باڑہ: ’چالیس جنگجو ہلاک، تینتالیس گرفتار‘

خیبر ایجنسی
،تصویر کا کیپشنخیبر ایجنسی میں گزشتہ ایک مہینے سے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی تھی
    • مصنف, دلاور خان وزیر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی ہے جس میں حکام کے مطابق اب تک چالیس مبینہ شدت پسند ہلاک جبکہ تینتالیس کوگرفتار کیا ہے۔

پولیٹکل ایجنٹ طارق حیات نے صحافیوں کو بتایا کہ خیبر ایجنسی کی سب ڈویژن باڑہ کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران چالیس شدت پسند کو ہلاک اور تنتالیس کو گرفتار کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ عسکریت پسندوں کے چار مراکز کو بھی تباہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ علاقے میں ابھی کارروائی مکمل نہیں ہوئی ہے اور شدت پسندوں کے مکمل خاتمے تک سکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری رہے گا۔

فوج کے ترجمان میجر صفدر نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کی صُبح چھ بجے سے خیبر ایجنسی کی سب ڈویژن باڑہ کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی ہے۔ اس کارروائی میں فوج کے علاوہ فرنٹیئر کور اور خاصہ دار فورس کے اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔

فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ باڑہ سب ڈویژن میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافد ہے اور لوگوں کو گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی ہے۔

باڑہ میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ باڑہ کے مختلف علاقوں شلوبر، ملک دین خیل، قمبر خیل،اکاخیل اور سپاء میں سکیورٹی فورسز کے سینکڑوں اہلکار موجود ہیں اور مشکوک لوگوں کے گھروں کو منہدم کیا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق سکیورٹی فورسز نے کرفیو کے خلاف ورزی پر کئی لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔

یاد رہے کہ ستائیس اگست کو خیبر ایجنسی میں خاصہ دار فورس پر ہونے والے ایک مبینہ خودکش حملے میں اکیس اہلکار ہلاک اور بائیس زخمی ہوگئے تھے۔

خیبر ایجنسی میں گزشتہ ایک مہینے سے سکیورٹی فورسز نے سرگرم طالبان اور دیگر گروہوں کے خلاف کارروائی نہیں کی ہے۔مگراس سے پہلے کئی بار طالبان کے خلاف کارروائی کی گئی تھی۔

اسی راستے سے افغانستان میں تعینات امریکی اور نیٹو فورسز کے لیے سپلائی ہوتی ہے اورگزشتہ کئی سالوں کے دوران متعدد بار نیٹو فورسز کے لیے سامان لیجانے والی گاڑیوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے جن کی کئی مرتبہ طالبان نے ذمہ داری قبول کی ہے۔