مشرف کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت

پرویز مشرف
،تصویر کا کیپشنسابق صدر پرویز مشرف نے تین نومبر سنہ دوہزار سات کو ملک میں ایمرجنسی بطور آرمی چیف لگائی تھی
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالوکیل خان نے پولیس کو سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

عدالت نے یہ احکامات پیر کے روز اسلم اقبال گھمن ایڈووکیٹ کی درخواست پر دیے۔اسلام آباد پولیس کے قائم مقام ایس ایس پی ناصر آفتاب نے بی بی سی کو بتایا کہ اُنہیں عدالت کی طرف سے پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے احکامات موصول ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ احکامات میں عدالت کی طرف سے واضح طور پر کہا گیا ہے کہ وہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 154 کے تحت کارروائی کریں۔ پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انہوں نے ان عدالتی احکامات پر تمام کارروائی کرنے کے لیے اس کو لیگل برانچ کو بھجوا دیا ہے۔

ڈی ایس پی سیکرٹریٹ سرکل لیاقت نیازی کا کہنا ہے کہ حبس بےجا میں رکھنے کا مقدمہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 343 کے تحت درج کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں یہ دیکھنا پڑے گا کہ اعلٰی عدالتوں کے ججوں کو کتنے عرصے تک اُن کے گھروں میں قید کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ملکی قانون میں ایک ہفتے، ایک ماہ اور ایک سال تک حبس بےجا میں رکھنے کی سزائیں مختلف ہیں۔

واضح رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے تین نومبر سنہ دوہزار سات کو ملک میں ایمرجنسی بطور آرمی چیف لگائی تھی جس کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیتاعلٰی عدالتوں کے ساٹھ کے قریب ججوں کو اُن کے گھروں میں قید کردیا گیا تھا۔

اس وقت اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف مقدمات درج کرنے کے لیے مختلف افراد نے عدالتوں میں درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔

اسلام آباد کی عدالت میں ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کے چیف کو آرڈینیٹرخالد خواجہ نے حبس بےجا میں رکھنے اور لال مسجد آپریشن کے دوران متعدد افراد کی ہلاکتوں پر سابق ملٹری ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے خلاف مقدمات درج کرنے کے لیے درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔

حزب اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز اور دیگر حکومت مخالف سیاسی جماعتوں پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

سپریم کورٹ پہلے ہی تین نومبر کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے۔