کارکن کی ہلاکت پر شٹر ڈاؤن، پہیہ جام

جئے سندھ قومی محاذ نے ذوالفقار ملاح کے قاتلوں کی گرفتاری کے لئے سپر ہائی وے پر دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا
،تصویر کا کیپشنجئے سندھ قومی محاذ نے ذوالفقار ملاح کے قاتلوں کی گرفتاری کے لئے سپر ہائی وے پر دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا
    • مصنف, احمد رضا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی میں قوم پرست جماعت جسقم یعنی جئے سندھ قومی محاذ کے ایک احتجاجی جلوس کے دوران پارٹی کے چئرمین چئرمین بشیر خان قریشی کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی ہے جس میں پارٹی کا ایک کارکن ہلاک ہوگیا ہے جبکہ جوابی فائرنگ میں ایک مبینہ حملہ آور ہلاک اور اسکا ساتھی زخمی ہوگیا ہے۔

واقعے کے خلاف اندرون سندھ کے مختلف علاقوں میں پرتشدد احتجاج ہوا ہے جبکہ جسقم نے واقعے کے خلاف دو روزہ ہڑتال کی کال دی ہے۔

جئے سندھ قومی محاذ نے ایک سندھی نوجوان ذوالفقار ملاح کے قاتلوں کی گرفتاری کے لئے جمعہ کو سپر ہائی وے پر دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا جسے پندرہ جولائی کو کراچی کے نواحی علاقے سکندر گوٹھ میں قتل کردیا گیا تھا۔

اس سلسلے میں جمعہ کوگلشن حدید سے بسوں اور دوسری گاڑیوں پر مشتمل جسقم کے کارکنوں کا قافلہ بشیر قریشی کی قیادت میں جب ریس کورس کے قریب پہنچا تو عینی شاہدین کے مطابق موقع پر پہلے سے گھات لگائے موٹرسائیکل پر سوار حملہ آوروں نے بشیر خان قریشی کی گاڑی پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں جسقم کے ضلع ٹھٹہ کے صدر مشتاق احمد خاص خیلی موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ جلوس میں شریک بعض افراد کی جوابی فائرنگ سے ایک حملہ آور ہلاک اور اسکا ساتھی زخمی ہوگیا۔

ہلاک ہونے والے مبینہ حملہ آور کی شناخت سید مصطفی زاہد ولد سید زاہد علی اور زخمی کی شناخت ذوالفقار کے ناموں سے ہوئی ہے۔ مظاہرین نے زخمی ہونے والے مبینہ حملہ آور کو پکڑ لیا اور اسکو مارنا پیٹنا شروع کردیا۔

واقعے کے بعد جسقم کے چئرمین بشیر خان قریشی نے بتایا کہ حملہ آور چار تھے جن میں سے دو فرار ہوگئے جبکہ ہلاک اور زخمی ہونے والے حملہ آوروں کی جیب سے جو شناختی کارڈ برآمد ہوئے اس کے مطابق وہ دونوں خفیہ سرکاری ادارے کے اہلکار ہیں۔

’ان کی جیبوں سے آئی ایس آئی کے سروس کارڈ، ملیر کینٹ کے انٹری کارڈ برآمد ہوئے ہیں اور پولیس کی موجودگی میں ان کی جیبوں سے یہ کارڈ نکلے ہیں جو ہم نے میڈیا والوں کو بھی دکھائے ہیں۔‘

تاہم علاقے کے ٹاؤن پولیس افسر قیوم پتافی کا کہنا ہے کہ ’میرے علم میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے۔ ان کے پاس سے جتنی بھی چیزیں ملی ہیں وہ ابھی تک ان (جسقم کے رہنماؤں) کے پاس ہی ہیں اور وہ ابھی ہمارے حوالے کریں گے تو اسکے بعد ہی اس بارے میں کوئی بات کہی جاسکتی ہے۔‘

پولیس نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر زخمی حملہ آور کو مظاہرین سے چھڑواکر اپنی تحویل میں لیا اور اسے اور ہلاک ہونے والے ملزم کی لاش جناح اسپتال پہنچائی۔ ہلاک ہونے والے جسقم کے رہنما کی لاش سمیت جئے سندھ قومی محاذ کے کارکنوں کی بڑی تعداد بھی ہسپتال پہنچ گئی جہاں انہوں نے نہ کھپے نہ کھپے پاکستان نہ کھپے کے نعرے لگائے۔

ادھر بشیر قریشی پر قاتلانہ حملے کی خبر اندرون سندھ میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور حیدرآباد، ٹھٹھہ، بدین، لاڑکانہ اور میرپورخاص سمیت دوسرے علاقوں میں جسقم کے کارکنان سڑکوں پر نکل آئے۔ مشتعل کارکنوں نے کئی مقامات پر ٹائرجلاکر اور رکاوٹیں کھڑی کرکے ٹریفک معطل کردی اور ٹنڈوجام، میرپورخاص، بدین، رتوڈیرو، کندھکوٹ، جیکب آباد، کشمور سمیت کئی علاقوں میں دوکانیں بند کرادیں۔ حیدرآباد میں ایک بس بھی نذر آتش کردی گئی۔

بشیر قریشی کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ لسانی فسادات کرانے کی سازش تھی۔

’سندھ کے حقوق کی بات کرنے کے جرم میں ہمیں مارنے کی سازش کی جارہی ہے۔ ہمارے لوگوں کو کراچی سمیت سندھ کے اندر ٹارگٹ بناکر قتل کیا جارہا ہے۔ نہ قاتل پکڑتے ہیں نہ کوئی ان سے پوچھنے والا ہے۔ ہم پرامن لوگ ہیں ہمارا سیاسی اور معاشی قتل عام ہورہا ہے اور حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ یہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ ان سازشی عناصر کو بے نقاب کرے۔‘

جئے سندھ قومی محاذ نے واقعے کے خلاف سندھ بھر میں دو دن تک شٹربند اور پہیہ جام ہڑتال کی کال دی ہے اور سات دن کا سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔

ادھر ملیر کینٹ تھانے میں واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جن میں ہلاک ہونے والے مبینہ حملہ آور سید مصطفی زاہد ولد سید زاہد علی اور زندہ پکڑے جانے والے مبینہ حملہ آور ذوالفقار کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ ان کے دو ساتھیوں کو مفرور بتایا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مارے جانے والے حملہ آور کے پاس سے خفیہ ادارے کا ملازم ہونے کی کوئی شناختی دستاویز برآمد نہیں ہوئی ہے۔