پشاور پرل کانٹیننٹل کی بندش

- مصنف, بیورو رپورٹ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، اسلام آباد
ڈیڑھ ماہ قبل خودکش بم حملے میں جزوی تباہی کے شکار پشاور کے پرل کانٹیننٹل ہوٹل کو انتظامیہ نے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ہوٹل کے بیشتر ملازمین کو نوکریوں سے علیحدہ کر دیا گیا ہے۔
پاکستان کے مختلف شہروں میں قائم پرل کانٹیننٹل اور میریٹ ہوٹل پاکستان سروسز لمیٹڈ نامی کمپنی کی ملکیت ہیں جس کے چیئرمین پاکستانی کاروباری شخصیت صدر الدین ہاشوانی ہیں۔
صدرالدین ہاشوانی کے ترجمان اعجاز نبی کے مطابق پشاور پرل کانٹیننٹل ہوٹل شدید مالی خسارے کے باعث فی الحال بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صدرالدین ہاشوانی کے ترجمان نے پرل کانٹیننٹل ہوٹل پشاور کو فروخت کرنے کے فیصلے سے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک اس ہوٹل کے مستقبل کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ بعض ذرائع کے مطابق پشاور ہوٹل کی عمارت خریدنے میں دلچسپی لینے والوں میں امریکی حکومت بھی شامل ہے جو یہاں اپنا سفارتخانہ قائم کرنا چاہتی ہے۔
اعجاز نبی کے مطابق ہوٹل میں کام کرنے والے ملازمین میں سے بعض کو ملک کے مختلف شہروں میں قائم پرل کانٹیننٹل اور میریئٹ ہوٹل میں رکھا گیا ہے اور متعدد کی ملازمتیں ختم کر دی گئی ہیں۔
دس جون کو پشاور کے واحد فائیو سٹار ہوٹل پر ہوئے ٹرک خودکش حملے میں پندرہ افراد ہلاک اور ساٹھ سے زائد زخمی ہوئے تھے۔اعجاز نبی نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے کے بعد ہوٹل کا ایک بڑا حصہ تباہ ہو گیا تھا لیکن فوری مرمت کے بعد انتظامیہ نے پچاس کمرے قابل استعمال بنا کر چند روز میں ہوٹل شروع کر دیا تھا۔ ’دھماکے کے بعد کھلنے کے بعد بھی ہوٹل کی صورتحال یہ تھی کہ اس کے گیس اور بجلی کے بل تک ادا نہیں کیے جا سکے تھے۔ ایسے میں ادارہ ملازمین کی تنخواہوں کا بوجھ بھی زیادہ عرصہ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ اسی بناء پر ملازمین کی چھانٹی کا فیصلہ کیا گیا‘۔
تاہم اعجاز نبی نے یہ نہیں بتایا کہ پشاور کے پرل کاٹیننٹل ہوٹل سے کتنے ملازمین کو نکالا گیا ہے۔ ہوٹل میں کام کرنے والے ایک کارکن نے نام ظاہر نہ کیے جانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ہوٹل میں کام کرنے والے نوے فیصد ملازمین کو واجبات کی ادائیگی کر کے چلتا کر دیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ صرف دس فیصد ملازمین کو ملک کے دوسرے شہروں میں قائم انہیں مالکان کے دیگر ہوٹلوں میں کھپانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں خوش قسمتی سے وہ بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے پاکستان سروسز لیمیٹڈ کے ماتحت چلنے والے ایک اور ہوٹل میریٹ اسلام آباد میں گزشتہ برس ستمبر میں ہوئے اسی نوعیت کے ٹرک بم حملے میں پچاس سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے اور دھماکے کے بعد لگنے والی آگ سے پوری عمارت جل گئی تھی۔
اس تباہی کے باوجود صدر الدین ہاشوانی نے میریٹ اسلام آباد کے کسی ملازم کو ملازمت سے برخاست نہیں کیا تھا بلکہ ان چند ماہ کے دوران جب ہوٹل کی تعمیر نو کی جار ہی تھی تو بعض ملازمین کو عارضی طور پر گھر بھیج دیا گیا تھا جنہیں ہوٹل شروع ہونے پر ملازمت پر واپس بلا لیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میریٹ اور پشاور کے پرل کانٹیننٹل ہوٹل کے ملازمین سے الگ الگ سلوک کی وجہ ہوٹل کے بعض ملازمین یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان سروسز لمیٹڈ کے چیئرمین صدرالدین ہاشوانی نے اپنے ہوٹلوں پر ہونے والے ان پے در پے حملوں کے بعد پاکستان سے اپنا کاروبار سمیٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ میریئٹ اسلام آباد میں دھماکے کے چند ہفتے بعد تعمیر نو کے دوران اس ہوٹل میں پراسرار طور پر ایک بار پھر آگ بھڑک اٹھی تھی جس کے باعث ہوٹل میں واپس آنے والے مہمان ہوٹل چھوڑ کر چلے گئے۔ اور اس کے بعد سے میریٹ اسلام آباد کی انتظامیہ مختلف پر کشش مراعات کے باوجود مہمانوں کو اپنی جانب مائل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
ہوٹل میں اس پراسرار آتشزدگی کے چند روز بعد صدرالدین ہاشوانی کے اسلام آباد کے سیکٹر ایف سکس میں واقع گھر کے ایک حصے میں بھی آگ لگ گئی تھی۔ بظاہر انہی سکیورٹی وجوہات کی بناء پر صدر الدین ہاشوانی اپنے پورے خاندان کے ہمراہ گزشتہ آٹھ ماہ سے دبئی میں مقیم ہیں اور اس دوران ان کے خاندان کا کوئی بھی مرد رکن ملک واپس نہیں آیا۔ البتہ صدرالدین ہاشوانی کی بیگم اور ایک بیٹی اس دوران ایک دو دن کے لیے پاکستان آئی تھیں۔
ہاشوانی کے ترجمان کے مطابق صدرالدین ہاشوانی کئی ماہ سے دبئی میں اپنے گھر میں مقیم ہیں اور چند روز قبل ان کے بیٹے کی وہیں شادی بھی ہوئی ہے۔ صدرالدین کا دبئی اور مشرق وسطیٰ کے بعض دیگر ممالک میں تیل کی تلاش کا وسیع کاروبار ہے اور گزشتہ چند ماہ سے ان کی اور خاندان کے دیگر افراد کی پوری توجہ اسی کاروبار پر مرکوز ہے۔ اعجاز نبی نے کہا کہ پاکستان سروسز لمیٹڈ کے چیئرمین آئندہ چند روز میں پاکستان آ جائیں گے۔





















