بیت اللہ ’شدید بیمار‘ ہیں: طالبان

بیت اللہ محسود (فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنبیت اللہ محسود کے نائب مولانا نور سعید کہتے ہیں کہ بیت اللہ جلد ذرائع ابلاغ سے بات کریں گے

پاکستان میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود کے نائب مولانا نور سعید نے بیت اللہ محسود کی ہلاکت سے متعلق خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیت اللہ زندہ مگر بیمار ہیں۔

مولانا نور سعید کا کہنا تھا کہ ثبوت کے طور پر بیت اللہ محسود پیر کے روز ایک ویڈیو پیغام جاری کریں گے۔

اس سے قبل طالبان کے مخالف دھڑے کے ایک کمانڈر ترکستان بھیٹنی نے دعوٰی کیا تھا کہ بیت اللہ کی جانشینی کے لیے ان کے نائبین میں جھڑپ ہوئی ہے جس میں مفتی ولی الرحمان اور حکیم اللہ محسود سمیت کئی اہم کمانڈر ہلاک ہوگئے ہیں۔

تاہم نور سعید نے اس دعوٰی کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا: ’جھگڑا نہیں ہوا ہے۔ کوئی اختلاف نہیں ہے، ہم سب متفق ہیں۔ یہ عبداللہ محسود کے نام پر قائم گروپ ہمارا مخالف ہے جو ہمارے خلاف افواہیں پھیلا رہا ہے۔‘

ادھر پشاور میں تجزیہ نگار رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ان کی خود مولانا نور سعید سے ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے جن کا کہنا ہے کہ بیت اللہ محسود بیمار ہیں۔

نور سعید کے بقول بیت اللہ محسود گزشتہ بدھ کو اپنے سسر اکرام الدین کے گھر گئے تھے تاہم وہ امریکی ڈرون حملے سے پہلے وہاں سے نکل گئے تھے۔ تاہم ان کی بیوی حملے میں ہلاک ہوگئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ بیت اللہ محسود پیر کو ویڈیو جاری کریں گے۔

مولانا نور سعید کے بقول اگر وہ براہ راست میڈیا سے بات کرتے ہیں تو خدشہ ہے کہ انہیں ڈرون حملے کا نشانہ بنا دیا جائے۔

شورٰی کے اجلاس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ اجلاس انہوں نے وزیرستان میں ممکنہ فوجی آپریشن کے خلاف حکمت عملی مرتب کرنے کے لیے خود بلایا تھا، اور بیت اللہ محسود اپنی علالت کی باعث اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے تھے۔

مولانا نور سعید نے کہا کہ انہوں نے حکیم اللہ محسود کو مشورہ دیا ہے کہ وہ میڈیا سے بات کریں جبکہ ولی الرحمان اتوار کے روز پہلے ہی میڈیا سے بات کرچکے ہیں۔

گزشتہ روز پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک نے اپنے ایک بیان میں طالبان کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بیت اللہ زندہ ہیں تو ثبوت پیش کریں۔

امریکی حکام نے بھی انٹیلیجنس کی اطلاعات کی بنیاد پر یقین کا اظہار کیا تھا کہ بیت اللہ محسود ڈرون حملے میں مارے جا چکے ہیں۔