’ڈاکٹر عافیہ پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے‘

نیویارک کی ایک وفاقی عدالت کے جج نے افغانستان میں امریکی فوجیوں پر مبینہ طور پر قاتلانہ حملہ کرنے کے الزام میں امریکہ میں قید پاکستانی خاتون سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو مقدمہ چلائے جانے کے لیے ذہنی طور پر اہل قرار دیا ہے۔
یہ بات بدھ کے روز نیویارک میں وفاقی عدالت یو ایس کورٹ سدرن ڈسٹرکٹ کے جج رچرڈ ایم بریمن نے اپنے ایک حکم میں کہی ہے۔
جج رچرڈ ایم بریمن کے سامنے بدھ کے روز جب خاتون پاکستانی سائنسدان عافیہ صدیقی کے نفسیاتی معائنوں اور ان کے اب تک ہونے والے علاج معالجے کے متعلق ان کےخلاف امریکی حکومت اور ان کے دفاع کی طرف سے مقرر کردہ نفسیا تی ماہرین کی رپورٹیں لائي گئيں تو جج رچرڈ بریمن نے ایسی رپورٹوں کے جائزے کے بعد ایک حکم کے ذریعے عافیہ صدیقی کے خلاف مقدمہ چلائے جانے اور مقدمے کے متعلق سوالات کے جوابات دینے اور اپنے دفاع کے وکیلوں کے مدد کرنے کےلیے (عافیہ صدیقی کو) فٹ قرار دیا ہے۔
امریکی وفاقی عدالت کے جج رچرڈ ایم بریمن کا عافیہ صدیقی کے خلاف امریکی فوجیوں پر مبینہ طور پر قاتلانہ حملہ کرنے کے الزام میں مقدمہ چلائے جانے کےلیے اہل قرار دیے جانے کا حکم چھتیس صفحات پر مشتمل بتایا جاتا ہے۔
جج نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ذہنی طور اپنے خلاف مقدمہ کے متعلق سوالات کے جوابات دینے اور اپنے دفاع کے وکلاء کی مدد کرنے کیلیے ذہنی طور اہل قرار دیتے ہوئے اب ان کے خلاف امریکی فوجیوں پر مبینہ طور پر قاتلانہ حملہ کرنے کےمقدمے کے باقاعدہ تاریخ انیس ستمبر مقرر کی ہے۔
گزشتہ پیشیوں میں ڈاکٹر عافیہ کی وکیل نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ وہ استغاثہ کے نفسیاتی ماہرین کی رپورٹ کے بارے میں مختلف ماہرین کی رپورٹ لینا چاہتی ہیں۔عافیہ صدیقی کی دفاعی وکیل کا اصرار تھا کہ عافیہ صدیقی ذہنی طور پر اس قابل نہیں کہ ان پر مقدمہ چلایا جائے۔
یاد رہے کہ گذشتہ چھ جولائی کو نیویارک کی وفاقی عدالت میں پیشی کے موقع پر عافیہ صدیقی نے امریکی فوجیوں پر مبینہ طور پر بندوق چلانے کے الزام سے انکار کیا تھا۔

















