پشاور دھماکہ:ملبہ صاف کرنے کا کام جاری

 ہوٹل میں عام طور پر غیر ملکی شہری، سفارتکار اور صحافی ٹھہرتے ہیں
،تصویر کا کیپشن ہوٹل میں عام طور پر غیر ملکی شہری، سفارتکار اور صحافی ٹھہرتے ہیں
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں واحد فائیو سٹار ہوٹل (پرل کانٹی نینٹل) کے احاطے میں زبردست دھماکہ ہوا ہے جس میں کم از کم پندرہ افراد ہلاک اور چالیس سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں دو غیر ملکی بھی شامل ہے جبکہ زخمیوں میں عالمی ادارہ خوراک کے دس غیر اہلکار بتائے جاتے ہیں۔

<link type="page"><caption> پشاور دھماکہ: تصویروں میں </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/06/090609_peshawar_blast_pics_as.shtml" platform="highweb"/></link>

پہلے صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے بی بی سی بات کرتے ہوئے تصدیق کی تھی کہ دھماکے میں گیارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن بعد میں مزید تین ہلاکتوں کی اطلاع ملی ہے۔

زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

عالمی ادارہ خوراک کے ایک اہلکار عارف یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ واقعہ میں ڈبلیو ایف پی کے دس غیر ملکی اہلکار زخمی ہوئے ہیں جن میں سکیورٹی سربراہ اور برطانوی شہری گورڈن براؤن بھی شامل ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا کہ حملہ آور شاہ زور نامی وین میں آئے تھے جو ایک بڑی گاڑی ہوتی ہے۔ حملہ آوروں نے پہلے ہوٹل کے مرکزی گیٹ پر فائرنگ کی اور اس کے ساتھ ہی سکیورٹی سرکل توڑ کر گاڑی سمیت اندر داخل ہوئے اور پارکنگ کے علاقہ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

دھماکے میں زخمی ہونے والے ہوٹل کے ایک سکیورٹی گارڈ محمد امیر نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آوار دو تھے جن میں ایک گاڑی چلارہا تھا جبکہ دوسرا فائرنگ کر رہا تھا اور دونوں نے فوجی وردیاں پہنی ہوئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ جب حملہ آور گاڑی سمیت ہوٹل کے مسجد کے قریب پہنچے تو وہاں ایک زوردار دھماکہ ہوا جس سے پہلے تو آگ کا ایک بڑا سا شعلہ بلند ہوا جس کے ساتھ ہی سارے علاقے میں اندھیرا چھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چالیس منٹ تک انہیں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ کیا ہوا ہے کیونکہ ہر طرف تباہی ہی تباہی کے مناظر تھے۔

 دھماکے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں
،تصویر کا کیپشن دھماکے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں

دھماکے سے ہوٹل کا مسجد کے قریب واقع حصہ مکمل طورپر مہندم ہوگیا ہے۔ دھماکہ اس قدر زور دار تھا کہ پارکنگ کے علاقے میں اس وقت کھڑی ہوئی بیس سے پچیس گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں جبکہ جائے وقوعہ پر ایک بڑا گڑھا بھی پڑ گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہوٹل کی بیرونی دیوار بھی گر گئی ہے۔ حملے سے ہوٹل کی چار منزلہ عمارت کے تمام شیشے اور دروازے ٹوٹ گئے ہیں۔

دھماکے کے وقت ہوٹل کے اندر موجود فوڈ سپروائزر محمد حنیف نے بتایا کہ ’ہمارے ہوٹل میں ایک سو اڑتالیس کمرے ہیں جن میں سے ساٹھ سے زائد کمروں میں مہمان موجود تھے‘۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے دنوں کے مقابلے میں منگل کو ہوٹل میں غیر ملکیوں کی تعداد بھی زیادہ تھی۔

ہوٹل کی عمارت کا جو حصہ منہدم ہوا ہے وہ لوگوں کے قیام کا حصہ بتایا جاتا ہے اس لیے خیال کیا جاتا ہے کہ جب تک اس حصے کا پوری طرح جائزہ نہیں لیا جاتا اس وقت تک نہیں کہا جا سکتا کہ ہلاک ہونے والوں کی اصل تعداد کتنی ہو گی۔

ہوٹل کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ملبے تلے مزید افراد کے دبے جانے کا امکان موجود ہے کیونکہ اندرونی حصہ بری طرح متاثر ہوا ہے جہاں کمروں میں مہمان موجود تھے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ہوٹل کے جنرل منیجر لاپتہ ہیں اور وہ جس کمرے میں موجود تھے وہ مکمل طور پر منہدم ہوگیا ہے۔ تاہم اس کی مکمل طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

دھماکے کی آواز کئی کلومیٹر تک سنی گئی۔ اس واحد فائیو سٹار ہوٹل میں عام طور پر غیر ملکی شہری، سفارتکار اور صحافی ٹھہرتے ہیں۔ ہوٹل کے سامنے عدالتیں، سپریم کورٹ کا سرکٹ بینچ اور صوبائی اسمبلی جیسی عمارات موجود ہیں۔

یاد رہے کہ پشاور میں گزشتہ ایک ماہ کے دران سات دھماکے ہوچکے ہیں جن میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ یہ دھماکے ایسے وقت ہو رہے ہیں جب فوج کی طرف سے مالاکنڈ ڈویژن کے چار اضلاع میں طالبان کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ حملے مالاکنڈ میں جاری آپریشن کا رد عمل ہوسکتے ہیں۔