پشاور: دو ایف سی اہلکار ہلاک

پولیس گاڑی پر حملہ
،تصویر کا کیپشنمُسلح افراد پیدل تھے اور فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے

پشاور میں نامعلوم افراد نے پولیس کی گاڑی پر فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں دو ایف سی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

پشاور میں پولیس اہلکار صابر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو تین بجے تھانہ ناصر باغ کے علاقے میں تین نامعلوم مُسلح افراد نے پولیس کی ایک موبائل گاڑی پر اس وقت حملہ کیا جب وہ معمول کے گشت پر تھے۔

پولیس اہلکار کے مطابق تینوں مُسلح افراد پیدل تھے اور فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے دونوں ایف سی کے اہلکار تھے۔ ان کی میتیں ان کے آبائی علاقے خیبر ایجنسی روانہ کر دی گئی ہیں۔

دوسری طرف خیبر ایجنسی میں شدت کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی جمعہ کو چوتھے روز بھی جاری ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کو سپاہ اور ملک دین خیل کے علاقے میں سکیورٹی فورسز نے لشکر اسلام کے کئی کارکنوں کے گھروں کو مسمار کیا ہے جس میں جان گل، جان مست، حاجی بونیر، حاجی امن گل اور حاجی رفعت کے گھر شامل ہیں۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ مذید گھر مسمار کیے جارہے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز لشکر اسلام کے سربراہ منگل باغ کے گھر کو بھی سکیورٹی فورسز نے مسمار کیا تھا۔

دریں اثناء مہمند ایجنسی میں پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق تحصیل انبار میں طالبان نے فائرنگ کر کے قومی لشکر کے دو رضا کاروں کو ہلاک کر دیا۔

دریں اثناء مہمند ایجنسی میں پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق تحصیل انبار میں نامعلوم مُسلح افراد نے حدکور چیک پرراکٹوں اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ البتہ چیک پوسٹ کے عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔

انتظامیہ کے مطابق شدت پسندوں کے حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی کارروائی کی دو شدت پسند مارے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سکیورٹی فورسز نے جمعہ کی صُبح سے خوئیزئی کے مختلف علاقوں منزری چینہ، اتم کلے اور خنجر کلے میں شدت پسندوں کے خلاف سرچ آپریشن شروع کیا ہے جس میں فوج اور سکاؤٹس فورس کے سینکڑوں جوان حصہ لے رہے ہیں۔