ہلاک شدگان کی تعداد پچپن ہوگئی

- مصنف, دلاور خان وزیر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک مسجد پر ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچپن تک پہنچ گئی ہے لیکن مقامی لوگ ہلاک ہونے والوں کی تعداد ستر تک بتا رہے ہیں۔
مقامی انتظامیہ کے ایک اعلٰی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کو مسجد پرکیے گئے خودکش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچپن تک پہنچ گئی ہے۔ جبکہ زخمیوں کی تعداد ایک سو پچھہتر کے قریب ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں خاصہ دار فورس کے بارہ، ایف سی کے چار اہلکار اور سولہ افغان باشندے بھی شامل ہیں۔ اہلکار کے مطابق افغان شہریوں کی لاشوں کو سینیچر کی صبح افغانستان روانہ کر دیا گیا ہے۔
ایف سی فورس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ چالیس افراد کی نماز جنازہ خیبر ایجنسی کے مختلف علاقوں میں ادا کی گئی جس میں سور قمر، ڈیڈی بازار اور کًفر تنگئی کے علاقے شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں کو پشاور کے مختلف ہسپتالوں میں داخل کروادیا گیا ہے جن میں سے کئی کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خاصہ دار فورس کے صوبیدار لطیف خان، نائب صوبیدار شاہد خان اور ایف سی کے حوالدار ولی خان خٹک ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز خیبر ایجنسی کے تحصیل جمرود میں ایک مسجد پر خودکش حملہ ہوا تھا جس کے نتیجہ میں مسجد بھی مکمل طور پر منہدم ہے۔ اس واقعہ کی ابھی تک کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ البتہ خیبر ایجنسی مذہبی لحاظ سے انتہائی حساس علاقہ ہے۔ پاکستان کے دوسرے حصوں میں سًنی شیعہ فسادت کے واقعات تو ہوتے رہتے ہیں لیکن خیبر ایجنسی میں سًنی فرقے سے تعلق رکھنے والے تین گروہوں کے درمیان سن دو ہزار چھ سے کشیدگی چلی آرہی ہے۔ خیبر ایجنسی میں تین مذہبی گروہ لشکر اسلام، انصار اسلام اور امر باالمعروف اپنے اپنے علاقوں میں خود ساختہ حکومتیں چلا رہے ہیں۔
انصار اسلام کے امیر قاضی محبوب الحق نے خیبر ایجنسی کے دوردراز علاقے تیرہ میں اپنا دفتر قائم کیا ہے جہاں مکمل طورپر ان کی حکمرانی ہے۔ حکومت کی کسی قسم عملداری موجود نہیں ہے۔لشکر اسلام جن کے سربراہ منگل باغ میں ہے ان کا خیبر ایجنسی کے سب ڈویژن باڑہ پر مکمل کنٹرول ہے۔لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے ان کے پاس جاتے ہیں۔امر باالمعروف تنظیم کے امیر نیاز گل ہیں جن کا بر قمبر خیل پر مکمل قبضہ ہے۔ لشکر اسلام اور انصار اسلام کے درمیان دو ہزار چھ سے ایک مذہبی تنازعہ چلا آرہا ہے جس کے نتیجے میں ایک دوسرے پر حملوں میں اب تک پانچ سے زیادہ افراد ہلاک کیے جاچکے ہیں۔
















