی کے کسان ونگ کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جی ٹی روڈ پرگندم خریداری کے مرکز کے باہر لگی ایک قطار کو اپنی گاڑی کے سپیڈو میٹر سےماپا تو وہ تین کلومیٹر لمبی نکلی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ سرکاری اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی کی سفارشی چٹوں پر گندم خریدی جارہی ہے۔
وزیراعلی پنجاب شہباز شریف مختلف اضلاع میں چھاپے مار کر خریداری مراکز کے تقریباً ایک سو اہلکاروں کو معطل کرچکے ہیں لیکن اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس سے کاشتکاروں کے مسائل حل نہیں ہوسکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکومت پنجاب نے زیادہ گندم سے نبٹنے کے لیے دس لاکھ ٹن گندم برآمد کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن اپوزیشن کے راہنما چودھری پرویز الہی کا کہنا ہے کہ یہ اعلان بھی ایک دھوکا ہے۔ ان کے بقول اس وقت گندم کی عالمی قیمت سوا دو سو ڈالر فی ٹن ہے جبکہ پاکستان میں گندم کی قیمت تین سو پینسٹھ ڈالر ہے اس لیے اس کی برآمد کی بات کرنا پرویز الہی کے بقول ایک دھوکا ہے۔
مبصرین کاکہنا ہے کہ ماضی میں گندم کی کمی اور اب اس کی زیادتی حکومت کے لیے مسئلہ بنی ہوئی ہے۔





















