پشاور: کار بم دھماکے میں 10 افراد ہلاک

پشاور میں کار بم دھماکہ
،تصویر کا کیپشنسکیورٹی اہلکار جائے حادثہ پر موجود ایک تباہ شدہ گاڑی کا معائنہ کر رہے ہیں
    • مصنف, دلاور خان وزیر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

صوبہ سرحد کے صدر مقام پشاور میں گاڑیوں کے ایک شو روم کے سامنے کار بم دھماکہ ہوا جس کے نتیجہ میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 10 افراد ہلاک جبکہ 32 زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں سے 24 کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

ہلاک شدگان میں 3 سکول کے بچے، دو خواتین اساتذہ اور پشاور یونیورسٹی کا ایم بی اے کا ایک طالب علم شامل ہیں۔

پولیس افسر گوہر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کو دو بجے کے قریب صدر مقام پشاور کے علاقے کاکشال میں گاڑیوں کے ایک شو روم کے سامنے کاربم دھماکہ ہوا۔ پولیس افسر کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد قریب کھڑی گاڑیوں میں آگ لگ گئی جس کی وجہ سے کئی گاڑیاں تباہ ہوگئی ہیں۔

ایک عینی شاہد محمد عثمان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ دفتر کے اندر بیٹھے تھے کہ اچانکہ دھماکہ ہوا وہ فوراً باہر نکلے اور دیکھا کہ گاڑیوں میں آگ لگی ہوئی ہے اور ساتھ ہی لاشیں بکھری پڑی تھی۔ کچھ معلوم نہیں ہورہا تھا کہ دھماکہ کس گاڑی میں ہوا ہے اور کس طرح ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قریب ہی سڑک کے کنارے ایک سکول کے بچوں کی گاڑی گزر رہی تھی اس میں بھی آگ لگی ہوئی تھی اور کچھ بچے اور خواتین سڑک کے قریب زخمی حالت میں پڑے تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نےسڑک کے کنارے موجود چار زخمی بچوں کو اٹھاکر ایک گاڑی میں پہنچایا۔ محمد عثمان کا کہنا تھا کہ زخمی بچوں کے ساتھ دو ٹیچر اور دو بچوں کی لاشیں بھی انہوں اس نے دیکھی تھیں اور ان کی دکان کے قریب موجود ایک جوس والا بھی ہلاک ہوگیا ہے۔

ایک دوسرے عینی شاہد اقبال خلیل نے بتایا کہ وہ ہال کے اندر تھے کہ دھماکہ ہوا جب وہ باہر آئے تو دھواں ہی دھواں اٹھ رہا تھا کیونکہ ان کا گھر شو روم کے قریب ہے۔ وہ اپنے بچوں کے لیے پریشان ہوگئے تاہم کچھ دیر بعد معلوم ہوا کہ ان کے بچے محفوظ ہیں جبکہ ان کا ایک دوست شدید زخمی ہوا ہے۔

یاد رہے کہ 5 مئی کو پشاور کے علاقے باڑہ قدیم میں ایک خودکش کار حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے جن مںی تین بچے شامل تھے۔