کیڈٹ کالج رزمک کے طلباء رہا

- مصنف, دلاور خان وزیر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے اغواء ہونے کیڈٹ کالج رزمک کے تمام طلباء اور اساتذہ کو رہا کردیا گیا ہے۔
رزمک کیڈٹ کالج کے وائس پرنسپل جایدعالم نے بی بی سی کو بتایا کہ رات گئے مقامی طالبان نے تمام طلباء اور اساتذہ کو مختلف علاقوں میں چھوڑ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ستر طلباء اور پانچ استاتذہ کو میرانشاہ کے قریب گڑیوم اور کچھ کو ایف آر بکا خیل کے علاقے میں رہا کیاگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب طالبان کے پاس کوئی طلب علم یا ٹیچر موجود نہیں ہے۔البتہ کچھ طلباء ادھر ادھر بھاگ گئے ہیں جو تاحال ان کے پاس نہیں پہنچے ہیں۔
اس سے پہلے پولیس نے کہا تھا کہ متعدد طلباء کیڈٹ کالج رزمک سے بنوں آتے ہوئے لاپتہ ہو گئے ہیں۔
وائس پرنسپل کے مطابق وہ ستائس گاڑیوں میں شمالی وزیرستان کے تحصیل رزمک سے بنوں آ رہے تھے کہ شمالی وزیرستان اور نیم قبائلی علاقے بکاخیل کے سرحد پر واقع میرزائل سکیورٹی فورسز کے چیک پوسٹ کے قریب ان پر مُسلح لوگوں نے حملہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ کالج کی چھٹیاں نہیں تھی لیکن پولیٹکل انتظامیہ نے کالج کو فوری طور پر بند کرنے کا حکم دیا اورگاڑیوں کو بھی پولیٹکل انتظامیہ نے فراہم کیا تھا۔
اس واقعہ کے بعد پولیٹکل انتظامیہ نے مقامی طالبان سے ایک جرگے کے ذریعے مذاکرات شروع کیے تھے۔لیکن اب یہ معلوم نہیں کہ طلباء اور اور اساتذہ کے رہائی میں جرگے کا کوئی کردار ہے یا نہیں۔ البتہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ طلباء اور اساتذہ کے رہائی میں جرگے کا اھم کردار ہے۔
اس سے پہلے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے موصول ہونے والی غیر مصدقہ اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ کیڈٹ کالج رزمک کے طلباء، ان کے رشتہ داروں اور اساتذہ شدت پسندوں نے اغواء کر لیا ہو۔
اطلاعات کے مطابق تیس منی بسوں کا قافلہ رزمک کیڈٹ کالج کے طلباء کو شمالی وزیرستان سے بنوں لا رہا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان میں سے صرف دو منی بسیں ہی بنوں پہنچ سکی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بنوں پولیس کے سربراہ اقبال مروت نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ صرف دو مِنی بسیں جن پر پچیس طلباء سوار تھے بنوں پہنچ سکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دیگر طلباء کے بارے میں تفتیش کر رہے ہیں۔
وہاں سے بچ نکلنے والے طلباء کے مطابق مِنی بسوں کے قافلے کو بھاری اسلحے سے لیس ایک گروپ نے روکا تھا۔ پولیس نے ان عینی شاہدین کے حوالے سے کہا ہے کہ لوگوں کو بڑی تعداد میں اغواء کر لیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کرس مورس نے کہا ہے کہ حکام کا خیال ہے کہ شدت پسند سوات میں ہونے والے فوجی آپریشن سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری طرف پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں بیت اللہ گروپ سے تعلق رکھنے والے مقامی طالبان اور سکیورٹی فورسز قبائلی جرگے کی ایما پر لاشیں ایک دوسرے کے حوالے کرنے کے لیے فائربندی کی ہے۔
قبائلی علاقے میں سرگرم تحریک طالبان پاکستان کے نائب امیر حکیم اللہ محسود نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ گزشتہ روز جنوبی وزیرستان کے سب ڈویژن سروکئی میں سکیورٹی فورسز کے چیک پوسٹوں پر حملے کے دوران ان کے آٹھ ساتھی ہلاک ہوگئے تھے جن میں سے چھ کی لاشیں سکیورٹی فورسز نے اپنے قبضہ میں لے لی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز کے بھی چار افراد کی لاشیں ان کے قبضے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیر کو بیٹنی قبائل پر مشتمل ایک جرگے نے فریقین کے درمیان فائربندی کرا دی تاکہ لاشوں کا تبادلہ ہوسکے۔
یادرہے کہ گزشتہ روز جنوبی وزیرستان میں تحریک طالبان پاکستان نے سکیورٹی فورسز کے چیک پوسٹوں پر حملے کیے تھے جس کے نتیجہ میں حکام کے مطابق چار سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے اور پندرہ طالبان کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا گیا تھا۔





















