’سینتالیس طلبہ، پانچ اساتذہ اب بھی لاپتہ‘

رزمک کیڈٹ
،تصویر کا کیپشنابھی تک کسی شدت پسند گروپ نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے
    • مصنف, عزیزاللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے وزیر اطلاعات قمرالزمان کائرہ کے مطابق شمالی وزیرستان کے رزمک کیڈٹ کالج کے 52 افراد اب بھی لاپتہ ہیں اور ان کی بازیابی کی کوششیں جاری ہیں۔

اس سے قبل رزمک کیڈٹ کالج کے وائس پرنسپل جاوید عالم نے کہا ہے کہ بدھ کے روز تک پیتنالیس طلبہ اور دو اساتذہ لاپتہ ہیں جن کی بازیابی کے لیے اس وقت تمام ادارے متحرک ہیں لیکن تاحال لاپتہ طلبہ کے بارے میں کوئی علم نہیں ہو رہا ہے کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے۔

بدھ کے روز بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بازیاب ہونے والے طلبہ اور اساتذہ نے بتایا ہے کہ آخری وقت لاپتہ طلبہ کی گاڑی کو جنوبی وزیرستان کی علاقے گڑیوم کی طرف لے جایا گیا تھا۔

وائس پرنسپل جاوید عالم کے مطابق اس وقت بنوں میں ضلعی انتظامیہ کے حکام کے علاوہ پولیس اور فوج کے کمانڈر موجود ہیں اور مقامی قبائل بھی اپنے طور پر لاپتہ طلبہ کی بازیابی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

دوسری جانب بنوں سے ایک انتظامی افسر نے بتایا ہے کہ اس وقت کوئی چھیالیس طلبہ اور دو اساتذہ لاپتہ ہیں۔

بنوں شہر میں ان طلبہ کی بازیابی کے لیے ضلعی رابطہ افسر کے دفتر میں والدین اور انتظامیہ کے مابین مذاکرات ہوئے جن میں والدین کو یقین دہانی کرائی گئی کہ بچوں کو جلد بازیاب کرا لیا جائے گا۔

انتظامی افسر نے بتایا کہ بنوں شہر کی انتظامیہ نے دو قبائل جانی خیل اور بکا خیل سے تعلق رکھنے والے افراد کی املاک کو سیل کر دیا ہے اور ان مغوی افراد کی بازیابی کے لیے کوششں جاری ہیں۔

لاپتہ طلبہ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ ان کا تعلق پشاور، کوہاٹ، مردان اور نوشہرہ سے ہے ۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ اس سلسلے میں جانی خیل اور بکا خیل قبائل کا ایک جرگہ بھی ہو رہا ہے۔

یاد رہے کہ سوموار کے روز رزمک کالج سے کوئی تین سو طلبہ اور اساتذہ چھبیس گاڑیوں میں روانہ ہوئے تھے جن میں سے ایک سو بیس سے زیادہ طلبہ لاپتہ ہو گئے تھے۔ بعد میں 80 طلبہ کو شدت پسندوں کے قبضے سے بازیاب کرا لیا گیا تھا لیکن اطلاعات کے مطابق اڑتالیس اب تک لاپتہ ہیں۔

گزشتہ روز بازیاب ہونے والے ایک طالب علم نے بتایا تھا کہ انہیں ظاہری طور پر طالبان کی شباہت رکھنے والے افراد نے اغواء کیا تھا اور پھر کوئی چار سے چھ گھنٹے کے سفر کے بعد فوج اور اغوا کاروں کے مابین فائرنگ ہوئی تھی جس کے بعد انہیں بازیاب کرا لیا گیا تھا۔

طلبہ نے بتایا کہ ان کی گاڑیاں کوئی تین حصوں میں روانہ ہوئی تھیں آگے والے دو گروپ میں جو گاڑیاں تھیں وہ نکل گئیں اور ان کے گروپ کی گاڑیوں کو روک لیا گیا تھا۔ طلبہ نے بتایا کہ جس گاڑی میں طالبان خود بیٹھ گئے تھے اس کا علم نہیں ہے کہ وہ کہاں گئی۔

ابتدائی طور پر یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ پندرہ سے بیس طلبہ لاپتہ ہیں لیکن منگل کی رات گئے یہ معلوم ہوا کہ چالیس سے زیادہ طلبہ اور اساتذہ کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔