بیت اللہ محسود ہلاک ہو چکا: مولوی عمر

مولوی عمر گرفتاری کے بعد
،تصویر کا کیپشنمولوی عمر کی گرفتاری تحصیل خویئزئی کے علاقے سم غخی کے قریب عمل میں آئی

تحریک طالبان کے مرکزی ترجمان مولوی عمر نے پاکستانی حکام کو تصدیق کی ہے کہ پاکستان شدت پسندوں کے سربراہ امریکی میزائل حملے میں ہلاک ہوچکے ہیں۔

مولوی عمر کو منگل کے روز اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مہمند ایجنسی سے گرفتار کیا گیا ہے۔

صوبہ سرحد کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا کہ مولوی عمر نے پاکستان تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ بیت اللہ محسود امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا ’ہم تمام طالبان کو گرفتار کریں گے اور ان کی قسمت بھی مولوی عمر سے مختلف نہیں ہو گی۔

<link type="page"><caption> باجوڑ کا عطر فروش</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/08/090818_umer_profile.shtml" platform="highweb"/></link>

پاکستان اور امریکی حکومت کی طرف سے بیت اللہ محسود کو ہلاک کرنے کے دعوے کے بعد طالبان نے اس کی تردید کرنے کی کوشش کی لیکن وہ بیت اللہ کے زندہ ہونے کا کوئی ثبوت بھی پیش نہیں کر سکے۔

گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں بیت اللہ محسود کے دو قریبی ساتھیوں کی گرفتاری پاکستان سکیورٹی ایجنسوں کی اہم کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔

مولوی عمر کی گرفتاری سے قبل اسلام آباد پولیس نے قاری سیف اللہ کو اسلام آباد کے ایک ہسپتال سے گرفتار کر لیا تھا جہاں اس علاج ہو رہا تھا۔

قاری سیف اللہ وزیرستان میں ایک ڈرون حملے میں زخمی ہونے کے بعد اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں علاج کر وا رہے تھے

اہلکار کا کہنا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان مولوی عمر اور ان کے دو ساتھیوں وحیداللہ اور حنیف اللہ کو امن کمیٹی کے رضا کاروں نے اس وقت گرفتار کیا جب وہ خیبر ایجنسی سے پیدل باجوڑ جا رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ گرفتاری کے بعد امن کمیٹی کے رضا کاروں نے انہیں سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا۔

یاد رہے کہ سنہ دو ہزار آٹھ میں پاکستانی حکومت نے دعوٰی کیا تھا کہ تحریک طالبان کے ترجمان مولوی عمر باجوڑ ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کے حملے میں گیارہ ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے تھے۔ تاہم بعد میں مولوی عمر نے خود بی بی سی کو ٹیلیفون کر کے اس خبر کی تردید کر دی تھی۔ مولوی عمر کا تعلق بھی باجوڑ سے ہی ہے۔

بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کے مطابق پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم سیف اللہ قبائلی شدت پسند بیت اللہ محسود کے علاوہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان سے تعلق رکھنے والے اہم شدت پسندوں کا ڈرائیور رہا ہے۔

مذکورہ ملزم کے بارے میں پولیس کا یہ بھی دعوٰی ہے کہ اس سے بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے بارے میں شواہد ملنے کی اُمید ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ سیف اللہ گزشتہ چند سالوں سے قبائلی علاقوں میں مقیم تھا تاہم زخمی ہونے کی وجہ سے اُسے اسلام آباد لایا گیا۔

ملزم سیف اللہ کو منگل کو زخمی حالت میں عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے اسے چار روزہ ریمانڈ پر پولیس تحویل میں دے دیا۔ تاہم راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے اس موقع پر کہا کہ اگر پولیس سیف اللہ سمیت اسلام آباد سےگرفتار ہونے والے دو مبینہ دہشتگردوں کے خلاف کوئی ثبوت چار یوم میں پیش نہ کر سکی تو وہ اُنہیں رہا کر دیں گے۔